نقطۂ نظر
کچھ لوگ ابھی کھڑے ہیں، خیر کو شکست نہیں ہوئی!
ابو موسیٰ
امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کرکے جو گھناؤنا جرم کیا ہے وہ قابلِ مذمت بھی ہے اور قابلِ نفرت بھی، اگرچہ جارحیت ہر انداز میں قابلِ مذمت ہوتی ہے لیکن یہ تو شرمناک بھی ہے اور اخلاقیات کے منہ پر تماچا ہے اِس لیے کے امریکہ نے پہلے مذاکرات کا ڈھونگ رچایا اور پھر دوران مذاکرات یہ دونوں ملک مل کر ایران پر حملہ آور ہوگئے یہ ظاہر کرتا ہے کہ آغاز سے ہی نیت میں فتور تھا۔ مذاکرات وقت گزاری یعنی time buy کرنے کا ایک حربہ تھا۔ عمان جو مذاکرات کا میزبان تھا اُس نے برملا گواہی دی ہے کہ مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی تھی ایران کا رویہ بڑا مثبت تھا وہ بہت سے مطالبات اور اعتراضات کے حوالے سے تعاون کا انداز اپنا رہا ہے لیکن اچانک امریکہ اور اسرائیل نے مل کر ایران پر حملہ کر دیا اور اب امریکہ جنگ کے حوالے سے کانوں پر ہاتھ لگا رہا ہے اور دہائیاں دے رہا ہے کہ کوئی اُس کو جنگ سے نکال لے لیکن اسرائیل کا رویہ بالکل مختلف ہے اُس نے کئی اقدام کرکے بڑی عیاری سے امریکہ کو جنگ میں پھنسایا ہے وہ اتنی آسانی سے اپنے شکار کو جال سے بچ کر نکلنے کیوں دے گا۔ اسرائیل نے ایسی صورتِ حال پیدا کر دی ہے کہ اُس کی پانچوں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہے۔ وہ یوں کہ ایک طرف وہ امریکہ جو شاید دنیا کی سب سے بڑی اور خوف ناک جنگی قوت ہے اُس کی قوت کو اپنے دشمن ایران کے خلاف استعمال کر رہا ہے اور دوسری طرف امریکہ کو بھی معاشی اور عسکری لحاظ سے کمزور کرنا چاہتا ہے تاکہ آنے والے وقت میں اپنے اِس ہدف کو حاصل کر سکے کہ عالمی پاورسنٹر کو واشنگٹن سے یروشلم منتقل کرنا ہے۔ اور اسرائیل کو ایک عالمی قوت بنانا ہے یہ صہیونیوں کا باقاعدہ منصوبہ دکھائی دیتا ہے۔ گویا عیار اور بدقماش اسرائیل جس تھالی میں کھا رہا ہے اُسی میںچھید بھی کر رہا ہے۔ وہ اِس امریکہ کا بھی ہرگز ہرگز سجن نہیں جس نے اسرائیل کی سیکورٹی کو اپنے لیے زندگی موت کا مسئلہ بنایا ہوا ہے۔ درحقیقت 1948ء میں جب سے اسرائیل وجود میں آیا ہے تب سے لے کر آج تک امریکہ اسرائیل کو پال پوس رہا ہے اُس کے تحفظ کے لیے عالمی قوت کی حیثیت سے اپنا امیج تباہ و برباد کر لیا عوام کی ٹیکسوں سے جمع شدہ رقم کا ایک کثیر حصہ اسرائیل پر نچھاور کر دیا ایک بے جواز جنگ میں کود کر اپنی قانونی ہی نہیں اخلاقی حیثیت کو بھی نذرِ آتش کر دیا۔ گویا امریکہ کا اسرائیل کی ترغیب پر جنگ میں کودنے سے اُس کی عزت، اخلاقیات جمہوریت پسندی سب کچھ شعلوں کی لپیٹ میں آچکا ہے۔ امریکہ بُری طرح جھلس رہا ہے اور زبانی طور پر نہ سہی عملی طور پر بچاؤ بچاؤ کی دہائی دے رہا ہے اور اسرائیل تماشا دیکھ رہا ہے اور قہقہے لگا رہا ہے۔ قصۂ کوتاہ راقم نے اکیاسی سال میں امریکہ کو یوں بے بس، یوں بیچارگی کی حالت میں نہیں دیکھا۔ ذلت و رسوائی، پسپائی،درماندگی، کمزوری، لا چاری اور بے چارگی اِس سپریم پاور پر چسپاں ہو چکی ہے۔ بڑے متکبرانہ انداز سے ایران کو ایک ڈیڈ لائن دیتا ہے ایران اُس کو نظر انداز کر دیتا ہے پھر خود ہی شرمسا ہو کر ڈیڈ لائن میں توسیع کر دیتا ہے۔ صدر ٹرمپ جنہیں یہ یاد نہیں ہوتا کہ اُنہوں نے گزشتہ روز کیا کہا تھا نئے نئے بیانیے گھما رہے ہوتے ہیں کبھی ایران کو اڑتالیس گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہیں کہ آبنائے ہرمز کھول دو ایران ایک کان سے سنتا ہے دوسرے سے نکال دیتا ہے تب خود ہی یہ کہہ کر ڈیڈ لائن میں پانچ روز کا اضافہ کر دیتا ہے کہ ہمارے ایران سے مذاکرات چل رہے ہیں جلد ہی اچھا نتیجہ سامنے آئے گا اور ایران سرے سے ہی کسی قسم کے مذاکرات کے انعقاد کا انکاری ہوتا ہے۔ دوسری طرف اگرچہ امریکہ اور اسرائیل کی بمباری سے ایران میں عمارات کو شدید نقصان پہنچا ہے اور وسیع پیمانے پر مالی اور جانی نقصان ہوا ہے لیکن ایرانیوں کی دلیری اور ہمت کا یہ عالم ہے کہ وہ بموں اور میزائلوں کی بارش میں القدس ریلی نکال رہے ہیں جس میں لاکھوں ایرانی حصہ لیتے ہیں اور اہم ترین بات یہ ہے کہ ایرانی قیادت جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ریلی کو خود لیڈ کرتی ہے۔ راقم کی رائے میں یہ ہے وہ جذبہ جو میدانِ جنگ میں حریفوں کو پسپا کرنے کا اصل سبب ہے۔ وگرنہ اسلحی اور افرادی قوت میں امریکہ اور اسرائیل کو ایران پر واضح برتری حاصل ہے۔ امریکہ جب عرب ممالک میں قائم اپنے فوجی بیسز سے ایران پر حملہ کرتا ہے تو ایران جوابی کارروائی میں اِن ہی بیسز پر میزائل مارتا ہے۔ امریکہ اور صہیونی ریاست اسرائیل کا پلان یہ تھا کہ جب ایران خلیجی ریاست میں موجود امریکی اڈوں پر حملہ آور ہوگا تو یہ خلیجی ریاستیں خاص طور پر سعودی عرب جس کے پاس ارب ہا ارب ڈالر کا امریکی اسلحہ موجود ہے وہ ایران کو جواب دیں گی اِس طرح اُن کے دونوں دشمن یعنی عرب اور ایران آپس میں خونریز جنگ میں ملوث ہو جائیں گے۔ لیکن سعودی عرب نے ہوش مندی کا مظاہرہ کیا اور ایران کے اِن حملوں کی صرف زبان سے مذمت کی ویسے بھی جنگ کرنا نہ سعودیوں کا مزاج ہے نہ تجربہ ہے اور نہ ہی وہ اپنی جان کو کسی قسم کی تنگی دینے کے وہ قائل ہیں آرام دہ زندگی اور سہولیات کو وہ اللہ کی نعمت سمجھتے ہیں پھر اسرائیلیوں نے مختلف خلیجی ریاستوں میں فالس فلیگ کیے اور اُس کا ملبہ ایران پر ڈالنے کی کوشش کی لیکن اب تک کی صورتِ حال یہ ہے کہ وہ اِس میں ناکام رہے اور بات کھل گئی کہ خلیجی ریاستوں میں صہیونی یہ جعلسازی کر رہے ہیں ایک امریکی یہودی سیز گراہم لنڈ نے تو میڈیا پر سعودی عرب کو خوب بُرا بھلا کیا کہ وہ ایران کو حملوں کا جواب کیوں نہیں دے رہا۔ البتہ خلیجی ریاستوں نے 12 مسلم ممالک کے وزرا خارجہ کے اجلاس کا انعقاد کیا تھا جس میں ایران کے حملوں کی مذمت کی گئی۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ اِس اجلاس نے امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر حملہ کرنے کی کسی قسم کی مذمت نہیں کی گئی۔ ایران اکیلا امریکہ کو رُلا رہا ہے لیکن باقی ستاون کے قریب اسلامی ممالک اب بھی امریکہ کے خوف سے زبان نہیں کھولتے اور امریکہ کی ناراضگی مول لینے کو ہرگز تیار نہیں۔ اِس کا ثبوت یہ ہے کہ پاکستان سمیت مسلمان ممالک کے اِس اجلاس میں ننگی جارحیت کی زد میں آنے والے ایران کی مذمت تو کی ہے لیکن جارح امریکہ اور اسرائیل کی مذمت میں اس کانفرنس کے اختتام پر ایک لفظ نہیں کہا گیا۔ تُف ہے اِس بزدلی پر حالانکہ ایران نے اِس جنگ میں جو امریکہ کی درگت بنائی ہے اِس سے باقی مسلمان ممالک کچھ تو حوصلہ پاتے اِس ذلت آمیز رویے کی اصل وجہ یہ ہے کہ شاید ہی کوئی مسلم ملک ہو جہاں عوام کی حقیقی نمائندہ حکومت ہو، یا طاقت کی بنا پر بنی حکومتیں نظر آتی ہیں یا جعلسازی سے لہٰذا جب عوامی حمایت حاصل نہیں اور اکثر مسلم حکومتیں امریکی بیساکھیوں پر قائم ہیں لہٰذا عوامی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے ایران کا ساتھ کیسے دیں۔ امریکہ جسے یورپ اور نیٹو کی حمایت حاصل نہیں پھر بھی اُس کے سامنے یہ مسلم ممالک خاموش ہیں۔
