(منبرو محراب) غزوۂ بدر میں ہمارے لیے سبق - ابو ابراہیم

3 /

منبر و محراب

غزوۂ بدر میں ہمارے لیے سبق


(قرآن و حدیث کی روشنی میں )

مسجدجامع القرآن ، قرآن اکیڈمی لاہور میں امیر تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ حفظ اللہ کے6مارچ 2026ء کے خطاب جمعہ کی تلخیص

خطبہ ٔمسنونہ اور تلاوتِ آیاتِ قرآنی کے بعد!
رمضان المبارک کے دوسرے عشرہ میںغزوۂ بدر کا واقعہ پیش آیا تھا اور آج بھی رمضان کے دوسرے عشرہ میں کفار کے ساتھ اُمت کی جنگ جاری ہے ۔ جنگ بدر کے فوراً بعد سورۃ الانفال نازل ہوئی تھی جس میں اہل کفر کے ساتھ جنگ پر تبصرہ بھی کیا گیا اور اہل ایمان کے لیے اس میں رہنمائی کے بھی کئی پہلو موجود ہیں ۔ اس سورۃ کی آیت نمبر 17 میں فرمایا :
{فَلَمْ تَقْتُلُوْہُمْ وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ قَتَلَہُمْ ص}  ’’پس (اے مسلمانو!) تم نے انہیں قتل نہیں کیا‘ بلکہ اللہ نے انہیں قتل کیا۔‘‘
غزوۂ بدر کے حالات سے تقریباً ہم سبھی واقف ہیں ، ایک طرف ایک ہزار تجربہ کار جنگجوؤں پر مشتمل لشکر تھا جو ہر طرح کے جنگی سازو سامان سے لیس تھااور دوسری طرف صرف 313مجاہدین تھے جن کے پاس اسلحہ بھی مکمل نہیں تھا کیونکہ وہ جنگ کی غرض سے مدینہ منورہ سے نہیں نکلے تھے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی مرضی تھی کہ 313اہل ایمان کو کفار کے تین گنا بڑے لشکر سے ٹکرا دے اور پھر اہلِ ایمان کو فتح عطا کرکے اس دن(17رمضان المبارک، 2ھ) کو   یوم الفرقان بنا دے۔ یعنی حق اور باطل میں فرق کردینے والا دن ۔ اس جنگ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں کو بھی اہلِ ایمان کی نصرت کے لیے بھیجا لیکن تب جب وہ 313اپنا سب کچھ اللہ کی راہ میں قربان کرنے کے لیے تیار ہوگئے ۔ اس جنگ میں 70مشرک قتل ہوئے اور 70ہی کے قریب گرفتار ہوئے ۔ بے سرو سامان اہل ِایمان کے لیے اتنی بڑی فتح اللہ کی مدد کے بغیر ممکن نہ تھی ۔ اسی نسبت سے اللہ تعالیٰ فرمارہا ہے کہ اِن مشرکین کو تم نے قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے قتل کیا ہے ۔ سیرت کی کتابوں میں ذکر موجود ہے کہ جنگ کے دوران حضور ﷺ نے مٹھی بھر کرکنکریاں اہل کفار کی طرف پھینکیں جس کے بعد کفار کی صفوں میں بھگڈر مچ گئی اور اسی دوران 70 بڑے بڑے کفار قتل ہو ئے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
{وَمَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی ج وَلِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْہُ بَلَآئً حَسَنًاط}(الانفال:17) ’’اور جب آپؐ نے (ان پر کنکریاں) پھینکی تھیں تو وہ آپؐ نے نہیں پھینکی تھیں بلکہ اللہ نے پھینکی تھیں تا کہ اللہ اس سے اہل ایمان کے جوہر نکھارے خوب اچھی طرح سے۔‘‘
