صہیونی گریٹر اسرائیل کے منصوبے کو ہر صورت آگے بڑھانا چاہتے ہیں،یہی وجہ
ہے کہ وہ جنگ بندی کے معاہدوں کی مسلسل خلاف ورزی کر رہے ہیں ، مسلم ممالک
کو امریکی چھتری سے نکل کر خود متحد ہونے کی ضرورت ہے :رضاء الحق
پاکستان نے ثالثی کا کردار ادا کرکے خطے کو بڑی تباہی سے بچا لیا جس میں سب
سے زیادہ نقصان اُمت مسلمہ کا ہورہا تھا : ڈاکٹر فرید احمد پراچہ
ایران ہمارے سامنے ایک مضبوط دفاعی لائن کے طور پر کھڑا ہے ۔ اگر خدانخواستہ
یہ لائن ٹوٹ گئی تو اگلا نشانہ پاکستان ہوگا:علامہ حسین اکبر
امریکہ ایران جنگ بندی اور پاکستان کا کردار کے موضوع پر
پروگرام ’’ زمانہ گواہ ہے ‘‘ میں معروف تجزیہ نگاروں اور دانشوروں کا اظہار خیال
میز بان : وسیم احمد
مرتب : محمد رفیق چودھری
سوال: ایران اورامریکہ کے درمیان38 دنوں کی ہولناک جنگ کے بعد پاکستان کی سفارتی اورمصالحتی کوششوں سے دو ہفتے کی جنگ بندی ہوئی ہے۔ اس دوران اسلام آباد میں مذاکراتی عمل شروع ہوگا ۔ کیا آپ فریقین کی شرائط کو قابل عمل سمجھتے ہیں اور کیا اس کے نتیجے میں دیر پا امن قائم ہو پائے گا ؟
ڈاکٹر فرید احمد پراچہ: سب سے پہلے تو ہم اللہ رب العالمین کا شکر ادا کرتے ہیںکہ مشرق وسطیٰ کسی بڑی تباہی سے بچ گیا ورنہ جس طرح سے ٹرمپ فرعون کے لہجے میں بات کر رہا تھا کہ تہذیب مٹادیں گے ، کھنڈر بنا دیں گے وغیرہ تو اس سے کوئی بعید بھی نہیں تھا کہ بہت بڑی تباہی کا باعث بن جاتا ۔ آج امریکہ کے سینیٹرز خود یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ ایک احمق ،ذہنی مریض اور جنگلی شخص ہے ، اس کو امریکہ کا صدر ہونا ہی نہیں چاہیے ۔ وہ کہہ رہے ہیں امریکی آئین میں جو دفعات موجود ہیں ان کا سہارا لے کر نائب امریکی صدر اور فوجی قیادت کو اس کے احکامات ماننے سے انکار کر دینا چاہیے اور ایٹمی ہتھیاروں کے کوڈ اُس سے واپس لیے جانے چاہئیں ۔ یہ شخص دنیا کے امن ، سلامتی اور خوشحالی کے لیے خطرہ ہے ۔ امریکی کانگریس ، سینٹ ، امریکی عدالتیں اور انسانی حقوق کے ادارے بھی اس کے سامنے بے بس ہیں۔ اُس نے جنگ کا آغاز ہی معصوم بچیوں کے جسموں کے چیتھڑے اُڑانے سے کیا ۔ خامنہ ای سمیت 50 کے قریب اعلیٰ عہدیداران کو شہید کرکے اعلان ِ فتح کردیا ۔ اس کا خیال تھا کہ اگلے دن تہران کی سڑکوں پر امریکہ زندہ باد کے نعرے لگیں گے اور اس کے بعد امریکی کی مرضی کی حکومت قائم ہوگی۔ایسا نہیں ہو سکا تو ٹرمپ اپنی خفت مٹانے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا تھا ۔ اس ساری صورت حال میںدو ہفتوں کے لیے ہی سہی جنگ بندی کا یہ عمل ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہے ۔ ایک مثبت پہلو یہ سامنے آیا کہ عالمی منڈی میں فوری طور پر تیل کی قیمتیں گر گئیں ۔ ورنہ پوری دنیا اس جنگ سے متاثر ہورہی تھی اور سب سے بڑھ کر نقصان اُمت مسلمہ کا ہی ہورہا تھا۔ عرب ایران جنگ بھی چھڑ سکتی تھی۔کیونکہ امریکہ کے اڈے عرب ممالک میں موجود ہیں۔ دونوں طرف تیل کے ذخائر کا نقصان اُمت کا نقصان تھا۔ لہٰذا اس جنگ کو رُکوانے میں پاکستان نے جو کردار ادا کیا ہے وہ بہت ہی اعلیٰ اور مبارک باد کا مستحق ہے ۔ چین نے بھی مثبت کردارادا کیا ہے ۔ ٹرمپ کی گارنٹی دینے کے لیے کوئی بھی تیار نہ تھا، یہاں تک کہ اقوام متحدہ بھی گارنٹی دینے کے لیے تیار نہیں تھا ۔ آخر میں چین نے اس کی گارنٹی دی ، تب جاکر ایران معاہدے کے لیے راضی ہوا۔ ایران نے معاہدے کے لیے جو نکات پیش کیے ہیں ان کو تسلیم کیے بغیر یہ معاہدہ مستقل ہو ہی نہیں سکتا۔ ان میں سے پہلا اور اہم نکتہ یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل آئندہ ایران پر حملہ نہیں کریں گے ۔ 2۔ آبنائے ہرمزپر ایران کا استحقاق تسلیم کیا جائے ۔ 3۔ ایران کو پُرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت ملنی چاہیے ۔ 4۔ ایران پر سے تمام پابندیاں ختم کی جائیں۔ 5۔ پابندیوں سے متعلق جتنی بھی قراردادیں ہیں وہ واپس لی جائیں۔6۔ ایران اور اس کے شہریوں کے جو اثاثے ضبط کیے گئے ہیں وہ واپس کیے جائیں ۔ 7۔ ایران کا جنگ میں جو نقصان ہوا ہے ، اس کا ہرجانہ ادا کیا جائے۔ 8۔ امریکی فوج خطے سے واپس چلی جائے۔ 9۔ خطے میں موجود اپنےتمام اڈے خالی کردے ۔10۔ لبنا ن کو بھی اس معاہدے کا حصہ بنایا جائے ۔ اب جنگ بندی کے یہ 14 دن پاکستان کے لیے بہت بڑا امتحان ہیں کیونکہ پاکستانی حکمرانوں پر بہت بڑی ذمہ داری پڑ گئی ہے ۔ اس ذمہ داری کو ہم ادا کریں گے تو پھر ہم اس قابل ہوں گے کہ دنیا کو دکھا سکیں کہ ہم نے کچھ کردار ادا کیا ہے ۔
سوال: اس جنگ کا اصل محرک اسرائیل ہے لیکن جنگ بندی کے اس معاہدے میں اس کا کہیں ذکر نہیں ہے اور نہ ہی فلسطینی مسلمانوں کا ذکر ہے جو اسرائیلی مظالم کا شکار ہیں ۔ کیا اسرائیل اس معاہدے کی پاسداری کرے گا ؟
رضاء الحق: سب سے پہلے تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا واجب ہے کہ اُس نے وقتی طور پر بڑی تباہی سے بچالیا ۔ صہیونی عزائم اس جنگ کی بنیادی وجہ ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسرائیل کا بھی اس جنگ میں کافی نقصان ہوا ہے لیکن سب سے بڑھ کر نقصان اُمت کا ہی ہورہا تھا، پھر یہ کہ تیسری عالمی جنگ کا خطرہ بھی بڑھ رہا تھا ۔ لہٰذا یہ عارضی جنگ بندی خوش آئند ہے ۔ اس دوران اسلام آباد اکارڈز کے تحت ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات ہوں گے۔ مذاکرات میں شرکت کے لیے امریکہ کی طرف سے تین نمائندوں کے نام سامنے آئے ہیں ، ان میں سے ایک نائب صدر جیمز وینس ہے ، دوسرا وڈکوف اور تیسر ا ٹرمپ کا یہودی داماد جیرڈ کشنر ہے۔یہ تینوں ہی اسرائیل کے طرف دار ہیں ۔ اب یہ بات بھی سامنے آچکی ہے کہ ٹرمپ ایپسٹین فائلز کی وجہ سے بھی بلیک میل ہوکر صہیونی مفادات پورے کر رہا تھا۔ صہیونیوں کے عزائم واضح ہیں ، اسرائیل نہ تو باضابطہ طور پر اس معاہدے میں شامل ہوا ہے اور نہ ہی اس کی پاسداری کرے گا کیونکہ صہیونی ہر صورت میں گریٹر اسرائیل کی جانب بڑھنا چاہتے ہیں ۔ بھارت بھی اسرائیل کاحامی ہے یہی وجہ ہے کہ اسرائیل اور بھارت کے اعلیٰ عہدیداران اور میڈیا اس جنگ بندی پر ناخوش نظر آتے ہیں ۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے آج سے 14 سو سال پہلے یہ بتادیا تھا :
{لَـتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِّـلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الْیَہُوْدَ وَالَّذِیْنَ اَشْرَکُوْاج}(المائدہ:82)
’’تم لازماًپائو گے اہل ِایمان کے حق میں شدید ترین دشمن یہود کو اور ان کو جو مشرک ہیں۔‘‘
ایران کی جانب سے یہ شرط بھی رکھی گئی ہے کہ لبنان کو بھی معاہدے میں شامل کیا جائے گا ۔ لیکن جنگ بندی کے بعد 21 گھنٹوں میں اسرائیل نے لبنان پر 100 میزائل داغ دئیے ۔ جیسے صہیونیوں کے عزائم ہیں وہ ہر صورت میں اس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کریں گے ۔
سوال: عارضی جنگ بندی کے اس عمل میں پاکستان کا جو کردار ہے اس کے بارے میں آپ کیا کہیں گے اور آپ کیا سمجھتے کہ مستقل جنگ بندی ممکن ہو پائے گی ، کیا صہیونی اپنے عزائم سے باز آجائیں گے ؟
علامہ محمد حسین اکبر:سب سے پہلے توہم رب کے شکرگزار ہیں کہ پاکستان کو اُس نے عزت اور شرف بخشا۔مشکل ترین حالات اور دباؤ کے باوجود پاکستان اس میں کامیاب ہوا ۔ مسلمان تو معاہدے کی پاسداری کے پابند ہیں لیکن یہودو نصاریٰ اور مشرکین و منافقین کے معاہدوں پرہرگز اعتبار نہیں کیا جا سکتا ۔ اس وقت امریکہ اور اسرائیل کا کافی نقصان ہورہا ہے تو وہ عارضی طور پر مہلت حاصل کریں گے لیکن جونہی انہیں موقع ملے گا تو وہ دوبارہ مسلم ممالک پر چڑھ دوڑیں گے ۔ تاہم عارضی جنگ بندی بھی اس وجہ سے خوش آئند ہے کہ ایران نے جو شرائط رکھی تھیں ان کی بنیاد پر جنگ بندی ہوئی ہے ۔ یہ صرف ایران کی فتح نہیں بلکہ پوری اُ مت مسلمہ کی فتح ہے ۔ ایران نے امریکی پائلٹ کی رہائی کے بدلے 10 ہزار فلسطینی قیدیوں کی آزادی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایران کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادتوں کی شہادت کے باجود ایرانیوں کے حوصلے پست نہیں ہوئے ۔ پوری ایرانی قوم نے جرأت اور استقامت کا مظاہرہ کیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے اس جنگ کا رُخ عرب ایران جنگ کی طرف موڑنے کی بھی کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہیں ہوئے۔ اب عرب ممالک کو بھی سمجھ جانا چاہیے ۔ ایران نے پاکستان پر اعتماد کیا اور اس کی پارلیمنٹ نے بھی پاکستان کا شکریہ ادا کیا کہ دباؤ کے باوجود وہ ایران کے ساتھ کھڑا رہا ۔ آج فلسطینی بھی خوش ہیں کہ کوئی تو ہے جس نے اسرائیل کو منہ توڑ جواب دیا ہے ۔
رضاء الحق:انتہائی معتبر ذرائع سے خبر ملی ہے کہ امریکہ اس جنگ بندی کے لیے تیار نہیں تھا لیکن چین اور پاکستان نے واضح پیغام دیا کہ اگر ایران پر ایٹمی حملہ ہوا تو جواب میں اسرائیل کو نیست و نابود کر دیا جائےگا ۔ اس کے بعد امریکہ معاہدے کے لیے تیار ہوا ہے ۔ اگر ایران بھی ایٹمی طاقت بن جائے تو یہ جنگ مستقل بنیادوں پر رُک سکتی ہے ۔
