(منبرو محراب) رمضان کا حاصل اور کرنے کے کام - ابو ابراہیم

10 /

رمضان کا حاصل اور کرنے کے کام

(قرآن و حدیث کی روشنی میں)


مسجدجامع القرآن ، قرآن اکیڈمی لاہور میں امیر تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ   حفظ اللہ کے20مارچ 2026ء کے خطاب جمعہ کی تلخیص

مرتب: ابو ابراہیم

خطبہ ٔمسنونہ اور تلاوتِ آیاتِ قرآنی کے بعد!
اللہ تعالیٰ کی توفیق سے رمضان کے بابرکت ماہ سے مستفید ہونے کا ہمیں موقع ملا ۔ اس پر ہم سب کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے ۔ آج جمعۃ الوداع ہے ۔ مفتی منیب الرحمان صاحب ایک دلچسپ بات کہتے ہیں کہ جمعۃ الوداع کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ رمضان کے جانے کے بعد بندگی کے تقاضے ختم ہو جائیں گے ، تقویٰ کے تقاضے ختم ہو جائیں گے، قرآن حکیم بند ہو جائے گا ۔ رمضان کے بعد اللہ کے حضور رونا گڑگڑانا بند ہو جائے گا۔ رمضان کے بعد اپنے اوقات کی حفاظت کرنے کی کوشش کرنا ختم ہو جائے گا؟یہ کوئی تصور ہمارے دین میں نہیں ہے۔ دنیا میں ہم انویسٹمنٹ کرتے ہیں، بچوں پر بھی کرتے ہیں، کاروبار میں بھی کرتے ہیں، دنیا میں ہم کہیں وقت لگاتے ہیں، پیسہ لگاتے ہیں، اپنے آپ کو کھپاتے ہیں ، اپنی اولاد کو کھپاتے ہیں تو اس کا ریٹرن بھی چیک کرتے ہیں ۔ اسی طرح ہم نے رمضان میں مشقت اُٹھائی ، رات کو قیام کیا ، اعتکاف بھی کیا ہے،قرآن کی تلاوت بھی کی ، اس کا بھی ہمیں ریٹرن دیکھنا چاہیے کہ رمضان کے بعد ہم کہاں کھڑے ہیں ؟ 
سید ابوالحسن علی ندوی ؒ کا ایک کتابچہ بعنوان  ’’دوروزے‘‘ہر سال تنظیم اسلامی کے پلیٹ فارم سے بھی تقسیم کیا جاتاہے ۔ ایک روزہ تو وہ ہے جو ہم رمضان میں رکھتے ہیں یا پھر نفلی طور پر کسی دن رکھتے ہیں ۔ یہ صبح صادق سے شروع ہوتا ہےاور غروبِ آفتاب پر مکمل ہو جاتا ہے۔ اس دوران ہم کھاپی نہیں سکتے ، زوجین کا تعلق ممنوع ہو جاتاہے ، اسی طرح اور کئی حلال چیزوں سے ہم افطاری تک پرہیز کرتے ہیں ۔ رمضان کے بعد 11 ماہ ہم کبھی کبھار نفلی روزے تو رکھ لیتے ہیں لیکن فرض روزہ صرف رمضان میں رہتا ہے ۔ لیکن ایک روزہ زندگی بھر کا ہے جو موت تک جاری رہتا ہے ۔ رمضان کے روزے کا مقصد تقویٰ حاصل کرنا ہے ۔ تقویٰ خدا کا خوف دل میں پیدا کرنے اور گناہوں سے اپنے آپ کو بچانے کا نام ہے ۔  