(دعوت و تحریک) تحریک رجوع الی القرآن: اصل ہدف اور تاریخی پس منظر - ڈاکٹر اسرار احمد

10 /

تحریک رجوع الی القرآن:

اصل ہدف اور تاریخی پس منظر


بانی ٔ تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے 2004ء میں کیے گئے ایک بیان کی تلخیص

      میرے آج کے خطابِ کا موضوع ’’رجوع الی القرآن‘‘ ہے، یعنی قرآن کی طرف مراجعت اور لوٹنا۔ اس حوالے سے میں آغاز اس نکتے سے کرنا چاہتا ہوں کہ قرآن کی طرف رجوع کا اصل ہدف کیا ہے۔ اس کی آخری منزل اور مقصود کیا ہے؟ اس کے لیے میں نے سورۃ المائدہ کی  دو آیات کا انتخاب کیا ہے۔ قرآن مجید میں ہم سے پہلی اُمت کو ’’اہل الکتاب‘‘ کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے۔  اہل التوراۃ و اہل الانجیل دونوں اصل میں ایک ہی اُمت ہیں‘ اس لیے کہ حضرت مسیح ؑ اپنی قوم کو یہ کہہ کر گئے تھے کہ تورات کے احکام تم پر بھی نافذ رہیں گے۔ سورۃ المائدہ کی آیت68 میں آنحضورﷺ کو حکم دیاگیا :  ’’(اے نبیؐ!) کہہ دیجئے اے کتاب والو، تم کسی راہ پر نہیں جب تک تورات اور انجیل کو اور جو کچھ تم پر تمہارے رب کی طر ف سے اترا ہے (یعنی صحیفے) اس کو قائم نہ کر لو۔‘‘اللہ تعالیٰ اپنی کتابیں اسی لیے نازل کرتا رہا ہے کہ لوگ ان سے ہدایت اخذ کریں اور ان کے احکامات کو اپنی زندگی میں نافذ کریں۔ اگر اس آیت میں یاہل الکتب کی جگہ یا اہل القرآن اور التورۃ والانجیل کی جگہ القرآن کے الفاظ رکھ دیئے جائیں تو اس کا اطلاق مسلمانوں پر کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ پھر اس کا مفہوم یوں ہوگا کہ اے قرآن والو،تمہاری کوئی حیثیت اور مقام نہیں، چاہے تم تیس تیس لاکھ کی تعداد میں حج کر لو،ہم تم میں سے کسی کی بات نہیں سنیں گے جب تک تم قرآن مجید کو اور اس چیز کو قائم نہ کر لو جو تمہارے رب کی طرف سے اتاری گئی ہے۔ قرآن مجید کے بعد چونکہ کوئی صحیفہ نازل نہیں ہوا، لہٰذا یہاں وَمَا اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِکُمْ سے مراد وحی خفی لی جائے گی، جس کا مظہر سنتِ رسولؐ اور حدیث ِ رسولؐ ہے۔ وحی جلی قرآن ہے ، جس کا ایک ایک حرف محفوظ ہے جبکہ وحی خفی احادیث کے اندر ہے۔لہٰذا قرآن کو بھی نافذ کرنا ہوگا اور اللہ کے رسولؐ :کی سنت کو بھی قائم کرنا ہوگا ۔ اسی صورت میں ہماری دعائیں قبول ہوں گی اور جو ہم اللہ سے مانگیں گے،وہ عطا کیاجائے گا۔
