(اداریہ) عارضی جنگ بندی --- گریٹر اسرائیل کا منصوبہ دفن ہو گیا ؟ - رضا ء الحق

8 /
اداریہ
 
رضاء الحق
 
عارضی جنگ بندی --- گریٹر اسرائیل کا منصوبہ دفن ہو گیا ؟
 
موجودہ عالمی حالات نہایت پیچیدہ، کثیرالجہتی اور گہرے فکری و عملی بحران کی عکاسی کرتے ہیں، جنہیں محض سیاسی یا معاشی زاویے سے سمجھنا ناکافی ہے۔ درحقیقت یہ صورتِ حال ایک ایسے ہمہ گیر تصادم کی نشاندہی کرتی ہے جس کی جڑیں نظریاتی، تہذیبی اور مذہبی بنیادوں میں پیوست ہیں۔بدھ کی صبح کو پاکستان کی ثالثی سے ایران اور امریکہ کے مابین کم و بیش ڈیڑھ ماہ سے جاری مستقل جنگ کو دو ہفتوں کے لیےبند کرنے کااعلان کیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اسے مستقل جنگ بندی یاقیامِ امن کا معاہدہ قرار دینے کی بجائے اگرامریکہ اور ایران دونوں کی جانب سے ایک عارضی اور محدود جنگ بندی(limited and temporary cessation of hostilities)   کہا جائے تو حقیقت سے قریب تر بھی ہو گا اورآئندہ کے مجوزہ اقدام کو سمجھنے میں بھی سہولت ہو گی۔ دو ہفتوں پر محیط اِس عارضی جنگ بندی کے نتیجے میں امریکہ اور ایران آپس میں براہِ راست جھڑپوں سے اجتناب کرنے کے پابند ہوں گے۔بالفاظِ دیگر اِس کا مقصد کشیدگی میں کمی لانا اور مذاکرات کے لیے موقع فراہم کرنا ہے، نہ کہ جنگ کا مکمل خاتمہ۔یہ ایک وسیع تر فریم ورک سے بھی منسلک ہے جسے’’اسلام آباداکارڈز‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اسلام آباد اکارڈز کے تحت پاکستان کی میزبانی میں امریکہ اور ایران کے وفودمذاکراتی عمل شروع کر رہے ہیں، تاکہ مرحلہ وار مستقل جنگ بندی کی طرف بڑھا جا سکے۔ ہمیں حیرت نہیں ہوئی کہ امریکہ نے مذاکراتی وفد میں نائب صدر جے ڈی وینس، کٹر صہیونی سٹیو وٹ کاف اور ٹرمپ کے یہودی داماد جیرڈ کشنر کو نامزد کیا ہے۔ اِن افراد سے مستقل جنگ بندی کی امید رکھنا دیوانے کا خواب ہے۔ بہرحال، ہمارے نزدیک خطے میں جنگ بندی چاہے عارضی ہی کیوں نہ ہوخوش آئند ہے ۔اگرچہ اِس عمل میں دیگر کئی ممالک نے بھی پسِ پردہ کردار ادا کیا لیکن معاہدے کروانے میں اہم ترین رول پاکستان نے ادا کیا جس سے عالمی سطح پر مملکتِ خداداد کی عزت و اہمیت بڑھی ہے۔ الحمد للہ!
