ابلیس نےحضرت آدم ؑ سے حسد کیا اور یہود نے نبی ﷺ
سے حسد کیا ، دونوں کو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے
سب سے بڑے دشمن قراردیا ،
ایپسٹین فائلز کے بعد دنیا کو علم ہوا کہ شیطانی نظام برائی
اور بے حیائی پر مبنی نظام ہے جبکہ قرآن نےیہ بات
1400 سال پہلے ہی بتا دی تھی،
مسلمان گلوبل سطح پر ایک اُمّت اور طاقت تب ہی بن سکتے
ہیں جب وہ دوبارہ قرآن کے ساتھ جڑ جائیں،
آج جب عالم ِاسلام پر افتاد آن پڑی ہے ، مسجد اقصیٰ کی حرمت
خطرے میں ہے تو 34 مسلم ممالک کی فوج کہاں ہے ؟
موجودہ حالات میں پاکستان کو جو کرنا چاہیے وہ صرف جنگ بندی کی
کوشش ہے ، ورنہ اس کی سلامتی خود خطرے میں پڑجائے گی ۔
خصوصی پروگرام’’ امیر سے ملاقات‘‘ میں
امیر تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ کے رفقائے تنظیم و احباب کے سوالوں کے جوابات
میزبان :آصف حمید
مرتب : محمد رفیق چودھری
سوال:قرآن مجید میں تقریباً سات مقامات پر قصۂ آدم و ابلیس کا ذکر ہے کہ ابلیس اللہ کے حکم کی نافرمانی کرکے راندۂ درگاہ ہوا، قیامت تک مہلت مانگی اورپھر منصوبہ بنایا کہ اس دوران وہ فلاں فلاں کام کرے گا ۔ قرآن میں بطور ِخاص اِس واقعہ کو بیان کرنے کا مقصد کیا ہے اور اس میں ہمارے لیے کیا سبق اور رہنمائی ہے ؟
امیر تنظیم اسلامی:قرآن میںپہلی سورۃ سے لے کر آخری پارے تک وقفے وقفے سے اس ترتیب اور اہتمام کے ساتھ قصۂ آدم و ابلیس کا بیان آیا ہے کہ جب کوئی تسلسل کے ساتھ قرآن کی تلاوت کرتاہے تو ہر مقام پراس قصہ میں رہنمائی اور ہدایت کا ایک نیا پہلوسامنے آتاہے ۔ بنیادی طور پر قرآن مجید قصے کہانیوں کی کتاب نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ خود اِس کے بارے میں فرماتا ہے :
{ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ(2)}’’ ہدایت ہے پرہیزگار لوگوں کے لیے۔‘‘دوسری جگہ فرمایا :{ہُدًی لِّلنَّاسِ } (البقرۃ:185) ’’لوگوں کے لیے ہدایت بنا کر۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ یہ بھی فرماتا ہے :{فِیْہِ ذِکْرُکُمْ ط } (الانبیاء:10) ’’‘ اس میں تمہارا ذکر ہے ۔‘‘
ابلیس چونکہ حضرت آدم ؑ کا دشمن تھا لہٰذا جب تک نسل ِ آدم زمین پر موجود ہے ، ابلیس کی دشمنی انسانوں سے رہے گی اور تب تک انسانوں کو اُس کے شر سے بچنے کے لیے ہدایت اور رہنمائی کی ضرورت رہے گی ۔ قصۂ آدم و ابلیس میں ابلیس کے چند بڑے فتنوں کو آشکار کیا گیا ہے اور اُن سے بچنے کے لیے رہنمائی بھی دی گئی ہے ۔ مثلاً اس کا ایک سب سے بڑا فتنہ عقل پرستی ہے ۔ اللہ کا واضح حکم تھا کہ آدم ؑ کے سامنے جھک جاؤ لیکن اُس نے اللہ کا حکم ماننے کی بجائے اپنی عقل کے گھوڑے دوڑانے شروع کردئیے کہ آدم ؑ تو مٹی سے بنے ہیں اور میں آگ سے بنا ہوں لہٰذا میں کیوں اس کے آگے جھکوں ۔ دوسرا بڑا فتنہ حسد ہے ۔ اُس نے کہا کہ خلافت کا اہل تو میں تھا آدم ؑ کو کیوں خلیفہ بنا دیا ۔ اِسی طرح حبِ جاہ کا مسئلہ ، تکبر کا مسئلہ بڑے فتنوں میں سے چند ایک ہیں ۔ یہ تمام مسائل انسانی زندگی میں بھی روزمرہ کے معاملات میں،گھروں میں ، دفاتر میں ، کاروبار میں ، سیاست میں اورہر پیشے میں پیش آتے ہیں ۔ قرآن میں قصۂ آدم و ابلیس کے بیان میں ہمارے لیے رہنمائی ہوتی ہے کہ اِن مسائل میں ہمارا طرزعمل کیسا ہونا چاہیے ۔ مثال کے طور پر دین کے تقاضے جب سامنے آتے ہیں وہاں ہمیں عقل نہیں لڑانا بلکہ اللہ کے حکم پر عمل کرنا ہے ۔ آدم ؑ پہلے انسان بھی ہیں اور پہلے نبی بھی ہیں ۔ ابلیس نے اُن سے حسد کیا اور راندۂ درگاہ ہوا ۔ اِسی طرح آخری نبی ﷺ سے یہود کو حسد ہوا ۔ ڈاکٹر اسراراحمدؒ فرمایاکرتے تھے کہ اسی وجہ سے آج دنیا میں یہود سب سے بڑے ابلیسی ایجنٹ ہیں۔ پھر جیسے ابلیس نے تکبر کیا ، اسی طرح یہود نے بھی تکبر کیا اور کہا :{نَحْنُ اَبْنٰٓـــؤُا اللہِ وَاَحِبَّـــآؤُہٗ ط} (المائدہ:18) ’’ ہم اللہ کے بیٹے ہیںاور اُس کے بڑے چہیتے ہیں۔‘‘
{لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّا اَیَّامًا مَّعْدُوْدَۃً ط} (البقرئہ:80)’’ ہمیں تو آگ ہرگز چھو نہیں سکتی‘ مگر گنتی کے چند دن۔‘‘
اِسی تکبر کی بنیاد پر اُنہوں نے تالمود میں لکھ دیا کہ باقی سارے انسان جینٹائلز ہیں اور جانوروں سے بھی بدتر ہیں لہٰذا ان سے ہم جو بھی سلوک کریں ، ہم سے نہیں پوچھا جائے گا ۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ابلیس کو انسانوں کا سب سے بڑا دشمن بتاتا ہے اور بحیثیت گروہ یہود کو مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن قراردیتا ہے ۔
’’ اہل ِایمان کے حق میں شدید ترین دشمن یہود کو اور ان کو جو مشرک ہیں۔‘‘(المائدہ:82 )
ابلیس کا مشن ہے کہ سب انسانوں کو جہنم میں لے جائے ۔ اِسی طرح یہود کا مشن ہے کہ اللہ کے دین کے مقابلے میں عالمی سطح پردجال کا نظام قائم کرکے لوگوں کو اللہ اور اُس کے دین سے دور کر دیں ۔ قرآن کی نگاہ میں بنیادی طور پر دنیا میں دو ہی جماعتیں ہیں اور دعوتیں بھی دو ہی ہیں ۔ ایک حزب اللہ ہے جو اللہ اور اس کے دین کی طرف بلاتی ہے اور دوسری حزب الشیطان ہے جواللہ سے بغاوت اور جہنم کی طرف بلاتی ہے۔ قرآن اِن دونوں جماعتوں اور دعوتوں کے درمیان فرق کو سمجھانے والا ہے ۔ اسی لیے قرآن کو الفرقان بھی کہا گیا ۔سورۃ نحل کی آیت 90 میں ہے : {وَیَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِ وَالْبَغْیِ ج } ’’اور وہ روکتا ہے بے حیائی ‘ برائی اور سرکشی سے۔‘‘جبکہ شیطان کی دعوت کیا ہے؟ { یَاْمُرُکُمْ بِالسُّوْٓئِ وَالْفَحْشَآئِ} (البقرہ :169) ’’وہ (شیطان) تو بس تمہیں بدی اور بے حیائی کا حکم دیتا ہے۔‘‘ اور ایک اور جگہ فرمایاگیا: {اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُکُمُ الْفَقْرَ وَیَاْمُرُکُمْ بِالْفَحْشَآئِ ج }(البقرۃ:268) ’’شیطان تمہیں فقر کا اندیشہ دلاتا ہے اور بے حیائی کے کاموں کی ترغیب دیتا ہے۔‘‘
کچھ عرصہ قبل ہی ایبسٹن فائلز سامنے آئیں ، ساری دنیا نے سنا کہ ایبسٹن جزیرے پر کیا کچھ ہوتا رہا اور دنیا کے کتنے بڑے بڑے نام اِن شیطانی کاموں میں ملوث پائے گئے۔ ساری دنیا نے یہ بھی جانا کہ ان شیطانی کاموں کے پیچھے بھی یہود تھے اور وہ کس طرح دنیا کے بڑے بڑے لوگوں کوان شیطانی کاموں میں ملوث کرکے اُن کو بلیک میل کرتے ہیں اور پھر اپنے صہیونی مشن کی تکمیل کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ انہی بڑے لوگوں میں ایک نام ٹرمپ کا بھی آتاہے ۔ آج امریکہ کے لوگ خود یہ کہہ رہے ہیں کہ ٹرمپ ایپسٹن فائلز کی وجہ سے نیتن یاہو کے ہاتھوں کھلونا بن گیا ہے اور ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کو بھی گھسیٹ رہا ہے ۔ اقبال نے کہا تھا ؎
فرنگ کی رگِ جاں پنجہ یہود میں ہے