ایران نے جنگ بندی کے لیے جو شرائط رکھی ہیں وہ ایک فاتح کی شرائط دکھائی دیتی ہیں۔ (1) آئندہ کبھی اُس پر جنگ مسلط نہیں کی جائے گی۔ (2) خطے میں امریکی اڈے ختم کیے جائیں۔ (3) علاقائی فرنٹ میں جنگ ختم کی جائے (یعنی وغیرہ وغیرہ میں) ۔ (4) جنگ میں ہونے ایران کے اخراجات کو بطور ہرجانہ ادا کیا جائے۔ (5) آبنائے ہرمز کے لیے نئے قوانین ایران آمدورفت پر ٹیکس لگا سکے۔ (6) ایران مخالف میڈیا پروپیگنڈا کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ جنگ کی موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ امریکہ کے تینوں جنگی بحری بیڑے جن کی وجہ سے امریکہ سمندر میں اپنی زبردست قوت کا اظہار کرتا تھا اُن میں سے جیرالڈ فورڈ اور ابراہام لنکن کے نام سے موسوم بحری بیڑے زخمی ہو کہ میدان جنگ سے پیچھے ہٹ چکے ہیں۔ ایران نے آبنائے ہرمز غیر مشروط طور پر کھلنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ امریکہ نے ایران کو دھمکی لگائی تھی کہ وہ 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کھول دے وگر نہ امریکہ اس کی بجلی کی تنصیبات پر حملہ کرکے ایران کو تاریکی میں دھکیل دے گا جس کے جواب میں ایران نے کہا ہے کہ اگر اُس کی بجلی کی تنصیبات پر حملہ ہوا تو وہ خلیجی ممالک کے آبی نظام پر حملہ کرکے یہ نظام مکمل طور پر درہم برہم کر دے گا۔ اِس پر امریکہ نے یہ کہہ کر اپنا 48 گھنٹوں والا الٹی میٹم واپس لے لیا کہ ہمارے ایران سے مذاکرات ہو رہے ہیں لہٰذا ڈیڈلائن میں پانچ دن کا اضافہ کر دیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات ہو رہے ہیں جو مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں لیکن ایران نے امریکہ سے سِرے سے ہی کسی قسم کے مذاکرات کی تردید کر دی۔
صدر ٹرمپ کی قلابازیاں کے حوالے سے یا تو امریکی سینٹر ِکرس وین کی لائیو ٹی وی شو میں کہی جانے والی یہ بات درست ہے کہ اسرائیل نے ایران پر جنگ مسلط کرنے کے لیے چالیس (40) سال انتظار کیا کہ ٹرمپ جیسا بیوقوف اور جھوٹا شخص امریکہ کا صدر بنے تو ہم ایران پر جنگ مسلط کریں اور یا یہ کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف کوئی بڑی جنگی کارروائی کے لیے time buy کر رہے ہیں۔ راقم کی رائے میں امریکی سینیٹر کی بات درست نہیں کہ یہ سب کچھ بیوقوف صدر ٹرمپ کر رہا ہے اِس لیے کہ یہ صدر ٹرمپ اور اُس کے حواری اپنے طور پر نہیں کر رہے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ وہ صہیونی قوتیں جو ہر صورت میں گریٹر اسرائیل کا قیام چاہتی ہیں اور اِس ہدف کے حصول کے راستے میں آنے والی تمام رکاوٹوں کو جنگ و جدل اور ظلم و ستم سے ختم کرنا چاہتی ہیں حالات اور واقعات سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ گریٹر اسرائیل اور صہیونیوں کے تمام دوسرے مذموم منصوبوں کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ایران ہے یہ سب کچھ اُن نادیدہ قوتوں کی منشا بلکہ حکم سے ہو رہا ہے اب ٹرمپ کچھ مسلمان ممالک جن میں پاکستان بھی شامل ہے اُن سے درخواست کر رہا ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور ثالثی کرکے جنگ بندی کروا دیں راقم کی رائے میں امریکہ اور اسلام دشمن قوتوں کو ایران کے خلاف کوئی بڑا اور فیصلہ کن اقدام کے لیے وقت درکار ہے لہٰذا چالبازی سے کام لے کر کچھ عرصہ کے لیے جنگ بندی اور قیام امن کا جھانسہ دیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر پاکستان کو اِس حوالے سے آگے کیا جا رہا ہے اگرچہ کچھ حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا لیکن امریکہ کا ماضی اور خاص طور پر صدر ٹرمپ کی غیر سنجیدہ اور ناپختہ شخصیت سے کچھ بعید نہیں کہ وہ مناسب وقت کے لیے جعلسازی سے کام لے اور اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے پاکستان کو استعمال کرے یعنی پاکستان کے ذریعے مطلوبہ وقت حاصل کرے اور پھر ایران کے خلاف کوئی بڑا اقدام اٹھائے۔ اِس لیے کہ اگر امریکہ اِس وقت جنگ روک دیتا ہے جبکہ اب تک نہ صرف وہ اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکا بلکہ اُس کے لیے صورتِ حال 28 فروری کو جب امریکہ اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران پر حملہ کیا تھا اُس سے کہیں زیادہ اب سنگین ہو چکی ہے۔ امریکہ نے پاکستان کے ذریعے ایران کو جو جنگ بندی کے حوالے سے 15 نکات بجھوائے ہیں ایران اُن میں سے اکثر کو رد کر دے گا۔ ایٹم بم کی طرف بڑھنا اور یورنیم کی enrich کرنے کے حوالے سے تو ایران جنگ سے پہلے بھی انکاری نہیں تھا۔ لیکن بعض دوسرے نکات بیلسٹک میزائل کی رینج کم کرنااور آبنائے ہرمز کو سب کی کامن پراپرٹی قرار دینا وغیرہ تو ایران کسی صورت تسلیم نہیں کرے گا۔ پھر یہ کہ وہ اسرائیل جس کا مفاد جنگ کے پھیلنے سے ہے وہ کسی طرح بھی نہیں رکے گا گویا موجودہ صورتِ حال میںجنگ بندی کی قطعی کوئی امید نہیں۔
اگرچہ اس وقت کوئی حتمی بات نہیں کی جا سکتی لیکن معلوم یہ ہوتا ہے کہ امریکہ، مصر، ترکی اور پاکستان کے ذریعے جو جنگ بندی کے پیغامات بھیج رہا ہے وہ محض وقت حاصل کرنے کا حربہ ہے ثالثی کی باتیں بھی محض وقت گزاری ہے۔ اسرائیل اور ایران جو میدان کے اصل کھلاڑی ہیں اُنہوں نے نہ اب تک جنگ بندی کی ہے اور نہ ہی کسی طرح کی ثالثی کا ذکر کیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق امریکہ نے خود ہی ڈیڈ لائن میں10 روزہ کا اضافہ کر دیا ہے۔ صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ اُسے ایران پر کسی بڑے حملے کے لیے مزید وقت درکار ہے جو وہ مسلمان ممالک کا کندھا استعمال کر کے لینا چاہتا ہے ۔ ایک اخباری کالم میں دوسرے اسلامی ممالک کے مقابلے میں ایران کی جرأت اور بہادری اور حیثیت کو کچھ یوں بیان کیا گیا ہے۔ ’’ایران اب ایک ملک نہیں رہا یہ ایک آئینہ ہے جس میں ہر وہ شخص دیکھتا ہے جو جھکنا نہیں چاہتا، یہ ایک سوال ہے جو ہر اُس دل میں اُٹھتا ہے جو انصاف کی تلاش میں ہے۔ یہ ایک خواب ہے جو اُن آنکھوں میں پلتا ہے جو ابھی بند نہیں ہوئیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ اس شور، اس دھوئیں، اس بے چینی کے دوران بھی ایک امید زندہ ہے ایک ایسی امید جو چیخ کر نہیں خاموشی سے کہتی ہے کچھ لوگ ابھی کھڑے ہیں خیر کو شکست نہیں ہوئی۔‘‘ یہ قول اُمّتِ مسلمہ خاص طور پر پاکستان کے حوالے سے بالکل درست ہے۔
راقم دعا گو ہے کہ یہ جنگ امت ِ مسلمہ کے لیے خیر برآمد کرے۔ آمین یا رب العالمین!
tanzeemdigitallibrary.com © 2026