حقیقت میں تو اللہ ہی کا اذن ہوتا ہے ۔ بظاہر  صحابہ کرام ؇یہ جنگ لڑ رہے تھے اور حضور ﷺ نے کفار کی طرف مٹی پھینکی ہے لیکن حقیقت میں یہ کچھ اللہ ہی کروا رہا تھا ۔ یہ قربِ الٰہی اور معیت الٰہی کی انتہا کا معاملہ ہے ۔ سبق یہ حاصل ہوا کہ جو جماعت اللہ پر ایمان لاتی ہے اور پھر اللہ کے دین کو قائم کرنے کے لیے اپنی جان ، مال اور ہر چیز کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کے لیے تیار ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کا قرب اور معیت اُس کو حاصل ہو جاتی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ کو اس مشن کے لیے بھیجا گیا تھا :
{لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ لا}(التوبہ :33)    ’’ تا کہ غالب کردے اسے کل کے کل دین (نظامِ زندگی) پر۔‘‘
آپ ﷺ نے اس مشن کے لیے 23 سال جدوجہد کی۔ مکہ کے 13 سال جہاد بالقرآن کیا ۔ یعنی تلوار نہیں اُٹھائی بلکہ تذکیر بالقرآن کے ذریعے ایک جماعت تیار کی۔اس کے بعد اس انقلابی جماعت کو ہجرت کا حکم ملتا ہے اور اسی دوران قتال کا حکم بھی نازل ہوتا ہے ۔ 
{اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّہُمْ ظُلِمُوْاطوَاِنَّ اللہَ عَلٰی نَصْرِہِمْ لَقَدِیْرُ (39)}(الحج) ’’اب اجازت   دی جا رہی ہے (قتال کی) ان لوگوں کو جن پر جنگ مسلط کی گئی ہے ‘اس لیے کہ ان پر ظلم کیا گیاہے۔‘‘’’اور یقیناً اللہ اُن کی نصرت پر قادر ہے۔‘‘
ہجرت کے بعد سورۃ البقرہ کا نزول ہوتا ہے، قتال کے مزید احکامات بھی آتے ہیں۔ جیسا کہ سورۃ الانفال میں ہی فرمایا:
{وَقَاتِلُوْہُمْ حَتّٰی لَا تَـکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ ج فَاِنِ انْتَہَوْا فَاِنَّ اللّٰہَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ (39)}’’اور (اے مسلمانو!)ان سے جنگ کرتے رہویہاں تک کہ فتنہ (کفر) باقی نہ رہے اور دین کل کا کل اللہ ہی کا ہو جائے۔پھر اگر وہ باز آ جائیں تو جو کچھ وہ کر رہے ہیں اللہ یقیناً اُس کو دیکھ رہا ہے۔‘‘
اسی تناظر میں پھر معرکہ بدر سجتاہے ۔  فتنے کا لفظ قرآن میں کئی معنوں میں آیا ہے ۔ یہ آزمائش کے معنوں میں بھی آتاہے ، عذاب کے معنوں میں بھی ، فساد اور شر کے معنوں میں بھی ۔ ایک بڑی شرارت اللہ کے دین کی راہ میں روڑے اٹکانابھی ہے ۔ ایسے حالات کہ جہاں اللہ کی کامل بندگی ممکن نہ ہو، باطل کا نظام ہو تو وہ بھی فتنہ ہے ۔ اِس فتنے کے خاتمے کے لیے اللہ نے قتال کا حکم دیا تاکہ  اللہ کی زمین پر اللہ کا حکم نافذ ہواور اللہ کی زمین پر اللہ کی کامل بندگی ہو سکے۔اسلام میں قتال کا مقصد جنگ برائے جنگ ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ جنگ اس لیے ضروری ہے تاکہ فتنہ باقی نہ رہے ، یعنی اللہ کے دین کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہ رہے اور پورے کا پورا نظام اللہ کے لیے ہو جائے ۔ محمد مصطفیٰ ﷺکا مقصد بعثت اللہ کی زمین پر اللہ کے دین کو غالب کرنا تھا ، اسی کے لیے 23 برس محنت ہوئی ۔ اس جدوجہدکے ہر موڑ پر صحابہ کرام ؇نے اپنی جان ، مال ، وقت اور صلاحیتوں کی قربانی پیش کی جس کے بعد اللہ تعالیٰ کی مددبھی آئی ۔ 