ایسے شیطانی ہتھکنڈوں کے ذریعے یہود دنیا کے حکمرانوں کو گریٹر اسرائیل منصوبے کی تکمیل کے لیے استعمال کر رہے ہیں ۔ آج دنیا کو بھی پتہ چل گیا ہے کہ دنیا میں جو فساد اورشر پھیل رہا ہے، اُس کے پیچھے کون ہے ۔ قرآن نے آج سے 1400 سال پہلے سختی سے منع کر دیا تھا کہ ابلیس کے نقش قدم پر مت چلو ۔ جو کوئی اُس کے نقش قدم پر چلے گا اُس کو وہ برائی اور بے حیائی کا ہی حکم دے گا ۔ آج دنیا کو یہ بھی معلوم ہو جانا چاہیے کہ اسلام جو نکاح کو لازم قراردیتاہے ، گھراور خاندان کے نظام پر زور دیتا ہے ، اولاد پیدا کرنے اوراُن کی اچھی تربیت کی نصیحت کرتاہے ، عورت کے حجاب اور اُسے گھر کی ملکہ بنانے اور معاشی ذِمّہ داریوں سے آزاد کرنے کی بات کرتا ہے تو اس میں کتنی خیر اور بھلائی ہے ، اس کے مقابلے میں حزب الشیطان مادر پدر آزادی پر مبنی جو ایجنڈا لے کر چل رہی ہے اس میں کس قدر تباہی ہے ۔ غزہ میں صہیونیت کے ہاتھوں جو ظلم ہو رہا ہے اور جس طرح سے بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اُڑائی جارہی ہیں ، ایران کے خلاف جس جارحیت کا مظاہرہ کیا جارہا ہے ، اس کے بعد بھی اگر ٹرمپ اور اسرائیل سے کسی امن اور بھلائی کی کوئی امید رکھتا ہے تو اس پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے ۔ کہاں یہ کہ ہمارے حکمرانوں نے ٹرمپ کے لیے نوبل انعام کی بات کردی ۔ یہاں ایک اہم نکتہ سمجھ لیجئے ۔ حزب الشیطان کی برائی اور بے حیائی کھل کر سامنے آگئی لیکن اِس کے باوجود حزب الشیطان اِسے روحانی مشن قرار دے رہی ہے ۔ نیتن یاہو گریٹر اسرائیل کو روحانی مشن قرار دے رہا ہے ، ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں پادریوں سے دعائیں کرواتاہے اور ایران کے خلاف جنگ کو مقدس جنگ قرار دیتا ہے۔ جبکہ قرآن نے آج سے 1400 سال پہلے حزب الشیطان کی حقیقت آشکار کر دی تھی کہ یہ صرف برائی اور بے حیائی کے راستے پر ہے ۔ اب جب ثابت ہوگیا کہ قرآن الفرقان ہے تو مسلمانوں کو اس پر زیادہ یقین ہونا چاہیے ۔ پہلے سے زیادہ یقین کے ساتھ اسلام کے ساتھ جڑ جانا چاہیے اور ختم نبوت کے بعد جو ذمہ داری اس اُمت کو سونپی گئی ہے کہ اللہ کی دھرتی پر اللہ کا نظام قائم کرنے کی جدوجہد کی جائے اس میں پہلے سے زیادہ یقین کے ساتھ حصّہ لینا چاہیے ۔ اِسی قرآن میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ اس اُمت کو اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم مشن کے لیے چُن لیا ہے :{ہُوَ اجْتَبٰـىکُمْ} (الحج:78) ’’اُس نے تمہیں چُن لیا ہے‘‘
آج حزب الشیطان باطل پر ہونے کے باوجود اسے اپنا مذہبی اور روحانی مشن قرار دے رہی ہے تو مسلمانوں کو حق پر ہونے کے باوجود اپنے مشن پر گامزن ہونے میں کیوں شرم محسوس ہو رہی ہے ؟ حدیث میں آتاہے کہ دجال آگ کے دریا کو جہنم کہہ کر پیش کرے گاحالانکہ وہ جنت ہوگی اور جس پانی کے دریا کو وہ جنت باور کرائے گا وہ اصل میں جہنم ہوگی ۔ اسی تناظر میں دیکھا جائے تو حزب الشیطان جسے روحانی مشن قراردے رہی ہے وہ اصل میں شیطانی مشن ہے اور جو اس مشن میں جانتے بوجھتے اسرائیل کا ساتھ دے گا اُس کا ٹھکانہ جہنم ہوگا ۔
سوال: گریٹر اسرائیل کا منصوبہ جیسے جیسے آگے بڑھ رہا ہے مسلم ممالک کی سلامتی خطرے میں پڑ رہی ہے لیکن اس کے باوجود مسلم ممالک ابھی تک یہی سوچ رہے ہیں کہ ان کی باری شاید نہیں آئی ۔یہ اُمّت کیسے بیدار ہو گی؟
