(اظہارِ خیال) دجال کی عالمی حکومت اور نیوورلڈ آرڈر کی حقیقت - محمد رفیق چودھری

10 /

دجال کی عالمی حکومت اور نیوورلڈ آرڈر کی حقیقت

(قسط دوئم )

رفیق چودھری

کفار کا منصوبہ : گریٹر اسرائیل 
گزشتہ قسط میں ہم نے قرآن و حدیث کی روشنی میں جائزہ لیا تھا کہ بلادِ شام (فلسطین ، لبنان ، اُردن ، شام) کے مستقبل کے بارے میں اللہ کا منصوبہ کیا ہے ۔ اس مطالعہ سے تین بنیادی چیزیں ہمارے سامنے آئیں :
1۔ بلادِ شام میں جہاد شروع ہوگا اور اللہ پاک کی رحمت کے سائے اس سرزمین پر ہوں گے ۔ اللہ تعالیٰ اقوام عالم کے دلوں کو بلادِ شام کے مجاہدین کی طرف پھیر دے گا ۔
2۔ پوری دنیا سے سچے اہل ایمان بلاد ِ شام کی طرف ہجرت کریں گے کیونکہ وہاں اللہ کے دین کے لیے لڑنے اور باطل کے خلاف مقدس جنگ کے مواقع ہوں گے ۔ 
3۔ خلافت کا احیاء اسی سرزمین سے ہوگا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسی سرزمین سے خلافت کا عالمی نظام قائم کریں گے ۔ ان شاء اللہ 
یہ اللہ تعالیٰ کا منصوبہ ہے ۔ اس کے مقابلے میں ایک منصوبہ کفار کا ہے جسے آج کل گریٹر اسرائیل کا منصوبہ قرار دیا جارہا ہے ۔ اس حوالے سے اسرائیلی حکام اور عہدیداران کی طرف سےاکثر بیانات بھی سامنے آتے رہتے ہیں اور نقشے بھی لہرائے جاتے ہیں ۔ جیسا کہ جنوری 2025ء میں اسرائیل کے آفیشل سوشل میڈیا پر گریٹر اسرائیل کا ایک نقشہ جاری کیا گیا جس میں فلسطین ، اُردن، شام، لبنان اورکویت کو گریٹر اسرائیل میں ظاہر کیا گیا تھا ۔ اس کے علاوہ عراق اور سعودی عرب کے بڑے حصے کو بھی گریٹر اسرائیل میں دکھایاگیا تھا ۔اس پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی عرب ممالک نے احتجاج کرتے ہوئے اِس منصوبے کو کالعدم قراردیا اور بعض نے اِس کی مذمت بھی کی لیکن عملی طور پر کسی بڑے عرب ملک کی جانب سے اِس صہیونی منصوبے کے خلاف مزاحمت دکھائی نہیں دے رہی ۔ 
گریٹر اسرائیل کا منصوبہ ابتدائی طور پر تھیوڈور ہرزل کی ڈائریوں میں ظاہر ہوتاہے جو کہ صہیونی صحافی اور عالمی صہیونی تنظیم کا بانی تھا ۔ 1904ء میں اُس نے واضح طور پر اعلان کیا تھا کہ گریٹر اسرائیل کی سرحدیں’’نیل سے فرات تک“ پھیلیں گی۔ اِسی صہیونی تنظیم کے ایجنڈے کے مطابق 1917ء میں بالفورڈیکلیریشن پاس ہوا جس میں صہیونی ریاست کے قیام کا وعدہ برطانوی حکومت کی طرف سے کیا گیا تھا اور اسی صہیونی سازش کے تحت خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کرکے شام کو ٹکڑوں میں تقسیم کیا گیا  اور پھرفلسطین میں یہودی آباد کاری کا سلسلہ شروع ہوا جو کہ مختلف سازشوں کے تحت بڑھتے بڑھتے بالآخر 1948ء  میں اسرائیل کے قیام پر منتج ہوا ۔ لیکن صہیونی منصوبے کے مطابق یہ گریٹر اسرائیل کے قیام کی ابتدا تھی جیسا کہ اس کا انکشاف 1947ء میں ہی ربی فش مین نے اقوام متحدہ کی خصوصی کمیٹی برائے فلسطین میں کردیا تھااور اسی تصور کو اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ ) کے دروازے پر کندہ کیا گیا: 
