الہدیٰ
قیامت آئے گی تو دنیا کی زندگی کی حقیقت کھلے گی
آیت 55 {وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ لا مَا لَبِثُوْا غَیْرَ سَاعَۃٍط}’’اور جس دن قیامت قائم ہو گی مجرمین قسمیں کھاکھا کر کہیں گے کہ وہ ایک گھڑی سے زیادہ نہیں ٹھہرے۔‘‘
کہ وہ دنیا میں یا عالم برزخ میں گھڑی بھر سے زیادہ نہیں رہے۔
{کَذٰلِکَ کَانُوْا یُؤْفَکُوْنَ(55)} ’’اسی طرح وہ (دُنیا میں بھی) اُلٹے پھرائے جاتے رہے ہیں۔‘‘
جس طرح وہ لوگ روزِ قیامت اپنی زندگی کے دورانیے کے بارے میں انتہائی غیر معقول بات کریں گے، بالکل ایسے ہی دنیا میں بھی اُن کی سوچ اور فکر حقیقت سے بہت دور تھی۔
آیت 56 {وَقَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَالْاِیْمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِیْ کِتٰبِ اللّٰہِ اِلٰی یَوْمِ الْبَعْثِ ز}’’اور (اُس وقت) کہیں گے وہ
لوگ جنہیں علم اور ایمان عطا کیا گیا تھا کہ تم ٹھہرے ہو اللہ کے فیصلے کے مطابق دوبارہ اُٹھنے کے دن تک۔‘‘
تب اہل ِعلم اور صاحب ِایمان لوگ اُنہیں بتائیں گے کہ اے بدبختو! تم جسے ایک گھڑی کہہ رہے ہووہ دراصل عالم برزخ کا طویل عرصہ تھا جو اللہ کے فیصلے کے مطابق تم پر گزرا۔ ظاہر ہے ایک شخص اگر آج سے پانچ ہزار سال قبل فوت ہو اتھا تو آج تک وہ عالم برزخ میں ہی ہے اور نہ معلوم قیامت تک اور کتنا عرصہ وہ مزید وہاں رہے گا۔ اور یومِ بعث کب آئے گا؟اس کا علم بھی اللہ ہی کو ہے ۔چنانچہ اُنہیں بتایا جائے گا کہ تم لوگ اللہ کے حساب اور اس کے فیصلے کے مطابق یومِ بعث تک وہاں رہے ہو۔
{فَہٰذَا یَوْمُ الْبَعْثِ وَلٰکِنَّکُمْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ(56)} ’’تو یہ ہے یومِ بعث ‘لیکن تم لوگ تو علم ہی نہیں رکھتے تھے۔‘‘
ابھی تمہاری آنکھ کھلی ہے توتم یومِ بعث کا یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو‘مگر دنیا میں تو تم لوگوں نے آخرت کی زندگی اور اس دن کے بارے میں کبھی غور کرنا پسند ہی نہیں کیا تھا۔
درس حدیث
تکبر اور اسراف سے بچو
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ قَالَ :قَالَ رَسُوْلُ اللہِﷺ :(( کُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَ تَصَدَّقُوْا وَالْبَسُوْا مَالَمْ یُخَالِطْ اِسْرَافٌ وَلَا مَخِیْلَۃٌ))(رواہ احمد ونسائی و ابن ماجہ)
عمر و بن شعیب ؓ اپنے والد شعیب سے روایت کرتے ہیں کہ وہ اپنے دادا حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصi سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’ کھائو، پیو، صدقہ و خیرات کرو، اورپہنو ہر وہ لباس جس میں اسراف و تکبر (فضول خرچی اور گھمنڈ) کی ملاوٹ نہ ہو۔ ‘‘
تشریح :کھانے پینے کی چیزیں اور لباس اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں۔ جس کو اچھی خوراک اور اچھا لباس میسر ہو اُسے ان نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کی اجازت ہے۔ شرط یہ ہے کہ نہ تو اسراف ہو اور نہ دل میں فخر اور تکبر ہو۔ بلکہ آدمی اپنے حلال مال سےدوسرے ضرورت مندوں کی کھانے اور لباس سے مدد کرے۔ خلافِ شرع کام میں ایک پیسہ بھی خرچ کرنا اسراف میں داخل ہے۔