ایک اور سیز فائر ناگزیر ہے!
ابو موسیٰ
28 فروری کو جو جنگ امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مسلط کی تھی وہ انتالیس (39) دن کی تباہ کاریوں کے بعد 7 اور 8 اپریل کی درمیانی شب کو پندرہ دن کے لیے بند ہوگئی ہے۔ اِس جنگ کو بند کروانے میں پاکستان نے اہم رول ادا کیا۔ پاکستان کی اِن مصالحتی کوششوں کو عالمی میڈیا نے سراہا۔ اب اِس جنگ کے معاملات کو طے کرنے کے لیے فریقین کا پہلا اجلاس 10 اپریل کو اسلام آباد میں ہوگا۔ راقم کی اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ جنگ مستقل طور پر بند ہو جائے اور یہ بندش ایرانی سلطنت کی سلامتی کے حوالے سے اہم سنگِ میل ثابت ہو، اگر مسئلہ کا ایسا حل نکل آیا جو سب فریقین کے لیے قابلِ قبول ہو اور ایک معاہدہ طے پاگیا اور دائمی امن قائم ہوگیا تو یہ معاہدہ اسلام آباد کے نام سے موسوم ہوگا اور قیامِ امن کے حوالے سے تاریخ ِ عالم میں ایک یادگاری حیثیت سے دیکھا جائے گا۔ یہ یقیناً عالمی تاریخی کا ایک روشن باب ہوگا جو ایک ایسی خوفناک اور تباہ کن جنگ روکنے میں کامیاب ہوا جو بصورتِ دیگر کم از کم ایک تہائی دنیا کو تہہ بالا کر دیتا اور لاکھوں انسانوں کی جان اِس جنگ کا رزق بن جاتی۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ یہ عارضی جنگ بندی حقیقی اور مکمل جنگ بندی کی شکل اختیار کرے۔ یہ جنگ بندی چونکہ چند گھنٹے پہلے ہوئی ہے لہٰذا تفصیلات تو ابھی سامنے نہیں آئیں۔ لیکن سرسری اور خصوصی معلومات کے حوالے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایران نے خاصی لچک دکھائی ہے۔ راقم دورانِ جنگ کئی مرتبہ اپنے اِن خیالات کا اظہار کر چکا تھا کہ ایران کا سپرپاور امریکہ اور اسرائیل کے سامنے ڈٹے رہنا اُس کی بہت بڑی فتح ہے اور اب اُسے تھوڑی سی لچک کا مظاہرہ کرکے امن کی طرف لوٹنا چاہیے لیکن یہ تب ہی ممکن تھا جب مخالف فریق بھی جنگ روکنے پر آمادہ ہوتے۔
راقم کی رائے میں جنگ میں یہ نوبت آ جانا کہ ٹرمپ چیخنے چلانے لگے اور غلیظ گالیوں پر اتر آئے اِس سے زیادہ ایران کو کون سی فتح چاہیے تھی۔ ٹرمپ desperate ہوگیا تھا اور ایسی باتیں کرنے لگا تھا کہ اُس کے ہم وطن کہنا شروع ہوگئے کہ ہمارا صدر پاگل ہوگیا ہے۔ ایران نے دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لچک دکھائی وہ برابر اعلان کر رہا تھا کہ وہ عارضی نہیں مستقل جنگ بندی چاہتا ہے اور اِس حوالے سے عالمی سطح پر ایسی گارنٹی دی جائے کہ ایران پر پھر کبھی جنگ مسلط نہیں کی جائے گی پھر یہ کہ اُس وقت تک آبنائے ہرمز کو نہیں کھولے گا جب تک جنگ مکمل طور پر بند نہ ہو اور اُسے جنگ کا ہرجانہ بھی ادا کیا جائے کیونکہ مسلط کردہ جنگ سے اُس کا بہت نقصان ہوا ہے۔ اُس کے باوجود اُس نے عارضی جنگ بندی بھی قبول کر لی اور معاملات طے پانے تک آبنائے ہرمز بھی کھول دی۔ اب ضرورت اِس امر کی ہے کہ مذاکرات میں معاملات کو عدل اور اصولوں کی بنیاد پر طےکیاجائے۔ یہ سمجھنا کہ ایک طرف عالمی سپر پاور ہے اُس کے بھرم کا سوال ہے یا یہ کہ اگر مذاکرات ناکام ہوگئے اور کچھ طے نہ ہو سکا تو بڑی خوفناک جنگ ہوگی اور دنیا کو تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا امریکہ بہت بڑی طاقت اُس کے عزائم کے راستے میں رکاوٹ بننا خطرہ سے خالی نہ ہوگا۔ یہ بات عدل سے ماورا ہوگی اور مسئلہ حل کرنے میں عارضی طور پر کامیابی ہو سکتی ہے۔ فریقین یا دنیا تالیاں تو بجا دے گی کہ معاہدہ ہوگیا اور سب اچھا ہے لیکن عدل سے ہٹ کر ہونے والا ہر فیصلہ اور ہر معاہدہ کچے دھاگے سے بھی کمزور ہوتا ہے یا ٹوٹ جاتا ہے یا ظلم کے مزید بڑھنے کا سبب بنتا ہے۔
امریکہ اسرائیل اور ایران کے درمیان اِس جنگ کے اثرات یوں تو کسی نہ کسی انداز میں دنیا کے ہر ملک پر کم یا زیادہ مرتب ہوئے ہیں لیکن اس جنگ کی آڑ میں حکومت پاکستان نے اپنے عوام کے ساتھ جو سلوک کیا اِس پر راقم بلا خوف تردید کہہ سکتا ہے کہ آج پاکستان کے عوام مالی اور معاشی حوالے سے دنیا کی مظلوم ترین قوم ہے۔ یوں تو جان اور جسم کے رشتے کو قائم رکھنے کے لیے وہ ایک عرصہ سے ہی تگ و دو میں نظر آتی ہے لیکن حالیہ ایران اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جنگ کے نتائج معاشی لحاظ سے جس بُری طرح اِس بدقسمت قوم پر مرتب ہو رہے ہیں وہ اُن ملکوں یعنی ایران، اسرائیل اور امریکہ کے عوام بھی ہرگز ہرگز نہیں بھگت رہے جو بلاواسطہ میدانِ جنگ میں دست و گریبان ہیں اور ایک دوسرے پر بارود کی بارش کر رہے ہیں۔ تیل مہنگا ہونے کی وجہ سے ساری دنیا کی تجارت، صنعت اور خاص طور پر زراعت متاثر ہوئی ہے لیکن اِس مہنگائی کو بنیاد بنا کر کسی ایک ملک کے عوام بھی اتنے زیادہ متاثر نہیں ہوئے جتنے پاکستان کے عوام ہوئے ہیں صحیح تر الفاظ میں جس طرح پاکستان کے عوام کی کھال کھینچی جا رہی ہے اِس کی مثا ل ڈھونڈے سے بھی دنیا میں کہیں دستیاب نہیں۔ جنگ کے بعد پیٹرول کی قیمت میں 193/- روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا لیکن بعدازاں 80/- روپے فی لیٹر کم کر دیا گیا یعنی پیٹرول کی قیمت میں 113/- روپے فی لیٹر اضافہ جنگ کے بعد اب تک ہوا جبکہ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ نے ڈیزل کی قیمت 520/- روپے فی لیٹر پہنچا دی گئی جس میںکوئی کمی نہیں کی گئی اِس میں بعض حلقوں کو سبسڈی دینے کا اعلان کیا گیا ہے جو Peanet کی حیثیت رکھتی ہے گویا رونے والوں کے بہتے ہوئے آنسو پونچھنے کی کوشش کی گئی۔ عوام کی پیٹھ میں یہ زہریلا خنجر گھونپنے کے بعد عوام کو بتایا جا رہا ہے کہ پاکستان میں بہرحال عوام کو پیٹرول آسانی سے دستیاب تو ہے جبکہ بھارت میں عوام لائنیں لگائے ہوئے پیٹرول کے لیے رُل رہے ہیں۔
