(اداریہ) اسرائیل کے جنگی اہداف - رضا ء الحق

10 /

اداریہ


رضاء الحق


اسرائیل کے جنگی اہداف


مشرقِ وسطیٰ میں تاحال جنگ جاری ہے، ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری لڑائی رُک نہیں رہی ہے، جس کے اثرات پورے خطے بلکہ پوری دنیا پر پڑ رہے ہیں۔ اس جنگ کے بارے میں سب سے بڑا تضاد یہ ہے کہ ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ ایران شکست کے دہانے پر ہے اور جلد ہتھیار ڈالنے والا ہے، جبکہ دوسری طرف میدانِ جنگ سے آنے والی خبریں اِس کے برعکس تصویر پیش کررہی ہیں۔ ایران کے میزائل اسرائیل تک پہنچ رہے ہیں، امریکی مفادات پر حملے ہو رہے ہیں اور اِس وقت اسرائیل و امریکا اپنی تاریخ کے مشکل ترین مرحلے میں ہیں۔ یہاں اصل سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ اگر امریکا واقعی اِس جنگ میں کامیاب ہوچکا ہے یا ایران ہتھیار ڈالنے کے قریب ہے تو پھر مسلسل بمباری، عسکری دباؤ اور بیانات کی جنگ کا مقصد کیا ہے؟ کیا یہ واقعی فتح کی جنگ ہے یا ایک ایسے سیاسی بیانیے کو قائم رکھنے کی کوشش جس کے ذریعے عالمی رائے عامہ کو متاثر کیا جا سکے؟
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ابتدائی فضائی حملوں میں ایرانی قیادت کو نقصان پہنچا، مگر ایرانی حکومت فوری طور پر نئی قیادت قائم کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایران کی ’موزیک دفاعی حکمت ِ عملی‘ نے فوجی نظام کو قیادت کے نقصان کے باوجود فعال رکھا ہے۔ ایران نے جوابی کارروائی میں خلیجی ممالک، بحری جہازوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس سے آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھی اور عالمی تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ گئیں۔ متعدد ممالک نے اپنے اسٹرٹیجک تیل کے ذخائر جاری کیے، مگر سپلائی بحران برقرار ہے اور کئی ممالک میں تجارتی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایران کی حکمت عملی تین نکات پر مبنی ہے: حکومت کا تحفظ، جوابی حملوں کی صلاحیت برقرار رکھنا، اور جنگ کو طول دینا تاکہ مذاکرات اپنی شرائط پر ہوں۔ اِس کے برعکس صدر ٹرمپ نے ایران سے ’غیر مشروط ہتھیار ڈالنے‘ کا مطالبہ کیا ہے، مگر امریکی حکمت عملی پر سوالات اُٹھ رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا ممکنہ طور پر محدود فوجی کامیابی کو ہی ’فتح‘ کے طور پر پیش کر سکتا ہے، جبکہ زمینی فوج یا ایران کے اندرونی گروہوں کی حمایت مزید عدم استحکام پیدا کر سکتی ہے۔ جنگوں میں ہمیشہ دو محاذ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو میدانِ جنگ میں لڑا جاتا ہے اور دوسرا وہ جو بیانیے اور پروپیگنڈے کے ذریعے عالمی رائے عامہ میں لڑا جاتا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان موجودہ تنازع بھی اِسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ایران کی بحریہ ختم ہوچکی ہے، اِس کی فضائیہ تباہ ہوچکی ہے اور اس کے میزائل و ڈرون نظام کو شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے۔ یہاں تک کہ اُنہوں نے ایرانی رہنماؤں کی ٹارگٹ کلنگ کو اپنے لیے ’’اعزاز‘‘ قرار دیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ ایران جلد ہتھیار ڈالنے کے قریب ہے۔ لیکن دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل حملے جاری ہیں۔ اسرائیلی میڈیا اور ایمرجنسی سروسز کے مطابق حالیہ حملوں میں درجنوں افراد زخمی ہوئے اورسینکڑوں گھر تباہ ہوگئے۔ شہریوں کو بنکروں میں پناہ لینے کی ہدایت دی گئی اور پورے اسرائیل میں ہائی الرٹ نافذ کردیا گیا۔ اگر ایران واقعی عسکری طور پر مفلوج ہوچکا ہوتا تو ایسے حملوں کا تسلسل ممکن نہ ہوتا۔ یہی وہ تضاد ہے جو اِس جنگ کے بیانیے کو مشکوک بناتا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اب صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہی۔ عراق میں ایران کے حمایت یافتہ ایک گروہ کی جانب سے امریکی فوجی طیارے پر حملہ اور اس کے نتیجے میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت اِس بات کی علامت ہے کہ یہ جنگ پورے خطے میں پھیل سکتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی اور سیاسی حقیقت یہ ہے کہ یہاں کسی بھی جنگ کو محدود رکھنا آسان نہیں ہوتا۔ لبنان میں حزب اللہ، عراق میں مختلف مسلح گروہ، شام میں جاری تنازعات اور خلیجی ممالک کی سیاسی صف بندی اِس جنگ کو ایک وسیع علاقائی تصادم میں تبدیل کرسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتیں اِس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ روس اور چین کی ممکنہ حمایت کے بارے میں امریکی بیانات بڑی جنگ کی طرف اشارہ کررہے ہیں۔ اگر یہ تنازع بڑی طاقتوں کے درمیان پراکسی جنگ کی شکل اختیار کر لیتا ہے تو اِس کے نتائج بھی انتہائی خطرناک ہوسکتے ہیں۔
اِس جنگ کا ایک پہلو عالمی معیشت سے بھی جڑا ہوا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اگر اِس راستے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اِس کا اثر صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری دنیا کی معیشت متاثر ہوتی ہے۔ جی سیون ممالک کی جانب سے امریکا پر جنگ ختم کرنے کے لیے دباؤ بھی اِسی حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے ۔ عالمی طاقتیں جانتی ہیں کہ اگر یہ جنگ طول پکڑتی ہے تو تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ اور عالمی معاشی بحران پیدا ہوسکتا ہے۔ امریکا کے حملوں سے پہلے ایران میں عوامی سطح پر رجیم کے خلاف احتجاج تھا لیکن اب ایران میں ہونے والے مظاہرے اور یوم القدس کے موقع پر ہزاروں افراد کی سڑکوں پر موجودگی اِس بات کا ثبوت ہے کہ وہاں کے عوام نظریاتی طور پر موجودہ رجیم کے ساتھ کھڑے ہیں اور یہ سب کچھ امریکا نے اپنے لیے خود کیا ہے۔ تہران کے انقلاب اسکوائر میں جمع ہونے والے مظاہرین کے نعروں اور جذبات سے واضح ہوتا ہے کہ ایران میں اِس جنگ کو ایک قومی اور مذہبی مزاحمت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے اور تاریخ یہی ہے کہ جب کوئی جنگ قومی مزاحمت کی شکل اختیار کر لیتی ہے تو اُسے صرف طاقت سے ختم کرنا آسان نہیں ہوتا۔ افغانستان اور عراق کی مثالیں اس حقیقت کی واضح یاد دہانی ہیں کہ طاقتور ترین فوجیں بھی عوامی مزاحمت کے سامنے طویل عرصے تک کامیابی حاصل نہیں کر پاتیں۔ اِس جنگ کے حوالے سے دنیا کے مختلف دانشوروں اور ادیبوں نے بھی اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ بھارتی ادیبہ ارون دھتی رائے نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم تہران، اصفہان اور بیروت جیسے شہروں کو نظر انداز نہیں کرسکتے جو اِس وقت شعلوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ اُن کے مطابق یہ منظر ہمیں ایک بار پھر وہی پرانا طریقہ کار دکھاتا ہے جس میں عورتوں اور بچوں کی ہلاکت، اسپتالوں پر بمباری اور شہروں پر اندھا دھند حملے شامل ہوتے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ دراصل غزہ میں جاری پالیسیوں کا تسلسل ہے۔ اُنہوں نے خبردار کیا کہ ایران غزہ نہیں ہے اور اس جنگ کا پھیلاؤ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ اُن کے مطابق دنیا اِس وقت ایٹمی تباہی اور معاشی زوال کے دہانے پر کھڑی ہے۔ امریکا اور اُس کے اتحادی اِس جنگ کو دہشت گردی کے خلاف جنگ اور عالمی امن کے لیے ضروری اقدام کے طور پر پیش کرتے ہیں، جبکہ ایران اور اُس کے حامی اِسے سامراجی جارحیت اور خطے پر تسلط کی کوشش قرار دیتے ہیں۔ یہی بیانیے کی جنگ عالمی رائے عامہ کو تقسیم کر رہی ہے۔ مغربی میڈیا کی ایک بڑی تعداد امریکی موقف کو اُجاگر کرتی ہے جبکہ مشرقی دنیا میں اِس جنگ کو ایک مختلف زاویے سے دیکھا جا رہا ہے۔ اگر اِس پوری صورتحال کا غیر جذباتی تجزیہ کیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ اِس جنگ کا مقصد صرف ایران کو عسکری طور پر شکست دینا نہیں ہوسکتا ہے بلکہ اِس جنگ کے پیچھے کئی بڑے مقاصد کارفرما ہیں۔ اِن میں ایران کی علاقائی طاقت کو کمزور کرنا، اُس کے اتحادیوں کو تنہا کرنا، مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنا اور توانائی کے وسائل پر اثر و رسوخ قائم رکھنا شامل ہے۔
7 اکتوبر 2023ء کے بعد ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل کی غزہ پر بہیمانہ بمباری بھی مسلمانوں کے خلاف ریاستی دہشت گردی کا حصّہ تھی اور نام نہاد امن معاہدوں کے بعد بھی اِس درندگی میں کمی نہیں آئی۔ مسلم دشمنی اور اخلاقی گراوٹ کا یہ عالم ہے کہ رمضان المبارک میں مسجدِ اقصیٰ کو فلسطینی مسلمانوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے اور اسرائیل اب خطے کے دیگر مسلم ممالک کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور امریکہ کے اعلیٰ عہدیدان انتہائی بے شرمی کے ساتھ گریٹر اسرائیل کے قیام کو اپنا مذہبی مشن قرار دے رہے ہیں اور اِس ابلیسی ہدف کے حصول کے لیے وہ خطے کے مسلم ممالک کو جنگ میں جھونک رہے ہیں۔ ایران پر حملہ اِسی شیطانی منصوبہ کی تازہ ترین کڑی ہے اور اگلا نشانہ پاکستان ہو سکتا ہے۔ اسرائیل اور اُس کے تمام معاونین کا معاملہ ’’لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے‘‘ کے مصداق ہے کہ جب تک عملی کاروائی نہیں کی جاتی وہ اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہیں آئیں گے۔ لہٰذا ضرورت اِس اَمر کی ہے کہ غیروں اور اُن کے اداروں پر انحصار کرنے کی بجائے مسلمان ممالک متحد ہوں۔ اگر مسلمان ممالک مل کر دنیا بھر میں نظریاتی اور عملی اسلامو فوبیا کے مرتکب افراد، اداروں اور ممالک کا سفارتی اور معاشی بائیکاٹ کریں اور عسکری سطح پر جواب دینے کی تیاری کریں تو طاغوتی قوتیں گھٹنوں کے بل گر جائیں گی اور صرف اِسی طریقے سے مظلوم مسلمانوں کی حقیقی داد رسی اور اسلام کا بول بالا کرنا ممکن ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مسلم دنیا کے حکمرانوں اور اہلِ اختیار کو درست راستہ دکھائے، اُنہیں دنیا بھر میں اسلام کے نظامِ عدلِ اجتماعی کے قیام کی توفیق عطا فرمائے اور پاکستان کو امن، استحکام اور سربلندی نصیب فرمائے۔ آمین!