آج اس دین کے قیام و نفاذ کی ذِمّہ داری اُمّت کے کندھوں پر ہے ۔ بقول اقبال ؎
وقتِ فرصت ہے، کہاں کام ابھی باقی ہے
نور توحید کا اتمام ابھی باقی ہے
اس دین کی دعوت اور اس کے نفاذ کی جدوجہد اُمّت کا فریضہ ہے۔لیکن اُمّت کی اکثریت اِس فریضہ کو بھول چکی ہے ۔ لوگ چند عبادات پر مطمئن ہو کر بیٹھ گئےاور کچھ نے تو اس جدوجہد کے خلاف دلائل دینا شروع کر دیے ہیں ، کوئی کہتا ہے اقامت دین کی جدوجہد ضروری نہیں ، کوئی کہتا ہے فرض نہیں وغیرہ ۔ انا للہ و انالیہ راجعون ! حالانکہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں قصاص کا حکم دیتا ہے ، چور کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیتاہے ، زانی اور شرابی کو کوڑے مارنے کی سزا سناتا ہے ۔ ان تمام سزاؤں پر عمل درآمد کون کرے گا ؟  سود کا خاتمہ اور برائی کا سدباب کون کرے گا؟جب اسلامی  نظام نافذ ہوگا تو شریعت نافذ ہوگی اور شرعی سزاؤں پر  عمل درآمد ہوگا ۔ لہٰذا جنگ بدر بھی اس نظام کے قیام کے لیے لڑی گئی ۔ آج یہ ذِمّہ داری اس اُمت کے کندھوں پر ہے کہ اسلامی نظام کے قیام کے لیے جدوجہد کرے ۔ 
جنگ بدر بھی رمضان المبارک میں ہوئی اور فتح مکہ کا واقعہ بھی رمضان میں ہوا ۔ یعنی رمضان اہل ایمان کی مجاہدانہ تربیت کے لیے دیا گیاہے ۔ لیکن آج ہم رمضان کے ان قیمتی اوقات کو کرکٹ ، کھیل تماشے اور رمضان ٹرانسمیشن کے ہلے گُلے میں ضائع کر رہے ہیں ۔ رمضان کی راتیں قرآن کو پڑھنے اور اس کے پیغام کو سمجھنے کے لیے ہیں لیکن ہمارے ہاں ساری رات مارکیٹوں میں شاپنگ ، کھانے پینے اور موج میلے میں گزر جاتی ہے۔ حالانکہ رمضان کے اِن بابرکت لمحات سے فائدہ اُٹھا کر ہم اللہ تعالیٰ سے اپنے تعلق کو مضبوط کر سکتے ہیں ۔ حدیث قدسی کے الفاظ ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :((الصوم لی وانا اجزی بہِ))  روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ ہوں۔روزہ رکھ کر ہم اللہ کے قریب ہو جاتے ہیں اور رات کو قرآن  کی تلاوت اور تفہیم ہمیں اس بات کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کیا تقاضے کر رہا ہے ۔ اس مجاہدانہ تربیت کا لازمی تقاضا ہے کہ ہم اللہ کے رسول ﷺ کے مشن کو لے کر کھڑے ہوں ، یعنی نفاذ اسلام کی جدوجہد میں شامل ہوں ،اسلام کے نفاذ کے لیے میدان میں اُتریں ۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں چاند رات کو ہی سب تقاضوں کو بھول کر دنیا و مافیہا میں دوبارہ مشغول ہوجانے کا رواج ہے ۔ روز محشر اللہ کے رسول ﷺ کے سامنے کیا جواب دیں گے اگر یہ پوچھ لیا گیا کہ نفاذ اسلام کی جدوجہد میں میرا خون طائف کی گلیوں میں اور اُحد کے میدان میں بہا ، میرے صحابہ ؓنے اپنی جانوں کے نذرانے اللہ کی راہ میں پیش کیے ، اس راہ میں میرے گھر میں تو فاقوں کی نوبت آئی ، اللہ کے دین کی خاطر پیٹ پر پتھرباندھے ، ذرا بتاؤ تو تم دین کی خاطر کیا لے کر آئے ہو ؟ محترم ڈاکٹر اسراراحمدؒ بنی اسرائیل کی تاریخ کا موازنہ کرتے ہوئے فرماتے تھے کہ جس طرح سابقہ اُمّت ِمسلمہ نے کتاب کو فراموش کردیا ، اسی طرح موجودہ اُمّت ِمسلمہ نے بھی قرآن کو فراموش کر دیا ۔ سابقہ اُمت نے جس طرح اپنے پیغمبر کو جواب دیا : {فَاذْہَبْ اَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلَا اِنَّا ہٰہُنَا قٰـعِدُوْنَ (24)}(المائدہ) ’’بس تم اور تمہارا رب دونوں جائو اور جا کر قتال کرو‘ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔‘‘
اسی طرح موجودہ اُمّت کے بعض لوگوں نے بھی اللہ کے رسول ﷺ کے مشن کے لیے کھڑا ہونے سے انکار کر دیا، جس طرح سابقہ اُمّت تن آسانیوں میں پڑگئی تھی، اسی طرح موجودہ اُمّت بھی آسائشوں میں پڑ چکی ہے ، اللہ کی راہ میں کھڑا ہونے سے ، دین کے قیام کی جدوجہد سے ، قرآن سے تعلق قائم کرنے سے آج اُمّت بھاگتی ہے۔ سابقہ اُمّت بھی دنیا کی محبت میں ڈوب گئی تھی اور موجودہ اُمّت کا بھی یہی حال ہے ۔ اسی وجہ سے سابقہ اُمّت پر بھی ذلت اور محتاجی تھوپ دی گئی اور موجودہ اُمّت بھی اسی وجہ سے ذلیل و رسوا ہے ۔ ایک طرف یہود و ہنود اور نصاریٰ اسلام دشمنی میں متحد ہو چکے ہیں اور باقاعدہ جنگ مسلط کر چکے ہیں اور دوسری طرف اُمّت کن غفلتوں میں پڑی ہے ۔آج امریکی فوج کو بتایا جارہا ہے کہ تم مقدس جنگ میں جارہے ہو ، اس جنگ کے بعد حضرت عیسیٰ ؑ تشریف لائیںگے ۔ نیتن یاہو گریٹر اسرائیل کے قیام کو اپنا روحانی مشن بتاتا ہے ۔ امریکی سفیر کہتاہے کہ اگر اسرائیل مشرق وسطیٰ پر قبضہ کرنا چاہتاہے تو یہ بائبل کی پیشین گوئی کو پورا کر رہا ہے ۔ جبکہ دوسری طرف ہمارا لبرل اور سیکولر طبقہ کہتا ہے کہ ہر بات میں مذہب کو مت لے کر آیا کرو ، مذہب تمہارا ذاتی معاملہ ہے وغیرہ ، اس کا سیاست اور ریاست سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ یہی باطل سوچ ہم اپنے بچوں کو سکول ، کالجز اور یونیورسٹیز میں  پڑھارہے ہیں ۔ اناللہ و انا الیہ راجعون ۔ حالانکہ اسلام محض  عقائد ، عبادات اورچند رسومات کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ مکمل نظامِ حیات ہے۔ اس میں سیاست ، معیشت اور معاشرت سمیت تمام پہلو شامل ہیں۔ جب ہم یہ بات کہتے ہیں تو ہمیں بنیاد پرست ، انتہا پسند اور پتا نہیں کیا کیا کہا جاتاہے لیکن وہی بات اگر ڈونلڈ ٹرمپ ، نیتن یاہو اور مودی کرے تو ہمارا لبرل طبقہ وہاں خاموش ہو جاتاہے ۔ حالانکہ اسرائیل ، امریکہ اور انڈیا کے حکمران کٹر مذہبیت کے علمبردار بن رہے ہیں ۔ محترم ڈاکٹر اسراراحمدؒ نے اللہ کے رسول ﷺ کی احادیث اور پیشین گوئیوں کی روشنی میں مستقبل کے جس منظر نامے کی طرف توجہ دلائی تھی آج وہ دنیا کے سامنے آرہا ہے ۔ ڈاکٹر صاحب ؒ سیاسی تجزیہ بھی کرتے تھے ۔ انہوں نے وجہ بھی بیان کی کہ اُمت مغلوب کیوں ہے ،جگہ جگہ مسلمانوں کا لہو بہایا جارہاہے ، 2 ارب مسلمان اور 57 مسلم ممالک ہونے کے باوجود ہم آج اتنے بے بس کیوں ہیں ؟کیا ہم اللہ کونہیں مانتے ؟ کیا   اللہ علی کل شی قدیر نہیں ہے؟ اللہ تو رحمٰن بھی ہے اور رحیم بھی ہے ، حقیقت میں ہم اللہ کے ساتھ مخلص نہیں رہے ۔ ہم نے اللہ کی کتاب کو فراموش کردیا ہے ۔ اگر ہم سود کا دھندہ نہیں چھوڑیں گے ، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کےساتھ جنگ جاری رکھیں گے، برائی اور بے حیائی کے کاموں کو نہیں روکیں گے تو اللہ کی مدد اور نصرت کیسے آئے گی۔  ڈاکٹر صاحب ؒ قرآن کی اِن تین آیات کا حوالہ اکثر دیا کرتے تھے :
{وَمَنْ لَّــمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکٰفِرُوْنَ(44)}(المائدہ) ’’اور جو اللہ کی اُتاری ہوئی شریعت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہی تو کافر ہیں۔‘‘ 
{وَمَنْ لَّـمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ(45)}(المائدہ)’’ اور جو فیصلے نہیں کرتے اللہ کی اُتاری ہوئی شریعت کے مطابق وہی تو ظالم ہیں۔‘‘
{وَمَنْ لَّـمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ  الْفٰسِقُوْنَ(46)}(المائدہ)’’اور جو لوگ نہیں فیصلے کرتے اللہ کے اُتارے ہوئے احکامات و قوانین کے مطابق‘ وہی تو فاسق ہیں۔‘‘
ڈاکٹر صاحب ؒ فرمایا کرتے تھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے فتوے ہیں ۔ اس کے تناظر میں بھی ہمیں خود کو دیکھنا چاہیے کہ اگر ہم اللہ کی شریعت کو نافذ نہیں کرتے تو اللہ کی مدد کیسے آئے گی ۔ بقول اقبال ؎
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر
غزوۂ بدر میں صحابہ کرامؓ کے لیے اللہ کی مددآئی کیونکہ انہوں نے تو اپنی جان و مال ، وقت اور صلاحیتوں کو اللہ کی راہ میں قربان کردینے کا عزم کیا ہوا تھا ۔  آج ہم کیا کر رہے ہیں ؟ اپنی ذات ، مال و دولت ، کرسی و اقتدار کے ہی گرد گھوم رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحبؒ فرمایا کرتے تھے کہ مجرم نمبر 1عرب ہیں کیونکہ ان کی زبان میں قرآن نازل ہوا مگر انہوں نے قرآن کے نظام کو قائم کرنے اور قرآن کے پیغام کو دنیا تک پہنچانے کی بجائے دنیا ، دولت ، عیش پرستی کو ترجیح دی ۔ مجرم نمبر 2 پاکستانی قوم ہے کیونکہ ہم نے کلمہ طیبہ : لا الٰہ الا اللہ کی بنیاد پر ملک حاصل کیا ، ہمارا عہد یہ تھا کہ اگر ہمیں علیحدہ خطۂ زمین نصیب ہو جائے تو ہم اسلام کو قائم کرکے دنیا کے سامنے پیش کریں گے ۔  لیکن ملک کو حاصل کرنے کے بعد ہم نے عہد میں خیانت  کی ۔ یہ ہمارا اجتماعی جرم ہے جس کی سزا ہمیں مل رہی ہے ۔ ڈاکٹر صاحب فرماتے تھے کہ اس ذلت و رسوائی سے نکلنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ہم اجتماعی توبہ کریں اور جس عہد کی بنیاد پر ملک حاصل کیا ہے اس کو پورا کریں ۔ 
فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو
اُتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی
آج پوری دنیا میں کوئی ایک خطہ بھی ایسا نہیں ہے جہاں ہم دنیا کو دکھا سکیں کہ یہ اسلام کا نظام ہے ۔ جب ہم نے اللہ کے رسول ﷺ کا مشن چھوڑا تو اللہ کی مدد اور تائید بھی ہم سے دور ہوگئی ۔ ڈاکٹر صاحبؒ ایک حدیث بھی پیش کیا کرتے تھے جس کا مفہوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عنقریب قومیں تم پر حملے کرنے کے لیے ایک دوسرے کو اس طرح دعوت دیں گی جس طرح کھانا لگنے کے بعد دسترخوان پر آنے کی دعوت دی جاتی ہے ۔   صحابہ کرامj نے پوچھا : کیا اس وقت ہماری تعداد اتنی کم ہو گی ۔ فرمایا : نہیں بلکہ تم سمندر کی جھاگ کی مانند کثیر تعداد میں ہوگے مگر اللہ تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہارا رُعب ختم کردے گا اور تمہارے دلوں میں وہن کی بیماری ڈال دے گا ۔ پوچھا گیا : وہن کیا ہے ؟ فرمایا : ((حُبُّ الدُّنْیَا وَ کَرَاھِیَۃُ الْمَوْتِ)) دنیا کی محبت اور موت سے نفرت۔آج اُمت کا جائزہ لیا جائے تو بہت بڑی اکثریت اسی مرض میں مبتلا دکھائی دیتی ہے ۔ دنیا اور دولت کے حصول میں حرام و حلال کی تمیز کو بھی پیچھے چھوڑ دیا گیا ہے بلکہ حرام خوری کی نئی نئی شکلیں سامنے آرہی ہیں ۔ حکمرانوں کو ڈونلڈ ٹرمپ کا ڈر ہے مگر اللہ کا ڈر نہیں ہے ۔ 
بتوں سے تجھ کو اُمیدیں خدا سے نو امیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے!
مومن تو اللہ سے ملاقات کے لیے تیار رہتا ہے ۔ وہ موت سے نہیں ڈرتا ۔ سنن ابی داؤد کی روایت ہے کہ نیک بندے کی روح عرش تک لے جائی جاتی ہے ۔ مومن تو رب سے ملاقات کے لیے بے تاب رہتا ہے اور دنیا کو محض گزرگاہ سمجھتا ہے ۔ آج دنیا میں قومیں اسی طرح اُمت پر ٹوٹ پڑی ہیں جیسا کہ حدیث میں بیان ہوا ہے۔ خلیج کی جنگ میں 31 ممالک کا اتحاد تھا ، افغانستان کے خلاف جنگ میں 50 ممالک کا اتحاد تھا اور اب ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ اور اسرائیل متحد ہیں ۔ جبکہ دوسری طرف مسلم ممالک آپس میں دست و گریباں ہیں ۔ پاکستان کو افغانستان کے خلاف اُلجھا دیا گیا ہے ۔ حالانکہ مشرقی بارڈر پر پہلے ہی بھارت جیسا ازلی دشمن متحرک تھا ، آج ہم نے مغربی بارڈرپر اپنے مسلمان بھائیوں کو بھی دشمن بنا لیا ہے۔ حالانکہ سب کو معلوم ہے کہ پاکستان اسرائیل کی نظروں میں کھٹک رہا ہے اور اسی لیے اس کے گرد گھیرا تنگ کیا جارہا ہے۔ سابق اسرائیلی وزیر اعظم نے کھل کر پاکستان  کو اپنا دشمن قراردیا تھا اور اب نیتن یاہو اور نریندر مودی پاکستان کی جوہری صلاحیت کو ختم کرنا چاہتے ہیں ۔ ہمارا نہیں خیال کہ ہمارے حکمرانوں کو اس بات کا اندازہ نہیں ہوگا ، صرف ایمان غیرت اور جرأت کی ضرورت ہے، اللہ کے ساتھ مخلص ہونے کی ضرورت ہے ۔ 
ایران اسرائیل جنگ 
