(عید سعد) امیر تنظیم اسلامی کا خطبۂ عید - ابو ابراہیم

10 /

امیر تنظیم اسلامی کا خطبۂ عید


جامع مسجد دارالسلام باغ جناح لاہور میںامیر تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ  حفظ اللہ کے21مارچ 2026ء کے خطاب عید کی تلخیص

مرتب: ابو ابراہیم

  خطبہ ٔمسنونہ اور تلاوتِ آیاتِ قرآنی کے بعد!
رسول اللہﷺ نے فرمایا :
((لکل قوم عید وھذا عیدنا)) ’’ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے اور یہ (عیدالفطر یا عید الاضحی) ہماری عید ہے ۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے ہمیںبامقصد تہوار عطا فرمائےہیں ۔ رمضان مکمل ہوتا ہے ، روزے کی عظیم عبادت پائے تکمیل کو پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ عید الفطر عطا فرماتا ہے ۔ حج کی عظیم عبادت مکمل ہوتی ہے تواللہ تعالیٰ عید الاضحیٰ عطا فرماتا ہے۔ مسلمان کی خوشی بھی اللہ کے حکم کے تابع ہوتی ہے ،  وہ اللہ کی تکبیرات کے ساتھ اور اللہ کے سامنے جھک کر اپنی عید کا آغاز کرتا ہے۔ اللہ کا حق بھی ادا ہوتا ہے، مخلوق کا حق بھی ادا ہوتا ہے۔ عید الفطر کے موقع پر صدقہ فطر ادا کرنے کی تلقین ہے جس کا حاصل حدیث کے مطابق یہ ہے کہ روزے میں اگر کمی کوتاہی ہو جائے تو اس کا کفارہ ادا ہو جاتا ہے اور غریب کو بھی عید کی خوشی میں شرکت کا موقع ملتا ہے۔ یہ خوبصورت دین اللہ نے ہمیں عطا فرمایا کہ جہاں حقوق اللہ کی ادائیگی کا حکم دیتا ہے وہاں حقوق العباد ادا کرنے کا اہتمام بھی سکھاتا ہے ۔ رمضان المبارک میں ہم نے روزے رکھے ، اس کے بعد اب ہم تکبیرات کا اہتمام کر رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
{وَلِتُکَبِّرُوا اللہَ عَلٰی مَا ہَدٰىکُمْ وَلَـعَلَّـکُمْ تَشْکُرُوْنَ (185)} (البقرہ ) ’’اور تاکہ تم بڑائی کرو اللہ  کی اس پر جو ہدایت اُس نے تمہیں بخشی ہے‘ اور تاکہ تم شکر کر سکو۔‘‘ 
یہ رمضان کے روزے قرآن جیسی عظیم نعمت پر  اللہ تعالیٰ کا شکرانہ ادا کرنے کے لیےرکھوائے گئے۔   اللہ فرماتا ہے کہ اللہ کی بڑائی بیان کرو اس ہدایت پر جو اللہ نے تمہیں عطا فرمائی۔ آج ہم تکبیرات کہتے ہوئے عید گاہ آئے ہیں ،تکبیرات کہتے ہوئے واپس بھی جائیں گے ۔ لیکن تکبیر محض یہ نہیں کہ اللہ اکبر اللہ اکبر کی تسبیحات پڑھ لی جائیں، یہ بھی لازم ہےلیکن تکبیر ِ رب کا اصل تقاضا یہ ہے کہ زمین پر اللہ کے احکامات کے نفاذ کی جدوجہد کی جائے ۔ 
یا وسعت افلاک میں تکبیر مسلسل
یا خاک کی آغوش میں تسبیح و مناجات
وہ مذہب مردان خداگاہ و خدا مست
یہ مذہب ملا و جمادات و نباتات