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا امریکہ اِس معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے ایران پر دوبارہ حملہ کرنے سے باز رہتا ہے یا روایتی منافقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر معاہدہ توڑ دیتا ہے۔دوسرا یہ کہ عارضی جنگ بندی کے اِس معاہدے کو ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل نے باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا جس سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ گریٹر اسرائیل کے مذموم ہدف کو حاصل کرنے کے لیے خطے اور دنیا میں زیادہ دیر تک امن قائم نہیں رہنے دے گا۔معاہدے کی ایک شق جس کے مطابق اسرائیل لبنان پر حملے بھی دو ہفتوں کے لیے بند کر دے گا کی صہیونی ریاست کی جانب سے متعدد بار خلاف ورزی بھی کی جا چکی ہے۔ معاہدہ طے پا جانے کے بعد گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران اسرائیل نے کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے لبنان پر 100 سے زائد میزائل داغے ہیں۔ عارضی معاہدے کے بعداسرائیل اور بھارت کے اعلیٰ حکومتی و اپوزیشن عہدیداروں اور میڈیا میں کہرام مچا ہوا ہے۔ جنگ میں       دو ہفتوں کے وقفہ کے دوران ایران کی نگرانی میں آبنائے ہرمز ،جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزر گاہ ہے، بھی کھل جائے گی اور اِس بات کا قوی امکان ہے کہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں کمی ہو گی۔لہٰذا حکومتِ پاکستان کو چاہیے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو پہلے کی سطح پر واپس لا کر عوام کو ریلیف دے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ڈیڑھ ماہ کی اِس جنگ میں امریکی رویہ نے عرب ممالک کی آنکھیں بھی کھول دی ہوں گی۔ انہیں بھی اب غور کرنا ہوگا کہ امریکہ و اسرائیل کے وعدے کسی کام کے نہیں اور اُن کی سرزمین پر موجود امریکی اڈے assets کی بجائے liabilities ہیں، جن سے جتنی جلدی چھٹکارہ حاصل کیا جائے اُتنا ہی فائدہ مند ہوگا۔عارضی معاہدے کی شقیں اور ایران کی جانب سے پیش کی گئی کچھ اضافی شرائط اور مطالبات پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پربغیر کسی دشواری کےدستیاب ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ قارئین اِن کا مطالعہ کر بھی چکے ہوں گے۔ ہم تحریر کے بقیہ حصّے میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری نظریاتی کشاکش کا دینی بنیاد پر تجزیہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ ان شاء اللہ! 
بحیثیت ِمجموعی ، یہود و نصاریٰ کبھی بھی مسلمانوں کے دوست اور خیر خواہ نہیں ہوسکتے۔قرآنِ حکیم اس حقیقت کو نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کرتاہے۔ سورۃ البقرۃکی آیت 120 میں فرمایا: ’’اوراے مخاطب! ہرگز راضی نہ ہوں گےتم سے یہودی اور نہ نصرانی جب تک کہ تم پیروی نہ کرو ان کی ملت کی۔‘‘ یہ آیت محض ایک تاریخی بیان نہیں بلکہ ایک دائمی اصول کی حیثیت رکھتی ہے، جو آج کے عالمی منظرنامے میں پوری طرح نمایاں ہے۔اسی طرح سورۃ المائدہ کی آیت 51 میں اہلِ ایمان کو واضح ہدایت دی گئی ہے کہ وہ یہود و نصاریٰ کو اپنا قریبی رفیق اور رازدان نہ بنائیں، کیونکہ ان کے باہمی مفادات اور اتحاد کی نوعیت ایسی ہے جو بالآخر مسلمانوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔ قرآن مجید کے اِن رہنما اصولوں کو نظر انداز کر کے اگر اُمّتِ مسلمہ اپنی سیاسی و سفارتی حکمتِ عملی ترتیب دیتی ہے تو اس کے نتائج وہی ہوں گے جو آج ہم دیکھ رہے ہیں: انتشار، کمزوری اور مسلسل دباؤ۔ 
