اداریہ
رضاء الحق
مشرقِ وسطیٰ: خونِ بے گناہ کا دریا اور بین الاقوامی قانون کا المیہ
مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے۔ فروری کے آخری دنوں میں جب عمان کے وزیرِ خارجہ نے جنیوا میں یہ خوشخبری سنائی کہ ایران نے یورینیم کی افزودگی کو کم ترین سطح تک لانے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے اور امن کی صبح قریب ہے، تو عین اُسی لمحے امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر ایک ہی دن میں 900 سے زائد فضائی حملوں کی بوچھاڑ کر دی، جن میں سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سمیت سینکڑوں افراد شہید ہوگئے۔ یہ محض جنگی حملہ نہیں تھا بلکہ انسانی تہذیب کے چہرے پر ایک زوردار طمانچہ تھا۔ اُس کے بعد سے لے کر یہ سطریں لکھنے تک ایران پر مسلسل حملے جاری ہیں اور جہاں تک انسانی تہذیب کی بات ہے تو یہود کی فقہ کی کتاب تالمود میں غیر یہود کو انسان نما حیوان اور کیڑے مکوڑے قرار دیا گیا ہے۔ اُسی کتاب کی بنیاد پر نیتن یاہو اور اسرائیلی و غیر اسرائیلی صہیونی دنیا میں فساد مچا رہے ہیں۔حال ہی میں اسرائیلی کنیسٹ کا جیلوں میں قیدفلسطینی مسلمانوں کو فوجی عدالتوں کے ذریعے سزائے موت دینے کا بِل منظور کرنا اسلاموفوبیا کی بدترین شکل ہے۔صہیونیوں کی درندگی اور اسلام دشمنی کا یہ عالم ہے کہ یہ بہیمانہ قانون صرف فلسطینی مسلمانوں پرہی لاگو ہو گا جبکہ یہودیوں کو جو آئے دن فلسطینی مسلمانوں کو شہید کرتے ہیں اِس قانون سے استثنا حاصل ہو گا ۔
امن کی میز پر بیٹھی ہوئی قوم پر حملہ کرنا کون سا بین الاقوامی قانون ہے؟ یہ کون سی اخلاقیات ہیں؟ جب اسرائیلی بمباروں نے ایران میں لڑکیوں کے ایک سکول ’’شجرۂ طیبہ‘‘ کو نشانہ بنایا اور170سے زائد معصوم بچیوں کو خاک و خون میں نہلا دیا، تو دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیمیں خاموش تماشائی بن کر رہ گئیں۔ کیا یہ وہی ’’لبرل اقدار‘‘ ہیں جن کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے؟ ہم یہ سوال اُٹھانے میں حق بجانب ہیں کہ خواتین کے نام نہاد ’مغرب زدہ‘ حقوق اور بچیوں کی تعلیم کی علمبردار ملالہ یوسف زئی اِس وقت کہاں ہے؟
ایران نے جو جوابی حملے کیے، اُن کا تناظر سمجھنا ضروری ہے۔ جب تہران نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور قطر پر میزائل برسائے، تو یہ کوئی اچانک فیصلہ نہیں تھا۔ یہ ان خلیجی ممالک کو پیغام تھا جنہوں نے اپنی سرزمین امریکی جنگی اڈوں کے لیے فراہم کر رکھی ہے۔ ایران کا استدلال واضح ہے: جو ممالک اسرائیل اور امریکہ کی جارحیت میں بالواسطہ یا بلاواسطہ شریک ہوں گے، وہ اُس کے نتائج سے بے نیاز نہیں رہ سکتے۔
سی این این کی اطلاعات کے مطابق اِس تصادم میں اب تک ایران کے1937، لبنان کے1801اور اسرائیل کے سینکڑوں(جسے ہزاروں پڑھا جائے!) افراد لقمۂ اجل بن چکے ہیں۔ امریکی فوجیوں کی بھی سینکڑوں ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ خون کی ہولی برابری کی جنگ ہے؟ ہرگز نہیں۔ ایک طرف ایک مظلوم قوم ہے جو اپنے اور کچھ لوگوں کی نادانی کے علی الرغم بعض مسلم ممالک کی بقاء کی جنگ لڑ رہی ہے جبکہ دوسری طرف دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت کی پشت پناہی میں ایک توسیع پسند ناجائز صہیونی ریاست ہے۔
