(گوشۂ تربیت) سادگی: ایک کھوئی ہوئی سنت کی بازیافت - مرکزی شعبہ تعلیم و تربیت تنظیم اسلامی

11 /

 

سادگی: ایک کھوئی ہوئی سنت کی بازیافت

مرکزی شعبہ تعلیم و تربیت تنظیم اسلامی

 
انسانی تاریخ گواہ ہے کہ عظمت ہمیشہ سادگی کے بطن سے جنم لیتی ہے۔ جب انسان تکلف، نمود و نمائش اور ظاہری چمک دمک میں اُلجھ جاتا ہے تو اُس کا باطن کھوکھلا ہوجاتا ہے ،اور جب وہ سادگی اختیار کرتا ہے تو اُس کے اندر ٹھہراؤ، سکون اور وقار پیدا ہو جاتا ہے۔اسلام ایک ایسا مکمل ضابطۂ حیات ہے جس نے انسان کو زندگی کے ہر پہلو میں اعتدال اور سادگی کی تعلیم دی ہے۔ سادگی غربت یا کم وسائل کا نام نہیں بلکہ یہ ایک شعوری انتخاب، ایک فکری بلندی اور ایک روحانی مقام ہے۔
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ((اَلْبَذَاذَةُ مِنَ الْإِيمَانِ))’’سادگی ایمان کا حصہ ہے۔‘‘ ( صحیح مسلم عن ابی ہریرۃ ؓ)
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ایک مومن کی زندگی تصنع، بناوٹ اور تکلفات سے پاک ہوتی ہے۔ یہ حدیث اس بات کا اعلان ہے کہ سادگی محض ایک اخلاقی خوبی نہیں بلکہ ایک ایمانی کیفیت ہے۔ جو شخص سادگی اختیار کرتا ہے وہ دراصل اللہ پر اعتماد کا اظہار کرتا ہے۔ ایک مومن خواہشات کی اندھی تقلید کی بجائے اپنی ضروریات کو مختصر اور محدود رکھتا ہے۔ جب کسی انسان کی نفاست اور وقارمادی سہاروں کی محتاج نہیں رہتی تو سادگی جنم لیتی ہے۔ سادگی کا تعلق انسان کے مزاج سے بھی ہے اور اس کے طرزِ زندگی سے بھی۔
سادگی کا مطلب یہ نہیں کہ انسان نعمتوں سے منہ موڑ لے بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ نعمتیں انسان کے ہاتھ میں ہوں، دل میں نہیں۔ آج کا انسان چیزوں کا مالک نہیں رہا بلکہ چیزیں اُس کی مالک بن چکی ہیں۔ لباس ، رہائش ، کھانا ، یا شادی بیاہ حتیٰ کہ عبادات بھی نمود و نمائش کی زد میں آ چکی ہے۔ اسلام اس طرزِ فکر کو رد کرتا ہےاور انسان کو فطرت کی طرف لوٹنے کی دعوت دیتا ہے۔
ہم سادگی کیوں نہیں اپناتے؟ اس کی وجہ در اصل یہ ہے کہ ہمارا پورا معاشرہ نمود ونمائش، تصنّع اور تکّلف کا عادی ہوچکا ہے۔ہم اپنےظاہری  Status کو بلند سے بلند تر کرنا چاہتے ہیں اور لوگوں کو دکھانا بھی چاہتے ہیں کہ دیکھو یہ ہے ہمارا لائف سٹائل، یہ ہے ہمارا Status ! دراصل لائف سٹائل کے دکھاوے کے لیے دولت کا اسراف ایک لازمی عنصر ہے۔ در اصل اسراف ، نمود و نمائش ،تصنّع اور تکلف سادگی کے راستہ کی دیواریں ہیں۔ فی زمانہ اسراف کھانے پینے اور سونے سے لے کر خود اپنے اوپر خرچ کرنے تک ، ہر معاملہ میں ہورہا ہے۔ اسراف کی ایک شکل یہ بھی ہےکہ انسان کی زندگی میں آرام و آسائش اور سہولتیں جائز حدود سے تجاوز کر جائیں۔
• نمود و نمائش سے مراد اپنی مالی حیثیت اور شان و شوکت کا غیر ضروری دکھاوا ہےاور نمائش ہے ۔ علاوہ ازیں کچھ لوگوں کی مالی حیثیت کمزور ہوتی ہے مگر وہ لباس اور شادی بیاہ کے مواقع پر معاشرہ کے جبر کی وجہ سے اپنی حیثیت سے بڑھ کر نمود و نمائش سے کام لیتے ہیں۔
تصنع کسی بھی غیر ضروری ،غیر فطری طریقہ کار  یا بناوٹی انداز اختیار کرنے کا نام ہے اور بے جا پیسہ اُڑانے کو تبذیر کہا جاتا ہے۔