رسول اللہﷺ کی احادیث مبارکہ بھی اس نوع کی صورتِ حال کے حوالے سےخبریں دیتی ہیں۔چنانچہ سیدنا ثوبان ؓ کی روایت کے مطابق ایک وقت آئے گا جب دشمن قومیں مسلمانوں پر ایسے ٹوٹ پڑیں گی جیسے بھوکے لوگ کھانے پر ٹوٹ پڑتے ہیں، حالانکہ مسلمان تعداد میں کم نہ ہوں گے بلکہ ان کی حالت سیلاب کی جھاگ جیسی ہو جائے گی۔ اس کیفیت کی بنیادی وجہ آپ ﷺ نے ’’وہن‘‘ بیان فرمائی، یعنی دنیا کی محبت اور موت کا خوف۔ اگر آج کے مسلم معاشروں، خصوصاً مسلم ممالک کے سربراہان کےرویوں (مثلاً ٹرمپ نوازی) کا تجزیہ کیا جائے تو یہ تشخیص اُن پرصد فیصدپوری اُترتی دکھائی دیتی ہے۔ بعض حلقے حالیہ جنگوں کو محض جغرافیائی سیاست کے طور پر پیش کرتے ہیں، لیکن اسرائیلی اور امریکی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کے متعدد بیانات اور عملی اقدامات اِس بات کے شاہد ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے مسلم ممالک سے متعلق اسرائیل اور امریکہ کی پالیسیوں میں سیاست یا تہذیب کو نہیں بلکہ مذہب کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ دوسری طرف مسلم دنیا داخلی طور پر شدید تقسیم کا شکار ہے۔ قومی مفادات، علاقائی تعصبات، مسلکی اختلافات اور سیاسی رقابتیں اس حد تک غالب آ چکی ہیں کہ اُمّت کا اجتماعی شعور مفلوج ہو کر رہ گیا ہے اور کوئی مسلم ملک اپنی خارجہ پالیسی کو قرآن و سنت کی بنیاد پر استوار کرنے کو تیار ہی نہیں۔ 
سورۃ آل عمران کی آیت 103 میں اُمّت ِمسلمہ کو دی گئی ہدایت :’’اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے تھام لو مل جل کر اور تفرقے میں نہ پڑو‘‘ محض تلاوت تک محدود ہو گئی ہے، جبکہ عملی زندگی میں اِس کے تقاضوں کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح سورۃ الحجرات کی آیت10 کا تصور: ’’یقیناً تمام اہل ِایمان آپس میں بھائی بھائی ہیں‘‘ بھی محض ایک نعرہ بن کر رہ گیا ہے، حالانکہ اس پر عمل میں ہی اُمّت کی بقا اور استحکام کی ضمانت ہے۔ گویا مسئلہ صرف خارجی ہی نہیں بلکہ داخلی بھی ہے۔ مسلم معاشروں میں معاشی بدحالی، سودی نظام، خاندانی انتشار، سیاسی عدم استحکام اور بدعنوانی جیسے عوامل اس کمزوری کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔ جب ایک معاشرہ اپنی داخلی بنیادوں کو مضبوط نہ رکھ سکے تو بیرونی دباؤ کا مقابلہ کرنا اُس کے لیے تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ پاکستان جو اسلام کے نام پر قائم ہوا تھا اور آج واحد مسلم ایٹمی قوت ہے اُس کے لیے یہ صورت حال مزید حساس ہے، جہاں ایک طرف عالمی طاقتوں کا دباؤ ہے اور دوسری طرف داخلی سیاسی و معاشی بحران۔ عالمی سطح پرارضِ فلسطین اور مسجد اقصیٰ کا مسئلہ اس پوری صورتِ حال کا مرکزی نقطہ ہے۔ آرماگیڈون (بڑی جنگ) کے ساتھ یہودی اپنے ابلیسی منصوبہ کے مطابق مسجدِ اقصیٰ کو (معاذ اللہ) شہید کر کے اُس کی جگہ تھرڈ ٹیمپل تعمیر کرنے پر تُلے ہوئے ہیں اور یہ سب اُن کے نزدیک دجال کی عالمی حکومت کو قائم کرنے لیے لازمی اقدامات ہیں۔ مسجد اقصیٰ مسلمانوں کا قبلۂ اوّل ہے، اِس سرزمین کو قرآن نے بابرکت قرار دیا ہے۔ احادیث مبارکہ میں اِس بابرکت مسجد کی زیارت اور وہاں عبادت کی خصوصی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ پھر یہ کہ سفرمعراج کے دوران اللہ تعالیٰ کے آخری رسول محمد مصطفیٰ ﷺ نے مسجدِ اقصیٰ میں تمام انبیاء ورسل کی نماز میں امامت فرمائی۔ لہٰذا مسجد اقصیٰ کی تولیت کا حق صرف مسلمانوں کو حاصل ہے اور اِسی لیے اس کا دفاع اور آزادی محض سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ اُمّتِ مسلمہ کی دینی ذِمّہ داری بھی ہے۔