آیت66 میں اس کی معکوس صورت کا ذکر ہے کہ :  ’’اور اگر وہ (اہل کتاب) تورات اور انجیل کو اور اس کو جو کہ ان پر ان کے رب کی طرف سے نازل ہوا، قائم رکھتے تو اوپر سے بھی کھاتے اور اپنے پائوں کے نیچے سے بھی کھاتے‘‘۔یعنی اللہ کی برکات اوپر سے بھی نازل ہوتیں اور زمین سے بھی نکلتیں۔ اسی حوالے سے ایک حدیث مبارکہ کے مطابق حضورﷺ نے فرمایا: ’’اللہ کی حدود میں سے ایک حد کا نفاذ بھی چالیس دن کی بارش سے زیادہ بابرکت ہے‘‘۔اس کی تھوڑی سی برکات کسی وقت سعودی عرب میں نظر آتی تھیں۔ جب وہاں حدود نافذ تھیں تو وہ معاشرہ جرم سے بالکل پاک تھا۔ اسی طرح کی مثال افغان طالبان نے بھی پیش کر دی تھی۔ چند حدود نافذ کرنے سے وہاں کے نوے فیصد علاقے میںامن و امان ہو گیا تھا۔ یہ ہے درحقیقت رجوع الی القرآن کا ہدف!قرآن کی خدمت تو بے شمار طریقوں سے کی جا سکتی ہے۔ مثلاً قرآن کی طباعت ایک خدمت ہے۔ پھر قرآن کے تراجم کو شائع کر کے انہیں وسیع پیمانے پر تقسیم کرنابھی بہت اچھا کام ہے۔ اسی طرح ناظرہ قرآن پڑھانا بھی قرآن کی خدمت ہے۔ لیکن یہ ساری چیزیں اس منزل تک پہنچنے کا ذریعہ ہیں کہ قرآن کو قائم کیا جا ئے اور اس کی حدود نافذ کی جائیں۔ یہ کر کے اگر ہم اللہ کے آگے ہاتھ پھیلائیں گے تو ہمارے ہاتھ کبھی خالی نہیں لوٹائے جائیں گے۔
      اب میں آپ کے سامنے برصغیر میں رجوع الی القرآن کی تحریک کا تاریخی اعتبار سے تذکرہ کرنا چاہتا ہوں۔ ہندوستان میں اسلام کا ابتدائی دور بہت مختصر تھا۔ محمد بن قاسمؒ کی آمد کے وقت ابھی پہلی صدی ہجری ہی چل رہی تھی۔ محمد بن قاسم ؒکو یہاں پر نہ صرف مسلمانوں بلکہ ہندوئوں میں بھی اس قدر مقبولیت حاصل ہو گئی کہ بادشاہ نے واپس بلا کر قتل کر دیا کہ کہیں یہ ہمارے لیے خطرہ نہ بن جائے۔ جنرل ضیاء الحق نے ٹی وی پر ’’الہدیٰ‘‘ کا پروگرام بھی اسی لیے بند کروادیا تھا کہ یہ شخص بہت پاپولر ہوتا جا رہا ہے، کہیں میرے لیے خطرہ نہ بن جائے! حالانکہ میں سیاسی آدمی تھا ہی نہیں۔ بہرحال اسلام کا یہ ابتدائی دور جلد ہی ختم ہو گیا، تاہم عربی تہذیب کے کچھ اثرات سندھ اور سرائیکی علاقوں میں قائم رہے۔ اس کے بعد یہاں اسلام تین سو برس بعد آیا ہے۔ محمد بن قاسمؒ 712ء میں آئے تھے جبکہ   غزنوی سن ایک ہزار عیسوی اور غوری1200 کے آس پاس آئے ہیں۔ اس اسلام کی دو چیزیں بڑی نمایاں تھیں: کٹر حنفیت
 اور تصوف۔ عوام نہ تو دوسرے فقہوں کے متعلق کچھ جانتے تھے اور نہ قرآنی علوم سے واقف تھے۔ سرکاری زبان فارسی ہونے کی وجہ سے عربی سیکھنے کا رواج نہیں ہوا، نتیجتاً عام آدمی کا قرآن سے تعلق محض اتنا رہا کہ حصولِ ثواب کے لیے اسے ناظرہ پڑھ لیا جائے۔زیادہ زور قرأت ، تجوید اور حفظ پر تھا۔ قرآن کے ترجمہ کرنے کو بہت بڑا گناہ سمجھا جاتا تھا۔ پہلا قدم18 ویں صدی میں حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے اٹھایا اور سب سے پہلے قرآن کا فارسی میں ترجمہ کیا۔دوسرا قدم ان کے تین بیٹوں کا ہے۔ شاہ عبدالقادرؒ نے اردو میں بامحاورہ ترجمہ کیا، شاہ رفیع الدینؒ نے لفظی ترجمہ کیا جبکہ شاہ عبدالعزیز ؒ نے ترجمہ کے ساتھ ’’تفسیر عزیزی‘ بھی لکھی۔ اب عوامی سطح پر قرآن کا تعارف ہوا۔ شاہ ولی اللہؒ نے ’’الفوز الکبیر‘‘ کے نام سے ایک چھوٹا سا رسالہ بھی لکھ دیاکہ عام آدمی اگر اس کو پڑھ لے تو اس کے لیے قرآن کو سمجھنے کے راستے کھل جائیں گے۔ یہاں سے ہندوستان میں رجوع الی القرآن شروع ہوا۔