آگے بڑھنے سے پہلے اِس حقیقت کو افشاں کرنے کی ضرورت ہے کہ بھارت کے کچھ صوبوں میں جو پیٹرول حاصل کرنے والوں کی قطاریں چند دنوں کے لیے لگی ہیں اور پاکستان میں جو آسانی سے دستیاب ہے اِس سارے معاملے کو پلس مائنس کرنے سے بھارت کے عوام کیا نتائج حاصل کر رہے ہیں اور پاکستان کے عوام کو کیا ملے گا۔ بھارت میں جو پیٹرول لینے والوں کی قطاریں لگی ہیں اُس کی وجہ یہ ہے کہ بھارت نے جنگی حالات میں بھی پیٹرول کے نرخ میں کوئی اضافہ نہیں کیا جس سے کچھ علاقوں میں عوام کو تکلیف تو ضرور اٹھانا پڑی لیکن اُنہیں پیٹرول سستا ملا جس سے اُن کی انڈسٹری اور خاص طور پر زراعت پر کوئی اثر نہ ہوا اور وہاں کسی قسم کی مہنگائی دیکھنے میں نہ آئی اور وہ شہری جن کو پیٹرول کی دستیابی کے حوالے سے کچھ عرصہ کے لیے تکلیف اٹھانا پڑی اُنہیں اب اور آنے والے وقت میں کسی قسم کی مہنگائی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ گویا آج پیٹرول سستا مل رہا ہے اور آنے والے کل میں تمام ضروریاتِ زندگی سستی ہی رہیں گی جبکہ پاکستان کے مظلوم شہری آج پیٹرول 113/- روپے لیٹر مہنگا خریدیں گے اور آنے والے وقت میں مہنگے پیٹرول سے بننے والی اشیاء مہنگی خریدیں گے۔ ڈیزل جس کی قیمت 520/- روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے اُس سے ہماری زراعت جو پہلے ہی مشکلات کا شکار تھی مکمل طور پر تباہ و برباد ہو جائے گی۔ گویا اب پاکستان کے عوام من و سلویٰ کے نزول کی دعائیں کریں۔ (یہ بھی نوٹ کر لیں کہ بھارت میں قطاریں درحقیقت گیس کے لیے لگتی ہے بھارت کی اپنی گیس اُن کی ضرورت سے بہت کم ہے وہاں گیس صرف سلنڈروں کے ذریعے ملتی ہے۔)
پاکستان میں تو اللہ کے فضل و کرم سے سوئی گیس کے علاوہ بھی بہت سے کنوئیں دریافت ہوئے ہیں اُس کے باوجود گیس کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔ ظلم اور سفاکی کی انتہا یہ ہے کہ وہ ڈیزل جو اِس قدر مہنگا کر دیا گیا ہے وہ پاکستان 75% خود پیدا کرتا ہے صرف 25% درآمد کرتا ہے۔ ہمارا ریفائنری ریٹ 120 سے 150 ڈالر فی بیرل ہے۔ عالمی مارکیٹ میں ڈیزل کی قیمت قریباً 260 ڈالر فی بیرل ہیں جبکہ مقامی سطح پر خام تیل کی قیمت قریباً 150 ڈالر فی بیرل ہے درآمد صرف 25% ہے لیکن نرخ صد فی صد درآمدی والا لگایا جا رہا ہے گویا یہ کمپنیاں 110 سے 140 ڈالر فی بیرل کما رہی ہیں اور یہ کمپنیاں ڈیزل میں 190 روپے فی لیٹر منافع حاصل کر رہی ہیں۔