یہاں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ صورتِ حال جس میں اُمّت ذلت، رسوائی اور لاچاری کا شکار ہے،یہ مشن پورا کیسے ہوگا؟ کیا مسلمان حکمران، مقتدر حلقے، علماء کرام، دینی جماعتیں اور عوام الناس محض ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں کہ کوئی بیرونی قوت یا کوئی غیر معمولی شخصیت (حضرت مہدی اور مسیح ابنِ مریمؑ) تشریف لاکر ان کے مسائل کا حل کریں گے اور اُن پر آج کوئی ذِمّہ داری نہیں؟ اسلامی تعلیمات اِس طرزِفکر کی نفی کرتی ہیں۔ قرآن واضح طور پر حکم دیتا ہے،’’اور یہ کہ انسان کے لیے نہیں ہے مگر وہی کچھ جس کی اُس نے سعی کی ہوگی۔‘‘ (سورۃ النجم:39) پھر یہ کہ ہر مسلمان سے قرآن کا تقاضا ہے کہ ’’اے اہل ایمان ! اسلام میں داخل ہوجاؤ پورے کے پورے۔‘‘ (سورۃ البقرہ: 208) اِس سے بلند مقصد کیا ہو گا کہ اُمّت اجتماعی طور پر اللہ کےدشمنوں سے مقابلے کے لیے اور دین کے قیام و نفاذ کے لیے مقدور بھر جدوجہد کرے، جیسا کہ فرمایا گیا، ’’اورقائم کرو دین کو۔ اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو۔‘‘( سورۃ الشوریٰ:13) 
اجتماعی سطح پر سب سے اہم ضرورت اُمّت کے اتحاد کی ہے، لیکن یہ اتحاد محض جذباتی نعروں سے حاصل نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے لیے ایک مشترکہ نظریاتی بنیاد درکار ہے، جو صرف قرآن کی صورت میں موجود ہے۔ اسی کے ساتھ ایک منصفانہ اور عادلانہ نظامِ اجتماعی کا قیام بھی لازم ہے، جو معاشی، سیاسی اور سماجی سطح پر انصاف فراہم کرے۔ فرد کی سطح پر بھی ذِمّہ داری کم نہیں۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی اور اپنے دائرہ اختیار میں اللہ کے دین کو نافذ کرے، اپنے اہلِ خانہ اور معاشرے میں اس کی دعوت دے، اور اپنی استطاعت کے مطابق اللہ کے دین کے غلبے کی جدوجہد کرے۔ یہ محض ایک نظریاتی بات نہیں بلکہ دین کا ایک عملی تقاضا ہے، جس کے بغیر کوئی حقیقی تبدیلی ممکن نہیں۔آخری اور حتمی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان کو یہ وعدہ عطا فرماتا ہے:’’ اے اہل ِایمان ! اگر تم اللہ(کے دین) کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور وہ تمہارے قدموں کو جما دے گا۔‘‘ (سورۃ محمد:7 (یہ ایک غیر متبدل اصول ہے کہ اگر مسلمان اللہ کے دین کی دعوت دیں گے اور اُسے بالفعل قائم کرنے کی جدوجہد کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرے گا۔ سوال یہ نہیں کہ حالات کب بدلیں گے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم خود کو اس تبدیلی کے لیے تیار کر رہے ہیں یا نہیں۔طاغوتی قوتوں کے حملوں سے بچنے کے لیے اب ناگزیر ہوچکا ہے کہ مسلم ممالک آپس کے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر متحد ہوجائیں۔ حکومتِ پاکستان کو چاہیے کہ عالمی سطح پر معاہدے کی ثالثی کروانے کے باعث ملک کو جوعزت و تکریم ملی ہے اُسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نعمت بھی سمجھے لیکن یہ بھی نہ بھولے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے لیے ایک اور مہلت بھی ہے۔ ملک میں اسلام کا نظامِ عدلِ اجتماعی قائم و نافذ ہوگا تو گریٹر اسرائیل کا ابلیسی منصوبہ حقیقی طور پر دفن ہوجائےگا۔ ان شاء اللہ!