سوال: اس جنگ کے دوران ایران کا جو جانی اور مالی نقصان ہوا ہے اس کا ازالہ کرنے کے لیے ایران نے امریکہ اور اسرائیل سے ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ آپ کے خیال میں کیا ایران کا یہ مطالبہ پور اکیا جائے گا ؟
ڈاکٹر فرید احمد پراچہ:بین الاقوامی قوانین کے مطابق ایران پر جنگ مسلط کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا، نہ ہی اقوام متحدہ نے ایران کے خلاف کوئی قرارداد پاس کی تھی ۔ چونکہ بین الاقوامی قوانین کو روندتے ہوئے ایران کے خلاف جارحیت کا مظاہرہ کیا گیا ہے ، اس کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت کو شہید کیا گیا ہے لہٰذا ایران کو دفاع کا بھی بھرپور حق حاصل ہے اور ہرجانہ طلب کرنے کا بھی ۔ ہرجانے کے قوانین بھی موجود ہیں۔ اس جنگ کا آغاز بھی سکول کی بچیوں پر بمباری سے کیا گیا۔ٹرمپ اور نیتن یاہو خود اعلان کرتے رہے کہ ہم ان کے سکول تباہ کر دیں گے ، یونیورسٹیاں تباہ کر دیں گے ، پانی کے پلانٹ تباہ کر دیں گے وغیرہ ۔یعنی کوئی جنگی جرم ایسا نہیں ہے جس کا اعلان ٹرمپ اور نیتن یاہو نے خود نہ کیا ہو ۔ خود امریکی کانگریس اور سینیٹرز اعتراف کر رہے ہیں کہ ٹرمپ جنگی جرائم کا مرتکب ہوا ہے ۔ عالمی قوانین کے مطابق ہرجانے میں چار چیزیں شامل ہوتی ہیں ۔ 1 ۔ جارحیت پر معافی مانگی جائے۔ 2۔ جنگ بندی کے معاہدے کی پاسداری کی جائے ۔3 ۔ جارح ملک جنگ کی وجہ سے ہونے والے جانی اور مالی نقصان کا ہرجانہ ادا کرے ۔ 4۔ آئندہ مجروح ملک کی خود مختاری کا احترام کیا جائے ۔اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی سطح پر تمام ممالک سوچیں کہ وہ کب تک ایک ملک کی جارحیت کو برداشت کریں گے ، کبھی وینزویلا کے صدر کو اُٹھا لیا ، کبھی کسی ملک کے وسائل پر قبضہ کے لیے جنگ مسلط کر دی۔ اس سلسلے کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ تمام ممالک امریکہ سے مطالبہ کریں کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پرمعافی مانگے اور ایران کو ہرجانہ ادا کرے ۔
سوال: جنگ کے دوران ایران نے واضح کر دیا تھا کہ عرب ممالک میں موجود امریکہ فوجی اڈوں سے اگر ایران پر حملہ ہوگا تو جواب میں ایران بھی حملہ کرے گا اور ایران نے کئی ایسے ٹھکانوں کو تباہ بھی کیا ہے ، وہاں سے امریکی فوجی بھاگے ہیں یا ٹھکانے تبدیل کیے ہیں ۔ کیا عرب ممالک کو اب یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ جس امریکہ کو انہوں نے اپنا محافظ بنایا تھا وہی ان کی تباہی کا باعث بن رہا ہے؟