سیدنا عمر ؄کی مجلس میں جب یہ سوال اُٹھایا گیا کہ تقویٰ کسے کہتے ہیں تو حضرت ابی بن کعب ؄نے پوچھا اے امیرالمومنین !اگر آپ کا گزر ایسے تنگ راستے سے ہو  جہاں دائیں بائیں کانٹے دار جھاڑیاں ہوں تو آپ کیسے گزریں گے ۔ فرمایا :  اپنے دامن کو بچا بچا کر گزروں گا۔ حضرت ابی بن کعب ؄نے فرمایا : یہی تقویٰ ہے ۔   سید قطب شہید ؒنے لکھا :اس دنیا میں بڑے کانٹے ہیں۔ حرام کے کانٹے ہیں، سود، رشوت ، بد نگاہی ، لوگوں کا مال ہڑپ کرنے ، ظلم ، زیادتی، حقوق العبادمیں کوتاہی، اللہ کی نافرمانی کے کانٹے ہیں۔ نمازوں کو ضائع کردینا ، زکوٰۃ میں  ڈنڈی مارنا ، استطاعت کے باجود حج نہ کرنا ، جھوٹ بولنا ، وعدہ خلافی کرنا ، ملاوٹ کرنا ، ماں باپ کا دل دکھانا اور اس طرح کی بے شمار برائیاںکانٹے ہیں ۔ اِن کانٹوں سے اپنا دامن بچا کر زندگی گزارنا تقویٰ ہے ۔ یہ تقویٰ موت تک جاری رہنا چاہیے ۔ یہ زندگی بھر کا روزہ ہے ۔ اِس تربیت کے لیے اللہ تعالیٰ نے رمضان کے روزے فرض کیے ہیں ۔ فرمایا : 
{لَـعَلَّـکُمْ تَتَّقُوْنَ(183)}(البقرہ)’’ تاکہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو جائے۔‘‘
بدقسمتی سے ہم نے رمضان کو فیسٹیول بنا لیا ، کھانے پینے کا موسم بنالیا ، افطار ڈیلز ہوتی ہیں ، مڈنائٹ ڈیلز ہوتی ہیں ، اب سحری ڈیلز بھی شروع ہوگئیں ۔ حالانکہ رمضان کا مقصد بہت اعلیٰ ہے ۔ ابوالکلام آزاد ؒ نے فرمایا تھا : اگر صرف بھوکا اور پیاسا رہناہی عبادت ہوتی تو فقیر سب سے بڑے عبادت گزار ہوتے ۔ اس کے برعکس روزے کا مقصد تقویٰ حاصل کرنا ہے اور یہی تقویٰ پوری زندگی کے روزہ میں بھی درکار ہے ۔ اپنی زندگی کے ہر گوشے سے ہم برائیوں کو نکال باہر کریں اور اللہ کے فرمانبردار بندے بن جائیں ۔ یہ کیفیت موت تک جاری رہنی چاہیے ۔ موت کسی وقت بھی آسکتی ہے ۔ روزانہ بچوں کے جنازے بھی اُٹھتے ہیں ، بڑوں کے بھی اُٹھتے ہیں ، ہمارا وقت بھی آسکتا ہے ۔ کیا ہم تقویٰ کی زندگی گزار رہے ہیں ؟ تنہائی میں بیٹھ کرسوچیں کہ کیا اللہ کے ساتھ ہمارے معاملات ٹھیک ہیں ، اللہ کے بندوں کے ساتھ ٹھیک ہیں ، پیغمبر ﷺ کے اُمتی ہونے کے ناطے ہمارے کندھوں پر جو ذمہ داریاں ہیں کیا ہم ان کو پورا کر رہے ہیں ؟ اللہ ہمارا خاتمہ ایمان پر کرے اور ابھی سے تیاری کی توفیق عطافرمائے ۔ آمین ! 