گزشتہ دنوں اسلام آباد میں چار اہم مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس، ایک دلچسپ پہلو ہے۔ پاکستانی تجزیہ کاروں نے صاف لفظوں میں کہا کہ’’پاکستان ثالث کی بجائے پیغام رساں کا کردار ادا کر رہا ہے۔‘‘ یہ اعتراف اپنے اندر کئی سوالات سموئے ہوئے ہے۔ کیا مسلم ممالک واقعی امن چاہتے ہیں یا وہ محض امریکہ اور ایران کے درمیان ڈاکیے کا کام کر رہے ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ مسلم دنیا کی تقسیم اور کمزوری نے اُسے مؤثر کردار سے محروم کر دیا ہے۔ جب ایک طرف ایران تنہا کھڑا ہو اور دوسری طرف خلیجی ممالک مغربی اِتحاد کا حصّہ بنے رہیں، تو ثالثی کیسے کارگر ہو سکتی ہے؟ یہ اجلاس شاید محض مہلت لینے کا بہانہ ہے ... اسرائیل و امریکہ کے لیے اپنے مقاصد پورے کرنے کا وقت۔
لیکن اصل کہانی تو اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی توسیع پسندی میں چھپی ہے۔ اگست 2025ء میں اُس نے کھلے عام اعتراف کیا کہ وہ ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے ویژن سے ’’دل و جان سے منسلک‘‘ ہے اور اِسے اپنا ’تاریخی‘ اور ’روحانی‘ مشن بھی قرار دیا۔ یہ محض الفاظ نہیں، بلکہ زمینی حقائق ہیں۔ اسرائیلی وزیر خزانہ سموٹریچ نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ ’’اسرائیل کی شمالی سرحد لیٹانی دریا ہونی چاہیے۔‘‘
یہ بیانات نظریاتی بھی ہیں، مذہبی بھی اور اِن پر تیزی سے عمل درآمد بھی ہو رہا ہے۔ غزہ کے شہر رفح اور بیت حانون کو مکمل طور پر تباہ کر کے آبادی سے خالی کر دیا گیا ہے، اور اب یہی نمونہ لبنان میں دہرایا جا رہا ہے۔ یہ منظم نسل کُشی ہے، منظم بے دخلی ہے، اور یہ سب اسرائیل کے ’’حقِ دفاع‘‘ کے پُرفریب نام پر ہو رہا ہے۔
جب اسرائیلی فوجی اپنے جنگی لباس کے badge پر ’’نیل سے فرات تک‘‘ کا نقشہ لگاتے ہیں، تو یہ محض علامت نہیں، مقصد کا اعلان ہے۔ نیتن یاہو نے ایران کے ساتھ تصادم کو اپنے توسیعی خوابوں کا ’’سنہری موقع‘‘ بنا لیا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ بعض اسرائیلی ذرائع بھی اعلان کر رہے ہیں کہ ’’نیتن یاہو کی حکومت ٹرمپ کے مقابلے میں جنگ جلد ختم کرنے میں کم دلچسپی رکھتی ہے۔‘‘
امریکہ کے کردار نے مایوس نہیں کیا بلکہ وہ روائتی منافقت پر کاربند ہے۔ ایک طرف صدر ٹرمپ امن کی بات کرتا ہے، دوسری طرف اسرائیل کو لامحدود ہتھیار فراہم کرتا ہے۔دنیا میں اَمن قائم کرنے کے دعوےدار امریکی صدر کے بارے میں اب یہ شبہ تو رہ نہیں گیا کہ وہ ایک جنگی جنونی شخصیت کا حامل ہے۔گزشتہ ایک سال میں جب سے وہ امریکی صدر کے عہدے پر متمکن ہے شاید ہی کوئی دن ایسا گزرا ہو کہ امن قائم کرنے کے نام پر کسی نہ کسی ملک پر حملہ نہ کیا ہو۔ حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران موصوف نے فرمایا کہ اس سے پہلے کہ ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای مجھے قتل کرنے کی کوشش کراتے، میں نے اُنہیں ’قتل‘ کر دیا، میں اُن سے بازی لے گیا۔اِس میں شک نہیں کہ امریکی صدر کو ہر حال میں بازی جیتنے کا جتنا زیادہ شوق ہے ،اس کی مثال ماضی میں کم ہی ملتی ہے۔ ٹرمپ کے باؤلے پن میں اسرائیل اور خود امریکہ میں موجود طاقت ور اور جنگی جنون میں مبتلا صہیونی لابی کے علاوہ ایپسٹین فائلز نے بھی بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ ٹرمپ کا ’’رجیم چینج‘‘ کا بیان اِس بات کی کھلی دلیل ہے کہ مقصد اب بھی ایران کو مذاکرات کی میز پر لانا نہیں، بلکہ اس کی حکومت گرا کر صہیونیوں کا گریٹر اسرائیل کا ابلیسی منصوبہ بھی پایہ تکمیل کو پہنچانا ہے اورخاکم بدہن پاکستان کے ایٹمی دانت بھی توڑنا ہے۔
