(منبرو محراب) رمضان المبارک کے بعد کرنے کے کام - ابو ابراہیم

11 /

رمضان المبارک کے بعد کرنے کے کام


(قرآن و حدیث کی روشنی میں)

مسجدجامع القرآن ، قرآن اکیڈمی ڈیفنس کراچی میں امیر تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ حفظ اللہ کے27مارچ 2026ء کے خطاب جمعہ کی تلخیص

مرتب: ابو ابراہیم

خطبہ ٔمسنونہ اور تلاوتِ آیاتِ قرآنی کے بعد!
رمضان کے مبارک ماہ سے ہم نے کیا حاصل کیا اور کیارمضان کے طفیل ہماری زندگی میں کوئی حقیقی تبدیلی آئی یا نہیں ؟اس کا جائزہ لینا ہم سب کے لیے ضروری ہے۔ اگر کسی نے واقعتاً رمضان سے کچھ حاصل کیا ہے تو اس کی زندگی میں بہت سی تبدیلیاںاور علامات دیکھنے کو مل سکتی ہیں، ان میں سے 10 اہم علامات کا ذکر ہم یہاں  کریں گے ۔ ان شاء اللہ !
 (1)استقامت
رمضان کے30 دن 30 راتیں اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا فرمائیں ۔ یہ ہمارے لیے ایک ٹریننگ کورس تھا۔ ہم سب ہی جانتے ہیں کہ دنیا میں ٹریننگ کورسز کے بعد ایگزیکیوشن کا وقت آتا ہے۔ ٹریننگ کا دورانیہ ہمیشہ کم ہوتا ہے اورپھر اس کے مطابق طویل دورانیہ تک عمل کرنا ہوتاہے ۔ گویا مہینے بھر ایک تربیت سے ہمیں گزارا گیا۔ اب 11 مہینے مسلسل ہمارا امتحان ہوگا کہ کیا واقعی ہم اس پر عمل کر رہے ہیں جو ہم نے اس تربیت میں سیکھا ؟حدیث میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ : اللہ کو وہ عمل پسند ہے جو مستقل بنیادوں پر کیا جائےچاہے قلیل ہی کیوں نہ ہو ۔ رمضان میں تو ہم نے سینکڑوں نوافل پر مشتمل تراویح بھی پڑھ لی ، رمضان کے بعد فرض نماز بھی ادا کر رہے ہیں یا نہیں ؟روزے کی حالت میں ہم نے اللہ کے حکم پر حلال چیزوں سے بھی پرہیز کیا ، کیا رمضان کے بعد ہم اللہ کے حکم پر حرام چیزوں کو بھی چھوڑ رہے ہیں یا نہیں ؟ اس طرح کئی لحاظ سے ہم اپنا جائزہ لے سکتے ہیں کہ کیا دین پر عمل پیرا ہونے میں استقامت رمضان کے بعد بھی ہے یا نہیں ؟
(2)قبولیت کی نشانی
دنیا میں عبادت یا نیک اعمال کی قبولیت کی علامت یہ ہوتی ہے کہ اس کے بعد بھی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق مل جائے ۔ رمضان میں ہماری عبادت کی قبولیت کی علامت یہ ہوگی کہ رمضان کے بعد بھی ہم نیکی اور خیر میں  آگے بڑھنے والے بن جائیں، گناہوں سے بچنے    والے بن جائیں۔ اگر ایسا ہے تو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ شعبان کے مقابلے میں شوال میںہمارے کردار میں ، اخلاق میں ، معاملات اور عبادات میں بہتری ہو تو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر غور کرنا چاہیے اور اپنی نیتوں کا بھی جائزہ لینا چاہیےکہ کیا واقعی رمضان میںہماری محنتیں اللہ کی خاطر تھیں یا بس دکھاوے کے لیے تھیں کہ لوگوں نے روزہ رکھا تو ہم نے بھی رکھ لیا ، لوگوں نے تراویح ادا کی تو ہم نے بھی کرلی ، سینکڑوں لوگ اعتکاف کر رہے تھےتو ہم نے بھی کرلیا ۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : 
((إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ))’’ اعمال ( نیکیوں) کی قبولیت کا دارومدار تو نیتوں پر ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص سے نیت بھی عطا کرے اور اپنا جائزہ لیں کہ ہم رمضان کے بعد نیکی اور خیر میں آگے بڑھ رہے ہیں یا نہیں ؟
(3) شوال کے چھ روزے
رمضان کے 30 روزے فرض تھے اور اب شوال میں 6 روزے نفل ہیں ۔ روزے کا اجرو ثواب اللہ کے رسول ﷺ نے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ((اَلصَّوْمُ لِیْ وَاَنَا اَجْزِیْ بِہٖ))’’بے شک روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ ہوں ۔‘‘ یعنی روزے کی بدولت روحانی ترقی ہوتی ہے اور بندے کو اللہ کا قرب حاصل ہو جاتاہے ۔ اگر رمضان کے روزے رکھ کر بندہ محسوس کرتاہے کہ اسے اللہ کا قرب حاصل ہواہے تو وہ کوشش کرے گا کہ مزید اثرات حاصل ہوں اور اس کے لیے ہمارے دین میں شوال کے 6 نفل روزے رکھے گئے ہیں ۔ پورے شوال کے مہینے میں وقفے وقفے سے یہ 6 روزے رکھے جا سکتے ہیں ۔ البتہ اگر رمضان میں کچھ روزے کسی وجہ سے چھوٹ گئے ہیں تو پہلے وہ رکھنا ضروری ہیں ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ جس نے شوال کے 6 روزے رکھے، اُس نے گویا پورے سال کے روزے رکھ لیے ۔ ایک تو پورے سال کے روزوں کا ثواب ملے گا ، پھر یہ کہ اللہ کا قرب بھی حاصل رہے گا اور یہ کیفیت بڑھتی چلی جائے گی ۔ پھر اللہ مزید توفیق دے تو  ذو الحجہ کے ابتدائی 10 دن بہت خاص ہیں ۔ یہاں تک کہ رمضان کے آخری عشرہ میں لیلۃ القدر کے علاوہ ذو الحجہ  کے ابتدائی 10 دن زیادہ افضل ہیں ۔ اِن دس دنوں کا عمل اللہ کے ہاں بڑا مقبول ہے۔ 10ذو الحجہ کو عیدالاضحی ہوتی  ہے ، اس دن روزہ نہیں رکھ سکتے لیکن اس سے پہلے 9 دن روزہ رکھنے کا بڑا ثواب ہے ۔ اِس کے بعد محرم کا مہینہ آئے گا تو 9اور 10 محرم کا روزہ ہے ۔اگر 11 کو بھی رکھ لیا جائے   تو اور اچھی بات ہے ۔ اللہ کے رسول ﷺ ہر مہینے      3 روزوں کا اہتمام فرماتے تھے ۔ پیر یا جمعرات کے دن روزہ رکھتے تھے ۔ اگر اِس سنت پر عمل کریں تو سارا سال اللہ سے قرب کی کیفیت حاصل ہو سکتی ہے اور اس کے اثرات سارا سال ہم محسوس کریں گے ۔ ان شاء اللہ ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایاکہ فرائض کی ادائیگی میں اگر کمی کوتاہی رہ جائے تو نوافل کی ادائیگی سے وہ پوری ہو جاتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطافرمائے ۔ آمین ! 