رمضان کا روزہ رکھنے کے بعد ہم مغرب کے وقت افطاری کرتے ہیں اور رمضان کے بعد عید مناتے ہیں ۔ اسی طرح زندگی بھر کا روزہ رکھ کر جب ہم آخرت میں جائیں گے تو افطاری حوض کوثر سے کریں گے۔ ان شاء اللہ اور ہماری عید اُس وقت ہوگی جب اللہ کا دیدار ہوگا۔بخاری شریف کی حدیث ہے ۔ حضور ﷺ نے صحابہ ؓ سے فرمایا :کیا تم چاند کو دیکھتے ہو ، کیا اس کے دیکھنے میں کوئی شک یا رکاوٹ ہے ؟ صحابہ ؇ نے عرض کیا ۔ یارسول اللہ ﷺ! ہرگز نہیں ۔ فرمایا : اسی طرح تم آخرت میں اللہ کا دیدار بھی کرو گے ۔ مگر اس کے لیے زندگی بھر کا روزہ رکھنا ضروری ہے ۔ یہ نہیں کہ رمضان میں روزے بھی رکھ رہے ہیں ، نمازیں بھی ادا کررہے ہیں ، رات کو قیام بھی کرتے ہیں ، برائیوں سے بھی بچنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن عید کا چاند نظر آتے ہی سب کچھ چھوٹ جائے ۔ آج ہی اپنے دل میں عہد کرلیں کہ ہم نے پوری زندگی کا روزہ رکھنا ہے ۔ یہی رمضان کا مقصد ہے ۔ اگر یہ مقصد مدنظر ہے تو پھر ہمارے روزے بھی اللہ کے ہاں مقبول ہیں ۔ عبادت کی قبولیت کی علامت یہ ہے کہ بندے میں تبدیلی آئے ۔ رمضان کے روزے تب قبول ہوں گے جب ہم تمام برائیوں سے دور ہو جائیں ۔ آج کل ایک اور روزہ رکھنے کی اشد ضرورت ہے اور وہ ہے ڈیجیٹل فاسٹنگ یعنی سوشل میڈیا ، انٹر نیٹ پر موجود برائیوں سے اپنے دامن کو بچانا ۔ آج ہم سوچ لیں کہ کتنے گھنٹے موبائل کی سکرین پر گزرتے ہیں اور اللہ کی عبادت اور اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے ہم کتنا وقت دیتے ہیں ؟
مولانا سید ابو الحسن علی ندوی صاحبؒ نےاپنےاس کتابچے میں لکھا کہ رمضان مہمان کی طرح آتا ہے اور چلا جاتاہے مگر قرآن کا تحفہ ہمیں دے جاتاہے ۔ قرآن پوری اُمت کے پاس ہے ۔ آج کل ڈیجیٹل دور ہے، ہمہ وقت قرآن تک رسائی ہر ایک کی ممکن ہے ۔ جس طرح ہم رمضان میں قرآن سنتے تھے ، اس کی تلاوت کرتے تھے ، اسی طرح رمضان کے بعد بھی قرآن کی تلاوت کرنا ، اس سے   ر ہنمائی حاصل کرنا اور اس کے احکامات پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرنا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر اسراراحمدؒ پر اپنی کروڑہارحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے،انہوں نے رمضان میں دورہ ترجمہ کا آغاز کیا اوررمضان کے علاوہ بھی عوامی اجتماعات میں درس قرآن کا سلسلہ شروع کیا ۔ انہوں نے انجمن خدام القرآن کی بنیاد رکھی اور آج پاکستان بھر میں سینکڑوں مقامات پر محافل قرآن سجتی ہیں ، خلاصہ ٔمضامین قرآن کے پروگرام بھی ہوتے ہیں ۔ ہزاروں لوگ ڈاکٹر اسراراحمدؒ کو سنتے ہیں ، ان سے محبت کرتے ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب ؒ خود فرماتے تھے کہ کئی لوگ ہاتھ ملانے کی خواہش کرتے ہیں ، میں کہتا ہوں آؤ اللہ کے نبی ﷺ کے مشن میں میرا ساتھ دو ، اس کام میں میرے ساتھ ہاتھ ملا لو ، تنظیم اسلامی میں شامل ہو جاؤ ۔ 
