قسط اوّل
دجال کی عالمی حکومت اور نیوورلڈ آرڈر کی حقیقت
رفیق چودھری
اللہ کے آخری رسول ﷺکی احادیث مبارکہ میں آخری زمانے کے متعلق جو خبریںواردہوئی ہیں، وہ ایک ایک کرکے پوری ہوتی جارہی ہیں ، معرکۂ حق و باطل اپنے عروج کی جانب بڑھ رہا ہے ، احادیث میں جس بڑی جنگ الملحمۃ الکبریٰ(آرمیگاڈان ) کا ذکر ہے ، بظاہر شروع ہوتی دکھائی دیتی ہے اور اس کے بعد دجال کے خروج کا زمانہ بھی قریب معلوم ہورہا ہے ۔ اِس سارے پس منظر میں ضرورت اِس امر کی ہے کہ اُمّت ِمسلمہ دجال کے فتنوں اور لشکرِ دجال کے منصوبوں سے باخبر ہو اور ہم سب اس کے مقابلے میں الٰہی منصوبے کا ساتھ دیں ۔ درج ذیل سلسلۂ تحریر میں پہلے ہم قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ تجزیہ پیش کریں گے کہ امر ِربی کیا ہے اور عالم ِ خلق میں کیسے غالب ہو کر رہے گااور اس کے بعد ابلیس کے منصوبے اور کفار کے عزائم اور دجال کے عالمی نظام کی حقیقت کو آشکار کیا جائے گا ۔ ان شاء اللہ !
الٰہی منصوبہ اورشام کی فضیلت
اسلام کے ابتدائی دور میں شام کی سرزمین(بلادِ شام) میں فلسطین ، اُردن اور لبنان بھی شامل تھے۔ قرآن و حدیث میں اس سرزمین کی فضیلت کئی لحاظ سے بیان ہوئی ہے ۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ کافرمان ہے :
{وَنَجَّیْنٰہُ وَلُوْطًا اِلَی الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَکْنَا فِیْہَا لِلْعٰلَمِیْنَ(71)} (الانبیاء)’’اور ہم ابراہیم ؑکو اور لوطؑ کو بچا کر اُس سرزمین کی طرف نکال لے گئے جس میں ہم نے برکتیں رکھی ہیں،سب جہان والوں کے لیے۔‘‘
علماء اور مفسرین کی اکثریت کی رائے یہ ہے کہ اس سرزمین سے مراد شام ہے کیونکہ حضرت ابراہیم اور لوط ؑ کی ہجرت عراق سے شام کی طرف تھی۔اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کو اِس سرزمین میں پناہ دی جب نمرود کا فتنہ اپنے عروج پر تھا ۔ نمرود نے بھی دجال کی طرح خدائی کا دعویٰ کیا تھا اور اللہ تعالیٰ کے خلاف اعلان جنگ کیا تھا ۔اللہ کے دین پر چلنے والوں کے لیے اس کی بادشاہت میں کوئی جگہ نہ تھی ۔ اُس نے حضرت ابراہیم ؑ کو اللہ کے دین کی دعوت دینے کی پاداش میں آگ میں ڈالا ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے آپؑ کو آگ سے بچایااور حکم دیا کہ آپ ؑ شام کی طرف ہجرت کر جائیں ۔ اسی طرح آخری دور میں جب فتنہ دجال اپنے عروج پر ہوگا اور زمین پر کہیں بھی اہل ایمان کے لیے ایمان کے ساتھ جینے کی گنجائش باقی نہیں رہے گی تو اُس وقت شام ہی اہل ایمان کا ٹھکانہ ہوگا اور پوری دنیا سے اہل ایمان ہجرت کرکے اسی طرح شام کی طرف آئیں گے جس طرح شروع میں حضرت ابراہیم ؑ نے ہجرت کی تھی ۔اس بات کی تائید کئی دیگراحادیث سے بھی ہوتی ہے ۔
حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے اُنہوں نے کہا کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا:”ہجرت(مدینہ) کے بعد ایک اور ہجرت ہو گی اور زمین پر موجود بہترین لوگ حضرت ابراہیم کی ہجرت کی جگہ کی طرف ہجرت کریں گے اور بقیہ زمین پر صرف شریر لوگ باقی رہ جائیں گے۔“(مشکوٰۃ المصابیح )