(4)حقوق العباد
رمضان المبارک میں ہم نے حدیث میںپڑھا کہ : (( وھو شھر الصبر)) ’’رمضان صبر کا مہینہ ہے۔ ‘‘
رمضان میں ہم نے یقیناً یہ حدیث بھی سنی ہوگی کہ حضور ﷺ نے فرمایا :رمضان میں اگر کوئی جھگڑا کرے تو کہہ دو کہ’’ میں روزے سے ہوں ۔‘‘ یہ بھی ایک تربیت ہے ۔  رمضان کے بعد ہم نے دیکھنا ہے کہ کیا یہ تربیت ہمارے کام آرہی ہے یا نہیں ۔ کیا ہم اپنے جذبات ، اپنے غصے ، اپنے نفس پر کنٹرول رکھ پارہے ہیں یا نہیں ؟دوسروں کے ساتھ ہمارے رویے میں کوئی تبدیلی آئی ہے یا نہیں ؟ اسی طرح ہم نےحدیث میں یہ بھی پڑھا کہ : (( شہر المواسات)) ’’رمضان غم خواری کا مہینہ ہے۔‘‘ ہمدردی کا مہینہ ہے۔
روزے کی حالت میں جب ہم خود بھوکے اور پیاسے رہتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ وہ غریب ، مسکین اور نادار لوگ جو دو وقت کے کھانے کو ترستے ہیں ، اُن پر کیا بیت رہی ہوگی۔ پھر ایسے لوگوں کی مدد کا جذبہ انسان میں بیدار ہوتا ہے ۔ کس قدر خوبصورت دین ہے ہمارا اور کیا قیمتی عبادات ہیں۔ روزے کی بدولت ایک طرف اللہ کے ساتھ ہمارا تعلق مضبوط ہوتا ہے اور دوسری طرف معاشرے کے مظلوم اور بے کس طبقہ کی مدد کا جذبہ بھی پروان چڑھتا ہے۔ رمضان ان سب حوالوں سے ہماری تربیت کرتا ہے۔ رمضان کے بعد یہ تربیت ہمارے کام آرہی ہے یا نہیں ؟ اِس کاجائزہ ہم نے خود لینا ہے ۔ رمضان کے بعد بھی اپنے غصے اور نفس پر کنٹرول ہے اور غریب اور نادار لوگوں کی مدد کا جذبہ برقرار ہے تو اِس کا مطلب ہے کہ رمضان کی بدولت ہماری زندگی میں تبدیلی آئی ہے ۔
(5)توبہ میں استقامت 
رمضان میں ہم نے توبہ کا اہتمام کیا،اپنے گناہوں کی معافی بھی مانگی ، آنسو بھی بہائے ، اللہ کا سچا بندہ بننے کی توفیق مانگی ۔ رمضان تو چلا گیا لیکن توبہ کا دروازہ بند نہیں ہوا ۔ انسان خطا کا پتلا ہے ۔ غلطی کسی وقت بھی ہو سکتی ہے ، رمضان کے بعد بھی ہمیں اسی طرح توبہ و استغفار کرتے رہنا چاہیے ۔ایک حدیث میں ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ  تب تک بندے کی توبہ کو قبول فرماتاہے جب تک موت کا غرغرہ نہ آجائے ۔ توبہ اور استغفارکی طرف بلانا تمام پیغمبروں کی دعوت کا بنیادی نکتہ ہے۔ سورہ ہودمیں فرمایا :
{اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَیْہِ}(ہود:52) ’’اپنے پروردگارسے استغفار کرو‘پھر اسی کی طرف رجوع کرو۔‘‘
استغفار کا مطلب ہے ماضی کے گناہوں کی بخشش مانگنا اور توبہ کا مطلب ہے پلٹ آنا ۔ یعنی آئندہ کے لیے گناہوں سے پرہیز کا عہد کرلینا۔توبہ و استغفار صرف رمضان کی 27ویں شب کوہی مطلوب نہیں ہے بلکہ یہ  مستقل عمل ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ ہر فرض نماز کے بعد یہ دعا مانگا کرتے تھے : ((اَللہُ اَکْبَرُ، اَسْتَغْفِرُاللہ اَسْتَغْفِرُاللہَ اَسْتَغْفِرُاللہَ ))
اگر اللہ کے رسول ﷺ اپنی نمازوں کے بعد بھی استغفار کر رہے ہیںحالانکہ وہ بخشے بخشائے ہیں تو ہمیں اپنے گناہوں پر کس قدر استغفار کرنے کی ضرورت ہوگی ۔ رمضان میں ہم نے توبہ و استغفار کا خاصا اہتمام کیا لیکن رمضان کے بعد ہمارے طرزِعمل سے پتا چلے گا کہ ہم نے سچے دل سے توبہ و استغفار کااہتمام کیا تھا یا نہیں ؟
(6)اللہ رب ہے!