بہرحال جس طرح ہم رمضان میں قرآن سنتے تھے ، پڑھتے تھے اسی طرح پوری زندگی کے روزے میں بھی قرآن سے جڑے رہیں ۔اس کے لیے باقاعدہ کوئی ترتیب بنائیں ۔ پورے پاکستان میں انجمن خدام القرآن کے تحت قرآن اکیڈمیز قائم ہیں ، رجوع القرآن کے کورسز بھی ہوتے ہیں ، تنظیم اسلامی کے تحت بھی ہفتہ وار دروس قرآن ہوتے ہیں ۔ اکثر کورسز رمضان کے بعد شروع ہوتے ہیں ۔ رمضان کے بعد چونکہ دل ذرا نرم ہوتے ہیں لہٰذا قرآن کی تعلیم دلوں پر زیادہ اثر کرتی ہے ۔ ڈاکٹر اسراراحمدؒقرآن کی ان آیت کا بڑا خوبصورت تجزیہ فرماتے تھے کہ :
{اَلرَّحْمٰنُ (1)عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ (2)}(الرحمٰن)’’رحمٰن نے‘قرآن سکھایا ۔‘‘
اللہ کی بہت سی صفات ہیں لیکن سب سے زیادہ ہم جس صفت کے محتاج ہیں وہ اللہ کی صفت ِ رحمت ہے ۔ اللہ نے ہمیں سارے علوم و فنون دئیے لیکن ان میں سب سے بڑھ کر قرآن کا علم ہے جو اللہ نے اپنی خاص رحمت سے انسان کو سکھایا ۔ آگے فرمایا : 
{خَلَقَ الْاِنْسَانَ (3)}(الرحمٰن) ’’اُسی نے انسان کوبنایا۔‘‘
  ساری مخلوق اللہ کی ہے مگر اللہ کی تخلیق کا شاہکار انسان ہے۔ان آیات میں انسان کی تخلیق کا ذکر بعد میں آیا لیکن قرآن کاذکر پہلے آیا ۔ اس کی وجہ ڈاکٹر صاحب ؒ یہ بیان فرماتے تھے کہ انسان کی جسمانی ضروریات سے زیادہ اہم اُس کی روح کی ضرورت ہے ۔ اِس میں بھی سب سے بڑھ کر ہدایت کی ضرورت ہےاور ہدایت قرآن سے ملتی ہے ۔ یہ اتنا اہم تقاضا ہے کہ اللہ نے اس کا ذکر پہلے کیا اور انسان کا بعد میں کیا ۔ آگے فرمایا : 
{عَلَّمَہُ الْبَیَانَ(4)}(الرحمٰن) ’’اس کو بیان سکھایا۔‘‘
  اللہ نے ہی انسان کو دیکھنے سننے کی صلاحیتیں  عطافرمائیں مگر سب سے بڑھ کر بیان کرنے کی صلاحیت ہے ۔ان آیات کا نچوڑ یہ ہے کہ اللہ نے اپنی رحمت ِ خاص سے قرآن کا بہترین علم عطا فرمایا ، اس بہترین علم کے لیے بہترین مخلوق چاہیے اور بہترین مخلوق یعنی انسان اپنی بہترین صلاحیت کو قرآن کو سیکھنے ، سمجھنے اور بیان کرنے میں لگائے ۔ اسی لیے حدیث میں فرمایا : ((خیرکم من تعلم القران وعلمہ)) ’’تم میں سے بہترین وہ ہے جو قرآن کو سیکھے اور دوسروں کو سکھائے ۔ 
یعنی انسان کا بہترین عمل قرآن کو سیکھنا ہے ۔   تنظیم اسلامی اور انجمن ہائے خدام القرآن کی جانب    سے پاکستان بھر میں قرآن اکیڈمیز قائم ہیں اور جگہ جگہ رجوع الی القرآن کورسز بھی ہوتے ہیں ، دروس قرآن کے حلقے ہیں، عربی گرائمر کی کلاسز ہیں، شارٹ کورسز ہیں، لانگ کورسز ہیں، ویک اینڈ کورسز ہیں ۔ان کی تفصیل تنظیم کی ویب سائٹ پر بھی مل جائے گی ۔ہمارا تو خطاب جمعہ بھی قرآن کریم کی آیات اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں ہوتا ہے ۔ بہرحال کسی بھی ذریعے سےہمیں قرآن کو سیکھنا چاہیے اور سکھانے کی کوشش بھی کرنی چاہیے کیونکہ ہماری آخرت کی کامیابی کا انحصار قرآن کریم کے ساتھ جڑا ہوا ہے ۔ 
{اِنَّہٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ (13) وَّمَا ہُوَ بِالْہَزْلِ (14)} (الطارق ) ’’یہ (قرآن) قولِ فیصل ہے۔اوریہ کوئی ہنسی مذاق نہیں ہے۔‘‘
یہ قرآن فیصلہ کن کلام ہے۔ زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔یہ کوئی نظر انداز کرنے والی چیز نہیں۔ انسانوں کا ، قوموں کا عروج و زوال اسی قرآن سے وابستہ ہے۔ اُخروی نجات بھی قرآن سے وابستہ ہے۔ مسلم شریف کی حدیث ہے کہ : (( القران حجۃ لک او علیک )) قرآن تمہارے حق میں سفارش کرنے والا ہوگا یا تمہارے خلاف شکایت کرنے والا ہوگا ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کے وہ حقوق ادا کرنے کی توفیق دے کہ جس کے نتیجے میں یہ ہمارے لیے سفارش کرنے والا بنے ۔ آمین ! بہرحال ساری زندگی کے روزے کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ ہم قرآن سے جڑیں ۔ جو بندہ اس کو کھولنے  کے لیے تیار نہ ہو ، پڑھنے اور سمجھنے کے لیے تیار نہ ہو تو پھر اللہ کا غضب بھی اُس بندے کے لیے تیار رہتا ہے ۔ فرمایا :
{وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِیْ فَاِنَّ لَہٗ مَعِیْشَۃً ضَنْکًا  وَّنَحْشُرُہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اَعْمٰی (124)} (طٰہٰ)’’اور جس نے میری یاد سے اعراض کیا تو یقیناً اُس کے لیے ہو گی (دنیا کی)زندگی بہت تنگی والی‘اورہم اٹھائیں گے اسے قیامت کے دن اندھا (کرکے)۔‘‘
  بندہ کہے گا : 
{قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْٓ اَعْمٰی وَقَدْ کُنْتُ بَصِیْرًا (128)}(طٰہٰ) ’’وہ کہے گا :اے میرے پروردگار! تُو نے مجھے اندھا کیوں اٹھایا ہے‘ جبکہ مَیں (دنیا میں) تو بینائی والا تھا۔‘‘
اللہ تعالیٰ فرمائے گا:  {قَالَ کَذٰلِکَ اَتَتْکَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیْتَہَاج وَکَذٰلِکَ الْیَوْمَ تُنْسٰی(126)}(طٰہٰ) ’’اللہ فرمائے گا کہ اسی طرح ہماری آیات تمہارے پاس آئیں تو تم نے انہیں نظر انداز کر دیا‘ اور اسی طرح آج تمہیں بھی نظرانداز کر دیا جائے گا۔‘‘
دنیا جہاں کی کوالیفکیشن کے لیے تو نے پیسہ بھی لگایا ، وقت بھی لگایا، راتیں بھی کالی کیں، میرے قرآن کے لیے تیرے پاس وقت نہیں تھا۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس قرآن کی قدر کرنے کی توفیق عطافرمائے ۔ (آمین)
رمضان المبارک کا مہینہ مسلمان کی مجاہدانہ تربیت، روح کی بیداری ، کے لیے آتاہے ۔رات کے قیام میں قرآن سننے سے روح بیداری ہوتی ہے ، ایمان تازہ ہوتاہے اور اس مجاہدانہ تربیت کے بعد جب مومن اللہ کی راہ میں کھڑا ہوتا ہے تو استقامت اور ہمت کا مظاہرہ کرتاہے ۔بدر کا میدان رمضان میں سجا تھا ، فتح مکہ کا معاملہ رمضان میں ہوا ۔ اسی طرح رمضان کی اس مجاہدانہ تربیت کا تقاضا ہے کہ مسلمان اللہ کی خاطر کھڑے ہوں ، باطل اور ظالم نظام کے خلاف کھڑے ہوں ۔ حق کے نظام کو قائم کرنے کی جدوجہد کریں ۔رمضان کا مہینہ اس قدر بڑے مقاصد کے ساتھ آتاہے ۔ ہمیں تنہائی میں بیٹھ کر سوچنا چاہیے کہ کیا ان مقاصد کے حصول کے لیے ہم تیار ہیں ۔ اگر تیار ہیں تو رمضان کا مقصد پورا ہوا ورنہ ہم نے رمضان کا مقصد نہیں پایا۔ 
