(الہدیٰ) دین کے داعی کے لیے صبر و استقامت نا گزیر ہیں - ادارہ

8 /
الہدیٰ
 
دین کے داعی کے لیے صبر و استقامت نا گزیر ہیں
 
آیت 60 {فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ} ’’تو (اے نبیﷺ!) آپ صبر کیجیے‘بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے‘‘
یہاں اہل ِ ایمان کی دلجوئی کے لیے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ لوگ اللہ کے وعدے پر یقین رکھو اور ہر حال میں صبر و استقامت کا دامن تھامے رہو۔ اللہ کی مدد ضرور آئے گی اور بالآخر اللہ کا دین غالب ہو کر رہے گا ۔جہاں تک تمہارے موجودہ حالات اور مصائب و مشکلات کا تعلق ہے تو یہ تمہارے امتحان کا حصہ ہیں : {اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْٓا اَنْ یَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَہُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ(2)}( العنکبوت) ’’کیا لوگوں نے یہ سمجھا تھا کہ وہ چھوڑ دئیے جائیں گے صرف یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لے آئے اور اُنہیں آزمایا نہ جائے گا؟‘‘اس سلسلے میں ہمارا قانون بہت واضح ہے: {وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْئٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ط}( البقرۃ:۱۵۵) ’’ اور ہم ضرور آزمائیں گے تم لوگوں کو کسی قدر خوف ‘بھوک اور مال و جان اور پھلوں کے نقصانات سے‘‘۔ چنانچہ اے مسلمانو! ہمت سے کام لو  
ع  ’’ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں!‘‘
اگر تم لوگ اِن امتحانات میں سرخروہو گئے تو اللہ کے وعدے کے مطابق کامیابی تمہارے قدم چومے گی۔
{وَّلَا یَسْتَخِفَّنَّکَ الَّذِیْنَ لَا یُوْقِنُوْنَ(60)} ’’اور آپؐ کو ہرگز ہلکا نہ پائیںوہ لوگ جو یقین نہیں رکھتے۔‘‘
یہاں بھی اہل ِایمان کی تثبیت ِقلبی مقصود ہے کہ اے مسلمانو! ایسا نہ ہوکہ مخالفین کے دبائو کی وجہ سے تمہارے پائوں میں لغزش آ جائے ا ور انہیں تمہارے بارے میں یہ کہنے کا موقع مل جائے کہ یہ لوگ تو کمزور اور بودے ثابت ہوئے ہیں۔ چنانچہ تم اپنے موقف پر کوہِ ہمالیہ کی طرح ڈٹے رہو۔ اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے اس کے راستے میں اپنا تن من اور دھن کھپانے کی حکمت ِعملی بدستور اپنائے رکھو۔ اللہ کی مدد اس راستے میں ضرور تمہارے شامل حال رہے گی اور اللہ تمام مشکلات کو دور کر کے تمہیں لازماًکامیاب کرے گا ‘دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی!
بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ‘ ونفعنی وایاکم بالآیات والذِّکر الحکیمoo
 
درس حدیث
 
تین باتوں کی نصیحت
 
عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍؓ قَالَ لقِیْتُ رَسُوْلَ اللہِ ﷺ:(( فَقُلْتُ مَا النَّجَاۃُ ، فَقَالَ اَمْلِکْ عَلَیْکَ لِسَانِکَ وَلْیَسَعْکَ بَیْتُکَ وَابْکِ عَلیٰ خَطِیْئَتِکَ)) (رواہ احمد والترمذی)
حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا‘ اور عرض کیا‘ کہ حضرت (مجھے بتا دیجئے کہ) نجات حاصل کرنے کا گُر کیا ہے؟ (اور نجات حاصل کرنے کے لیے مجھے کیا کیا کام کرنے چاہئیں؟) آپؐ نے ارشاد فرمایا: ’’ اپنی زبان پر قابو رکھو (وہ بے جا نہ چلے) اور چاہیے کہ تمہارے گھر میں تمہارے لیے گنجائش ہو‘ اور اپنے گناہوں پر اللہ کے حضور میں رویا کرو۔‘‘  
تشریح:رسول اللہﷺ نے عقبہ بن عامرؓ کے سوال پر نجات حاصل کرنے کا گُر بتایا اور تین باتوں کی نصیحت کی: اول زبان پر قابو رکھو۔ زبان کا غیر محتاط استعمال انسان کو ذلیل و خوار کر دیتا ہے جبکہ حُسن ِکلام کی تاثیر سے دشمن بھی دوست بنایا جا سکتا ہے۔ جس نے اپنی زبان پر قابو پا لیا‘ اُس نے بہت بڑا کام کیا۔ دوم یہ کہ بندہ فارغ وقت اِدھر اُدھر گھومنے کی بجائے اپنے گھر میں گزارے تاکہ اپنے بیوی بچوں میں رہ کر گھرکے کام کاج کرے ، اُنہیں ساتھ لے کرعبادت کرے اور اُن کی تربیت کرے۔ سوم یہ کہ اللہ تعالیٰ سے عاجزی‘ اِنکساری کے ساتھ رو رو کر اپنے گناہوں کی بخشش مانگے۔روزِ قیامت جس کی خطائیں بخش دی گئیں وہ یقیناً کامیاب ہوا۔ یہ کام نجات دلانے والے ہیں۔