• تکلف ایک خوبصورت معصوم جذبے کے حوالے سےایسا بلا جواز اہتمام اور معاملہ کا نام ہے جو غیر معمولی مشکل کا باعث بنے۔
مثال کے طور پر اگر کبھی اچانک عین کھانے کے وقت کوئی مہمان ہمارے گھر آ جائے تو بجائے اس کے کہ ہم فوری طور پر اس کے لیے اچھا کھانا بنانے لگ جائیں یا بازار سے کھانا منگوا ئیں ، جو کھانا گھر میں پکا ہوا ہے ،وہی اُس وقت مہمان کے ساتھ بیٹھ کر کھا لیا جائے۔ شادی بیاہ کے مواقع پر گھر پر چراغاں نہ کیا جائے ۔ بہت ساری ڈشوں کی بجائے ایک ہی ڈش پر اکتفا کر لیا جائے اور اس معاملے میں لوگوں کی باتیں بنانے کی پرواہ نہ کی جائے۔ گھر میں بھی روز مرہ کھانے کے موقع پر ایک ہی سالن پر گزارا کر لیا جائے۔عید میلاد النبی، 15 شعبان اور رمضان المبارک میں ختم ِقرآن کے مواقع پر خواہ مخواہ چراغاں کر کے بجلی ضائع کی جاتی ہے۔ 
اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے سورۂ بنی اسرائیل آیت نمبر 26 اور 27 میں رشتہ داروں، مسکینوں اور مسافروں کا حق ادا کرنے اور فضول خرچی سے بچنے کا حکم ایک ساتھ دیا ہے:
{وَاٰتِ ذَاالْقُرْبٰی حَقَّہٗ وَالْمِسْکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًاZ اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ کَانُوْٓا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ ط}’’اور قرابت دار کو اس کا حق دو، اور مسکین اور مسافر کو بھی، اور فضول خرچی نہ کرو۔   بے شک فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں۔‘‘
حضرت ابو برزہ اسلمی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
قیامت کے دن کسی بندے کے قدم اُس وقت تک اپنی جگہ سے نہیں ہل سکیں گے جب تک اس سے پانچ چیزوں کے بارے میں سوال نہ کر لیا جائے:
ٍ1۔ اس کی عمر کے بارے میں کہ اسے کن کاموں میں خرچ کیا؟
2۔ اس کے علم کے بارے میں کہ اس پر کتنا عمل کیا؟
3۔ اس کے مال کے بارے میں کہ کہاں سے کمایا؟
4۔ اور کہاں خرچ کیا؟
5۔ اور اس کے جسم کے بارے میں کہ اُسے کس کام میں کھپایا۔ (جامع الترمذی ومسند احمد )
قرآن و حدیث سے واضح طور پر معلوم ہو جاتا ہے کہ حلال اور حرام کیا ہے اور ان کی حدود کیا ہیں تاہم اسراف سے بچنے کا معاملہ خود انسان کے اپنے شعور پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ وہ سیرتِ رسول ﷺ سے اصول اخذ کرتا رہے اور اپنے معاملات کا خود ہی جائزہ لیتے ہوئے خود کو حدود کے اندر رکھنے کے لیے ان اصولوں کا انطباق کرتا رہے۔جب ہم اپنا مال درست جگہ اور درست مقصد میں خرچ نہیں کریں گے تو معاشرے میں مستحق لوگوں کی حق تلفی ہو گی۔
آج انسان بے شمار سہولتوں کے باوجود بے چین اور بے سکون ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے اپنی خواہشات کی پیروی ، دکھاوا، نمود و نمائش اور عیش پرستانہ زندگی کو ضرورت میں شمار کرلیا ہے۔ ظاہر ہے پھر ان نام نہاد ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے انسان کو پیسے کے پیچھے بھاگنا پڑتاہے، اس طرح وہ صبح سے شام تک بھاگ دوڑ کر کے جو کچھ کماتا ہے وہ ان گلچھروں میں اُڑا دیتا ہے۔ ہمیں ضرورت اور خواہش کے درمیان فرق کو سمجھنا ہو گا۔ سادگی انسان کو اسی فرق کا شعور دیتی ہے۔ نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے:
((قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَسْلَمَ وَرُزِقَ كَفَافًا وَقَنَّعَهُ اللَّهُ بِمَا آتَاهُ))’’وہ شخص کامیاب ہو گیا جو اسلام لایا، اُسے ضرورت کے مطابق رزق ملا اور اللہ نے اُسے اس پر قناعت عطا فرما دی۔‘‘ (صحیح مسلم)
یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ اصل کامیابی زیادہ حاصل کرنے میں نہیں بلکہ جو ملا ہے، اُس پر مطمئن رہنے میں ہے۔
سادگی صرف فرد کو نہیں بلکہ پورے معاشرے کو متوازن بناتی ہے۔ جب امیر سادگی اختیار کرتا ہے تو غریب احساسِ کمتری میں مبتلا نہیں ہوتااور وہ بھی اپنے رزق پر خوشی سے قناعت کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم دعوتوں میں     بے تحاشا ڈشیں بنانی ختم کردیں۔ مہمان کی تواضع میں سادگی اختیار کریں، شادی بیاہ میں کھانے اور کپڑوں  میں سادگی اختیار کریں ،اور اپنی دعوتوں میں غریب رشتہ داروں اور دوستوں کو ضرور یاد رکھیں ۔اس طرح  غریبوں اور نچلے متوسط طبقہ کے لوگوں میں بھی اعتماد پیدا ہوگا۔ وہ بھی سکھ کا سانس لیں گے اور ہمارے پاس آنے اور ہم سے ملنے میں کوئی تکلف محسوس نہیں کریں گے۔ معاشرے میں بھائی چارہ اور اخوت میں اضافہ ہوگا۔ 
نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے:
((أَعْظَمُ النِّكَاحِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُ مَؤُونَةً))’’سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جس میں خرچ کم ہو۔‘‘(مسند احمد)
جو شخص سادگی اختیار کرتا ہے وہ دوسروں کی نظروں میں گرنے کے بجائے بلند ہوتا ہے، کیونکہ وہ لوگوں کو متاثر کرنے کے بجائے اللہ کو راضی کرنے کی فکر کرتا ہے۔ صحیح مسلم کی روایت ہے:((مَنْ تَوَاضَعَ لِلهِ رَفَعَهُ اللهُ)) ’’جو اللہ کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے، اللہ اُسے بلند فرما دیتا ہے۔‘‘
سادگی دراصل عاجزی کی عملی شکل ہے، اور عاجزی رفعت کا ذریعہ ہے۔سادگی کوئی پرانی یا فرسودہ قدر نہیں بلکہ ہر دور کی ضرورت ہے۔ یہ انسان کو خود اس کے بوجھ سے آزاد کرتی ہے۔ آج ہمیں بڑے بڑے گھروں، قیمتی کپڑوں اور پُرتعیش تقریبات کی نہیں بلکہ بڑے دل، صاف نیت اور سادہ زندگی کی ضرورت ہے۔سادگی ہمیں مقابلہ بازی سے نکال کر مقصدیت کی طرف لاتی ہے، ہمیں دکھاوے سے بچا کر حقیقت سے جوڑتی ہے۔
آج اگر ہم چاہتے  ہیں کہ ہماری زندگی میں سکون ہو، ہمارے رشتوں میں خلوص ہو اور ہمارے معاشرہ میں توازن ہو تو ہمیں سادگی کو دوبارہ اپنانا ہوگا۔ بطور مجبوری نہیں ،  بلکہ بطور شعور ، بطور انتخاب اور بطور سنت رسول ﷺ۔
آئیے اللہ سبحانہ  وتعالیٰ سے دعا کرتے ہیں۔ 
اللّٰهُمَّ قَنِّعْنَا بِمَا رَزَقْتَنَاوَبَارِکۡ لَنَا فَیۡ مَا اَعۡطَیۡتَنَا’’اے اللہ جو رزق تونے ہمیں عطا کیا ہے، اُس پر ہمیں قناعت عطا فرماَاور جو کچھ تونے ہمیں عطا کیا ہے اُس میں برکت عطا فرما۔‘‘