اتنا منافع حاصل کرنے کا اُنہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہو گا۔ سوال یہ ہے کہ شریف حکومت اِن کمپنیوں پر اِس قدر مہربان کیوں ہے؟ یہ بے مثل منافع کِن کی جیب میں جا رہا ہے، کوئی بتائے کہ ہم بتلائیں کیا۔ مصیبت یہ ہے کہ حکمران آئینہ دکھانے پر بُرا مان جاتے ہیں۔ قومی کھلاڑیوں کو بھی استثنا حاصل نہیں، اُن پر بھی زبان کھولنے پر 2 کروڑ روپیہ ہرجانہ عائد کر دیا جاتا ہے۔ بس اندھے، گونگے اور بہرے بن جاؤ ملک لٹتا رہے لیکن زبانوں پر تالے لگا دو اور قلم زنجیروں میں جکڑ دو پھر بھی کوئی بعض نہ آتے تو پھر ورثا سربریدہ لاش کا انتظار کریں، اِس لیے کہ بقول شخصے ملکی مسائل کا حل ہارڈ سٹیٹ کے قیام میں ہے۔ ہر پاکستانی ذرا سوچیے کہ آج تیس یا چالیس ہزار کمانے والا گھرانہ دو وقت کی روٹی کا کیسے بندوبست کرتا ہو گا پھر یہ کہ تجارت ٹھپ ہے ۔ خام میٹریل مہنگا ہونے کی وجہ سے ملیں بند ہو رہی ہیں یا دوسرے ممالک میں منتقل ہو رہی ہیں۔ لاکھوں پاکستانی باہر جانے کی تگ و دو میں ہیں لیکن کتنے ہیں جو باہر جانے کا خرچہ اٹھا سکتے ہیں لہٰذا زندگی دوبھر ہو چکی ہے اور سسک رہی ہے۔
بہرحال عوام بھی اِس خاموشی پر دنیا میں نہ سہی آخرت میں جوابدہ ہوں گے کہ وہ اپنے حقوق کہ اِس بُری طرح کچلے جانے پر کیوں کھڑے نہ ہوئے۔
درحقیقت مسئلہ کچھ اور ہے۔ ہائبرڈ نظام کے رکھوالوں نے معیشت کی درستگی اور بیرونی سرمایہ کاری کے حوالے سے بڑے بڑے دعوے کیے لیکن ہر آنے والا دن معیشت کے حوالے سے اچھی خبریں ہرگز نہیں لا رہا ۔ بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ کیا ہوتا۔ وہ پہلے سے بھی کم ہوگئی۔ اُس کی اصل وجہ سیاسی عدم استحکام ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لےرہا۔ اِس لیے کہ عوام اور موجودہ نظام کے رکھوالوں میں خلیج روز بروز بڑھتی چلی جا رہی ہے IMF کے سہارے ڈگمگاتے قدموں کے ساتھ چل رہے ہیں اِس سال IMF نے محصولات کے حوالے سے پاکستان کی حکومت کو ایک ہدف دیا تھا۔ FBR یہ ہدف حاصل کرنے میں بُری طرح ناکام ہوا جنگ کا عذر تراش کر پیٹرول اور ڈیزل کا ریٹ انتہائی ظالمانہ طریقہ سے بڑھا دیا گیا تاکہ آئی ایم ایف کا ہدف پورا کیا جائے۔ 31 مارچ 2026ء تک کی صورتِ حال یہ ہے کہ 710 ارب روپے ہدف سے کم ہیں۔ 30 جون تک محصولات کی وصولی مزید کم ہوتا دکھائی دے رہی تھی۔ لہٰذا عوام کا خون نچوڑ کر IMF کا ہدف پورا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ لطف کی بات یہ ہے کہ دوسری طرف IMF کو بھی درخواست دے دی گئی ہے کہ حکومت پاکستان کو جنگ کی وجہ سے ہدف پورا کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ ایران پر جنگ مسلط کی گئی ہے ، وہ سب سے زیادہ متاثر ہے۔ اِس سے پہلے ایران امریکہ کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کا شکار تھا۔ اُس کے باوجود وہاں مہنگائی کی شرح پاکستان کے مقابلے میں بہت کم ہے بلکہ وہاں مہنگائی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اصل فقدان وسائل کا نہیں بلکہ اہلیت اور دیانت کا ہے۔