اس کے بعد انیسویں صدی کا بیشتر حصہ عسکری تحریکوں کی نذر ہو گیا۔ پہلے تحریک مجاہدین چلی‘ پھر جنگ آزادی کا مرحلہ آیا۔ لہٰذا اس دور میں علمی کام نہیں ہو سکے۔ انیسویں صدی کے اواخر میں جب سیاسی حالات معمول پر آ گئے اورقلم کی حکومت شروع ہو گئی تو ایک بہت بڑا فتنہ اٹھا‘ جس کے برگ و بار آج تک آ رہے ہیں … یعنی اسلام کی ایسی تعبیر کرنا جو مغربی تہذیب کے ساتھ مطابقت رکھتی ہو۔ آج علامہ اقبال کا بیٹا کہہ رہا ہے کہ اسلام میں شراب حرام نہیں ہے،جبکہ انہی کے ہم نام ایک اور صاحب کے نزدیک قرآن میںپردے کے کوئی احکام نہیں ہیں۔ اس فتنے کا آغاز سرسید احمد خان سے ہوا‘ جو کہ ایک دہری شخصیت کے مالک تھے۔ ایک مسلم قوم پرست کی حیثیت سے ان کا مقام نہایت اہم ہے جبکہ دین کے اعتبار سے وہ بہت بڑا فتنہ گر انسان تھا۔ اس نے قرآن کی تفسیر میں جو کہ وہ پوری نہیں کر سکا، فرشتوں اور جنات کے وجود سے انکار کیا۔ کہا گیا کہ وحی کا چشمہ خود نبی کے دل سے ابھرتا تھا۔اسی طرح معجزات کا کوئی وجود نہیں۔ الغرض اسلام کی ہر اُس چیز کی تراش خراش کر دی گئی جو سائنس سے موافقت نہیں رکھتی تھی۔ چونکہ اس فتنے کے ابھرنے کا امکان تھا، اس لیے علماء نے اب قرآن مجید کے لیے نئی تفسیریں لکھنی شروع کیں۔ سب سے پہلے     شیخ الہند مولانا محمود حسنؒنے ایک نیا ترجمہ لکھا، لیکن یہ وضاحت کر دی کہ سو سال قبل شاہ عبدالقادرؒ نے جو ترجمہ کیا تھا‘ اسی کو موجودہ وقت کی اردو کے مطابق کر دیا گیا ہے۔ پھر مولانااشرف علی تھانویؒ نے تفسیر لکھی،جس سے تین تفسیریں مزید مرتب ہوئیں۔ یہ مولاناعبدالماجد دریا بادیؒ، مولانا مفتی محمد شفیع  ؒاور مولانا ادریس کاندہلویؒ کی تفاسیر تھیں۔ علماء نے یہ کام درحقیقت ایک ردّعمل کے طور پر کیا‘ کیونکہ سرسید کے افکار اسلام کے لیے شدید خطرے کا باعث تھے۔ قادیانیت،خاکسار تحریک اور غلام احمد پرویز نے جو فتنے شروع کئے‘ فکری اعتبار سے یہ سب سرسید ہی کی پیداوار ہیں۔ چنانچہ بہت سی تفسیریں لکھی گئیں۔ ایک بڑے پیمانے پر یہ کام ہوا ہے۔ اس موضوع پر پوری تفصیل سے میںنے 1976ء میں مضمون لکھا تھا‘ جس میں یہ جائزہ لیا گیا تھا کہ انیسویں صدی کے اواخر سے لے کر بیسویں صدی کے ربع اول تک کتنی تفسیریں لکھی گئیں۔ اتنی تفاسیر دنیا کے کسی دوسرے ملک میں نہیں لکھی گئیں۔’’دعوت رجوع الی القرآن کا منظر و پس منظر‘‘ تقریباً400 صفحات کی بڑی مفصل کتاب ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ قرآن ابتدا میں کیا تھا، پھر کیسے یہ پس منظر میں چلا گیا‘ اس کے بعد فقہ آ گیا اور وہ بھی حنفی۔ آج بھی رینڈ کار پوریشن نے اسلام دشمنی کے لیے جو نئی سفارشات پیش کی ہیں‘ اس میں کہا گیا ہے کہ فقہ حنفی کی حمایت کرنی چاہیے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ فقہ حنفی دراصل دورِ ملوکیت  میں پروان چڑھی ہے۔ اگرچہ اس کا نام امام ابو حنیفہؒ: کی نسبت سے ہے لیکن انہوں نے اُس وقت کے حکمرانوں کے کوئی تعاون نہیں کیا تھا۔ ان کے شاگرد قاضی ابو یوسف نے حکومتی عہدہ قبول کر لیا تھا اور فقہ حنفی اصل میں انہی کی مرتب کردہ ہے۔ یہ فقہ اس طرح مرتب کی گئی کہ شہنشاہیت  کے ساتھ مطابقت پیدا کر سکے۔ چونکہ خلافت ِ بنی عباس کا دائرہ وسیع ترین ہوا، لہٰذا فقہ حنفی کثیر ترین لوگوںکی فقہ ہے۔ پھر ترکانِ عثمانی نے بھی فقہ حنفی ہی کو اختیار کیا۔
پچھلی صدی کے آغاز میں حضر ت شیخ الہندؒ نے اپنی اسارت سے واپسی پر جو تقریر کی‘ وہ ان کی زندگی کی اہم ترین تقریر ہے۔ یہ دیو بند میں اُس وقت کے تمام کبائرعلماء کی موجودگی میں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ : ’’میں نے اپنی چار سالہ اسیری کے زمانے میں دو سبق سیکھے ہیں۔ مسلمانوں کی زبوں حالی اور پامالی پر جتنا غور کیا‘ اس کے دو سبب سامنے آئے۔ ایک ہمارا قرآن کو ترک کر دینا اور دوسرے آپس کے اختلافات۔ تو میں اب یہی فیصلہ کر کے آیا ہوں کہ زندگی کے جتنے بھی دن باقی ہیں‘ انہیں قرآن کی تعلیم کے مکاتب قائم کرنے اور عوامی درس قرآن کے ذریعے سے لوگوں کو قرآن سے آشنا کرنے میں گزاروں گا۔‘‘ اگرچہ اس کے بعد وہ خود تو صرف چھ ماہ ہی حیات رہے،لیکن مجدّد وقت کے دل سے نکلی ہوئی آواز دو شخصیتوں کے ذریعے سے نہایت زور و شور کے ساتھ پھیلی: ایک علامہ اقبالؒ، دوسرے ابوالکلام آزاد۔ علامہ اقبال  نے اپنے کلام کے ذریعے جبکہ مولانا آزاد نے ’’الہلال‘‘ اور ’’البلاغ‘‘ کے صفحات میںقرآنی معنی کو جس طرح بیان کیا‘ اس سے تحریک رجوع الی القرآن پھر ایک خاص مرحلے میں داخل ہوگئی۔
اس سے اگلا مرحلہ‘ آپ اسے خود ستائش پر محمول نہ کریں،اس حقیر اور گنہگار انسان کے ذریعے ہوا، جس سے یہ تحریک عوامی مرحلے میں داخل ہو گئی۔ جس خواہش کا اظہار 1920ء میں حضرت شیخ الہندؒ نے کیا تھا،وہ میں نے پوری کی ہے۔ میرے دروسِ قرآن کی محفلوں میں پانچ پانچ سو‘ سات سات سو آدمی موجود رہے ہیں۔ یہ وہ  دروسِ قرآن ہیں جن میں نہ کوئی فرقہ پرستی ہے نہ سیاست کا عمل دخل بلکہ صرف متنِ قرآن پر گفتگو ہوتی ہے۔ یہ کام اللہ نے اس بندئہ عاجز سے لیا ہے۔ 1965ء میں لاہور آنے کے بعد میں نے درسِ قرآن کا سلسلہ شروع کیا تھا، 2005ء میں اس کام کو چالیس برس ہو جائیں گے۔ اصل مقصد پڑھے لکھے لوگوں کو قرآن سے متعارف کرانا ہے۔ میرا ہر گز یہ دعویٰ نہیں ہے کہ میں قرآن کا علم علماء سے زیادہ رکھتا ہوں۔ کوئی شخص قرآن پر عبور حاصل کرنے کا دعویٰ نہیں کر سکتا، کیونکہ اس کا کنارہ ہی نہیں ہے۔ جیسے اللہ کی ذات مطلق ہے اور اس کی کوئی حدود نہیں ہیں، اسی طرح اللہ کا کلام بھی مطلق ہے اور اس کی کوئی حدود نہیں۔ بہرحال اس تحریک میں ہم نے جو بھی محنت کی، اللہ نے اسے بارآور کیا۔ سات سال میں نے لاہور میں اکیلے کام کیا۔ اس دوران اپنی میڈیکل پریکٹس بھی جاری رکھی۔ دن میں پریکٹس اور ہر شام کسی نہ کسی مسجد میں درسِ قرآن۔  اتوار کو تین تین درس ہوتے تھے۔ جمعہ کا خطبہ مسجد خضریٰ میں دیا جاتا۔ یہ دونوں چیزیں اتنی مختلف تھیں کہ کچھ عرصے بعد میری صحت جواب دے گئی۔ مجھ پر ایک بڑا سخت فیصلہ کرنے کا مرحلہ آیا کہ درس قرآن کو بند کر دوں یا میڈیکل پریکٹس چھوڑوں۔ اپنے معاشی حالات کے حوالے سے میں نے ’’حسابِ کم و بیش‘‘ نامی کتابچے میںکافی تفصیل سے حالات درج کئے ہیں۔ اس تحریر کے مطالعے سے آپ کچھ اندازہ کر سکتے ہیں۔
الغرض1971ء میں میڈیکل پریکٹس چھوڑنے کا حتمی فیصلہ کر لیا۔ اس کے بعد میں نے جب ہمہ تن اپنے آپ کو دین کی راہ میں لگایا تو اگلے ہی سال 1972ء میں ’’انجمن خدام القرآن‘‘ قائم ہو گئی۔ پھر ہر مہینے کراچی جانے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ مختلف شہروں میں قرآنی تربیت گاہیں منعقد کیں‘جن کا دورانیہ کہیں ایک ماہ اور کہیں چالیس دن ہوتا۔یہ سارے کام اللہ کے فضل و کرم سے ہوئے۔ پھر قرآن اکیڈمی وجود میں آئی۔ اس کے بعد قرآن کالج بنا۔ میں کسی فخر سے نہیں بلکہ تحدیث نعمت کے طورپر کہہ رہا ہوں کہ یہ کام اللہ نے اس بندہ حقیر و پُر تقصیر سے لیا کہ ایک عوامی تحریک کے ذریعے قرآن مجید کے مفاہیم اور اس کی حکمت کو واضح کیا گیا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ تراویح میں آدھی آدھی رات جاگنے کا اہتمام کیا گیا۔پھر ہم نے کورسز شروع کئے اور ان میں شریک ہونے والوں کو وظائف بھی دیئے۔ میرے پاس کچھ نہیں تھا‘ لیکن میرے ساتھیوں نے اس کام کی اہمیت سمجھی اور تعاون کیا۔ آج انجمن خدام القرآن کے اثاثے کروڑوں تک پہنچ گئے ہیں لیکن ہم نے کبھی کسی حکومت سے ایک پیسہ تک نہیں لیا۔بہرحال میرے اس کام سے جس کو دلچسپی ہے اور وہ استطاعت بھی رکھتا ہو‘ اسے میری کتاب ’’دعوت رجوع الی القرآن کا منظر و پس منظر‘‘ لفظ بہ لفظ ضرور پڑھنی چاہیے۔ میں نے آج کے خطاب کاموضوع ’’رجوع الی القرآن‘‘ اس لیے منتخب کیا ہے کہ ہماری اس عوامی تحریک کا ایک اہم شعبہ ’’رجوع الی القرآن کورس‘‘ ہے۔ پہلے یہ دو سالہ تھا، لیکن تجربے سے معلوم ہوا کہ لوگوں کے لیے دوسال نکالنے مشکل ہیں۔ پھر اس کا دورانیہ ایک سال کیا گیا۔ اس میں شریک ہونے کے لیے امریکہ اور یورپ سے بھی نوجوان آئے۔ ان کے لیے یہاں کی گرمی ناقابل برداشت تھی۔ چنانچہ جون‘ جولائی ‘ اگست کے مہینوں کو نکال دیا گیا۔ اس وقت یہ کورس 9مہینے کا ہے۔ یہ درحقیقت ’’پڑھے لکھے اَن پڑھوں‘ ‘ کے لیے ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوںنے ایم بی بی ایس کیا ہے‘ انجینئرنگ مکمل کر لی ہے، ایم ایس سی کیا ہے،ایم بی اے کی ڈگری لے لی ہے،کمپیوٹر سائنس پر عبور حاصل کر لیا ہے،پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ چکے ہیں لیکن ناظرہ قرآن بھی نہیں پڑھ سکتے، اس کے مفاہیم کو سمجھنا تو بہت دور کی بات ہے۔ چنانچہ انہیں اللہ تعالیٰ کے ہاں جواب دہی کا احساس دلانے کے لیے یہ کورس ترتیب دیا گیا ہے۔ اگر دنیاوی تعلیم حاصل کرنے کے لیے پندرہ بیس سال لگا دیئے جاتے ہیں تو اللہ کی کتاب کو سمجھنے کے لیے بھی کچھ وقت نکالنا چاہیے۔ اتنی عربی ضرور سیکھنی چاہیے کہ قرآن مجید کو خود سمجھ کر پڑھا جا سکے۔ سات سمندر پار سے آئی زبان تو ہم سیکھ لیتے ہیں جبکہ عربی کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتے جو ہم سے اس قدر قریب ہے کہ اردو کا کوئی جملہ عربی کے کسی لفظ سے خالی نہیں ہوتا۔
ایک حدیث میں ارشاد ہوتا ہے کہ : اپنا محاسبہ خود کر لو‘ اس سے پہلے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے۔ تصور کیجئے کہ آپ اس وقت محشر میںاللہ کے سامنے کھڑے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ یہ پوچھے گا کہ قرآن پر تمہارا ایمان تھا لیکن تم نے اسے سمجھنے کی کوشش نہیں کی تو آپ کیا جواب دیں گے!میں تو شامِ زندگی گزار کر اب شب ِزندگی میں داخل ہو چکا ہوں۔ میں خوش ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے میں نے کچھ نہ کچھ کام کیا۔ آج آپ سے یہ ساری باتیں کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اول تو جس کو مجھ سے کچھ بھی دلچسپی ہے‘ وہ میری کتاب ’’دعوت رجوع الی القرآن کا منظر و پس منظر‘‘ ضرور پڑھے۔ دوسرے یہ جو نو ماہ کا کورس ہے، اس کے لیے ہمت کریں۔ اس کے لیے ایک عزم مصمم چاہیے۔ اگر آپ کی عمر چالیس ، پینتالیس برس ہو گئی ہے تو اس سے مت گھبرائیے۔ میں سمجھتاہوں کہ پچاس برس کا آدمی بھی پڑھ اور سیکھ سکتا ہے‘ البتہ اس سے اوپر کا معاملہ ذرا مشکل ہے۔ تاہم ہمارے ہاں ریٹائرڈ لوگ بھی آئے ہیں۔ نوجوان تو اسے فرض سمجھیں، اپنا دنیاوی کیریئر اگر ایک سال کے لیے آگے چلا جائے تو کچھ نہیں ہوتا۔ اگر خدانخواستہ آپ کا ایکسیڈنٹ ہو جائے اور آپ کے ہاتھ پائوں کام نہ کر سکیں تو آخر چھ ماہ دنیا سے کٹ کر آپ بستر کے اوپر پڑے رہیں گے یا نہیں! آپ سمجھئے کہ میں نے اپنی مرضی سے اللہ کے لیے نو مہینے نکالے ہیں۔ اس کے لیے یہ آخری کال ہے جس کو دینے کے لیے میں نے آج یہ عنوان تجویز کیا تھا۔