اسے ہے سطوتِ شمشیر پہ گھمنڈ بہت!
عامرہ احسان
دنیا گھن چکروں میں پڑی ہے۔ مگر چھوڑئیے اسے اور لاہور کی کہانی پڑھیے۔ لاہور بڑا متبرک شہر ہے جس بارے مشہور ہے کہ جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ ابھی پیدا نہیں ہوا۔ ہوا کچھ یوں کہ لاہور کے ذہنی امراض کے ہسپتال سے ایک صاحب صبح سویرے اُٹھے، گارڈ کو سوتا چھوڑ کر، ایمبولینس کی چابی اٹھائی اور چل دیئے۔14 کلومیٹر دور ’شاہدرہ ٹیچنگ ہسپتال‘ پہنچ کر وہاں انتظامیہ کو مطلع کیا کہ انہیں نئے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی حیثیت سے چارج لینے کو بھیجا گیا ہے۔ یہ حضرت پیشہ ورانہ اندازِ گفتگو، اصطلاحاتی مہارت کی بنا پر ہاتھوں ہاتھ لیے گئے۔ چل پھر کر ہسپتال کا کچھ معائنہ بھی فرمایا۔ تاہم ایک مقامی اعلیٰ افسر نے حکامِ بالا سے تصدیق چاہی کہ یہ اچانک فیصلہ کرکے نیا ایم ایس کیوں بھیجا گیا! ہوش کچھ ٹھکانے لگنے اور افسرانہ رعب داب سے بحال ہونے پرافسران کی نگاہ پڑی کہ موصوف کے یونیفارم کوٹ پر PIMH لکھ رکھا تھا۔ یعنی پنجاب مینٹل ہیلتھ کے ادارے کا نام! انہوں نے فوراً وہاں کے ایم ایس سے رابطہ کیا تو تصدیق ہوئی کہ ایک ذہنی مریض ایمبولینس سمیت لاپتہ ہے۔ تصویر دکھائی گئی تو کہانی کھل گئی۔ مگر یہ بھی تو دیکھیے کہ ایک تدریسی ہسپتال کے افسران گفتگو، لب و لہجے سے کتنی آسانی سے دھو کہ کھا گئے، کوئی بھی خطرہ مول لینا نہیں چاہتا کسی اعلیٰ افسر سے پوچھ گچھ کی،( غلامانہ تربیت کی بناپر)!
مقصودِ اس کہانی کا یہ ہے کہ دنیا بھی اس وقت ایک خللِ دماغی، فتوری، مخبوط الحواس کے ہاتھوںپے در پے دیوانی جنگوں کا شکار ہوئی پڑی ہے۔ امریکہ بھر میں 2023ء سے جو ریلیاں، احتجاج، مظاہرے شروع ہوئے، امریکی خزانہ خالی ہوا، عوام پر زندگی اجیرن ہو گئی۔ اس کے پیچھے ایک شخص ٹرمپ نامی ہے۔ احتجاج کی نئی بہت بڑی لہر ’ No Kings‘ (بادشاہت نامنظور) کے عنوان سے چل رہی ہے۔ 28 مارچ سے شروع ہونے والا یہ تیسرا راؤنڈ ہے ریلیوں کا پورے امریکہ میں، ایران جنگ کے خلاف۔ پچاس ریاستوں میں 3,300 ایسے بڑے مظاہرے ہوئے، جن میں60تا80 لاکھ لوگوں نے شرکت کی جوایک تاریخی ردِعمل ہے۔ روم، پیرس اور برلن تک میں یہی ’ریلی وائرس‘ جا پہنچا!
