(فکرو نظر) ’’اسلام آباد‘‘ ہو گر’’امت مسلمہ ‘‘کا جنیوا.... - ڈاکٹر ضمیر اختر خان

10 /

’’اسلام آباد‘‘ ہو گر’’امت مسلمہ ‘‘کا جنیوا....

ڈاکٹر ضمیراخترخان

حالیہ عالمی حالات اور خاص طور پر امریکہ و ایران کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں پاکستان نے جس بصیرت، تدبر اور جرات مندی کا مظاہرہ کیا ہے، وہ نہ صرف اس کی سفارتی کامیابی کا ثبوت ہے بلکہ اُسے مسلم امہ کی قیادت کے ایک مضبوط امیدوار کے طور پر بھی سامنے لاتا ہے۔ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت امریکہ اور ایران دونوں کو پندرہ دن کی جنگ بندی اور اس دوران براہ راست مذاکرات سے اختلافات کے مستقل اور پرُامن حل کی تلاش پر تیار کرنے میں کامیاب ہوگئی ۔ پوری انسانی برادری کو ناقابل تصور طور پر تباہ کن جنگ کے شعلوں سے بچانے کی پاکستان کی اِس کاوش کو دنیا کی تقریباً تمام ہی حکومتیں اور قومیں خراج تحسین پیش کر رہی ہیں ۔ اِس صورت حال نے جنیوا کے بجائے پاکستان کے دارالحکومت کو عالمی سفارت کاری کا مرکز بنادیا ہے اور اقبال کی یہ خواہش کہ ’’تہران ہو گر عالم مشرق کا جنیوا.... شاید کرئہ ارض کی تقدیر بدل جائے‘‘ تہران کے بجائے اسلام آباد کی شکل میں پوری ہوتی نظر آرہی ہے۔ جنگ بندی پر امریکہ سے زیادہ ایران کو رضامند کرنا مشکل تھا ۔ پاکستان کے اِسی کردار کو سامنے رکھتے ہوئے اقبال کامصرہ ’’تہران ہو گر عالم مشرق کا جنیوا‘‘ مستعار لے کر’’اسلام آباد‘‘ ہو گر’’اُمتِ مسلمہ ‘‘کاجنیوا،عالم اسلام کی تقدیربدل جائے،کاعنوان اختیارکیاہے۔اس مضمون میںچند گزارشات پیش کی جائیں گی جن سے یہ حقیقت اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اگر پاکستان اپنی اس پالیسی کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھائے تو وہ امت مسلمہ کے لیے ایک حقیقی رہنما کردار ادا کر سکتا ہے۔
دنیا اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں طاقت، مفاد اور خودغرضی نے عالمی نظام کو عدم توازن کا شکار کر دیا ہے۔ جنگوں کی آگ، سفارتی کشیدگیاں اور اخلاقی زوال اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ انسانی ساختہ نظام انسانیت کو امن و سکون فراہم کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ ایسے حالات میں پاکستان، جو کلمۂ طیبہ کی بنیاد پر قائم ہونے والی واحد نظریاتی اسلامی ریاست ہے، ایک غیر معمولی ذمہ داری کا حامل ہے۔
حالیہ عالمی بحران میں پاکستان کی کامیاب سفارت کاری نے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر قیادت مخلص ہو اور سمت درست ہو تو یہ ملک نہ صرف اپنے مسائل پر قابو پا سکتا ہے بلکہ پوری امت مسلمہ کی رہنمائی بھی کر سکتا ہے۔ مگر یہ کردار اُسی وقت مکمل اور مؤثر ہو سکتا ہے جب پاکستان اپنی بنیاد یعنی اسلام کی طرف حقیقی معنوں میں رجوع کرے۔
اسلامی نظام کا قیام محض ایک مذہبی نعرہ نہیں بلکہ ایک عملی ضرورت ہے۔ایسا نظام جو عدل، دیانت، مساوات اور اجتماعی فلاح کو یقینی بناتا ہے۔ جب تک پاکستان اپنے اندرونی معاملات کو اسلامی اصولوں کے مطابق استوار نہیں کرے گا، وہ عالمی سطح پر ایک مؤثر اور قابلِ اعتماد قائد کا کردار ادا نہیں کر سکے گا۔
لہٰذا آج کا سب سے بڑا تقاضا یہ ہے کہ پاکستان اپنی نظریاتی اساس کو مضبوط کرتے ہوئے اسلامی نظام کے نفاذ کی طرف سنجیدہ اور عملی پیش قدمی کرے، تاکہ نہ صرف اپنی بقا کو یقینی بنا سکے بلکہ اُمّت ِ مسلمہ کے لیے ایک روشن مثال بھی قائم کر سکے۔
پاکستان کا ابھرتا ہوا سفارتی کردار:پاکستان نے حالیہ بحران میں جس طرح امریکہ اور ایران کو جنگ بندی پر آمادہ کیا، وہ ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔ یہ اقدام محض ایک سفارتی کامیابی نہیں بلکہ ایک بڑی عالمی تباہی کو روکنے کی سنجیدہ کوشش بھی ہے۔ جب اقوام متحدہ اور او آئی سی جیسے عالمی ادارے بے بسی کا شکار نظر آ رہے تھے، پاکستان نے عملی اقدام کرکے یہ ثابت کیا کہ وہ نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی مؤثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔یہ کردار اس بات کا مظہر ہے کہ پاکستان محض ایک ریاست نہیں بلکہ ایک نظریاتی مملکت ہے، جس کے پاس امن، توازن اور انصاف پر مبنی ایک واضح پیغام موجود ہے۔
مسلم اُمّہ کی قیادت کا تقاضا:مسلم اُمّہ اس وقت شدید انتشار، سیاسی کمزوری اور فکری انتشار کا شکار ہے۔ ایسے میں ایک ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو:
