الہدیٰ
دعوت دینا ہماری ذمہ داری : ہدایت دینا صرف اللہ تعالیٰ کا اختیار
آیت 52 {فَاِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآئَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ(52)} ’’تو (اے نبیﷺ!) آپ ُمردوں کو نہیں
سنا سکتے اور نہ ہی آپ اپنی پکار بہروں کو سنا سکتے ہیں (خاص طور پر) جب وہ پیٹھ پھیر کر جا رہے ہوں۔‘‘
اگر کوئی بہراشخص آپ کے سامنے ہو تو پھر بھی امکان ہے کہ آپ اسے اشاروں کنایوں سے کسی حد تک اپنی بات سمجھا لیں گے لیکن اگروہ آپ سے منہ پھیر کر دوسری سمت چلا جا رہا ہو تو آپ کسی طور پر بھی اسے اپنا مدعا نہیں سمجھا سکتے۔ تو اے نبیﷺ! ایک تو یہ لوگ سننے کی صلاحیت سے محروم ہیں اور مزید یہ کہ وہ آپؐ کی بات سننا چاہتے بھی نہیں۔ چنانچہ ان تک آپؐ کی دعوت کے ابلاغ کا کوئی امکان نہیں۔
آیت 53 {وَمَـآ اَنْتَ بِہٰدِ الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰـلَتِہِمْ ط} ’’اور آپؐ نہیں ہدایت دے سکتے اندھوں کو اُن کی گمراہی سے (پھیر کر)۔‘‘
ان دل کے اندھوں کو آپ گمراہی میں بھٹکنے سے نہیں بچا سکتے اور ان کو ضلالت سے نکال کر راہِ راست پر نہیں لا سکتے۔
{اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَہُمْ مُّسْلِمُوْنَ (53)} ’’آپ نہیں سنا سکتے مگر انہی کو جو ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں اور وہ فرمانبردار ہیں۔‘‘
درس حدیث
رمضان المبارک میں چار چیزوں کی کثرت
عَنْ سَلْمَانَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِﷺ:((…وَاسْتَکْثِرُوْا فِیْهِ مِنْ أَرْبَعِ خِصَالٍ خَصْلَتَیْنِ تُرْضَوْنَ بِهِمَا رَبَّکُمْ وَخَصْلَتَیْنِ لَا غِنَی بِکُمْ عَنْهُمَا. فَأَمَّا الْخَصْلَتَانِ اللَّتَانِ تُرْضَوْنَ بِهِمَا رَبَّکُمْ فَشَهَادَةُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا ﷲ وَتَسْتَغْفِرُوْنَهُ وَأَمَّا الْخَصْلَتَانِ اللَّتَانِ لَا غِنَی بِکُمْ عَنْهُمَا فَتَسْأَلُوْنَ ﷲ الْجَنَّةَ. وَتَعُوْذُوْنَ بِهِ مِنَ النَّارِ ))(رواہ البیہقی فی شعب الایمان)
حضرت سلمان فارسی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’…اس (رمضان المبارک) میں چار کام زیادہ سے زیادہ کرنے کی کوشش کرو۔ دو کاموں کے ذریعے تم اپنے رب کو راضی کروگے اور دو کاموں کے بغیر تمہارے لیے کوئی چارہ کار نہیں۔ جن دو کاموں کے ذریعے تم اپنے رب کو راضی کروگے ان میں سے ایک لا الٰہ الا اللہ کی گواہی دینا ہے(کلمہ طیبہ کا ورد) اور دوسرا اس سے بخشش طلب کرنا (استغفار کی کثرت)ہے۔ جن دو کاموں کے بغیر تمہارے لیے کوئی چارہ نہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرو اور دوسرا یہ ہے کہ دوزخ سے پناہ مانگو۔ ‘‘ (نوٹ: ایک طویل حدیث سے اقتباس)
تشریح:اس حدیث کے مطابق رمضان المبارک میں لا اِلٰہ اِلا اللہ اور استغفر اللہ کا کثرت سے ورد کرنا چاہیے۔ اور جنت کو طلب کرنےا ور دوزخ سے پناہ کے لیے یہ جامع دعا مانگنی چاہیے: ((اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُکَ الْجَنَّۃَ وَ اَعُوْذُبِکَ مِنَ النَّارِ )) (سنن ابودائود)’’اے اللہ میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور جہنم کی آگ سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔‘‘