فساد فی الارض
عامرہ احسان
دنیا مسلسل زیر و زبر ہوئی پڑی ہے۔ ایک ایسی دلدل جس سے نکلنے کی ہر کوشش مزید گہرائیوں میں دھکیلتی ہے۔ سورۃ التین سامنے رہتی ہے۔ اکیسویں صدی میں امریکہ، اسرائیل کا جنگی جنون اور اس میں درندگی کی انتہائیں اسی پر منطبق ہوتی ہیں۔ انبیاء کی سرزمین پر انسانیت کی عالی صفات شخصیات، جو عظمت و کاملیت کی عین ان بلندیوں پر ایستادہ تھیں کہ: ’ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا۔ ‘صرف جسمانی طور پر حسن ِیوسفؑ نہیں، بلکہ اخلاق کردار، اطوار، صلح و جنگ، نجی اجتماعی، بین الاقوامی حیثیت میں انبیاء کو کامل و اکمل بنایا۔ ابراہیم ؈کی ذریت کی سرزمین، محمدﷺ کا مقامِ معراج۔ یہ ہے مشرقِ وسطیٰ بالخصوص سرزمین فلسطین یا انبیاء کا خطۂ شام! (فلسطین، اردن، لبنان، شام پر مشتمل) وہی سرزمین آیت کے اگلے حصے میں آج کے حقائق دکھا رہی ہے۔ ’پھر اسے الٹا پھیر کر ہم نے سب نیچوں سے نیچ کر دیا، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے، کہ ان کے لیے کبھی نہ ختم ہونے والا اجر ہے۔‘ (التین: 6-4 )
یہی سرزمین آج اسفل السافلین کی زد میں ہے۔ اس کی ایجادات میں صرف ایٹم بم نہیں۔ جو ہیرو شیما، ناگا ساکی مناظروالے تاریخ کے سیاہ ابواب رقم کرے۔ اسرائیل نے غزہ میں وہ ہلاکت خیز تھر مو بیرک بم استعمال کیے جو 3500 سینٹی گریڈ درجہ حرارت پرجل کر 3 ہزار فلسطینیوں کو بھاپ بنا کر اڑا گئے۔ نشان تک اجساد کا نہ چھوڑا۔ تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو۔ جو تازہ لاشوں کو قبرستان ادھیڑ کر ان کے اعضاء ’اعلیٰ سائنسی مہارت‘ سے نکال کر محفوظ کر کے بین الا قوامی تجارتی منڈیوں میں ٹرانسپلانٹ کے لیے بیچ کر ڈالر کھرے کرتے ہیں! ان کی دولت کے ذرائع ؟ جنگی معیشت، ایپسٹین کو بچے، نوخیز لڑکیاں بیچ کر ، دنیا کے وسائل (معدنیات، تیل، قیمتی دھاتیں) لوٹ کر،دمکتے شہر، بلند و بالا بلڈنگیں کھڑی کرتے ہیں۔ذی شان کا نفرنسوں کا رعب داب، دمکتے سوٹ بوٹ، انگریزی، فرنچ، AI (مصنوعی ذہانت )اور سوشل میڈیا کے ذریعے جھوٹ سچ کا ملغوبہ بیچ کر دنیا کو مبہوت، مسحورو مجبور کیے رکھنا ہے۔ ٹرتھ سوشل، ٹرمپ کا سرکاری بھونپو۔ سماجی رابطہ کاری کے لیے گلوبل چودھری کی پھر کی کی طرح قلابازی لگاتا پالیسی بیان جاری کرنے کا موبائیل! جس پر ’ٹرتھ‘ (Truth) کے نام پر دجل، فریب جاری ہوتے ہیں۔
پہلے امریکہ اسرائیل نے مل کر سرزمین فلسطین کو خونِ مسلم سے رنگین کیا۔ یہ ہدف کم وبیش 4 لاکھ شہادتوںتک (بین الاقوامی ادارہ، Lancet) رپورٹ کرتا رہا۔ مگر اب دیکھیں تو تعداد آپ کو 2 لاکھ سے زیادہ نہیں ملے گی۔ ورنہ پورے غزہ کے ملبہ در ملبہ اونچی رہائشی عمارات میں مقیم جو دن رات مارے گئے، اندازہ مشکل نہیں! غزہ اور مغربی کنارہ اب ٹرمپ نے اسرائیل کے حوالے کر کے اگلی منزلیں سر کرنی تھیں۔