رضاء الحق: پاکستان نے جب امریکہ کو اڈے دئیے تھے اُس وقت بھی ہم نے مذمت کی تھی ۔ چاہے وہ نورخان بیس ہو ، شمسی ایئر بیس ہو جہاں سےامریکی جہازوں نے 57ہزار پروازیں کرکے افغانستان پر حملے کیے ۔ اس کا صلہ یہ ملا کہ پاکستان میں 90 ہزار شہادتیں ہوئیں ، 120 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا اور دہشت گردی کا جو سلسلہ ردعمل کے طور پر شروع ہوا آج تک نہیں رُک سکا ۔ یہ سارا نقصان ایک فوجی ڈکٹیٹر کی وجہ سے پاکستانی قوم کو اُٹھانا پڑا۔ اسی طرح عرب میں بھی ڈکٹیٹر قسم کی بادشاہتیں ہیں جن کو عوام کی حمایت حاصل نہیں ہے لہٰذا وہ امریکہ کے سہارے اپنا اقتدار قائم رکھنا چاہتی ہیں اور اسی لیے امریکہ کو اڈے بھی دئیے ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود جب قطر پر اسرائیل نے حملہ کیا تو امریکہ نے اس کو نہیں روکا بلکہ حملے سے قبل ترکی نے قطر کو خبردار کیا ۔اسی طرح ایران نے عرب ممالک میں موجود امریکی اڈوں پر جب جوابی حملے کیے تو امریکہ انہیں بھی نہیں روک سکا یا جان بوجھ کر نہیں روکا۔ لہٰذا عرب ممالک کو اب جاگ جانا چاہیے اور سمجھ جانا چاہیے کہ یہود و نصاریٰ ان کے دوست نہیں ہو سکتے ۔ چونکہ یہودی گریٹر اسرائیل منصوبے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور دوبارہ کوئی بہانہ تلاش کرکے جنگ شروع کریں گے ۔لہٰذا عرب ممالک کو اب امریکہ سے جان چھڑا لینی چاہیے اور مسلم ممالک پر مشتمل ایک بلاک بنانا چاہیےتاکہ اپنا دفاع خود کر سکیں ۔
ڈاکٹر فرید احمد پراچہ: امریکہ عرب ممالک کی سکیورٹی اور دفاع کے نام پر اُن سے کھربوں ڈالرز وصول کرتا رہا اور اربوں ڈالرز کے تحائف بھی لیتا رہا ۔ لیکن اس کے باوجودوہ عرب ممالک کا دفاع نہیں کرسکا اور اس جنگ کی وجہ سے عرب ممالک کا بھی نقصان ہوا ہے ۔اس کے باوجود امریکہ بے شرمی کے ساتھ عرب ممالک سے جنگ کے اخراجات پورے کرنے کوبھی کہہ رہا ہے ۔ قرآن پاک نے تو حل دے دیا ہے :{وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللہِ جَمِیْعًا}(آل عمران:103)’’اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے تھام لو مل جل کر۔‘‘
تمام مسلم ممالک کو اب اس طرف آنا چاہیے۔ مئی میں پاک بھارت جھڑپ کے دوران پاکستان کو اللہ نے فتح عطا کی اور چین کی ٹیکنالوجی نے بھی اپنی دھاک بٹھائی ۔ اس کے بعد سے عرب ممالک کا جھکاؤ امریکہ کی بجائے پاکستان اور چین کی طرف ہونا شروع ہو اہے ۔ وہ آہستہ آہستہ امریکی چھتری سے نکلنا چاہتے ہیں۔ اس جنگ سے قبل آذربائیجان، افغانستان، ایران، پاکستان، سعودی عرب، ترکی ، انڈو نیشیااور ملائشیاپر مشتمل ایک بلاک بنانے کی کوشش بھی کی جا رہی تھی ۔ اللہ کرے کہ عرب ممالک کو اب مزید احساس ہو جائے اور مسلم اتحاد کی ضرورت کو محسوس کریں ۔
سوال:اسرائیلی وزیراعظم سمیت اسرائیل کے کئی اعلیٰ عہدیدار مسلسل گریٹر اسرائیل کی بات کرتے رہے ہیں اور نقشے بھی لہراتے رہے ہیں ۔ وہ اس کو اپنا روحانی مشن قرار دے رہے ہیں ۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ اس جنگ بندی کی وجہ سے اس صہیونی منصوبے کو کوئی روک لگ پائے گی ؟