رمضان میں صدقہ فطر دینا واجب ہے ۔ کوشش کرنی چاہیے کہ رمضان کے شروع میں ہی مستحقین تک پہنچ جائے تاکہ وہ بھی عید کی خوشیوں میں شامل ہو سکیں ۔ اللہ کے رسول ﷺنے صدقہ فطر کے دو حاصل بتائے ۔ ایک رمضان کے روزوں میں جو کوتاہیاں ہوتی ہیں ان کا کفارہ ادا ہو جاتاہے ، دوسرا غریب مسکین محتاج کو عید کی خوشی میں شامل ہونے کا موقع مل جاتاہے ۔ اللہ ہم سب کو توفیق عطا فرمائے۔
ہم تو عید منائیں گے لیکن فلسطین کے محصور مسلمانوں کی حالت زار کو بھی نہیں بھولنا چاہیے ۔ اسرائیلی فوج پچھلے کئی سالوں سے مسجد اقصیٰ میں نمازیوں پر فائرنگ کرتی آئی تھی لیکن اس مرتبہ ان ظالموں نے مسجد اقصیٰ کو بند ہی کر دیا ۔ فلسطین کے مسئلہ کو بھی ہمیں یاد رکھنا ہے ۔ فلسطینیوں کو بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھنا ہے ۔ جس طرح سے بھی ہم ان کے ساتھ تعاون کرسکتے ہیں ہمیں  کرنا چاہیے ۔اسرائیل نواز کمپنیوں کی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ رہنا چاہیے ۔ اس کا بھی بڑا اثر ہوا ہے ۔ 
پاک افغان کشیدگی 
عید کے موقع پر پاک افغان سرحد پر سیز فائر ہوا ہے جوکہ خوش آئند ہے لیکن امن کے لیے مستقل بنیادوں پر کوشش کرنی چاہیے ۔ دونوں ممالک کی قیادت مذاکرات کی راہ اپنا ئے ۔ اسلام دشمن قوتیں ہرگز نہیں چاہتیں کہ اس خطہ میں امن اور استحکام ہو کیونکہ احادیث کی روشنی میں یہی وہ علاقہ ہے جہاں سے اسلامی لشکر نکلیں گے اور حضرت مہدی کی نصرت کو جائیں گے ۔ محترم ڈاکٹر اسراراحمدؒ اسی تناظر میں PIA کی تجویز پیش کرتے تھے جس کا مطلب تھا کہ پاکستان ، ایران اور افغانستان مل کر اس نام سے بلاک بنائیں ۔ اگر اس خطے میں امن اور استحکام ہوگا تو یہاں سے اسلامی لشکر نکل سکیں گے ۔ اسی لیے اسلام دشمن قوتیں اس علاقے میں آپس کی لڑائی شروع کروانا چاہتی ہیں ۔ ہمارے حکمرانوں کو سمجھداری سے کام لینا چاہیے ۔امریکہ کی غلامی کو چھوڑ کر مسلم ممالک کو آپس میں متحد ہونا چاہیے ۔ امریکہ اور اسرائیل مل کرمسلم ممالک کے خلاف لڑ رہے ہیں ۔ ایران کے بعد ان کی نگاہیں  پاکستان پر ہیں ۔ امریکی عہدیدار نے کہہ دیا ہے کہ چین ، روس ، پاکستان ، شمالی کوریا کے میزائل امریکہ کے لیے خطرہ ہیں ۔ وہ خود مسلم ممالک پر میزائلوں کی بارش کریں ، ناگاساکی اور ہیروشیماپر ایٹم بم گرائیں تو کوئی مسئلہ نہیں لیکن پاکستان اپنے دفاع کے لیے میزائل بنا ئے تو اس کا جرم ہوگیا ۔ دراصل یہ ٹارگٹ بنانے کے لیے بہانے تلاش کر رہے ہیں ۔ امریکہ کی تباہی تو اللہ کرے خود ٹرمپ کے ہاتھوں ہوگی لیکن تشویش ناک بات یہ ہے کہ گریٹر اسرائیل کا منصوبہ آگے بڑھ رہا ہے ۔ اللہ تعالیٰ عرب حکمرانوں کو سمجھ عطا فرمائے ۔انہوں نے خود امریکہ کو اڈے دئیے ہوئے ہیں اور شکوہ ایران سے کر رہے ہیں ۔ اُمت مسلمہ کا تصور کہاں گیا ؟ جس اُمت کو کلمے کی بنیاد پر ایک ہونا چاہیے تھا وہ معمولی مفادات کی خاطرتقسیم ہو کر اپنے دشمنوں کے مقاصد پورے کر رہی ہے۔ اُمت کے مسائل کا فوری حل یہ ہےکہ امریکہ کے کیمپ سے نکل جائیں ، اگر کسی کیمپ میں شامل ہونا ضروری ہے تو  وقتی طور پر چین اور روس کے کیمپ میں شامل ہو جائیں ۔ لیکن اصل اور مستقل حل یہ ہےکہ مسلم ممالک خود متحد ہو جائیں ۔ ہمارے حکمرانوں کو اُمت کے اتحاد کے لیے کوشش کرنی چاہیے ۔ 
آخری بات یہ ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے اور اسلام کے نفاذ سے ہی بچے گا ورنہ دنیا کی کوئی طاقت ہمیں نہیں بچا سکتی ۔ محض جنگی صلاحیت و تیاری کسی کام کی نہیں اگر اللہ ہمارے ساتھ نہ ہو۔ سوویت یونین کے پاس ہم سے زیادہ صلاحیت اور ٹیکنالوجی تھی لیکن جب وہ نظریہ سے ہٹ گیا تو صفحۂ ہستی سے مٹ گیا ۔ پاکستان جس نظریہ کی بنیاد پر بنا تھا اس کے نفاذ میں ہی اس کی بقا مضمر ہے ۔ بدقسمتی سے ہم خود اس نظریہ کے خلاف جارہے ہیں ۔ سود کے خلاف وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ 2022ء میں آگیا تھا لیکن ابھی تک ہمارے حکمران سود کے خاتمے کے لیے سنجیدہ نہیں ہیں ۔ کیا اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف جنگ جاری رکھ کر اللہ کی نصرت ہمیں حاصل ہو سکتی ہے ؟ ٹرانس جینڈر ایکٹ کے ذریعے ہم جنس پرستی کا راستہ ہم نے کھول دیا۔پھر ہماری قومی اسمبلی نے طے کر دیا کہ 14 سال سے اوپر کے بچوں کو جنسی تعلیم دی جائے گی ۔ سوشل انجینئرنگ کے خوش نما مغربی نعرے ہمارے ہاں بھی لگنے لگے جس کے نتیجے میں خاندانی نظام تباہی اور بربادی کا شکار ہو رہا ہے ۔ اگر ہم دھڑلے کے ساتھ طے کیے بیٹھے ہیں کہ شریعت کے خلاف قانون سازی ہوگی تو پھر اللہ کی رحمتیں کہاں سے آئیں گی ؟جب تک ہم اللہ کے دین کے ساتھ مخلص نہیں ہوں گے ، ہم اُلٹے لٹک جائیں ہمارے مسائل حل نہیں ہوں گے ۔ اللہ تعالیٰ واضح فرماتا ہے :
{اِنْ تَنْصُرُوا اللہَ یَنْصُرْکُمْ وَیُثَبِّتْ اَقْدَامَکُمْ(7)}(محمد) ’’ اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور وہ تمہارے قدموں کو جما دے گا۔‘‘
  اللہ تعالیٰ ہمیںسچی توبہ کی توفیق دے ، قرآن کو تھامنے کی توفیق دے، دین کے ساتھ ہمیں مخلص فرمادے ۔  اللہ ہمارے حکمرانوں کو بھی ہدایت دے ۔ ان کے دلوں کو ہدایت کی طرف پھیر دے۔ان کی بھی آخرت سنور جائے گی، ملک کی بھی تقدیر بدل جائے گی اور اس عوام کا بھی بھلا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا فرمائے۔آمین !