مشرقِ وسطیٰ کا بحران اورپاکستان کا اُبھرتا ہوا سفارتی کردار
ڈاکٹر ضمیر اختر خان
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں ہے، جہاں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی نے خطے کو ایک ممکنہ بڑے تصادم کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایسے نازک وقت میں پاکستان نے محض ایک تماشائی بننے کی بجائے ایک متحرک اور ذمہ دار سفارتی کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے، جو نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی اہمیت کا حامل ہے۔
حالیہ پیش رفت اس بات کی غماز ہے کہ پاکستان پسِ پردہ اور اعلانیہ دونوں سطحوں پر سرگرم عمل ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک سنجیدہ اور قابلِ اعتماد رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ اسی طرح یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ امریکہ نے اپنے اہم نکات پاکستان کے ذریعے ایران تک پہنچائے، جو پاکستان کے سفارتی اعتماد اور رسوخ کا واضح ثبوت ہے۔
پاکستان کی کوششیں صرف پیغامات کے تبادلے تک محدود نہیں رہیں بلکہ اس نے خود کو ایک ممکنہ ثالث کے طور پر بھی پیش کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی راہ ہموار کی جا رہی ہے، جس میں پاکستان، ترکیے اور مصر سہولت کار کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اگر یہ پیش رفت عملی شکل اختیار کرتی ہے تو یہ نہ صرف پاکستان کی سفارتی کامیابی ہوگی بلکہ خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کی طرف ایک بڑی پیش رفت بھی ثابت ہو سکتی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی سطح پر بھی سفارتی سرگرمیاں تیز رہی ہیں۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے رابطہ ہو یا خلیجی قیادت کے ساتھ گفتگو، پاکستان نے مسلسل ایک ہی مؤقف اختیار کیا ہے: کشیدگی میں کمی، مذاکرات کا فروغ اور امتِ مسلمہ میں اتحاد۔ پاکستان نے نہ صرف ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا بلکہ دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ بھی رابطے برقرار رکھ کر ایک متوازن اور ذمہ دارانہ پالیسی کا مظاہرہ کیا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ پاکستان نے کسی ایک فریق کا ساتھ دینے کی بجائے ایک ’’پُل‘‘کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہی وہ حکمت عملی ہے جو ایک ذمہ دار ریاست کو اختیار کرنی چاہیے۔خصوصاً ایسے وقت میں جب جذباتی فیصلے پورے خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش بھی اسی سوچ کا تسلسل ہے۔ یہ پیشکش محض سفارتی بیان نہیں بلکہ ایک عملی اقدام ہے، جو اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے، بشرطیکہ متعلقہ فریقین آمادہ ہوں۔
تاہم، اس تمام تر سفارتی سرگرمی کے باوجود چیلنجز اپنی جگہ موجود ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان عدم اعتماد، اسرائیل کا سکیورٹی بیانیہ، اور خطے کی پیچیدہ جغرافیائی سیاست کسی بھی پیش رفت کو نازک بنا دیتی ہے۔ ایسے میں پاکستان کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ وہ کس حد تک غیر جانبداری، تسلسل اور اعتماد کو برقرار رکھ پاتا ہے۔
موجودہ صورت حال میں پاکستان کا کردار ایک اہم امتحان بھی ہے اور ایک موقع بھی۔ اگر یہ کوششیں کامیاب ہوتی ہیں تو پاکستان نہ صرف ایک مؤثر علاقائی طاقت کے طور پر اُبھر سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک ذمہ دار ثالث کی حیثیت سے اپنی پہچان مضبوط کر سکتا ہے۔