یہ چرند پرند ،یہ پتے ،بوٹے بھی اللہ کی تسبیح تکبیر بیان کر رہے ہیں لیکن مسلمانوں سے مطلوب یہ ہے کہ وہ اللہ کی زمین پر اللہ کے دین کے نفاذ کی جدوجہد کریں ۔ رمضان کے مہینے میں غزوۂ بدر سجا، رمضان کے مہینے میں ہی مکہ فتح ہوا ۔ یہ مجاہدانہ تربیت ہے جو اللہ تعالیٰ اس مبارک ماہ کے ذریعے ہمیں دینا چاہتا ہے تاکہ اللہ کے بندےظلم کے خاتمے کے لیے ، عدل کے نفاذ کے لیے اور واقعتاً اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرنے کے لیےکھڑے ہوں ۔ 
رمضان کے روزے مکمل ہو گئے لیکن زندگی بھر کا روزہ جاری ہے ، اس میں اپنے آپ کو گناہوں سے اور حرام کاموں سے اسی طرح بچانا ہے جس طرح روزہ میں ہم نے حلال چیزوں کو چھوڑ دیا تھا ۔ یہ روزہ مرتے دم تک چلے گا ۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
{وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ(102)}(آل عمران ) ’’اور تمہیں ہرگز موت نہ آنے پائے مگر فرمانبرداری کی حالت میں۔‘‘ 
  مرتے دم تک اللہ کا فرمانبردار بن کر رہنا ہے ۔ عیدکا یہ مطلب نہیں کہ بندہ خوشی میں آزاد ہو جائے اور رمضان کے جانے کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ کی بندگی کے تقاضے ختم ہوگئے ۔ اللہ اب بھی اللہ ہے، ہم اب بھی اس کے بندے ہیں۔ہر نماز کی ہر رکعت میں ہم یہ دعادہراتے ہیں ۔ 
{اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ(0)} ’’ہم صرف تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے اور ہم صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں اور چاہتے رہیں گے۔‘‘
رمضان کے بعد بھی اللہ کی بندگی جاری رہنی چاہیے ۔ رمضان چلا گیا لیکن قرآن کا تحفہ ہمیں دےگیا ۔ اب یہ نہ ہو کہ آئندہ رمضان تک قرآن بند ہو جائے ، یا کسی کے انتقال پر کھلے۔ یہ ہر وقت پڑھنے والا کلام ہے ۔ یہ قرآن ہمارا سب سے اہم ترین نصاب ہے ۔ مسلمان بوڑھا ہو یا بچہ ، مرد ہو یا عورت ہر چند گھنٹوں پر اسے قرآن پڑھنا چاہیے اور اس سے رہنمائی لینی چاہیے ۔ یہ کتاب ہدایت ہے ،ثواب کی نیت سے بھی پڑھنا چاہیے لیکن اس سے آگے بڑھ کر اس کےتقاضوں پر عمل بھی کرنا چاہیے ۔ روزے کا مقصد تقویٰ کا حصول ہے ۔ اس لحاظ سے ہم رمضان کے بعد کہاں کھڑے ہیں ، اس حوالے سے بھی اپنا جائزہ لیتے رہنا چاہیے ۔ بحیثیت اُمتی ہماری جو اجتماعی ذمہ داریاں ہیں اُن کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا ۔  7اکتوبر 2023ء کے بعد سے غزہ کے مسلمانوں کا قتل عام جاری ہے، اس مرتبہ رمضان میں بھی مسجد اقصیٰ بند رہی ،  عید الفطر کی نماز بھی وہاں منع کر دی گئی ۔اس وقت ہم    اہل غزہ کو بھولے ہوئے ہیں اور ایران کا معاملہ ہمارے سامنے ہے۔  اقوام متحدہ ، جنیوا کنونشن وغیرہ کو اُٹھا کر پھینک دیا گیا ہے اور اسرائیل اور امریکہ اس وقت بدمعاش بنے ہوئے ہیں اور دندناتے پھر رہے ہیں۔ ان کا مکروہ چہرہ کھل کر دنیا کے سامنے آچکا ہے ۔ اِس وقت اُمّت ِمسلمہ پر جو افتاد آن پڑی ہے ہم سب کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے ۔ اُمّت کے اتحاد کی بات ہونی چاہیے۔ عربوں کو بھی اللہ ہدایت دے ،ہمیں بھی اللہ ہدایت عطا فرمائے۔ امریکہ کا کمبل چھوڑنا پڑے گا۔ ہنری کسنجر نے کہا تھا کہ امریکہ کا دشمن تو شاید بچ سکتا ہے امریکہ کا دوست نہیں بچ سکتا۔ اللہ ہمارے بڑوں کو بھی صحیح فیصلوں کی توفیق عطا فرمائے اور اللہ تعالیٰ اُمّت ِمسلمہ کے حال پر رحم فرمائے۔ٹرمپ اور نیتن یاہوکٹر مذہبی بنے ہوئے ہیں ۔ نیتن یاہو کہتا ہے میں روحانی مشن پر ہوں ، ٹرمپ کہتا ہے مجھے عیسیٰd بشارتیں دے رہے ہیں ۔ دوسری طرف ہم مسلمان اپنا جائزہ لیں کہ ہماری دینداری کدھر ہے ؟یہ مملکت خداداد پاکستان، جس کو ہم نے اسلام کے نام پر لیا، اسلام کی طرف پیش قدمی تو دور کی بات اُلٹا ہم اسلام سے دور جارہے ہیں ۔ اللہ ہمیں ہدایت عطا کرے۔ 
پاکستان اور افغانستان کے درمیان عید کے موقع پر سیز فائر کا اعلان ہوا ، خوش آئند بات ہے لیکن مستقل امن کے لیے دونوں مملکتوں کو بیٹھ کر فیصلہ کرنا چاہیے۔ اسلام دشمن قوتیں کبھی نہیں چاہیں گی کہ یہاں امن ہو ۔ سی آئی اے ، را، موساد سمیت امن کے دشمن اپنا کھیل کھیل رہے ہیں ۔ ہمارے حکمرانوں کو سمجھنا چاہیے ۔ ایرانی قیادت نے بھی کہا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان متحد ہو کر ترقی کریں تاکہ خطہ میں استحکام آئے ۔ بانی تنظیم اسلامی   محترم ڈاکٹر اسراراحمدؒ برسوں پرپہلے اِن تین ممالک کے اتحاد پر زور دیتے رہے تھے ۔ انہوں نے PIAکے نام سے پاکستان ، ایران اور افغانستان کے مشترکہ بلاک کی تجویز بھی پیش کی تھی ۔ وہ اس کی وجہ بھی بتاتے تھے کہ یہی خطہ مستقبل کا خراسان بنے گا جہاں اسلامی فوجیں نکل کرحضرت مہدی ؒ کی نصرت کے لیے جائیں گی اور دجال کے لشکر کے خلاف جنگ کریں گی ۔ اسلام دشمن قوتیں اس سے بے خبر ہرگز نہیں ہیں ، اسی لیے وہ نہیں چاہتیں کہ یہاں استحکام آئے ۔ اللہ تعالیٰ پاکستان اور افغانستان کی قیادتوں کو سمجھ اور ہدایت عطا فرمائے ۔ آمین ! اللہ تعالیٰ بھی مسلمانوں کے اتحاد اور یکجہتی کا حکم دیتا ہے ۔ فرمایا :
{اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْکُمْ} (الحجرات:10) ’’یقیناً تمام اہل ِایمان آپس میں بھائی بھائی ہیں‘پس اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کر ادیا کرو ۔‘‘
اللہ چاہتا ہے کہ مسلمان اس بنیاد پر بھائی بھائی بنیں اور اِس خطے کو مستحکم کرنے کی کوشش کریں ۔ آج فرنگ کی رگ جاں پنجۂ یہود میں ہے۔ وہ یہود پیچھے بیٹھا ہے اور ٹرمپ دندناتا پھر رہا ہے۔ ٹرمپ اپنی حرکتوں سے خود ہی امریکہ کی بربادی کا سبب بن جائے گا لیکن تشویش کی بات یہ ہے کہ گریٹراسرائیل کا منصوبہ آگے بڑھ رہا ہے ۔ اللہ ہمیں سمجھ عطا فرمائے ۔ اللہ کے رسول ﷺ کی احادیث میں آخری زمانے کے حوالے سے جہاں بڑی جنگوں کا ذکر ہے، وہاں یہ بھی ذکر ہے کہ اللہ کا دین پوری دنیا پر غالب ہوگا ۔ ہمیں بحیثیت مسلمان اس کے لیے خود کو تیار کرنا چاہیے اور رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں ہمیں اسی مجاہدانہ تربیت سے گزارا جاتاہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس تربیت سے فائدہ اُٹھانے کی توفیق عطافرمائے ۔ لیکن یہ تب ہوگا جب ہم اسلام کو سامنے رکھیں گے ۔ سیدنا عمر ؄ نے فرمایا تھا : ہمیں عزت کپڑوں سے نہیں ملی ، ہمیں عزت اسلام سے ملی ہے۔ ہم نے یہ ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا اور اسلام کے نفاذ میں ہی اس کا استحکام اور اس کی بقاء پوشیدہ ہے ۔ امریکہ کی غلامی سے استحکام کبھی نہیں آئے گا ۔ اللہ تعالیٰ نے اِس اُمت کو پہلے ہی سمجھا دیا تھا : 
{وَلَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَہُوْدُ وَلَا النَّصٰرٰی حَتّٰی تَــتَّبِعَ مِلَّـتَہُمْ ط}(البقرہ:120)’’اور(اے نبیﷺ!  آپ کسی مغالطے میں نہ رہیے) ہرگز راضی نہ ہوں گے آپؐ سے یہودی اور نہ نصرانی جب تک کہ آپؐ پیروی نہ کریں ان کی ملت کی۔‘‘
ملکی ترقی اور استحکام کے لیے امریکہ کا کیمپ چھوڑنا پڑے گا۔اگر کسی کیمپ میں شامل ہونا ضروری ہے تو چائنہ اور روس کے کیمپ میں جانا چاہیے ۔ یہ ظاہر کی تدبیر ہے لیکن اصل حل یہ ہے کہ امت آپس میں متحد ہو جائے ۔ آج عرب ممالک کو ایران سے شکایت ہے کہ وہ میزائل حملے کررہا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ عرب ممالک نے امریکہ کو اڈے کیوں دئیے؟ آج اگر امریکہ تمہارا دفاع بھی نہیں کر سکتا تو اُس کی غلامی کرنے کی ضرورت کیا ہے ؟ مسلمان ممالک آپس میں متحد ہوں گے تو اپنا دفاع کر سکیں گے ۔ 
آخری بات یہ ہے کہ یہ ملک اسلام کے نام پر بنا ہے ۔ محض ایٹمی صلاحیت کا ہونا یا میزائل ٹیکنالوجی کا ہونا کافی نہیں ہے ۔ ان ظاہری اسباب کے ساتھ سوویت یونین قائم نہ رہ سکا ۔ حالانکہ وہ ٹیکنالوجی میں پاکستان سے بہت بڑھ کر تھا ۔ اصل چیز نظریہ ہے ، سوویت یونین اپنے نظریے سے پیچھے ہٹا تو ختم ہو گیا ۔ پاکستان کی بقاء بھی نظریہ کے نفاذمیں پوشیدہ ہے۔ 
وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات
نفاذِ اسلام کی طرف پیش قدمی ہوگی تو اللہ کی نصرت ہمارے شامل ِ حال ہو گی ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
{یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَنْصُرُوا اللہَ یَنْصُرْکُمْ وَیُثَبِّتْ اَقْدَامَکُمْ(7)} (محمد) ’’اے اہل ِایمان! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور وہ تمہارے قدموں کو جما دے گا۔‘‘
  اللہ ہمیں اور ہمارے حکمرانوں کواللہ کے دین کی مدداور سچی توبہ کی توفیق عطافرمائے اور ہمیں سمجھ دے کہ ہم دین کو ترجیح دیں ، امت کے مقصد اور مفاد اور اُمت کے اتحاد کو ترجیح دیں ۔آمین !