امیر تنظیم اسلامی:اس وقت دنیا میں 57 مسلم ممالک اور 2ارب مسلمان ہیں ۔ دنیا میں کوئی ایک خطہ بھی ہم نہیں دکھا سکتے جہاں حقیقی معنوں میں اللہ کادین نافذ ہو ۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس اُمت کو اسی عظیم مقصد کے لیے کھڑا کیا تھا اور ختم نبوت کے بعد یہ مقدس ذمہ داری اس اُمت کے کندھوں پر ہے اور یہی اصل روحانی مشن ہے کہ لوگوں کو اللہ کے دین کی دعوت دی جائے ، اللہ کے نظام کو قائم کرکے دنیا کے سامنے نظام ِ عدلِ اجتماعی کا ایک نمونہ پیش کیا جائے تاکہ دنیا میں لوگوں کو عدل و انصاف مل سکے ۔ اگر اُمت یہ کام نہیں کرے گی تو پھر دنیا میں باطل نظام کا غلبہ ہو جائے گا اور اس کے نتیجے میں جو ظلم ، برائی اور بے حیائی کا طوفان اُٹھے گا اُس آگ میں یہ اُمت خود بھی جلے گی ۔قرآن میں اللہ فرماتاہے ۔ ’’اور تم پر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ درحقیقت تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی (اعمال) کے سبب آتی ہے۔‘‘(الشوریٰ:30)
لہٰذا ہمارے سامنے دو ہی راستے ہیں یا تو اللہ کے دین کے قیام کے لیے اُٹھ کھڑے ہو ں یا پھر اپنی تباہی اور بربادی کے لیے تیار ہو جائیں ۔ ہمارے سامنے اللہ اور اُس کے رسول ﷺکی تعلیمات کی روشنی میں رہنمائی موجود ہے۔ علماء بھی اس حقیقت سے آگاہ ہیں اور کئی علماء نے اس نبوی ﷺ مشن میں اپنی جانیں تک قربان کر دیں ، محترم ڈاکٹر اسراراحمدؒ نے اِسی مشن کو اجاگر کرنے کے لیے اتنی محنت کی اور کھول کھول کر ان باتوں کو بیان کیا۔ آج کوئی نہیں کہہ سکتا ہے کہ ہمیں نبی اکرم ﷺ کے مشن کے بارے میں علم نہیں ہے ۔ ڈاکٹر صاحبؒ فرمایا کرتے تھے کہ مجرم نمبر 1عرب ہیں جن کی زبان میں قرآن نازل ہوا لیکن انہوں نے اللہ کے احکامات کونافذ نہیں کیا ۔ مجرم نمبر 2 ہم پاکستانی ہیں جنہوں نے اسلام کے نام پر مملکت ِخداداد کو حاصل کیا مگر اللہ کے دین کو قائم کر کے دنیا کے سامنے پیش نہیں کیا ۔ بدقسمتی سے آج ہم دونوں (عرب اور پاکستانی ) امریکہ کی صف میں کھڑے ہیں اور امریکہ گریٹر اسرائیل کے منصوبے کی تکمیل میں لگاہوا ہے ۔ ہم تنظیم اسلامی کے پلیٹ فارم سے بات کو پہنچانے کے مکلف ہیں اور اللہ سے دعا بھی کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت دے۔ جو اللہ کی مشیت میں ہے وہ تو ہو کر رہنا ہے لیکن اللہ ہم سے یہ چاہتا ہے کہ اُس کے ماننے والے اسلام کے لیے کھڑے ہو جائیں ۔ فرمایا : {یٰٓـــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْٓا اَنْصَارَ اللہِ} (الصف:14)
’’اے اہل ِایمان! تم اللہ کے مددگار بن جائو۔‘‘اسی پر اللہ کی مدد اور نصرت کا وعدہ ہے :{اِنْ تَنْصُرُوا اللہَ یَنْصُرْکُمْ وَیُثَبِّتْ اَقْدَامَکُمْ (7)}(محمد ) ’’اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور وہ تمہارے قدموں کو جما دے گا۔‘‘
قرآن سے جڑنے اور دین کو غالب کرنے کا یہی انقلابی مشن اُمّت کو متحد کر سکتاہے ۔ فرمایا :{وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللہِ جَمِیْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْاص}(آل عمران:103) ’’اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے تھام لو مل جل کر اور تفرقے میں نہ پڑو۔‘‘
یہ قرآن ہی اللہ کی رسی ہے ۔ قرآن کو ہم نے فراموش کیا تو ہم تفرقے میں پڑگئے ۔ آج شیعہ سنی کی تقسیم ہے ، عرب و عجم کی تقسیم ہے ،صوبائی اور علاقائی بنیادوں پر تقسیم ہے ۔ یہ ساری تقاسیم ختم ہو سکتی ہیں اگر ہم دوبارہ قرآن کو رہنما بنائیں اور نبوی مشن ﷺ کےساتھ جُڑ جائیں۔ اسی قرآن اور مشن کی وجہ سے حضرت بلال حبشی ، حضرت صہیب رومی اورحضرت سلمان فارسی؇ ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے تھے ۔ اللہ کے رسول ﷺ قرآنی تعلیمات کی بنیاد پر ایک گلوبل جماعت تیار کرکے ہمیں دے گئے تھے لیکن ہم قرآن کے گلوبل وژن کو بھول کر چھوٹے چھوٹےفرقوں میں بٹ گئے ۔ ہم دوبارہ گلوبل سطح کی جماعت تب ہی بن سکتے ہیں جب ہم دوبارہ قرآن کے ساتھ جڑیں گے ۔