علامہ البانی ؒ نے اس روایت کو ’صحیح‘ قرار دیا ہے۔مفسرین کے نزدیک یہ دورِ فتن کی ہجرت ہے اوراسے مدینہ کی ہجرت کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ ہجرتِ مدینہ مشرکین مکہ کےظلم وجبر کی وجہ سے ہوئی اور مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کے سبب سے عظیم سلطنت اسلامیہ کے قیام کی نہ صرف راہ ہموار ہوئی بلکہ مدینہ منورہ خلافت ِاسلامیہ کا مرکز اوّل بھی قرار پایا۔ اسلام میں آخری ہجرت کفار اور اُن کےایجنٹوں کے ظلم وجبر کے سبب بلادِ شام کی طرف ہو گی جو حضرت عیسیٰ ؑ کے نزول کی سرزمین ہے اور اسی سرزمین میں حضرت عیسیٰ ؑ دجال کو قتل کرنے کے بعد دوسری بار خلافت اسلامیہ علیٰ منہاج النبوۃ کی بنیاد رکھیں گے۔ یعنی اسلام کے ابتدائی عروج کا مرکز مدینہ تھا تو انتہائی عروج کا مرکز ارضِ مقدس ہے۔امام ابن تیمیہؒ نے ایک لطیف نکتہ یہ بیان کیا ہے کہ خلق وامر میں مبدا و معاد مکہ اور شام ہیں۔یعنی اللہ کے دین کی ابتدا اور ظہور مکہ سے ہوا اور اس کا کمال و عروج شام میں حضرت عیسیٰ ؑکے ظہور سے حاصل ہو گا کیونکہ اس وقت اسلام پوری دنیا پر غالب ہوگا۔ جیسا کہ بعض روایات میں حضرت عیسیٰ ابن مریم ؑ کے نزول کے بارے میں یہی بشارت منقول ہے کہ دمشق کی مشرقی جانب موجود سفید مینارہ پر دو فرشتوں کے پَروں پرہاتھ رکھے اُن کا نزول ہو گا ۔
آخری زمانے کے لحاظ سے شام کی سرزمین کی اِس خصوصی اہمیت کے تناظر میں دورِفتن کی احادیث کا مطالعہ کیا جائے تو ان احادیث میں جو پیشین گوئیاں کی گئی ہیں اور جو اس سرزمین کی فضیلت بیان کی گئی ہے، وہ واضح طور پر سمجھ میں آسکتی ہے ۔
حضرت عبد اللہ بن حوالہ ؑ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:”تمہارے دین اسلام کا معاملہ یہ ہو گا کہ تم لشکروں کی صورت میں بٹ جاؤ گے۔ ایک لشکر شام میں‘ ایک عراق میں اور ایک یمن میں ہو گا“۔ ابن حوالہ نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! اگر میں اُس زمانے کو پا لوں تو مجھے اِس بارے میں کوئی وصیت فرما دیں۔ آپﷺ نے فرمایا: شام کو پکڑ لے کیونکہ وہ اللہ کی زمینوں میں سے بہتر سرزمین ہے۔ اللہ کے بہترین بندے اس کی طرف کھنچے چلے جائیں گے۔“(سنن ابی داؤد )
حضرت ابوردراء ؑ سے مروی ایک روایت کے الفاظ ہیں:”اس دوران کہ میں سویا ہوا تھا میں نے دیکھا کہ کتاب کا عمود میرے سر کے نیچے سے کھینچ لیا گیا‘ پس مجھے یہ یقین ہو گیا کہ اب یہ جانے والا ہے تو میری نگاہ نے اُس کا پیچھا کیا اور وہ شام تک پہنچ گئی۔ خبردار! فتنوں کے وقت ایمان شام کی سرزمین میں ہو گا۔“(مسند احمد)
طوفانِ نوح کے بعد پہلی بار فتنۂ دجال جیسا بڑا فتنہ ابلیس نے نمرود کے ذریعے پھیلایا تھا تو اس وقت حضرت ابراہیم ؑ اور اسلام کے پیرو کاروں کے لیے بہترین سرزمین شام تھی اور آخری دور میں جب بالکل اسی طرح کا فتنہ اپنے عروج پر ہوگا جس میں دجال کی عالمی حکومت قائم ہوگی اور وہ نمرود کی طرح ہی خدائی کا دعویٰ کرے گا تو اس وقت بھی شام کی سرزمین ہی اہل ِایمان کے لیے بہترین جگہ ہوگی کیونکہ وہ دجال کے خلاف جنگ کریں گے اور وہ بہترین لوگ ہوں گے۔ حضرت زید بن ثابت ؓ سے مروی ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا:”شام کے لیے خوشخبری ہو“۔ ہم نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! کس وجہ سے خوشخبری؟ تو آپ ؐنے فرمایا: ”رحمٰن کے فرشتوں نے اپنے پر شام پر پھیلائے ہوئے ہیں۔“(سنن الترمذی)