اس وقت ایران کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے بالکل بھی ٹھیک نہیں ہو رہا ۔ آج اُمت کے خلاف اگر یہودو ہنود اور نصاریٰ اکٹھے ہوگئے ہیں تو ہمیں بھی شیعہ سنی تفرقہ کو ایک طرف رکھ کر اکٹھے ہو جانا چاہیے ۔ اگر خدانخواستہ ایران پر یہود و نصاریٰ کا قبضہ ہو جاتاہے تو وہ پاکستان کی سرحدوں تک پہنچ جائیں گے اور اس وقت پاکستان کا دفاع شاید اتنا آسان نہ ہو ۔ عربوں کا خیال ہے کہ ٹرمپ ان کے ساتھ وفا کرے گا حالانکہ امریکہ ایک ایک کرکے سب کو شکار کررہا ہے ۔ آج مسلم ممالک متحد ہو جائیں تو اپنا دفاع مل کر کر سکتے ہیں ورنہ ایک ایک کرکے سب تباہ کر دئیے جائیں گے۔ اُمّت کو متحد کرنے والی واحد شے قرآن ہے ۔ قرآن اُمّت کو بہت بڑا ویژن دیتاہے جو کہ اللہ کے رسول ﷺ کا ویژن تھا ۔ آج اگر ہم اِس ویژن کو اپنا لیں اور سب مل کر اقامت ِدین کی جدوجہد کریں تو مسلکی اور علاقائی اختلافات بہت پیچھے رہ جائیں گے ۔ ایران کی حکومتوں نے اپنے توسیع پسندانہ عزائم کے نتیجے میںعرب ممالک میں مسلمانوں کو ناراض کیا ہے ۔ یہ ایران کی غلطی تھی مگر اس وقت اس کی جنگ کفار کے ساتھ ہے جو اہل سنت اور عرب ممالک کے بھی دشمن ہیں۔ اگر آج ہم ایران کے ساتھ کھڑے نہیں ہوں گے تو کل دشمن ہمارے گھر تک بھی پہنچ جائے گا ۔اسی طرح عرب ممالک کو بھی چاہیے کہ وہ امریکہ کا ساتھ دینے کی بجائے ایران کا ساتھ دیں کیونکہ وہ اسرائیل سے لڑ رہا ہے ورنہ گریٹر اسرائیل کا منصوبہ جب آگے بڑھے گا تو عرب ممالک بھی سلامت نہیں رہیں گے ۔ عرب ممالک نے اپنے دفاع کے لیے امریکہ کو اڈے دئیے ، جبکہ آج وہی اڈے وبال جان بن گئے ہیں ۔ یہ وقت ہے کہ ہم مسلکی ، نسلی ، علاقائی اور ہر طرح کے تعصبات اور اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے متحد ہو جائیں ۔ ہمارا اللہ ایک ہے ، رسول ﷺ ایک ہیں ، قرآن ایک ہے ۔ اللہ کے رسول ﷺ کے مشن کو پورا کرنا ہماری ذِمّہ داری ہے ۔ جب ہم اس بڑے مشن کے ساتھ جُڑیں گے تو چھوٹے چھوٹے اختلافات پیچھے رہ جائیں گے۔موجودہ حالات کے تناظر میں کئی علماء نے آپس کے اتحاد و اتفاق کے لیے آواز بھی اُٹھائی ہے جن میں مفتی تقی عثمانی صاحب ، مولانا فضل الرحمان صاحب ، حافظ نعیم الرحمان صاحب اور مولانا زاہد الراشدی صاحب جیسے لوگ بھی شامل ہیں ۔ باقی علماء بھی دل بڑا کریں اور ریاست بھی اپنی سطح پر کوشش کرے کہ بحیثیت مسلمان ہم متحد ہو جائیں ۔ رمضان کا مہینہ ہے، میں دل سے عرض کرتا ہوں ، رمضان میں ہی جنگ بدر ہوئی تھی ۔ وہ ایمانی غیرت جو صحابہ کرامؓ میں تھی ، اس جذبہ اور غیرت کو مدنظر رکھتے ہوئے اور کچھ رمضان کی برکتوں کی وجہ سے بھی دلوں کو نرم کریں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے بڑوں کو صحیح فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور عوام کو بھی ہدایت دے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اللہ کے رسول ﷺ کے عظیم مشن کو اپنانے اور اس کے لیے اپنی جان ، مال ، صلاحتیں اور وقت لگانے کی توفیق عطافرمائے ۔ آمین!