سوال: تمام مسلم ممالک میں سود رائج ہے جو کہ اللہ اور اُس کے رسولﷺ کے خلاف جنگ ہے۔ ایسی صورت میں ہماری حالت کیسے بدلے گی ؟
امیر تنظیم اسلامی:2022ء کے رمضان میں وفاقی شرعی عدالت نےسود کے خلاف فیصلہ دیا تھا اور حکومت سے کہا تھا کہ وہ 31دسمبر 2027ء تک پورے معاشی نظام سے سود کے خاتمے کو یقینی بنائے ۔ لیکن ابھی تک حکومت نے اِس جانب کوئی پیش رفت نہیں کی ۔ اِس کے برعکس یہ باتیں ہو رہی ہیں کہ کئی غیر ملکی بینکس، کمپنیاں اور انوسٹر بھی پاکستان میں کام کر رہے ہیں لہٰذا ہم سود ختم نہیں کرسکتے ۔ اس قدر دھڑلے کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی ہوگی تو اللہ کی رحمت کیسے آئے گی ؟انہی جیسے مفادات کی وجہ سے آج اُمّت کا تصور بھی خواب بن کر رہ گیا ہے ۔ بیشتر مسلم حکمران ذاتی مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں کہ اُن کا اقتدار بچ جائے ۔ عرب ممالک اِسی وجہ سے امریکی فریب میں گرفتار ہیں ۔ اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے اُنہوں نے 34 ممالک کی مشترکہ فوج بھی بنائی تھی، معلوم نہیں آج وہ کہاں ہے ؟ آج اُمّت پر اتنی بڑی افتاد آن پڑی ہے ، مسجد اقصیٰ کئی ہفتوں سے بند ہے ۔ عوام کی سطح پر بھی ذاتی مفاد کو ترجیح دی جارہی ہے ۔ نماز، اسلام اور کفر کے مابین فرق کرنے والی چیز ہے ، ہر چند گھنٹے بعد ہمارا ٹیسٹ ہورہا ہے ۔ ہم میں سے کتنے لوگ مسجد میں جاکر جماعت کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں ۔ حالانکہ نماز کو چھوڑنا اتنا بڑا گناہ ہے کہ چہار آئمہ کرام میں سے تین کہتے ہیں کہ بے نمازی کو قتل کردو جبکہ ایک کہتے ہیں کہ قید کردو جب تک کہ وہ نماز کا پابند نہ ہو جائے ۔ دورِنبوی ﷺ میں منافقین بھی جماعت کے ساتھ نماز ادا کرتے تھے کیونکہ اُنہیں معلوم تھا کہ اگر ایسا نہیں کریں گے تو منافق کہلائیں گے ۔ آج اگر ہمارا ایمان ہمیں بستر سے اُٹھا کر مصلے پر کھڑا نہیں کر رہا تو وہ دجال کے خلاف کیسے کھڑا کرے گا ، دین کے غلبے کی جدوجہد کے لیے کیسے کھڑا کرے گا ؟ڈاکٹر اسراراحمدؒ فرمایا کرتے تھے کہ اگر ہم اپنے پانچ چھ فٹ کے جسم پر اسلام کو نافذ نہیں کرسکتے ، اپنے گھر اور آفس میں جہاں ہمارا اختیار ہے وہاں اسلام نافذ نہیں کر سکتے اور عالمی سطح پر غلبۂ اسلام کی بات کرتے ہیں تو گویا ہم جھوٹ بولتے ہیں۔ یعنی ہمارا اسلام زبانی اقرار ہےلیکن عملی تکذیب ہے۔ اِسی طرزعمل پر یہود کے بارے میں فرمایا :
’’مثال اُن لوگوں کی جو حامل تورات بنائے گئے ‘ پھر وہ اس کے حامل ثابت نہ ہوئے ‘اُس گدھے کی سی (مثال) ہے جو اٹھائے ہوئے ہو کتابوں کا بوجھ۔بہت بُری مثال ہے اُس قوم کی جنہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا۔‘‘(الجمعہ:5)
یہود بھی تورات کو ماننے کا دعویٰ کرتے تھے لیکن عملی طور پر اُس کا انکار کرتے تھے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے تین فتوے صادر فرمائے :
{وَمَنْ لَّــمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکٰفِرُوْنَ(44)}(المائدہ) ’’اور جو اللہ کی اُتاری ہوئی شریعت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہی تو کافر ہیں۔‘‘
{وَمَنْ لَّـمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ(45)}(المائدہ)’’ اور جو فیصلے نہیں کرتے اللہ کی اُتاری ہوئی شریعت کے مطابق وہی تو ظالم ہیں۔‘‘
{وَمَنْ لَّـمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ(46)}(المائدہ)’’اور جو لوگ نہیں فیصلے کرتے اللہ کے اُتارے ہوئے احکامات و قوانین کے مطابق‘ وہی تو فاسق ہیں۔‘‘
