(کارِ ترقیاتی) آخر اس درد کی دوا کیا ہے! - عامرہ احسان

10 /

آخر اس درد کی دوا کیا ہے!


عامرہ احسان

رمضان المبارک کے آخری عشرے میں نزولِ جبرئیل امین، کعبہ کے گرد طواف / نماز کے دائروں، صفوں سے شروع ہو کر پورے گلوب پر محیط 2 ارب میں سے لاکھوں مسلمان، ایک عظیم منظر کعبہ کی مرکزیت کا پیش کرتا ہے۔ اسے تکمیل پانا ہے سید نا عیسیٰ ؑ کے نزول پر، جب روئے زمین کی پوری آبادی پاکیزگی، (عقیدہ، ایمانی، روحانی، جسمانی) کاایسا ہی نا قابل یقین منظر بنائے گی جس کا وعدہ پورا ہو کر رہنا ہے۔ ووعدک الحق! آج تاریکی کتنی ہی گھٹا ٹوپ کیوں نہ ہو! مناظر کتنے ہی عجیب و غریب مضحکہ خیز حد تک کربناک، المناک کیوں نہ ہوں۔ یہ منظر سب بدلیں گے۔ایک دن آئے گا جب کعبہ کے گرد دائرہ در دائرہ حالت ِقیام میں کھڑی روئے زمین بھر پر اُمّت، یعنی مکمل انسانی آبادی ہو گی ۔ سیدنا عیسیٰ d امامت کروا ر ہے ہوں گے۔ شکرانے کے آنسوؤں سے پوری زمین تر ہو جائے گی! ہچکیوں، سسکیوں میں حضرت یا سر و سمیہ رضوان اللہ علیہما کے مظلوم شہید جوڑے سے لے کر غزہ کے خاندانوں تک اور نجا نے مزید کتنے لاشعور کی گہرائیوںسے خراج تحسین پائیں گے۔ یہ چمن معمور ہو گا نغمۂ توحید سے! باذن اللہ…