علامہ محمد حسین اکبر:اس جنگ کی وجہ سے گریٹر اسرائیل کے صہیونی منصوبے کو بھی کچھ سیٹ بیک پہنچا ہے ، کچھ عرب ممالک کی بھی آنکھیں کھلی ہیں ۔ سعودی عرب نے اس جنگ کے دوران ایران کے خلاف کسی قسم کا ردعمل نہیں ظاہر کیا لیکن متحدہ عرب امارات اور بحرین شاید ابھی تک نہیں سمجھے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس جنگ بندی کے بعد ان کا ردعمل کیا آتاہے ۔ کیا وہ اسرائیل اور امریکہ کا ساتھ دینے کی بجائے مسلم ممالک کے ساتھ کھڑے ہوں گے ؟میں سمجھتا ہوں کہ اس مہلت سے عرب ممالک کو فائدہ اٹھانا چاہیے۔ سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ امن معاہدہ کیا، ہم بھی خوش تھے کہ حرمین شریفین کی حفاظت کے مقدس مشن کے لیے پاکستان کو چُنا گیا مگر OICاور 34 مسلم ممالک کی مشترکہ فوج کہیں نظر نہیں آئی۔ مسلم ممالک کو سوچنا کہ اگر ایران اکیلا امریکہ اور اسرائیل کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہو سکتا ہے تو وہ بھی کھڑے ہو سکتے ہیں ۔ یہودو نصاریٰ پر تو اعتماد کیا ہی نہیں جا سکتا ، یہ بات مسلم ممالک کو سمجھ آجانی چاہیے ۔ اللہ تعالیٰ قسم کھا کر رسول اللہ ﷺ سے فرما رہے ہیں کہ یہ کبھی تمہارے دوست نہیں ہو سکتے :
{حَتّٰی تَــتَّبِعَ مِلَّـتَہُمْ ط}(البقرئہ:120) ’’ جب تک کہ آپؐ پیروی نہ کریں ان کی ملت کی۔‘‘
اس سے بڑھ کر اور قرآن کیا کہے۔اُمید ہے کہ کچھ ذہنوں میں تبدیلی آئی ہے۔اگر کفار متحد ہو کر نیٹو بنا سکتے ہیں تو مسلم ممالک کی مشترکہ فوج بھی بن سکتی ہے ۔ اس وقت تمام مسالک کے علماء اور اُمت کے ذمہ داران کو بڑے زور وشور کے ساتھ اس آواز کو اٹھانے کی ضرورت ہے کہ ہم ایک کلمہ کی بنیاد پر اُمت متحدہ کی صورت میں متحد ہو جائیں ۔ میڈیا کی سطح پر بھی اس آواز کو اُٹھایا جانا چاہیے ۔ اگر ہم مسلکی اختلافات کو پس پشت ڈال کر اتحاد کی طرف بڑھیں گے تو اس سے بھی کفار کے حوصلے ٹوٹیں گے۔
سوال: تنظیم اسلامی نے بھی ہر دور میںاُمت کے اتحاد کی ضرورت کو اُجاگر کیا ہے۔ ڈاکٹر اسراراحمدؒ نے بارہا پاکستان ، ایران اور افغانستان پر مشتمل بلاک PIAکی بھی تجویز پیش کی ۔ اس پر آپ کیا کہیں گے ؟
رضاء الحق:آج کی یہ جو نشست ہے، یہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ تنظیم اسلامی کے امیر شجاع الدین شیخ صاحب اپنے خطبات جمعہ میں اور پریس ریلیزز میں مسلسل مسلم ممالک کو ایران کے ساتھ کھڑا ہونے کی ترغیب دیتے رہے ہیں۔ تنظیم کے ہفت روزہ ندائے خلافت کے ہر اداریے میں امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کی مذمت کی جاتی رہی ہے ۔ تنظیم اسلامی نے شہر شہر جو مظاہرے کیے ہیں ان میں جو بینرز اور پلے کارڈ تھے ان کے ذریعے بھی اسرائیل اور امریکہ کی جارحیت کی مذمت کی گئی تھی اور اُمت کے اتحاد پر بھی زور دیا گیا ۔