یہ تمام احادیث اِس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ آخری زمانے میں اصل جہاد اور عالمی نظامِ خلافت کے قیام کا آغاز بلادِ شام سے ہی ہوگا کیونکہ رحمٰن کے فرشتوں نے جس سرزمین پر اپنے پر پھیلائے ہوئے ہیں، وہیں پر اہل ِایمان کو اللہ کی مدد اور نصرت حاصل ہوگی اور وہیں سے خلافت کا احیاء ہوگا ۔ اللہ کی رحمت کے یہ سائے ہم حماس کی جدوجہد کے ضمن میں دیکھ رہے ہیں کہ پوری دنیا کے سلیم الفطرت لوگوں کی ہمدردیاں فلسطینی مجاہدین اور عوام کے ساتھ ہیں ۔ یہاں تک کہ غیر مسلم بھی اُن کے حق میں مظاہرے کر رہے ہیں۔ اُن کی حمایت میں امریکہ اور یورپ کی یونیورسٹیوں کے طلبہ نے تشدداور سزائیں تک برداشت کیں۔ اسی طرح (آج کے)شام میں بشارالاسد نےکیمیائی ہتھیاروں اور مختلف طریقوں سے مسلمانوں کی نسل کشی شروع کی تو اکثریت میں دنیا کے لوگوں کے دل شام کے مسلمانوں کی طرف پھرگئے ۔ وہ دنیا جو جہاد کو دہشت گردی سمجھتی تھی، اب شام اور فلسطین کے مجاہدین کی حمایت کرتی ہے ۔ ظاہر ہے کہ اللہ کی رحمت جس طرف ہوگی ، لوگوں کے دلوں کو بھی اللہ تعالیٰ اُسی طرف پھیر دیتاہے ۔ اگرچہ شام کے مجاہدین کی قیادت اِس وقت شکوک و شبہات کا شکار ہے ، اسی طرح فلسطین کی بعض تناظیم کے حوالے سے بھی لوگوں کے تحفظات ہوں گے لیکن بلادِ شام کے مجاہدین بحیثیت مجموعی غلط نہیں ہو سکتے ۔اسی صورت حال کو بعض احادیث مزید واضح کرتی ہیں۔ حضرت سلمہ بن نفیل کندی ؒ سے روایت ہے:
اُنہوں نے کہا کہ میں اللہ کے رسول ﷺ کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک شخص نے کہا:اے اللہ کے رسولﷺ!لوگوں نے گھوڑوں کو حقیر سمجھ لیا ہے اور ہتھیار رکھ دئیے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ اب کوئی جہاد نہیں ہے‘جنگ ختم ہو چکی ہے۔ اللہ کے رسولﷺ اس شخص کی طرف متوجہ ہوئے اورکہا: یہ لوگ جھوٹ بول رہے ہیں۔ جنگ تواب شروع ہوئی ہے۔ اور میری اُمت میں سے ایک جماعت ہمیشہ حق پر لڑتی رہے گی اوراللہ تعالیٰ کچھ اقوام کے دلوں کو ان کی خاطر کجی میں مبتلا رکھے گا اور اُنہیں اِن قوموں کے ذریعے رزق دے گا یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے اور اللہ کا وعدہ آ جائے۔ گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت کے دن تک کے لیے خیر باندھ دی گئی ہے۔ میری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ مجھے اٹھا لیا جائے گا اور تم مختلف فرقوں کی صورت میں بٹ جائو گے؟ اور ایک دوسرے کی گردنیں مارو گے۔ اِن حالات میں شام اہل ِ ایمان کا گھرہو گا۔“(سنن النسائی )
بلادِشام کے انہی مجاہدین میں سے ایک گروہ ہوگا جو ہمیشہ دین ِابراہیم ؑ یعنی اسلام پر قائم رہے گا اور غالب گمان ہے کہ حضرت مہدی کی امارت میں اس کے دفاع میں جہاد کرتا رہے گا ۔ یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ ؑ کا نزول ہوگا اور ان کی قیادت میں یہ گروہ دجال کے خلاف لڑے گا اور دجال کو حضرت عیسیٰ ؑ قتل کریں گے اور یوں اسرائیل کے ساتھ صہیونیت کا صفایاہو جائے گا۔ ہمارے خیال سے اِس عظیم جنگ کی ابتداہو چکی ہے ۔ بلادِشام ( فلسطین ، شام ، لبنان )میں لڑنے والے مجاہدین میں سے ہی کوئی گروہ ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے منصوبے کی تکمیل کے لیے لڑرہا ہوگا اور مشرق (خراسان) یعنی پاکستان، افغانستان، ایران اور چند وسطی ایشیا ئی ممالک سے لشکر اُن کی نصرت کریں گے۔ اس کے مقابلے میں کفار کا بھی ایک منصوبہ ہے جس کے لیے وہ اس گروہ کے خلاف سخت کارروائیاں کریں گےبلکہ صحیح تر الفاظ میں کر رہے ہیں۔ مگر اللہ کا منصوبہ ہے کہ یہ جہاد اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک حضرت عیسیٰ ؑ کے ہاتھوں دجال کو شکست نہ ہوجائے اور پوری دنیا پر دین ابراہیم ؑ یعنی اسلام کا غلبہ نہ ہو جائے ۔
آئندہ قسط میں کفار کے منصوبے اور اُن کے دعوئوں کی اصل حقیقت کے بارے میں جاننے کی کوشش کریں گے۔ ان شاء اللہ!