(خصوصی کالم) اخبارِ اسلام - خالد نجیب خان

10 /

اخبارِ اسلام

غزہ، اصل صور تِ حال کیا ہے؟ (بشکریہ: فرینڈز آف فلسطین)

 

تحقیق: خالد نجیب خان (معاون مرکزی شعبہ نشرو اشاعت)

 

l اسرائیلی پارلیمنٹ کی جانب سے قیدیوں کے لیے سزائے موت کے قانون کی منظوری کے بعد، اسرائیلی حلقے اِس فیصلے کو جشن کے انداز میں پیش کر رہے ہیں ، پھانسی کی رسیاں، مہلک ہتھیار اور زہریلے انجکشن جیسے تصورات کھلے عام زیرِ بحث لائے جا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں قیدیوں کو سزائے موت جیسے انتہائی اقدامات تک پہنچانے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔صدر هيئة علماء فلسطين نواف تكروري کاکہنا ہے کہ قابض دشمن کی جیلوں میں قید اسیران کی آزادی اُمّتِ مسلمہ کی اجتماعی ذِمّہ داری ہے،جس کے لیے ہر سطح پر آواز اٹھانا ضروری ہے۔ترجمان القسام بریگیڈز ابو عبيدہ نے کہا ہے کہ فلسطینی قیدیوں کے لیے سزائے موت کے قانون کا فیصلہ خاموش اور بے حس دنیا کے ماتھے پر بدنما داغ ہے ۔ اس پر خاموشی اختیار کرنا خطرناک طرزِ عمل ہے۔
l قابض اسرائیلی افواج نے شمالی مقبوضہ مغربی کنارے میں واقع جنین کے جنوبی گاؤں الفندقومیہ کی اراضی کے وسیع رقبے پر فوجی مقاصد کے بہانے قبضے کا نوٹس جاری کیا ہے۔ اس نوٹس کے ذریعے مذکورہ گاؤں کی تقریباً 8 ہزار 950 مربع میٹر زمین ہتھیانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
l قابض اسرائیلی افواج کی جانب سے غزہ کی پٹی میں سیز فائر یا جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جہاں مختلف علاقوں میں پناہ گزین مراکز اور بے گھر فلسطینیوں کے اجتماعات کو آرٹلری، ڈرون طیاروں اور فائرنگ کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد فلسطینی جام شہادت نوش کر چکے ہیں اور کئی زخمی ہوئے ہیں۔ قابض اسرائیل اشیاء کی نقل و حرکت کو کنٹرول کر کے ’بھوک کی انجینئرنگ‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اُس انسانی پروٹوکول کی خلاف ورزی کر رہا ہے جس کے تحت روزانہ 600 امدادی ٹرکوں کا داخلہ لازمی ہے۔
l مراکش کے عوام نے مختلف شہروں میں اقصیٰ اور اسیران کے ساتھ عہد کی تجدید کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے بھرپور عوامی مظاہرے کیے۔یہ اجتماعات فاس،طنجہ اوررباط میں ہوئے۔ شرکاء نے پیغام دیا کہ یہ مظاہرے فلسطین کے ساتھ جاری وابستگی اوربائیکاٹ کی جدوجہد کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار ہیں۔
l گزشتہ تیس ماہ سے جاری نسل کشی اور خونریزی کے سائے میں جہاں ہر سو زندگی سسک رہی ہے، وہاں محفوظ بیت الخلاء اور طہارت جیسی بنیادی انسانی ضرورت کی فراہمی بھی ناممکن ہو کر رہ گئی ہے۔قابض اسرائیلی دشمن کی وحشیانہ بمباری نے جہاں ہنستے بستے گھروں کو قبرستانوں میں بدل دیا، وہاں شہری ڈھانچے اور سیوریج کے نظام کو بھی پیوند خاک کر دیا۔وزارت صحت فلسطین کے مطابق 11 اکتوبر2025ء کےجنگ بندی کے اعلان کے بعد کے اعداد و شمار کچھ یوں ہیں شہداء : 754، زخمی:2100، نکالی گئی لاشیں: 760۔جبکہ7اکتوبر 2023ء سے اب تک مجموعی اعداد و شمار اس طرح سے ہیں۔ شہداء: 72333 زخمی: 172202۔ یہ اعداد و شمار غزہ میں جاری انسانی بحران کی سنگینی واضح کررہے ہیں ، جہاں بنیادی سہولیات اور امدادی رسائی شدید متاثر ہے۔ہماری دعائیں غزہ کے بہادر عوام کے ساتھ ہیں۔اُن کے تحفظ اور انصاف کے لیے آواز بلند کرنا ہم سب کی ذِمّہ داری ہے۔