جنوبی امریکہ، گرین لینڈ، کینیڈا کو دھمکانا، تجارتی قلابازیاں، ٹیرف کی دھونس دھمکی، ’بورڈ آف پیس‘ تماشوں کی طوالت اور پھر یکایک ایران، اسرائیل اس دوران گریٹر اسرائیل مشن پر لبنان، شام پر جتا رہا۔ لبنان میں غزہ کے مناظر پیدا کیے۔ آمدِ دجال کی تیاری اور سیدنا مہدی کا ظہور اور شام میں احادیث میںمذکور ان کے مرکز کی مسلمانوں کو نہ زیادہ خبر ہے نہ دلچسپی ۔حب ِ دنیا، کراہیۃ الموت کے اسیر شادیوں، بیا ہوں،شاپنگوں، پلازوں، ساس بہو جھگڑوں، حسن و جمال کی دنیا، موبائل کی بے پناہ مصروفیات سے فارغ کہاں! نظام تعلیم نے مولوی کی نفرت رگ وپے میں اتار رکھی ہے۔ سو جو خدشہ علاماتِ قیامت میں پاکستان، افغانستان کی لشکر کشی اور مشتر کہ رخ غزوۂ ہند یا لشکر عیسیٰ ؈ بارے تھا، اُس کے خلاف تدابیر ہو چکیں۔ امریکہ اسرائیل بھارت ہم سے بڑھ کر اِن احادیث کے حوالے سے پیش بندی کر چکے! بھارت کی اسلام دشمنی بالخصوص کشمیر میں ظلم کی انتہاؤں پر ہے۔ لازم ہے کہ پاکستان دخترانِ ملت کی (سربراہ) آسیہ اندرابی کی عمر قید ، ان کی ساتھیوں ناہیدہ نسرین اور فہمیدہ صوفی کی 30، 30 سالہ قید کو بین الاقوامی سطح پر اٹھائے۔ ڈاکٹر عافیہ کا قرضہ قوم پر ہنوز باقی ہے۔ دنیا کے لیے ثالثی اور اپنی مظلوم بیٹیوں کے لیے دادرسی مفقود؟ پناہ بخدا؟
حالاتِ حاضرہ دیکھیے۔ پس منظر پر ہم نے روشنی ڈالنے کی ادنیٰ کوشش کی ہے۔امریکہ، ایران مذاکرات اور پاکستان کا اس میں سفارتی کردار دنیا پر چھایا ر ہا۔ بھر بھر کر جہاز دونوں اطراف سے مہمانوں کے آئے۔ ہم نے شاندار میزبانی کی۔ مگر کئی دہائیوں کا قضیہ، 40دن کی جنگ اور صرف 21 گھنٹے بات چیت ؟ پوری دنیا کی نظریں اسلام آباد پر مرکوز رہیں۔ ایران، امریکہ ایک دوسرے کا عزم نا پتے تولتے رہے۔ (ایران کی جنگ امریکہ، اسرائیل کو بہت مہنگی پڑی۔) امریکی نائب صدروینس نے 2 1مرتبہ صدر ٹرمپ اور ایک مرتبہ نتین یاہو کو کال کی۔ ان کا مقصود ایران کو ایٹمی عزائم، ان کی خواہشات کی تکمیل سے باز رکھنا تھا۔ ہرمز کنٹرول کا تنازعہ تھا۔ یہ ایران کی دکھتی رگ ہے کہ اس کی تیل کی برآمد روکی جائے ۔ جس سے بقول ایرانی سفارت کاروں کے، تیل کی قیمت بڑھے گی۔ ادھر ٹرمپ کی دھمکی اتوار ہی سے تیار تھی کہ بات چیت ناکام ہوئی تو ہم فوراً ہر مز بلاک کر دیں گے۔
اسلام آباد سے واپسی پر امریکی زبان میں مزید سختی آئی ہے۔ مسائل کا حل نرم گفتاری میں تھا۔ مگر امریکہ، اسرائیلی چنگل میں گرفتار ہے۔ پہلے بھی اسرائیل نے دورانِ مذاکرات جنگ شروع کر دی تھی۔ ’دلوں کے چاک رفو سے نہیں سلا کرتے۔ وفا کی آنچ، سخن کا تپاک دو ان کو!‘ مگر امریکی، مہذب اردو زبان اور نرم خو، انصاف پسند، صلح جو اسلامی روایت سے نا آشنا تکبر، گھمنڈ، فرعونیت میں گندھے ہیں۔ یورپ سے نکل کر ریڈ انڈین (مقامی،آبائی امریکیوں) کو روند کر قبضہ جمانے کی غنڈہ گرد تاریخ کے حامل ہیں۔تڑ کا مزید لگ چکا ہےصہیونی اسرائیل کا۔ امریکی نژاد ویٹی کن کے پوپ لیو نے ٹرمپ کو عقل کے ناخن لینے کی نصیحت اور خود کو خدائی طاقت کے حامل ہونے کے نفسیاتی گمان سے نکلنے کی تلقین کیا کی، ٹرمپ، خبطِ عظمت کا مریض بھنا اٹھا۔ ’لیو چپ کر کے اپنے( مذہبی) کام سے کام رکھے، سیاست نہ بگھارے۔ حالانکہ ٹرمپ کی اپنی قومی، معاشی، ریپبلکن پارٹی کی ساکھ کی ضرورت ہے کہ وہ خود کو اسرائیل کی مسلط کردہ دیوانگی سے نکال کر ملکی صورت حال پر متوجہ ہو۔
ملک میں ان کی ساکھ گر رہی ہے۔ انتخابات میں ریٹنگ نیچے جارہی ہے۔ خود کانگریس میں جنگ بند کرنے کا دباؤ ہے۔ ٹرمپ کے اعصاب شکستہ حال ہیں۔ لمحہ بھر ایران کے لیڈروں کی تعریف، دوسرے لمحے اسی سے متضاد اول فول جاری۔ اس کے دوبارہ جیتنے کے امکانات کم ہو رہے ہیں اور یہ اتنی ہی زور آوری دکھا رہا ہے۔ یورپ ساتھ چھوڑ چکا ہے۔ برطانوی وزیر اعظم پر سوموار کو جب دباؤ ڈالا گیا تو اس نے صاف جواب دے دیا۔ (ہم اس جنگ میں گھسیٹے جانے پر تیار نہیں۔ برطانیہ اپنے مفادات اور اپنے شہریوں کی سلامتی کو ترجیح دے گا خواہ ہم پر کتنا ہی دباؤ( امریکی)کیوں نہ ہو‘۔ نیز ہرمز کی بندش کو بھی سٹار مر نے سختی سے رد کیا۔
امریکی، ہرمز کی بندش (سوموار،شام ساڑھے پانچ بجے، ایرانی وقت۔) سے ہوئی۔ ٹرمپ نے کہا، امریکہ ہر اس جہاز کو بین الا قوامی پانیوں میں روکے گا جس نے ایران کو راہداری ٹیکس کی ادائیگی کی ہے۔ مجھے بات چیت کی پروا نہیں، ہو نہ ہو! امریکہ ہرمز کا بحری آمد ورفت کا عملی کنٹرول سنبھالے گا۔ جبکہ ایرانی فوج (گارڈز) کی تنبیہہ یہ ہے کہ ہر مز کی طرف آنے والے فوجی جہاز جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھی جائے گی۔ ایران بھی اتنے ہی سخت گیر رویے پر قائم ہے۔ سپیکر محمد قالیباف نے طنز اً ٹر مپ کو کہا، ’جونہی نام نہاد بندش لگی تو تم آہیں بھرتے 5,4 ڈالرفی گیلن یاد کرتے رہ جاؤ گے۔ ٹرمپ کی نئی دھمکیاں ایرانی قوم کے لیے کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔ تم جنگ کرو گے توہم بھی تیار ہیں، تمہاری دھمکیوں پر نہ جھکیں گے۔‘تاہم ہاتھیوں کی جنگ میں دنیا بھر کی غریب، متوسط آبادیاں رُل جائیں گی۔ ٹرمپ کے پہلے بیان پرہی (نیول بندش) تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر بڑھ گئی۔ یو این نے کہا: ایران جنگ 32 ملین کو غربت میں دھکیل سکتی ہے۔ گلوب چہار جانب امریکہ، اسرائیلی وحشیانہ جنگوں تلے تھرا رہا ہے۔ ٹرمپ کی لسانی بمباری اور دوانگلیوں تلے جاری ٹرتھ سوشل۔ گلوبل مارکیٹ اوپر نیچے ہو کر اربوں ڈالر ایک طرف جیبوں سے نکلتے دوسری طرف جیبیں جا بھرتے ہیں۔ سود اور جوئے کا ملغوبہ ناپاک معیشت زندگیاں اجیرن کر رہا ہے۔ کروڑوںکے لیے مرگ مفاجات! امریکہ، اسرائیل کے پیدا کردہ فساد فی الارض سے دنیا بھر میں بیداری کی لہر اُٹھ رہی ہے۔ باذن اللہ پاکیزہ فلسطینی خون رنگ لائے گا۔
tanzeemdigitallibrary.com © 2026