آج یہی طرزِ عمل اگر قرآن کے ساتھ ہمارا ہے توسوچئے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں ؟
سوال:امریکہ ایران جنگ کی وجہ سے عرب ممالک اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہوئی نظر آرہی ہے ۔ امریکہ اور اسرائیل بھی یہی چاہتے ہیں کہ مسلم ممالک آپس میں لڑکر تباہ ہو جائیں ۔ مسلم ممالک کو اِس تباہی سے روکنے کے لیے پاکستان کیا کردار ادا کر سکتاہے ؟
امیر تنظیم اسلامی: کون چاہے گا کہ جنگ جاری رہے اور ملک تباہ ہوں ۔ اگر ایران اور امریکہ کی جنگ جاری رہتی ہے اور ایران تباہ ہو جاتاہے تو اِس کے بعد پاکستان کی باری بھی آئے گی کیونکہ امریکہ اور اسرائیل ہمارے مغربی بارڈر پر کھڑے ہوں گے اور مشرقی بارڈر پر پہلے ہی بھارت جیسا ازلی دشمن ہے ۔ پھر سی پیک کا منصوبہ اور گوادر بھی خطرے میں پڑیں گے اور موساد کو بھی شرانگیزی کا موقع ملے گا ۔ لہٰذا پاکستان کو امریکہ کی جنگ میں حصّہ دار بننے کی بجائے اسے ہر ممکن اس جنگ کو رکوانے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ اگرچہ اسرائیل کبھی نہیں چاہے گا کہ یہ جنگ رُک جائے کیونکہ وہ گریٹر اسرائیل کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں ۔ لیکن اگر مسلمان ممالک آپس میں متحد ہو جائیں تو وہ اس شرانگیزی کا مقابلہ کر سکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :’’وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ہے‘ پھر تم میں سے کوئی کافر ہے اور کوئی مؤمن۔‘‘(التغابن:2)
اللہ کے ہاں جماعتیں دو ہی ہیں ۔ ایک کافروں کی جماعت ہے اور ایک مسلمانوں کی ۔ ہمارے لیے آئیڈیل راستہ تو یہی ہے کہ ہم مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ کھڑے ہوجائیں ۔ اس کے برعکس ٹرمپ اور نیتن یاہو چاہتے ہیںکہ مسلمان ممالک متحد ہو کر ایران کے خلاف لڑیں ۔ اگر ایران تباہ ہوگا تو گریٹر اسرائیل کا منصوبہ آگے بڑھے گا اور مسلم ممالک کی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی ۔ یقیناً مسلم حکمران اتنی سی بات کو ضرور سمجھتے ہوں گے ۔ لہٰذا انہیں آپس میں متحد ہو جانا چاہیے اور اگر کافروں میں سے کسی کے ساتھ اتحاد کرنا ہی ہے تو روس اور چین کے ساتھ اتحاد کریں ۔ ڈاکٹر اسراراحمدؒ بھی بہت پہلے یہی بات بیان کرتے تھے اور آج ان کی باتیں سوشل میڈیا پر وائرل بھی ہورہی ہیں ۔ سعودی عرب اورایران کے درمیان کشیدگی کو ختم کرنے میں چین نے پہلے بھی کردار ادا کیا تھا ۔ اسی طرح پاک افغان کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے بھی چین نے کوشش کی ہے ۔ اس کے برعکس امریکہ ہمیں جنگ اور تباہی میں جھونکنا چاہتا ہے ۔ اب فیصلہ ہمارا ہے ۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ؎
یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات
جب تک ہم اپنی اصل کی طرف نہیں لوٹیں گے ہمارے مسئلے حل نہیں ہوں گے ۔ اگر ہم نہیں لوٹتے تو پھر تباہی اور بربادی ہمارا مقدر بنے گی ۔
سوال:ماہِ رمضان میں دورۂ ترجمہ قرآن میں بھرپور شرکت رہی۔ اس کے بعد قرآن سے تعلق کس طرح قائم رکھا جا سکتا ہے؟ (حسین احمد، کراچی)