 

مسلم دنیا سے متعلق دیگر ممالک کی اہم خبریں


lامریکہ:سینیٹر برنی سینڈرز نے اسرائیل کو اسلحہ فراہم کرنے سے روک دیا: سینیٹر برنی سینڈرز نے اسرائیل کو 500 ملین ڈالر مالیت کے اسلحے کی فراہمی روکنے کی کوشش کی ہے۔اُن کا کہنا ہے کہاسرائیل کی مزید حمایت اب قابلِ قبول نہیں ہے۔ امریکی ٹیکس دہندگان نیتن یاہو حکومت کے جنگی اخراجات نہیں اُٹھاسکتے ۔ غزہ، ایران اور لبنان میں شہریوں کے قتل اور بے دخلی کی فنڈنگ بند ہونی چاہیے ۔ اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی روکنے کے لیے ووٹنگ کرائی جائے گی۔
l فلوریڈا میں شریعہ قانون پر پابندی: ریاست فلوریڈا کے گورنر ران ڈی سانٹیس نے ریاست میں شریعہ قانون اور دہشت گرد گروہوں پر پابندی کے قانون پر دستخط کردئیے ہیں جس کے تحت ایسے غیر ملکی اور مذہبی قوانین بشمول شریعہ قانون پر پابندی ہوگی۔
l سعودی عرب:دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان کا فوجی دستہ پہنچ گیا: وزارت دفاع نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان کا فوجی دستہ کنگ عبدالعزیز ایئربیس پہنچ گیا ہے۔فوجی دستہ پاک فضائیہ کے فائٹر اور سپورٹ طیاروں پر مشتمل ہے۔
l اسرائیل :ایران جنگ ساڑھے گیارہ ارب ڈالر سے زائد میں پڑی: اسرائیلی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ پر اب تک 11 ارب 52 کروڑ ڈالر کے سرکاری اخراجات آئے ہیں، ان میں7 کروڑ 25 ارب ڈالر سے زائد دفاعی اخراجات ہیں۔ واضح رہے کہ دفاعی اخراجات کے لیے تقریباً 3.2 ارب ڈالر اضافی بھی مختص کیے ہیں، جس سے فوجی اخراجات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
lجنگ بندی کا مطالبہ لے کر ہزاروں افراد سڑکوں پرآگئے: ایران کے ساتھ جنگ بندی کے بعد ملک بھر میں جنگ مخالف احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر گئے ہیں۔تل ابیب کے حبیمہ اسکوائر میں ہونے والے بڑے احتجاج میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔مظاہرین نے حکومت کی جنگی پالیسیوں اور لبنان و خطے میں جاری عسکری کارروائیوں کے خلاف نعرے لگائے۔
l اسپین :تہران میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھول دیا: وزیرِ خارجہ جوز مانوئل الباریس نے تہران میں اپنے سفیر کو ہدایت دی ہے کہ وہ تہران جا کر اپنی ذِمّہ داریاں سنبھالتے ہوئے سفارت خانہ کو فعال کریں کیونکہ اسپین ہر ممکن طریقے سے امن کی کوششوں میں شامل ہونا چاہتا ہے۔
l ایران :ہیکر گروپ کا امریکہ پر حملے روکنے کا اعلان: ایران سے تعلق رکھنے والے ’’ہندالہ‘‘ نامی ایک ہیکر گروپ نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے بعد امریکا کے خلاف سائبر حملے عارضی طور پر روک دئیے گئےہیں، تاہم دیگر اہداف کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ہیکر گروپ نے خبردار کیا ہے کہ ہم امریکا کے بنیادی انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
l عراق:کرد سیاستدان نزار آمیدی صدر منتخب: کرد سیاستدان نزار آمیدی عراق کےصدر منتخب ہو گئے ہیں۔ واضح رہے کہ عراق میں پارلیمانی الیکشن گزشتہ نومبر کو ہوئےتھے۔