•اُمّت ِ کو متحد کر سکے
•عالمی طاقتوں کے سامنے جرات مندانہ مؤقف اختیار کرے
•انصاف پر مبنی نظام کو فروغ دے
•اور اُمّت ِ کے مفادات کا حقیقی تحفظ کرے
پاکستان،اپنے ایٹمی طاقت ہونے، مضبوط عسکری ڈھانچے، اور نظریاتی بنیادوں کی وجہ سے اس کردار کے لیے موزوں ترین ملک بن سکتا ہے۔
اسلام آبادمیں منعقدہ امریکہ ایران مذاکرات اوراس کےعالمی سفارت کاری کا مرکز بننے کے تناظر یہ سوچ کہ ’’اسلام آباد اُمّت ِ مسلمہ کا جنیوا بن سکتا ہے‘‘، محض ایک ادبی خیال نہیں بلکہ ایک عملی امکان ہے۔ اگر پاکستان اپنی غیر جانبدار، متوازن اور اصولی سفارت کاری کو جاری رکھتا ہے تو اسلام آباد واقعی عالمِ اسلام کابالخصوص اور عالم انسانیت کابالعموم مرکز بن سکتا ہے، جہاں بین المسلمین اوردیگرعالمی تنازعات کا پُر امن حل تلاش کیا جائے۔یہ مقام پاکستان کو نہ صرف عالمی عزت دے گا بلکہ مسلم دنیا کو بھی ایک مضبوط پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔
چیلنجز اور خطرات
اگرچہ پاکستان کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہے، لیکن اس کے ساتھ کئی چیلنجز بھی موجود ہیں:
•عالمی طاقتوں کا دباؤ
•علاقائی دشمنوں (خصوصاً بھارت و اسرائیل) کی سازشیں
•داخلی سیاسی عدم استحکام
•معاشی کمزوریاں
•اورسب سے بڑھ کراسلام کے نظام عدل وقسط کی طرف تاحال پیش رفت نہ ہونا
ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کو داخلی استحکام، معاشی خودمختاری اور قومی یکجہتی کو یقینی بنانا ہوگا۔
اسلامی نظام کی طرف پیش قدمی: اس مضمون کا سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ پاکستان کو اپنی کامیابی کو محض سفارتی سطح تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ اسے اسلامی نظام کے نفاذ کی طرف بھی پیش قدمی کرنی چاہیے۔ کیونکہ:اصل قوت اللہ کی نصرت میں ہے، اور اللہ کی نصرت اسی وقت حاصل ہوتی ہے جب قومیں خود کو اس کے احکام کے مطابق ڈھالتی ہیں۔
اگر پاکستان واقعی اُمّت ِ مسلمہ کی قیادت کا خواہاں ہے تو اسے ایک عملی اسلامی ماڈل پیش کرنا ہوگا جو عدل، دیانت اور فلاح پر مبنی ہو۔پاکستان اس وقت تاریخ کے ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ اس کے پاس ایک نادر موقع ہے کہ وہ نہ صرف عالمی سطح پر امن کا علمبردار بنے بلکہ مسلم امہ کی حقیقی قیادت بھی سنبھالے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ:
•سفارتی کامیابیوں کو تسلسل دیا جائے
•داخلی استحکام کو یقینی بنایا جائے
•اور اسلامی اصولوں کو عملی طور پر نافذ کیا جائے
اگر پاکستان اس راستے پر ثابت قدمی سے آگے بڑھتا ہے تو وہ نہ صرف اپنی تقدیر بدل سکتا ہے بلکہ پوری امت مسلمہ کے لیے امید کی کرن بن سکتا ہے۔
آج جب پاکستان ایک فیصلہ کن تاریخی موڑ پر کھڑا ہے اور عالمی سطح پر اس کی سفارتی بصیرت کو تسلیم کیا جا رہا ہے، تو یہ موقع محض فخر کرنے کا نہیں بلکہ ایک بڑی ذِمّہ داری کو پہچاننے کا ہے۔ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے جس حکمت، جرات اور تدبر کا مظاہرہ کیا ہے، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر ارادہ مضبوط ہو تو ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ مگر اس کامیابی کو پائیدار بنانے اور اسے ایک حقیقی اسلامی قیادت میں ڈھالنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کا رخ نفاذِ اسلام کی طرف موڑا جائے۔یہی وہ مقام ہے جہاں دینی و مذہبی جماعتوں کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے۔ ان جماعتوں کو محض تنقید یا محدود سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر ایک مثبت، متحد اور تعمیری کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہیں چاہیے کہ وہ قوم کی فکری و اخلاقی تربیت کے ساتھ ساتھ حکمت اور بصیرت کے ساتھ ریاستی اداروں کا ساتھ دیں، تاکہ ملک میں ایسا نظام قائم ہو سکے جو حقیقی معنوں میں اسلامی اصولوں کا مظہر ہو۔سیاسی قیادت، عسکری ادارے اور دینی جماعتیں اگر ایک صفحے پر آ جائیں اور اخلاص کے ساتھ اسلام کے عادلانہ نظام کے نفاذ کے لیے اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کریں تو پاکستان نہ صرف اندرونی طور پر مضبوط ہوگا بلکہ پوری امت مسلمہ کے لیے ایک عملی نمونہ بن کر ابھرے گا۔ یہی وہ راستہ ہے جو دنیا میں عزت، استحکام اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت دے سکتا ہے۔ ان شاء اللہ عزوجل!