امریکی عوام بالخصوص بپھرے ہوئے ہیں۔ ’ٹرمپ! فوری نکل جاؤ۔ کوئی ’ICE‘ (امریکی غیر ملکی تارکینِ وطن کی پکڑ دھکڑ کا ادارہ) نہیں چلے گا، جنگیں نہیں، جھوٹ نہیں، کوئی بادشاہ نہیں!‘امریکی عوام نے ایک بہت بڑے گراؤنڈ میںیہ سب لکھ رکھا ہے! ( ٹرمپ جمہوریت رگید کر شاہی مزاج سے فیصلے صادر کر رہا ہے۔) لاہور کا واقعہ اسی ضمن میں لکھا کہ ذرا چیک کر لینے میں ہرج نہیں کہ موصوف کسی ذہنی صحت کے مرکز سے نکل کر امریکہ کو جھٹکے پہ جھٹکا تو نہیں دئیے جا رہے؟ لاہور کے اثرات ہونا عجب نہیں، شہباز شریف لاہور سے ان کی پیغام رسانی پر مسلسل مامور اور خود معمور و مسرور و مسحور ہیں! ٹرمپ کی اسرائیل دوستی میں غزہ، مغربی کنارے، لبنان اور ایران پر جو گزرے چلی جارہی ہے وہ پوری دنیا کو مبہوت و مخبوط الحواس کیے دے رہی ہے۔ اب ٹرمپ جوپے در پے تخت الٹنے کے کھیل میں مصروف ایران میں سینگ پھنسا بیٹھا ہے، پورا خطہ لپیٹ میں ہے۔ سمندر، تجارتی بحری بیڑے، بین الاقوامی معیشت شدید مسائل میں گھرے ہیں۔ نہ اگلے بن پڑ رہا ہے نہ نگلے۔ اسرائیل خود تو شعلہ بداماں ہے ہی، ساتھ ہی لبنان پر آگ برسا کر گریٹر اسرائیل ایجنڈے کی دیوانگی پوری کر رہا ہے۔
دنیا بھر میں اسرائیل اور یہود کے لیے نفرت سلگ رہی ہے۔ جاپان جیسی مرنجان مرنج قوم چیخ اٹھی ہے۔ پارلیمنٹ کے باہر خاموش قوم کی بغاوت دیکھیں۔84 ہزار افراد نے شرکت کی۔ ’جاپان جنگ سے دور رہو‘۔ ’ایران جنگ بند کرو‘۔ ’امریکی اشاروں پر مت ناچو‘۔ امریکہ نے جاپان سے کہا کہ وہ ہر مز کھلوانے کو جہاز بھیجے۔ عوام نے مکمل انکار کا اعلان کیا۔’طاقتوروں کو سننا ہو گا‘۔ ادھر معاشی دنیا میں بھونچال ٹرمپ کے بیانوں سے آتا ہے۔ تیل کی قیمت، سٹاک ایکس چینج کے حصص کی قیمت ٹرمپ کے بیان، اقدام اور ایران کے جوابات پر،اوپر نیچے یکا یک آتی جاتی ہے۔ سٹہ بازی کا سرمایہ دارانہ نظام! وال سٹریٹ کی بڑی بڑی کمپنیاں، ہزاروں فوجی مشرقِ وسطیٰ بھیجنے کے بیان پر یک لخت نیچے جاپڑیں۔ 6 ماہ میں امریکی سٹاکس کم ترین سطح پر 20 مارچ کو بند ہوئے۔ کھلنڈرے کے اگلے بیان پر بحالی ہو جاتی ہے! دھمکیوں کی گرم بازاری مزید ہے۔ تلسی گبار ڈ(امریکی کٹر ہندو، انٹیلی جنس کی سربراہ) نے گپ چھوڑی کہ پاکستان کی میزائیل صلاحیت امریکی سلامتی کے لیے بڑے خطروں میں سے ہے۔ امریکہ تک رینج بڑھائی جاسکتی ہے۔ جس پر ہمارے دفتر خارجہ کو درستی کرنی پڑی کہ پاکستان بین البراعظمی سطح سے ابھی بہت نیچے ہے۔ جبکہ بھارت ہمسایوں اور خطے سے بہت دور تک مار کرنے کی صلاحیت کی بنا پر بڑا خطرہ ہے۔
دنیا کی توجہ بٹا کر اسرائیل بدستور غزہ پر وحشت بر سا رہا ہے۔ انسانی تاریخ کا بدترین جرم، اس وحشی نے ایک سالہ ننھے بچے پر آزمایا۔ باپ پر دباؤ ڈالنے کے لیے بچے کی ننھی ٹانگوں کو جلتے سگریٹ سے داغا، اس کی ٹانگ میں کیل ٹھونکا۔ مسلمانوں کو دہشت گردی، شدت پسندی کے طعنے دینے والے پوری دنیا پر آگ اور خون کا وحشیانہ کھیل مسلط کیے ہوئے ہیں۔ انگریزی زبان،ٹائی سوٹ بوٹ ڈالروں، پائونڈوں کا رعب، تعلیم اور ڈگریوں کی شو،شا۔ اندروں چنگیز سے تاریک تر! دنیا بھوک افلاس سے مررہی ہے اور یہاں جنگوں کی آتش بازی میں مشرقِ وسطیٰ کو کھینچ گھسیٹ کر بھاری پلاننگ سے تیسری عالمی جنگ کا میدان بناڈالا ہے۔