امیر تنظیم اسلامی:پہلی بات یہ ہے کہ ہم قرآن کی تلاوت کے لیے اپنا کچھ معمول بنائیں۔ہمت کرکے آج سے ہی شروع کریں اور روزانہ تھوڑا تھوڑا مطالعہ کریں ۔ مطالعہ کے لیے ڈاکٹر اسرار احمدؒ کا بیان القرآن موجود ہے ۔ اِس کی ویڈیو رکارڈنگ بھی موجود ہے۔ روزانہ اِس کو تھوڑا تھوڑا سنیں ۔ فتنوں کے اِس دور میں اگر روزانہ گھروالوں کے ساتھ بیٹھ کر پندرہ بیس منٹ قرآن سن لیں تو اِس کا بڑا فائدہ ہوگا ، ان شاء اللہ۔ ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے قائم کیے ہوئے اداروں انجمن ہائے خدام القرآن اور قرآن اکیڈمیز ہر سال رمضان کے بعد رجوع الی القرآن کورسز کا آغاز کرتے ہیں ۔ کئی شہروں میں یہ کورسز اپریل میں شروع ہو چکے ہیں ۔ ان کورسز میں شامل ہو جائیں ، قرآن کو سیکھنے ، سمجھنے اور عمل کرنے کا بہترین موقع ملے گا ۔ اِسی طرح تنظیم اسلامی اور انجمن ہائے خدام القرآن کے تحت ہر شہر میں دروس قرآن کے پروگرامز بھی ہوتے ہیں ، آن لائن کورسز بھی ہوتے ہیں ۔ ان میں شریک ہو جائیں ۔ آن لائن کورسز کے لیے ویب سائٹ دستیاب ہے :
www.lms.quranacedemy.edu.pk
اس ویب سائٹ پر جاکر آپ داخلہ لے سکتے ہیں اور کورسز کے بارے میں معلومات بھی حاصل کر سکتے ہیں ۔ بہت آسان کورسز ہیں اور وہیں پر آپ کا ٹیسٹ بھی ہوگا اور سرٹیفیکیٹ بھی مل جائے گا ۔ اس کے علاوہ عربی گرامر، تجوید کی کلاسز ،سیرت النبیﷺ کے مطالعہ کے کورسز بھی دستیاب ہیں ۔ دنیا بھر سے لوگ ان کورسز سے استفادہ کر رہے ہیں ۔ تنظیم اسلامی کی ویب سائٹ پر اس کی تفصیل مل جائے گی ۔
سوال:تنظیم اسلامی میں شمولیت کے لیے کیا مجھے بینک کی ملازمت ترک کرنا ہوگی؟ (حذیفہ ابراہیم)
امیر تنظیم اسلامی:ہم یہ تو نہیں کہیں گے کہ بینک کی ملازمت چھوڑو گے تو تنظیم میں شامل ہو سکتے ہو ورنہ نہیں ۔ آپ اگر تنظیم کے منہج اور فکر سے متفق ہیں، امیر تنظیم سے متفق ہیں تو آپ تنظیم میں شامل ہو سکتے ہیں ، تنظیم کے پروگرامز میں شرکت کر سکتے ہیں ، کورسز میں حصّہ لے سکتے ہیں ۔ جہاں تک بینک کی ملازمت کا معاملہ ہے تو اس حوالے سے ہم نے دو تین افراد پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دے رکھی ہے ، وہ آپ کو مکمل رہنمائی دے گی اور اگر سود میں ملوث ہونے کا معاملہ ہوا تو کمیٹی جاب کو چھوڑ دینے کی سفارش کرے گی ۔ کیونکہ حدیث میں سود لینے والے ، سوددینے والے ، لکھنے والے ، گواہ بننے والے پر لعنت فرمائی گئی ہے۔ ایسا معاملہ اگر کسی بھی ملازمت یا کاروبار میں ہوتو اس کو چھوڑدینا چاہیے کیونکہ اللہ کے رسول ﷺ کی حدیث ہے کہ حرام مال سے پرورش پانے والا جسم جنت میں نہیں جائے گا ۔ ایسے بہت سے لوگ ہیں جنہوں نے تنظیم اسلامی میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد ایسے ذرائع آمدن کو چھوڑ دیا جن میں سود یا حرام کا شبہ تھا۔ بھائی صاحب بھی جب تنظیم میں آئیں گے تو ان کو موٹیویشن ملے گی اور یہ بہتر فیصلہ کر پائیں گے ۔ تنظیم اسلامی ایسے رفقاء سے انفاق نہیں لیتی جن کی آمدن میں سود یا حرام شامل ہو ۔اس کے علاوہ وہ تنظیم کے پروگراموں میں شرکت کر سکتے ہیں ۔
سوال: کیاایسا ممکن ہے کہ تنظیم ایسے رفقاء کے لیے متبادل ذریعہ آمدن یا ملازمت کا انتظام کرے ؟
امیر تنظیم اسلامی: ہر مسلمان کا دوسرے مسلمان پر حق ہے کہ اس کے کام آئے ، اس کے لیے آسانیاں پیدا کرے ۔ اگر ایسا ہو تو یہ بہت بڑی بات ہے لیکن تنظیم اسلامی میں آنے کا مقصد اللہ کی رضا کے لیے دین کی دعوت اور اس کو قائم کرنے کی جدوجہد میں حصّہ لینا ہے ۔ اس نیت سے کوئی تنظیم میں آتاہے تو ا س کو اللہ کے ہاں اجر ملے گا ۔ اوّلین نیت یہی ہونی چاہیے ۔ باقی ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی مدد کرے ، بیمار ہوجائے تو عیادت کرے ، انتقال ہو جائے تو جنازے میں شرکت کرے ، وارث نہ ہو تو کفن دفن کا انتظام کرے ۔ اجتماعیت میں ان باتوں کا اور بھی زیادہ خیال رکھا جانا چاہیے ۔
