اداریہ
رضاء الحق
عید الفطر اور عالمِ اسلام کی ذمہ داری
عید الفطر اگرچہ ابھی چند دن کے فاصلے پر ہے، مگردنیا بھر کے مسلمان شدت سے اس دن کے منتظر ہیں۔ عیدکے انتظار کو بچپنا، غیر سنجیدگی یا غیر فطری کیفیت قرار دینا درست نہیں، بلکہ یہ عین فطری بات ہے کہ مسلمان اُس دن کا انتظار کرے ،جب اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ماہ کی عبادت اور ریاضت کا صلہ ملنے والا ہو۔ حدیثِ قدسی میں آتا ہے: ’’ابنِ آدم کا ہر عمل اُس کے لیے ہے، ایک نیکی دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بڑھائی جاتی ہے، سوائے روزے کے، کیونکہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا۔ بندہ میری خاطر اپنی خواہش اور کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے۔ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک خوشی افطار کے وقت اور دوسری خوشی اپنے رب سے ملاقات کے وقت، اور روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے۔‘‘اسی لیے عید الفطر محض ایک مذہبی تہوار نہیں بلکہ مسلمانوں کے درمیان اخوت، ایثار اور اجتماعی شعور کی علامت بھی ہے۔ رمضان کے دوران مسلمان روزہ، نماز،قیام اللّیل، تلاوتِ قرآن اور زکوٰۃ و صدقات کے ذریعے اپنے ایمان کو تازہ کرتے ہیں، اور عید کا دن اسی روحانی تربیت کے ثمرات کا عملی اظہار بن کر آتا ہے۔
عید بار بار آنے والی خوشی کو کہتے ہیں اور اصطلاح میں یہ لفظ اُس دن کے لیے مخصوص ہے جب مسلمان اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے خوشی مناتے ہیں۔ اسلام میں عید کا دن صرف مسرت اور تفریح کا نام نہیں بلکہ شکر، عبادت اور باہمی ہمدردی کا دن بھی ہے۔ اس روز مسلمان اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں پر اُس کا شکر ادا کرتے ہیں، اُس کی تسبیح و تہلیل اور تکبیر بلند کرتے ہیں اور اپنے اُن بھائیوں کو بھی یاد رکھتے ہیں جو محتاج اور ضرورت مند ہیں۔
درحقیقت عید اس حقیقت کی یاد دہانی بھی ہے کہ خوشی کے لمحات میں بھی انسان اپنے رب کو نہ بھولے اور اپنی خوشیوں میں معاشرے کے کمزور طبقات کو شریک کرے۔ دنیا کی دیگر اقوام میں خوشی کے مواقع پر اکثر ہر طرح کی آزادی اختیار کرلی جاتی ہے، مگر اسلام اپنے ماننے والوں کو اخلاقی اور شرعی حدود کا پابند بناتا ہے۔ مسلمان اپنی زندگی کے ہر معاملے میں شریعت کے احکام اور نبی کریم ﷺ کی ہدایات کا پابند رہتا ہے۔ حقیقی مسلمان وہی ہے جو خوشی کے مواقع پر بھی ان حدود کا احترام کرے اور بے لگام آزادی کو اختیار نہ کرے۔
اس سال عید ایسے حالات میں آرہی ہے کہ جب عالمِ اسلام کے کئی خطے شدید آزمائشوں سے گزر رہے ہیں۔ دنیا کے بیشتر حصوں میں عید خوشیوں، ملاقاتوں اور مسرتوں کا پیغام لاتی ہے، مگر فلسطین بالخصوص غزہ میں یہی عید ملبے کے ڈھیروں، اجڑے گھروں اور شہید ہونے والوں کی یادوں کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔ ہزاروں خاندان اپنے پیاروں سے محروم ہو چکے ہیں اور لاکھوں افراد بے گھری اور محرومی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل کی غزہ میں جاری مسلسل جارحیت اور مسلمانوں کی نسل کُشی کے باعث وہاں انسانی حالات بدستور سنگین ہیں اور عالمی توجہ دیگر تنازعات کی طرف منتقل ہونے کے باوجود غزہ کے عوام شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔گزشتہ برسوں کی قتل و غارت گری نے ہزاروں خاندانوں کو بے گھر کر دیا ہے اور لاکھوں افراد کی زندگیاں متاثر ہوئی ہیں ۔ محتاط اندازوں کے مطابق 72ہزار سے زائد افراد شہید اور تقریباً پونے دو لاکھ زخمی ہو چکے ہیں۔ غزہ کی بڑی آبادی بے گھر ہو چکی ہے اور لاکھوں لوگ خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ ایسے میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر مسلط کی گئی جنگ نے عالمی توجہ کو مزید تقسیم کر دیا ہے، حالانکہ ایران کی سیاسی اور سفارتی پوزیشن ہمیشہ یہ رہی ہے کہ وہ فلسطین کے مسئلے کو امتِ مسلمہ کا بنیادی مسئلہ قرار دیتا ہے۔ بہرحال دنیا ایک بڑی عالمی جنگ کے دھانے پر کھڑی ہے اور طاغوتی قوتیں اپنے ابلیسی ایجنڈا کی تکمیل کے لیے دنیا کے امن کو تاراج کرنے پر تُلی ہوئی ہیں۔
اگرعالمِ اسلام رمضان کی روح کو زندہ رکھتے ہوئے باہمی اختلافات سے بالاتر ہو جائے اور مشترکہ مقاصد کے لیے متحد ہو جائے تو یہی عید آنے والے بہتر مستقبل کی بنیاد بن سکتی ہے۔یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ امتِ مسلمہ ایک جسم کی مانند ہے؛اگر ایک حصہ تکلیف میں ہو تو باقی جسم بھی بے چین رہتا ہے۔ایسے میں مصیبت میں گرفتار مسلمانوں کی تکلیف کا بھی احساس کریں تاکہ دنیا بھر کےتمام مسلمان حقیقت میں ایک جسم کی مانند بن جائیں ۔
احادیث مبارکہ میں آنے والی بعض روایات کے مطابق مستقبل میں حق و باطل کے بڑے معرکوں میں خراسان کے خطے کو خاص اہمیت حاصل ہوگی۔ اس خطے سے عموماً وہ وسیع علاقہ مراد لیا جاتا ہے جو آج کے افغانستان، ایران ، پاکستان اور وسطی ایشیائی ممالک کے چند علاقوں پر مشتمل ہے۔ اِن روایات میں اس بات کی بشارت دی گئی ہے کہ اسی خطے سے مسلمانوں کے ایسے لشکر اُٹھیں گی جو حق کی نصرت کریں گے اور بالآخر یروشلم تک اسلام کا پرچم لے کر وہاں نصب کریں گے۔ اس پس منظر میں یہ احساس اور بھی گہرا ہو جاتا ہے کہ اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام نافذ کرنے کے لئے اور مسلم اُمّہ کو جسد واحد بننے کے لئے یہی وقت ہے ۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مسلم دنیا کے حکمرانوں اور اہلِ اختیار کو درست راستہ دکھائے، اُنہیں دنیا بھر میں اسلام کے نظامِ عدلِ اجتماعی کے قیام کی توفیق عطا فرمائے اور پاکستان کو امن، استحکام اور سربلندی نصیب فرمائے۔ آمین!
tanzeemdigitallibrary.com © 2026