رمضان کا رب باقی مہینوں کا بھی رب ہے۔ اللہ رب العالمین ہے۔ وہ صرف رمضان کا ہی رب نہیں کہ اس کے بعد ہم اُس کو بھول جائیں ۔ وہ مستقل بنیادوں پر ہم سے عبادت کا تقاضا کرتاہے ۔ لہٰذا ہم مسلمانوں کو    پارٹ ٹائم مسلمان نہیں ہونا بلکہ ہمیں فُل ٹائم صاحبِ  ایمان ہونا چاہیے ۔ اللہ فرماتا ہے:
{ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃًص}(البقرہ:208) ’’اسلام میں داخل ہو جائو پورے  کے پورے۔‘‘ 
اور فرماتا ہے:
’’تو کیا تم کتاب کے ایک حصے کو مانتے ہو اور ایک کو نہیں مانتے؟‘تو نہیں ہے کوئی سزا اُس کی جو یہ حرکت کرے تم میںسے‘سوائے ذلت ّو رسوائی کے دنیا کی زندگی میں۔ اور قیامت کے روز وہ لوٹا دئیے جائیں گے شدید ترین عذاب کی طرف۔‘‘ (البقرہ :85)
پارٹ ٹائم مسلمانی اللہ کے ہاں قبول نہیں ہے کہ دل کیا تو نماز پڑھ لی ،اللہ کے بعض احکامات کو مان لیا ، بعض کو چھوڑ دیا ۔ جو کوئی ایسا طرزعمل اختیار کرے تو اس کےلیے دنیا اور آخرت دونوں میں شدید رسوائی اور عذاب ہے ۔ رمضان میں ہم جس طرح پوری نمازیں پڑھ رہے تھے ، برائیوں سے بچ رہے تھے ، سچا مسلمان بننے کی کوشش کررہے تھے رمضان کے بعد پوری زندگی کے روزے میں بھی ہم نے اسی طرح سچا مسلمان بننے کی کوشش کرنی ہے ۔ 
(7)تلاوت قرآن کا تسلسل
  قرآن ہماری روح کی غذا ہے ۔یوں تو قرآن کی تلاوت فرض نماز میں بھی ہوتی ہے ، فرض نمازوں کے علاوہ بھی مطلو ب ہے لیکن رمضان میں اللہ تعالیٰ نے خاص کرم فرمایاہے کہ دن کے روزے کی وجہ سےنفس کمزور ہوتا ہےا ور روح بیدار ہوتی ہے ، دل میں تقویٰ پیدا ہوتا ہے اور رات کے قیام میں جب قرآن پڑھا ، سنا جاتاہے تو اس سے ہدایت کے حصول کا عمل زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَۃٌ م بِالسُّوْٓ ئِ}(یوسف:53) ’’یقیناً (انسان کا) نفس تو برائی ہی کا حکم دیتا ہے۔‘‘
جو کہا جاتاہے کہ موسیقی روح کی غذا ہے ۔ وہ اصل میں نفس کی غذا تو ہو سکتی ہے کیونکہ نفس برائی پر آمادہ کرتاہے لیکن روح بہت پاکیزہ چیز ہے اور اس کی غذا بھی بہت پاکیزہ ہے یعنی اللہ کا کلام ۔ نفس کی غذا کے لیے ہم ہروقت کھاتے پیتے ہیں ، کراچی ، لاہور اور اسلام آباد سمیت بڑے شہروں میں رات بھر مارکیٹیں کھلی رہتی ہیں ۔ اگر نفس کی غذا کی ہمیں اتنی فکر ہے تو روح کی غذا کی بھی فکر ہونی چاہیے ۔ پانچ نمازوں کے علاوہ بھی قرآن کی تلاوت ہونی چاہیے اور اسے سمجھنے اور اس کے احکامات پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین !
(8) گناہوں سے بچنا
رمضان میں روزے کی وجہ سے کچھ ایسی کیفیت بن جاتی ہے کہ انسان برائیوں سے بچتا ہے ،کچھ تو فلمیں اور ڈرامے چھوڑ دیتے ہیں ، نگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، یہ ماحول رمضان کے بعد بھی قائم رہنا چاہیے۔ رمضان تقویٰ کی حصول کے لیے ایک تربیتی دور   تھا اب اس تربیت کا اثر باقی گیارہ ماہ بھی رہنا چاہیے ۔ سورۃ الاعراف میںفرمایا:
{وَلِبَاسُ التَّقْوٰی لا ذٰلِکَ خَیْرٌط} (الاعراف:26) ’’اور (اس سے بڑھ کر) تقویٰ کا لباس جو ہے وہ سب سے بہترہے۔‘‘
ایک ظاہر کا لباس ہے اور ایک باطن کا لباس ہے ۔ جس طرح ظاہری گندگی لباس کو آلودہ کر دیتی ہے ، اسی طرح گناہ روح کو آلودہ کر دیتا ہے ۔ جس طرح ظاہری لباس کو دھونے سے گندگی دور ہو جاتی ہے ، اسی طرح  تقویٰ اختیار کرنے سے روح پر لگے داغ دھبے مٹ جاتے ہیں ۔سورۃ النحل میں ذکر ہے :
 ’’اس عورت کی طرح نہ ہو جاؤ جس نےاپنا لباس تیار کیا اور پھر خود ہی اُس کو پھاڑ دیا ۔‘‘ (آیت :92)
رمضان کے پورے ماہ مشقت کرکے ہم نے تقویٰ کا لباس تیار کیا تاکہ باقی گیارہ ماہ اُس کو پہنیں ۔ اس کے بعد اگر ہم گناہوں میں ملوث ہوکر اس لباس کو خود پھاڑ ڈالیں تو ہم سے بڑا بے وقوف کون ہوگا ؟
(9)دعا کی کیفیت 
رمضان میں ایک بہت پیاری کیفیت بندے میں پیدا ہوتی ہے اور وہ ہے دعا مانگنے کی کیفیت ۔ رمضان میں بڑے خشوع و خضوع اور عاجزی کے ساتھ دعائیں مانگی جاتی ہیں ، یہ کیفیت رمضان کے بعد بھی جاری رہنی چاہیے ۔ ہم رمضان کے بعد بھی اللہ کے فضل و کرم اور رحمت کے محتاج ہیں اور اللہ رمضان کے بعد بھی سنتا ہے ۔ رمضان میں اگر رات کو تراویح پڑھ رہے تھے تو رمضان کے بعد بھی رات کو اُٹھ کر تہجد پڑھ لینی چاہیے ۔ حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر شب کے آخری پہر آسمان دنیا پر(اپنی شان کے مطابق) نزول فرماتا ہے اورندا لگاتاہے کہ کوئی ہے مانگنے والا جس کو میں عطا کروں ، کوئی ہے بخشش چاہنے والا جس کو میں بخش دوں ؟لہٰذا اپنے رب سے دعاؤں کا سلسلہ رمضان کے بعد بھی جاری رہنا چاہیے ۔ 
(10) رمضان کا حاصل
رمضان میں ہماری جو تربیت ہوئی ، اب دیکھنا یہ ہے کہ اس کا حاصل پوری زندگی میں نظر آ رہا ہےیا  نہیں ۔ رمضان میں ہم نے اللہ کے حکم پر حلال چیزوں کو چھوڑ دیا تو رمضان کے بعد حرام چیزوں سےاپنے آپ کو بچا رہے ہیں یا نہیں ؟ہم سب کو اپنا جائزہ لینا چاہیے اور اس جائزے کے لیے درج بالا 10 نکات ہم نے پیش کیے۔ رمضان کی بدولت ہماری زندگی میں واقعی کوئی مثبت تبدیلی آئی ہے تو اس کو برقرار رکھنے کے لیے مزید 3 گزارشات ہم پیش کریں گے ۔ 
