(الہدیٰ) مجرموں سے قیامت کے دن کوئی عذر قبول نہیں کیا جائے گا - ادارہ

11 /
الہدیٰ
 
مجرموں سے قیامت کے دن کوئی عذر قبول نہیں کیا جائے گا
 
 
آیت 57 {فَیَوْمَئِذٍ لَّا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَعْذِرَتُہُمْ} ’’تو آج کے دن کچھ فائدہ نہیں پہنچائے گی ظالم لوگوں کو اُن کی معذرت‘‘
جن لوگوں نے دنیا میں گناہ کی زندگی بسر کی اور ساری عمر ظلم و زیادتی کا رویہ اپنائے رکھا‘قیامت کے دن اُن کا معذرت کرنا‘بہانے بنانا اور معافیاں مانگنا کام نہیں آئے گا۔
{وَلَا ہُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ (57)}’’اور نہ ہی اُنہیں توبہ کا موقع دیا جائے گا۔‘‘
دنیا میں ہر شخص کے لیے موت کے آثار ظاہر ہونے تک (مَا لَمْ یُغَرْ غِرْ) توبہ کا دروازہ کھلا رہتا ہے اور جو لوگ اپنی دُنیوی زندگی میں اس موقع سے فائدہ نہ اُٹھائیں ‘قیامت کے دن اُنہیں یہ موقع فراہم نہیں کیا جائے گا۔
آیت 58 {وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ ہٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ کُلِّ مَثَلٍ ط} ’’اورہم نے تو لوگوں کے لیے قرآن میں ہر طرح کی مثالیں بیان کر دی ہیں۔‘‘
{وَلَئِنْ جِئْتَہُمْ بِاٰیَۃٍ لَّیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُبْطِلُوْنَ(58) }’’اور اگر آپ لے آئیں اُن کے پاس کوئی بھی نشانی تو کہیں گے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے کہ نہیں ہو تم لوگ مگر جھوٹ گھڑنے والے۔‘‘
اگر آپؐ ان لوگوں کو کوئی معجزہ دکھا بھی دیں تو یہ اسے بھی جادو قرار دے کر الٹا آپؐ پر جھوٹ کا بہتان لگادیں گے۔ 
آیت 59 {کَذٰلِکَ یَطْبَعُ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ(59)}’’اِسی طرح اللہ مہر لگا دیا کرتا ہے اُن لوگوں کے دلوں پر جو علم نہیں رکھتے۔‘‘
درس حدیث
 
بوڑھے والدین کی خدمت: جنت کا ٹکٹ
 
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ  قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ: (( رَغِمَ اَنْفُہٗ ثُمَّ رَغِمَ اَنْفُہٗ ثُمَّ  رَغِمَ اَنْفُہٗ )) قِیْلَ مَنْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ‘ قَالَ: ((مَنْ اَدْرَکَ وَالِدَیْہِ عِنْدَ الْکِبَرِ اَحَدَ ھُمَا اَوْ کِلَا ھُمَا فَلَمْ یَدْ خُلُ الْجَنَّۃَ)) (رواہ مسلم )
حضرت ابوہریرہ ؓ  بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’اُس کی ناک خاک آلود ہو ، پھر ناک خاک آلود ہو ، ناک خاک آلود ہو۔‘‘ عرض کیا گیا حضور! کون (یعنی کس کی) ؟  فرمایا: ’’جس نے ماں باپ میں سے کسی ایک کو، یا دونوں کو بڑھاپے کی عمر میں پایا۔ پھر بھی (اُن کی خدمت کر کے) جنت میں نہ جا سکا۔‘‘
حضورﷺ نے اُس شخص پر رنج اور افسوس کا اظہار فرمایا ہے جو اپنے بوڑھے والدین کے ساتھ نیک سلوک نہ کرنے کے باعث ذلت اور رُسوائی کا مستحق ٹھہرا اور اس کوتاہی کی وجہ سے بہشت سے محروم ہوا۔گویا والدین کی خدمت درحقیقت جنت کا ٹکٹ ہے۔ البتہ اگر والدین شرک اور گناہ و معصیت کا حکم دیں تو اُس سے احسن طور پر اجنتاب کرنا فرض ہے۔