سوال:پاکستان ایک عرصے سے اندرونی خلفشار کا شکار ہے اوراپنے معاشی حالات کی وجہ سے انٹرنیشنل سطح پر بھی کئی جکڑبندیوں اور دباؤ کا شکار تھا ۔ لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نےبھارت کے خلاف آپریشن بنیان مرصوص کے ذریعے دنیا میں اسے عزت دی اور حالیہ ایران امریکہ جنگ بندی کے معاملے میں پاکستان کا فعال کردار سامنے آیا ہے۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ اس کردار کو کس لائن آف ایکشن کے تحت ہم آگے بڑھا سکتے ہیں تاکہ پاکستان بحیثیت ملک عالم اسلام کی قیادت کر سکے ؟
ڈاکٹر فرید احمد پراچہ: ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان ہیں ۔ اس لیے اسلامی جمہوریہ بننے میں ہی ہماری بقا ہے اور اسی صورت میں پاکستان میں معاشی اور سیاسی استحکام بھی آئے گا ۔ سودی معیشت کو جاری رکھ کر نہ تو معیشت ترقی کرے گی اور نہ ہی استحکام آئے گا ۔ شیطان کے کیمپ میں رہ کر ہم یہ سمجھیں کہ ہم رحمٰن کی رحمتوں سے فیض یاب ہوں گے تو یہ تو ممکن نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح فرمادیا :
’’اور جس نے میری یاد سے اعراض کیا تو یقیناً اُس کے لیے ہو گی (دنیا کی)زندگی بہت تنگی والی۔‘‘(طٰہٰ:124)
’’اور اگر اہل کتاب ایمان لے آتے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے‘‘(المائدئہ:65) اگر بنیان مرصوص کے لفظ کے ساتھ ایمان کی طرف آنے سےپاکستان کو عزت ملی ہے تو جب آپ اسلامی نظام کی طرف آئیں گے تو سوچئے کتنی عزت اور نصرت ملے گی ۔ اسی راستے پر چل کر اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا بھی دروازہ کھلے گا ۔ ان شاء اللہ !
سوال:پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے کے لیے ہمیں کیا اقدامات کرنے چاہئیں ؟
علامہ محمد حسین اکبر:گریٹر اسرائیل کا منصوبہ کھل کر سامنے آگیا ہے ، صہیونی اس کے نقشے دکھا رہے ہیں ، ان کے پرچم میں دو نیلی لائنیں نیل سے فرات تک کے علاقے پر قبضے کی نشان دہی کرتی ہیں ۔ انہوں نے واضح کر دیا ہے کہ ایران اور پاکستان ان کے بڑے ٹارگٹ ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کی بدمعاشی ہے کہ وہ جنگ گریٹر اسرائیل کے لیے لڑ رہے ہیں لیکن جنگ کے اخراجات عرب ممالک سے لے رہے ہیں ۔ اس کے بعد بھی اگر عربوں کی آنکھیں نہیں کھلتیں تو پھر ان کی حالت پر افسوس ہی کیا جاسکتاہے ۔ وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے کہ ہم کلمہ کی بنیاد پر ایک ہو جائیں ۔
رضاء الحق:پاکستان کی بنیادبھی اسلام ہے اور اس کی بقا اور استحکام بھی اسلام کے ساتھ ہی وابستہ ہے ۔ احادیث مبارکہ میں مستقبل کا منظر نامہ یہ ہےکہ خراسان سے اسلامی لشکرامام مہدی کی نصرت کے لیے جائیں گے اور حضرت عیسیٰ ؑ کے ساتھ مل کر دجال کے خلاف جنگ کریں گے ۔ خراسان میں افغانستان ، شمالی ایران ، شمالی پاکستان اور وسط ایشیائی ممالک کے بعض علاقے بھی شامل ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ یہاں اسلام نافذ ہو تاکہ احادیث کی روشنی میں مستقبل کی تیاری ہو سکے ۔ اسلام کی بنیاد پر ہی ہم متحد ہو کر ایک طاقت بن سکتے ہیں ۔