دنیا میں انسانی حقوق کے علمبرداروں کی دورخی دیکھیے کہ یورپی یونین، اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیمیں سب خاموش تماشائی ہیں۔ جب فلسطینی بچے شہید ہوں تو ’’پیچیدہ صورتحال‘‘ ہوتی ہے، لیکن جب یوکرین میں جنگ ہو تو سب ’’روسی جارحیت‘‘ پر چیخ اُٹھتے ہیں۔ یہ دوہرا معیار عالمی نظام کے اخلاقی دیوالیہ پن کا منہ بولتا ثبوت ہے جس کی حالیہ موت پر اُسے بے جنازہ ہی دفنا دیا گیا ہے۔
لہٰذا ہم سمجھتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ کا یہ بحران کسی بین الاقوامی کانفرنس یا مغربی ثالثی سے حل نہیں ہو سکتا۔ہم ایک عرصہ سے مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے امریکہ اور اسرائیل کے اہداف کو مذہبی قرار دیتے رہے ہیں لیکن جس انداز میں اسرائیل اور امریکہ کی اعلیٰ قیادتیں اب کُھل کر اِسی ’سازشی تھیوری‘ کو بیان کر رہی ہیں، اُس نے ہمیں بھی حیران کر دیا ہے، گویا اب اُنہیں نتائج کی کوئی فکر نہیں۔ اس کا حل صرف مسلم دنیا کے پاس ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ وہ تقسیم کی دیواریں گرا کر اتحاد کی بنیاد رکھے۔
اسلامی نظامِ عدل اجتماعی کا تقاضا ہے کہ اولاً، مسلم ممالک اپنے داخلی اختلافات کو مؤخر کر کے مشترکہ دشمن کے خلاف متحد ہوں۔ سنی-شیعہ تقسیم، عرب-عجم اختلاف سب دشمن کے ہتھکنڈے ہیں۔ ثانیاً، معاشی اور فوجی خودانحصاری ضروری ہے۔ جب تک مسلم ممالک امریکی ہتھیاروں اور مغربی سرمائے کے محتاج رہیں گے، ان کی آزادی نامکمل رہے گی۔ ثالثاً، فلسطین کا مسئلہ صرف فلسطینیوں کا نہیں، پوری امتِ مسلمہ کا ہے۔ قبلۂ اوّل کی آزادی کے بغیر مسلم دنیا کی عزت نامکمل ہے۔ رابعاً، قانونی اور سیاسی دباؤ کے ساتھ ساتھ عوامی شعور بیدار کرنا ضروری ہے۔ بائیکاٹ تحریکیں، سفارتی تنہائی، بین الاقوامی عدالتوں میں کیس اور دوسرے ہر محاذ پر جنگ لڑنی ہوگی۔ خمسۃً، اُمت کو متحد ہو کر طاغوت کو عسکری طور پر بھی چیلنج کرنا ہوگا۔
بہرحال، تاریخ گواہ ہے کہ ظلم کی رات خواہ کتنی ہی تاریک ہو، آخرکار صبح ضرور ہوتی ہے۔ ایران کی مزاحمت، فلسطین کی استقامت، لبنان کی قربانیاں یہ سب اسی صبح کے پیش خیمے ہیں۔ لیکن یہ صبح تب ہی آئے گی جب مسلم دنیا اپنے اختلافات بھلا کر، اپنی طاقت پہچان کر، اور اپنے دشمنوں کے خلاف متحد ہو کر کھڑی ہو جائے۔ تب ہی اللہ تعالیٰ کی نصرت شاملِ حال ہوگی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ مسلم دنیا اپنی ذِمّہ داری پہچانے، اپنے وسائل کو یکجا کرے، اور عالمی طاقتوں کو دکھا دے کہ انصاف کی طاقت، ظلم کے ہتھیاروں سے زیادہ مضبوط ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل مذاکرات کی زبان سمجھنا نہیں چاہتے بلکہ طاقت سے ہر مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں۔ مسلم ممالک کے حکمرانوں اور مقتدر حلقوں کو یہ بات بھی اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ اصل سپر پاور امریکہ نہیں اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ، اِس لیے صرف اُس کی خوشنودی کے لیے ہی تمام تر اقدامات کئے جائیں۔ پاکستان کو اِس خطرناک صورتِ حال میں اپنے اصل دشمن کو پہچان کر اُس کے گھیرے سے خود کو محفوظ رکھنا ہوگا۔ پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کی خواہش ہے کہ پاکستان کے ایٹمی دانت توڑ دئیے جائیں اور یہی اسرائیل کی بھی دل کی مراد ہے۔ اس کے لیے ہمیں عسکری کے ساتھ ساتھ نظریاتی تیاری بھی مکمل رکھنا ہوگی۔
عالمی سطح پر جب تک مسلمان ممالک آپس میں اتحاد اور اتفاق پیدا کرکے ایک اجتماعیت کی صورت اختیار نہیں کرتے، دشمن کا مقابلہ ممکن نہیں۔ سب کو سمجھ جانا چاہیے کہ:
یہ ایک سجدہ جسے تُو گراں سمجھتا ہےہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات!
tanzeemdigitallibrary.com © 2026