معاشی حوالے سے حکومت کی پالیسی یہ دکھائی دیتی ہے کہ مارو بھی اور رونے بھی نہ دو۔ حکومت کسی قسم کا اختلاف برداشت کرنے کو تیار نہیں ملک کے اکثر شہر دفعہ144کی زد میں رہتے ہیں اور آئین جو عوام کو right to assembleدیتا ہے اُس کی کھلم کھلا اور بے دریغ خلاف ورزی ہو رہی ہے۔
راقم حکومت کی خدمت میں عرض گزار ہے کہ سیاسی عدم استحکام ملک میں ہو اورملک معاشی طور پر ترقی کرے، یہ انہونی بات ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں دیکھا گیا ہے کہ حکومت نے بیرونی اور سرمایہ کاری کا بڑا ڈھنڈورا پیٹا ہے لیکن حقیقی صورتِ حال یہ ہے کہ بیرونی سرمایہ کاری مکمل طور پر بند ہے۔ ہر دوسرے روز یہ اعلان ہوتا ہے کہ فلاں ملک یا فلاں عالمی ادارہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرے گا لیکن یہ اعلانات کی حد تک ہی محدود رہتا ہے، عملی طور پر کچھ نہیں ہوتا۔ جس کانتیجہ یہ نکلا ہے کہ معاشی لحاظ سے پاکستان کی صورت حال بڑی دگرگوں ہے۔ حکومت نے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے رہنما کو جھوٹے اور مضحکہ خیز مقدمات میں جیل میں بند کیا ہوا ہے۔ خود حکومت عوام کی اکثریت کی حمایت سے مکمل طور پر محروم ہے ۔ حکومت اور عوام کے درمیان یہ خلیج روز بروز بڑھ رہی ہے جس سے معیشت بری طرح نڈھال ہے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ دو طرفہ انا کا مسئلہ بن گیا ہے ۔جس سے عوام بُری طرح پس رہے ہیں۔ حکومت ِ تحریک انصاف کے سربراہ کے خلاف کسی قسم کی بد عنوانی سامنے نہیں لا سکی۔ یہی وجہ ہے کہ مقدمات کو لٹکا دیا گیا ہے۔ یا عدالتیں سماعت نہ کرنےکا بہانہ ڈھونڈتی رہتی ہیں یا سرکاری وکیل جس روز سماعت ہو بیمار ہو جاتا ہے۔ یہ سلسلہ کب تک چلے گا کب تک عوام ہاتھیوں کی اس لڑائی میں پستے رہیں گے۔ حکومت حکومت ہوتی ہے تو اُسے دل بڑا کرنا چاہیے۔ زبردستی کے مقدمات کو ختم کرے اور تحریک انصاف کے سربراہ بھی دھمکیوں کی بجائے درگزر کرنے کا اعلان کریں تاکہ مفاہمت کی کوئی صورت نکل آئے اور معیشت کی گاڑی چل سکے۔ وگرنہ خواہ مخواہ کی ضد بازی میں ملک تباہ ہو رہا ہے۔ دنیا بھر میں سیز فائر کرائی جائے لیکن ایک سیز فائر اپنے ملک میں بھی ہو جائے۔ وگرنہ ہم اگر داخلی طور پریوں دست و گریباں رہے تو ہماری سیز فائر کرانے کوئی نہیں آئے گا۔
tanzeemdigitallibrary.com © 2026