 (1) کسی ایک نیک عمل پر تسلسل اختیار کرنے کی یا برقرار رکھنے کی کوشش کریں۔مثلاً پہلے اگر نمازمیں کوتاہی تھی تو اب پنج وقتہ نماز کو پابندی کے ساتھ اداکرنے والے بن جائیں ۔ رمضان میں اگر سینکڑوں رکعات تراویح میں ادا کیں تو اب فرائض ادا کرنے میں کوئی مشکل نہیں ہونی چاہیے ۔ رمضان میں پورا مہینہ سحری کے لیے ہم جاگے ، طاق راتوں میں پوری رات جاگ کر عبادت کی ، دعائیں  مانگیں ، رمضان کے بعد فجر کی نماز اداکرنے میں کیا مشکل ہے ؟روزے کی حالت میں ہم نے سگریٹ پان گٹکا چھوڑ دیا ، رمضان کے بعد اسی تسلسل کو برقرار رکھیں تو کوئی مشکل نہیں ہوگی ۔ اپنی صحت کی بربادی، اپنے بچوں کی صحت کی بربادی،جان اور مال کی بربادی سمیت کئی منفی اثرات سے بچ جائیں گے ۔ اگر نشے کی لت لگی ہوئی ہے تو اس سے جان چھڑا لیں ۔ یہ بھی نیکی ہے ۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ جو شخص اپنے آپ کو حرام چیزوں سے بچاتا ہے اُس کا مقام اللہ کے ہاں اُس شخص جیسا ہے جو روزانہ رات کو نوافل ادا کرتاہے اور دن میں روزے رکھتا ہے ۔ بہرحال رمضان کا حاصل یہ ہےکہ حرام چیزوں سے بچنے کا عہد کرلیں اور کم ازکم کسی ایک نیکی پر تسلسل اختیار کرنے سے آغاز کریں تو ان شاءاللہ یہ ہماری رمضان کی قبولیت کی ایک علامت بن جائے گی۔ 
(2) اُمّت کے زوال کی سب سے بڑی وجہ قرآن سے دور ی ہے ۔ محترم ڈاکٹر اسراراحمدؒ نےعوام کو قرآن سے جوڑنے کے لیے جس طرح دورۂ ترجمہ قرآن کا سلسلہ شروع کیا تھا ، اسی طرح انہوںنے رجوع الی القرآن کورسز کا بھی آغاز کیا تھا ۔ تنظیم اسلامی ، انجمن ہائے    خدام القرآن، قرآن اکیڈمیز کے زیر ِاہتمام پورے پاکستان میں رجوع الی القرآن کورسز رمضان کے بعد شروع ہو رہے ہیں ۔ یہ 10 ماہ کا کورس ہوتاہے ۔ 6 اپریل سے کراچی اور حیدرآباد کے کئی مقامات پر یہ کورس شروع ہورہا ہے ۔ صبح 9 بجے سے دوپہر 1 بجے تک ٹائمنگ ہوگی۔ لاہور ، اسلام آباد ، پشاور سمیت باقی شہروں میں بھی اعلان ہو چکا ہے جس کی تفصیلات تنظیم اسلامی کی ویب سائٹ (www.tanzeem.org)سے مل جائے گی ۔  ڈاکٹرز ، انجینئرز ، پروفیشنلز ،طلبہ ، گورنمنٹ سرونٹس سمیت ہر شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ ان کورسز سے استفادہ کر چکے ہیں اور کر رہے ہیں ۔ کوشش کریں کہ ان کورسز میں حصہ لیں ۔ خاص طور پر تنظیم اسلامی کے رفقاء کو لازماً ان کورسز میں حصہ لینا چاہیےکیونکہ قرآن کو سیکھنے کے بعد ہی قرآن کی بہتر تعلیم دوسروں کو دی جاسکتی ہے ۔ اللہ ہم سب کو توفیق دے ۔ 
3) ڈاکٹر اسرار احمدؒ سے لوگ بہت محبت کرتے ہیں ، ان کے کلپس سوشل میڈیا پروائرل ہورہے ہیں ، ہر کوئی ان کو سنتا ہے ۔ اس محبت کا تقاضا ہے کہ آپ ڈاکٹر صاحبؒ کی تنظیم میں شامل ہوکر دین کی عملی خدمت کریں ۔ رمضان میں نیکی کا ماحول ہوتاہے ، رمضان کے بعد یہ ماحول خود پیدا کریں ۔سورۃ توبہ میں اللہ فرماتاہے :
{اتَّقُوا اللہَ وَکُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَO} 
’’ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور سچے لوگوں کی معیت اختیار کرو۔‘‘
  جب آپ اجتماعیت اختیار کریں گے تو نیکی کا ماحول آپ کو خود بخود میسر آجائے گا ۔ ایسے ماحول میں دین پر عمل پیرا ہونا اور برائی سے بچنا آسان ہو جاتاہے ۔لہٰذا آگے بڑھیں اور ڈاکٹر صاحب ؒ کے قائم کیے ادارے    تنظیم اسلا می یا انجمن ہائے خدام القرآن میں شمولیت اختیار کریں تاکہ مزید نیکی کی توفیق حاصل ہو جائے ۔ آمین !