سوال: ایک اچھا مسلمان بننے کے لیے کیا کسی جماعت میں شامل ہونا ضروری ہے؟ (مستقیم احمد، کراچی)
امیر تنظیم اسلامی:اس حوالے سے ڈاکٹر اسراراحمدؒ کا ایک بیان سورۃ العصر کی روشنی میں موجود ہے ۔ اسے اگر کوئی سن لے تو اس سوال کا مکمل جواب مل جائے گا۔ اسلام کا مزاج ہی اجتماعیت کا ہے۔ جیسا کہ اسلام باجماعت نماز کی تاکید کرتاہے ۔ عورتوں پر باجماعت نماز لازم نہیں ہے لیکن مردوں کے لیے لازم کی گئی ہے ۔ جمعہ کی نماز اکیلے نہیں ہو سکتی ۔ عید کی نماز بھی بندہ اکیلے نہیں پڑھ سکتا ۔ اسی طرح حضور ﷺ نے فرمایا :سفر پر جاؤ تو اکیلے مت جاؤ بلکہ تین افراد مل کر سفر کرو اور ان میں سے کسی ایک کو اپنا امیر مقرر کرلو ۔ سورۃ الفاتحہ میں ہم پڑھتے ہیں : {اِیَّاکَ نَعْبُدُ }’’ہم صرف تیری ہی بندگی کرتے ہیں۔‘‘
بندہ جب اکیلے نماز پڑھ رہا ہو تو تب بھی یہی الفاظ دہراتاہے ۔ اسی طرح دین کے بہت سے احکامات ہیں جن میں انسان اکیلے عمل نہیں کرسکتا ۔ دین کے قیام کی جدوجہد اکیلا بندہ ہرگز نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے جماعت کا ہونا ضروری ہے ۔ جیسے نماز کے لیے وضو شرط ہے اسی طرح دین کے اجتماعی احکامات پر عمل کے لیے اجتماعیت میں شامل ہونا شرط ہے ۔ سورۃ العصر میں فرمایا :
’’زمانے کی قسم ہے۔یقیناً انسان خسارے میں ہے۔سوائے اُن کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے اور انہوں نے ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور انہوں نے باہم ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کی۔‘‘(العصر)
ایمان اور اعمال صالح انفرادی سطح پر بھی ہو سکتے ہیں لیکن باقی دو شرائط کو پورا کرنا اجتماعیت کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔ اگر ممکن ہوتا تو موسیٰ d اکیلے ہی دین کو قائم کر لیتے ، انہیں بھی جماعت کی ضرورت پڑی اور جماعت نے صاف انکار کردیا : ’’بس تم اور تمہارا رب دونوں جائو اور جا کر قتال کرو‘ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔‘‘(المائدۃ:24)
جماعت نہیں ملی تو دین قائم نہیں ہوا اگرچہ حضرت موسیٰ ؑ نے دعوتِ دین کا حق ادا کر دیا اور وہ اللہ کے حضور کامیاب ٹھہرے۔ اس کے برعکس اللہ کے آخری رسول ﷺ کی جماعت اپنی جان و مال کی قربانیوں کے لیے تیار تھی لہٰذا اللہ کا دین قائم ہو گیا ۔ دین کا جامع تصور یہ ہے کہ مسلمان انفرادی سطح پر بھی اللہ کی بندگی کرے ، پھر بندگی کی دعوت دوسروں کو بھی دے اور پھراس بندگی والے نظام کے قیام کی جدوجہد میں بھی حصہ لے۔ ایک اچھا مسلمان بننے کے لیے انفرادی اور اجتماعی دونوں سطح پر فرائض دینی کو ادا کرنا ضروری ہے ۔ قرآن میں اللہ فرماتاہے :
’’اے اہلِ ایمان! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور سچے لوگوں کی معیت اختیار کرو۔‘‘ (التوبہ :119)
انفرادی سطح کے اعمال سے ایک مسلمان کے فرائض پورے نہیں ہو جاتے اور قرآن کہتا ہے کہ اچھا مسلمان وہ ہے جو پورے کے پورے اسلام پر عمل کرنے کی کوشش کرے ۔ایک انسان انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر دین کے فرائض کو ادا کرنے کی کوشش کرے گا تو وہ انفرادی سطح پر بھی ایک اچھا مسلمان بنے گا اور اجتماعی سطح پر بھی معاشرے کے لیے ایک کارگر اور مفید انسان ثابت ہوگا ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی معنوں میں سچا مسلمان بننے کی توفیق عطافرمائے ۔ آمین یا رب العالمین!