ایران تنازعے کے صرف 26 دنوں میں سعودی عرب کو 8.5 ارب ڈالر اور کویت کو 10 ارب ڈالر کا نقصان اُٹھانا پڑا ہے۔ براہ ِراست جنگی دفاعی ا خراجات اور تیل برآمدات میں گھاٹے کے ہاتھوں۔ قطر اور کویت کو تیل کی بندش کے ہاتھوں 14 فی صد خسارے کا سامنا ہے۔ اگر تنازعہ بڑھ پھیل جائے توتوانائی کے بحران کے ہاتھوں گلوبل معیشت پر 3 تا 5 ارب ڈالر فی دن کا اثر مرتب ہو گا۔
یہ لگے ہاتھوں مسلمان ممالک کی دولت مارے حسد کے ختم کرنے کی جنگ ہے۔ باہم دگر جھگڑے اور فساد بپا کر کے اسرائیل کو اس کے مذموم مقاصد میں معاونت دینے کی امریکی جنگ ہے۔ جس سے پوری دنیا اب بیدار بھی ہے، بے زار بھی۔ حقائق کھل چکے ہیں۔ امریکی قانون سازوں کی دونوں پارٹیوںنے 10 مارچ کو اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا، امریکہ اسرائیل کی تھوپی گئی صہیونی جنگ پر۔ خفیہ سرکاری اجلاس میں اس جنگ کو بے ربط، غیر منطقی اور نامکمل پلان کے تحت قرار دیا گیا۔ ڈیمو کریٹ سینیٹر مرفی نے اعتراض کیا کہ وہ سینکڑوں ارب ٹیکس ڈالر (عوام کی امانت) اس میں جھونکیں گے۔ بے شمار امریکی مارے جائیں گے۔ ہوائی حملوں سے اُن کا نیوکلیائی مواد ختم نہیں ہوگا۔ ہرمز کی بندش اور فوجی تعیناتی پر بھی ڈیموکریٹوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ایک سینیٹر غم و غصے اور عدم اطمینان میں واک آؤٹ کرگئے۔ جنگ کے معاشی بوجھ، فوجی کارروائی کے بھاری اخراجات پر شدید ناپسندیدگی کا اظہار رہا کہ 15 ملین امریکیوں کی صحت اور طبی ضروریات کے لیے رقوم نہیں اور ایک ارب ڈالر فی دن ایران پر بمباری کے لیے موجود ہیں؟امریکہ نے جنگی جنون میں اپنا عالمی،سیاسی مقام داؤ پر لگا دیا ہے۔یورپ اور دنیا بھر سے امریکی تعلقات میں بگاڑ آیا۔دونوں جہاں اسرائیلی محبت میں اجاڑ دئیے۔
’نو کنگز‘ تحریک میں کہا گیا کہ ٹرمپ کا بیٹا بیرن ٹرمپ فوج میں بھرتی ہو۔ تم دوسروں کے بچے جنگ میں بھیجو گے؟ تمہارے بچے کیوں نہیں؟ رابرٹ ڈی نیرو کڑکا، گرجا: کوئی بھی صدر ہماری آزادی اور سلامتی کے لیے ایسا خطرہ نہ بنا تھا۔ ٹرمپ کو روکنا ہو گا۔ فوری! غیر ضروری جنگیں نہیں لڑی جائیں گی۔ معصوم لوگوں کو ذبح نہیں کیا جائے گا۔ کرپٹ لیڈر نہیں چلیں گے۔ ہیلتھ کیئر ہم سے نہیں چھینی جائے گی۔ نہ گھر، نہ انرجی، نہ خوراک؟ ٹرمپ کو روکنا ہوگا! یہ ہماری ایک قومی تحریک، مزاحمت ہے۔ انہیں ہم سے ڈرنا ہوگا! اصلاً امریکہ، جنگی معیشت کا حامل ہے۔ وہ جنگوں کی آگ اپنے ڈالروں کی خاطر بھڑکاتا ہے! فیصلہ دنیا کو کرنا ہے!
اسے ہے سطوتِ شمشیر پہ گھمنڈ بہت!