آج  دنیا کی مضحکہ خیز کر بنا کی ملاحظہ ہو! امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ میں فریقین؟ یوم ِقدس منانے والا ایران، اور امریکہ کے اڈوں کے 27 مقامات (جو سب 5 وقت تکبیریں بلند کر کے سجدہ ریز ہونے والے رمضانی مسلمان ممالک ہیں!) پر امریکہ دوستی، اتحادی ہونے کے جرم پر برستے ایرانی میزائل۔ یہی میزائل اسرائیل پر بھی برس رہے ہیں۔ عقلیں چکرائی پڑی ہیں کہ امریکہ نے جنگ تو اسرائیل کی محبت ِعظمیٰ میں ایران سے چھیڑی تھی۔ مگر مشرقِ وسطیٰ سے آگ اور دھوئیں کے سیاہ بادل اُمّت مسلمہ کو روسیاہ کیوں کر رہے ہیں؟ اُمّت کی ساری دولت، تیل کے ذخائر، سیاحت کی دمکتی معیشت اربوں ڈا لرروزانہ اس جنگ میں کیوں جھونکی جارہی ہے؟ جسے روکنے کی حقیقی ضرورت نہ امریکہ محسوس کر رہا ہے، نہ ایران اس موڈ میں ہے۔ اس جنگ کا ماحصل کیا ہے؟ اسے سمجھنے کو عقل ِسلیم، قلب ِسلیم اور اواہ منیب ہونا کافی ہے۔ کیونکہ وجہ سمجھ آئے گی رجوع الی اللہ، الی القران سے توبس آہ، آہ پکار اٹھیں گے!
دوسرا مضحکہ خیز منظر؟ مشرقِ وسطیٰ ہو یا جنوبی ایشیا، ہر منظر کا پس منظر وائٹ ہاؤس کی میٹنگوں، لنچ، ڈنر، کانفرنسوں میں ہوتا ہے، یہ انوکھا منظر ہے کہ ملا عمر، طالبان کی جان کا دشمن بی جے پی، ہندو توا برانڈ بھارت۔ پچھلے دورِ حکومت میں ملا عمر کی بت شکنی اور یاد کیجئے پاکستان سے محبت بھرا یہ اعلان کہ ’پاکستان پر حملہ افغانستان پر حملہ سمجھا جائے گا…‘یہ تیسری دہائی تک پہنچتے یکسر کیسے بدل گیا؟ دنیا بھر کی فوجوں کے افغانستان پر حملے کو افغانوں نے یکہ و تنہا اپنے نہتے ترین حالات میں اپنی جانوں پر سہا۔ پاکستان خود امریکہ کا فرنٹ لائن اتحادی تھا۔ پاکستان کے    ہوائی اڈوں سے 70 ہزار امریکی نیٹو پروازوں نے افغانستان بھر پر بمباریاں کیں۔ افغان قیادت کے کئی اہم رہنما ہماری جیلوں میں تھے۔ امریکہ حسبِ روایت جب شکست کھا کر بھاگا تو ہمیں اپنی شکست کا ذِمّہ دار ٹھہرا کر تکبر سے پھنکاریں مارتا تحقیر کرتا یہاں سے نکلا۔ پاکستانی عوام بہرطور افغانستان میں کلمے سے سجا سفید جھنڈا دیکھ کر شاد ہوئے۔  چار سال افغانستان، پاکستان سے بہتر ین برادرانہ  تعلقات، تسلیم کیے جانے، تجارتی روابط کی مضبوطی گزشتہ دور کے تسلسل (جو جنرل ضیاء الحق کی افغان دوستی پالیسی کی بنا پر تھی)، کے منتظر رہے۔مغربی سرحد پر جوکشمکش امریکی جنگ کی بنا پر قبائلی آبادی کے ساتھ مشرف کی پالیسی کی دین تھی شدت اختیار کرتی گئی۔ پے در پے آپریشنوں سے لاکھوںقبائلی خاندان بے در بے گھر، اندرونِ ملک مہاجر ہوئے۔ بقول بانی ٔپاکستان محمد علی جناح، بازوئے شمشیر زن علاقے جہاں ہمیں پاکستان کی حفاظت کے لیے فوج رکھنے کی بھی ضرورت نہ تھی۔
اب ترجیحِ اول کے طور پراپنے شہریوں سے معاملات نبھانے، دوبارہ انہیں آباد کرنے کا وقت تھا۔ ان کے گھر بار، کاروبار جو جنگ میں تباہ ہوئے پور ے انصاف سے لوٹا نے کا وقت تھا جو ’بوجوہ‘ ہم نہ کر سکے۔    بر وقت نہ بھرے جانے والا ایک ٹانکا، (بعد از خرابی ٔ بسیار) لا منتہا ٹانکے بھرنے سے بھی پورا نہیں ہو سکتا۔ سو یہی ہوا۔ اس سے ٹرمپ نے بھر پور فائدہ اٹھا کر ہمیں تھپکی دی، تعریفوں کے پل باند ھے اور اس راہ پر ڈال دیا جو آج کا لطیفہ، عجوبہ ہے۔ اور وہ یہ کہ خون سے بڑھ کر قیمتی، دین کے رشتے میں بندھے دو برادر پڑوسی جانی جگری ممالک کے درمیان، پاکستان اور مسلمانوں کے خون کا پیاسا بھارت (مقبوضہ کشمیر کا مجرم) افغانستان کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھا کر اس کا سگا بن بیٹھا ہے۔ یو این میں کیا تماشا ہے کہ وہ چیختا چلاتا افغانستان پر پاکستان کی طرف سے بمباریوں اور رمضان المبارک میں عورتوں بچوں کے جانی نقصان پر بلبلا رہا ہے؟ پہلے کشمیر کا حساب تو تم چکا دو پھر ہمارے منہ آنا۔ مگر گنگ تو ہم یوں ہو جاتے ہیں کہ: بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی!  پنبہ کجا کجا نہم!
ایسے میں تل ابیب کی تباہی، نتین یا ہوکی (غیر مصدقہ) ہلاکت کی خبر بڑے زور و شورسے اٹھی تو کیفیت دل کی عجب تھی! دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے! آخر اس درد کی دوا کیا ہے! حالانکہ کون نہیں جانتا۔ علاج اس کا وہی   آبِ نشاط انگیز ہے ساقی! قرآن کے مہینے سے پوچھوں کہ دوا کیا ہے؟ جو سامنے دھرا ہے! (اور ہم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر!) پوسٹ تو یہ کہہ رہی تھی کہ ’مسلمانوں کو قبل از وقت عید مبارک! خوشیاں مناؤ کہ یا ہو مر گیا!‘ اس سادگی پر کون نہ مرجائے اے خدا۔ غزہ کے ڈھائی سال اپنے بھائیوں بہنوں ننھے بھانجوں، بھتیجوں کے قتل عام پر تو تم دیوانے ہو کر نہ اُٹھے۔ اب مٹھائی کھانے کے بہانے تلاش کرتے ہو؟ کاش یہ میزائل… ہمارے شیروں نے برسائے ہوتے! یہ سیاہ دھواں، یہ ریت کی آندھیاں جو اسرائیل شعلہ بداماں سے اُٹھ رہی ہیں، ہم درست لشکروں میں ہوتے ہمارے تیروں کے رخ درست ہوتے۔
امریکہ نے انقلابِ ایران کے وقت منجمد کردہ ڈالروں کا خزانہ مع سود ایران کو طویل عرصے بعد واپس کر دیا۔اسی دوران عراق میں امریکی خلیجی جنگ، صدام حسین کا خاتمہ اور شام میں بشار الاسد آمریت کے خلاف مزاحمت نے ایران کو لبنان تا عراق اپنا اثر و رسوخ پھیلانے کا موقع مل گیا۔ 2011 ء تا 2024ء شام میں کیا ہوا؟ پڑھ لیجیے۔ اعداد و شمار، شامی مسلم مہا جرت، غزہ جیسی تباہی۔ احادیث میں مذکور شام کی اہمیت صیہونیوں کو بہت خوب معلوم ہے۔ سو مغربی ایجنڈے وہاں یوں پورے کروائے گئے۔(احادیث میں شام سے مراد، لبنان، شام، اردن، فلسطین۔ پورا خطہ ہے۔)
امریکہ نے ایران کو غلط سمجھا۔ کل تک ایران، اسرائیل پر امریکہ کی اجازت سے محتاط حملے کرتا تھا۔ حملہ ہو جاتا مگر نقصان پہنچائے بغیر۔مگرامریکی تکبر نے اسے اندھا کر دیا۔ ٹرمپ کے سر پر ہاتھ رکھے پادریوں کی دعا کا ’سہانا‘ منظر! ایسپٹین سے آلودہ ٹرمپ پر دعائیہ کلمات الٹ گئے۔ ایران کا قدیمی آریہ مہر تاریخ کا تفاخر، نظریاتی قوت، پاسدارانِ انقلاب (IRG) کی تربیت، قرنوں پرانی رومی، ایرانی سلطنتوں کی آویزیش کی غیرت غم و غصے سے ابل اٹھی۔ اور اب… محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی! انتظار فرمائیے۔ فی الحال تو قوم 55 روپے کا تیل کا ٹیکا سہہ رہی ہے صرف۔ کون سی امت۔ کہاں کا غم! سال کے 8 مہینے ہم چھٹیوں میں گزارتے ہیں۔ حکمران لاکھوں کے سوٹ پہن کر دنیا بھر سے قرضے اکٹھے کرنے ہمہ وقت ملک سے باہر۔ عوام خیراتی دستر خوانوں پر۔ سرکاری دفاتر چھٹی پر۔ بچے نوجوان موبائیلوں  پر۔ وجودِ باری تعالیٰ اور رحمت و علم میرے رب کا! اس پر ایمان لانے کو پاکستان کافی ہے! کہ یہ ’غریب ملک‘ شاندار گاڑیوں، محلات، بھرے شاپنگ مالوں کے ساتھ رواں دواں ہے! سلامت رہے مگر حقیقی ایمان عطا ہو جائے تو بات بنے!