’’اور جب رب ابراہیم پر ظاہر ہوا تو اس نے اسے نیل سے فرات تک مقدس سرزمین عطا کی۔‘‘
 یہی تصور اسرائیل کے نصاب میں بھی شامل کیا گیا :
’’اُس دن، خدا نے ابراہیم کے ساتھ عہد باندھا کہ: میں تیری اولاد کو یہ ملک دوں گا، مصر کی وادی سے لے کر عظیم دریائے فرات تک جوکہ کنیوں ، کنیزی، قدمونی، حِتّی، فرزّی، رفائیم، اموری، کنعانی، گرجاشی اور یبوسی کی سرزمین ہے ۔‘‘
جیسا کہ آگے چل کر ہم غیر جانبدار یہودی مذہبی رہنماؤں اور سکالرز کی آراء بھی پڑھیں گے کہ صہیونیوں کےساتھ کسی بھی آسمانی کتاب میں ایساکوئی وعدہ نہیں ہے۔ صہیونیوں نے فلسطین پر زبردستی قبضہ کیا ہے اور اس ناجائز قبضے کو مذہبی جواز فراہم کرنے کے لیے بائبل کی بعض آیات کی من پسند تاویلیں کی ہیں۔1948ء، 1967ء اور 1973ء کی عرب اسرائیل جنگوں میں امریکہ اور یورپی ممالک کی پشت پناہی میں اسرائیل نے گریٹر اسرائیل منصوبے کی طرف کھل کر پیش رفت کی اور اس کے بعد کبھی کیمپ ڈیوڈ معاہدہ اور کبھی ابراہم اکارڈ کے نام پر اس منصوبے کو آگے بڑھایا ۔ یہاں تک کہ اکتوبر 2023ء کی غزہ جنگ کے بعد سے اسرائیلی حکام نے جارحانہ انداز میں گریٹر اسرائیل کے منصوبے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کا آغاز کردیا ہے ۔ اس منصوبے کے تحت غزہ کے20 لاکھ مسلمانوں کی نسل کشی امریکہ ، برطانیہ اور اقوام متحدہ کی آنکھوں کی نیچے کی جارہی ہے ۔ غزہ پرکم و بیش  ایک سال تک مسلسل بمباری کرنے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے 27 ستمبر2024ء کو  اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران دو نقشے لہرائے، جن میں مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کو اسرائیل کا حصّہ دکھایا گیا تھا۔ 2024ء میں اسرائیلی کنیسٹ نے ایک بل کی منظوری دی جس میں گریٹر اسرائیل کو قانونی حیثیت  دی گئی اور ایک قرارداد کے ذریعے مغربی کنارے میں فلسطینی ریاست کے قیام کو مسترد کیا گیا اور فلسطین کو یہودی آبادی کے لیے ایک وجودی خطرہ کے طور پربیان کیا گیا ۔ 
حقیقت یہ ہے کہ حماس کے طوفان الاقصیٰ آپریشن سے پہلے ہی اسرائیلی حکام کی جانب سے گریٹر اسرائیل کے حق میں بیانات آنا شروع ہو چکے تھے ۔ مارچ 2023ء میں اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے فرانس کے دارالحکومت میں ایک تقریب میںخطاب کیا جس میں اُس کے پوڈیم پر ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کا نقشہ چسپاں تھا ۔ اس نقشہ میں نہ صرف فلسطین بلکہ اُردن اور  لبنان مکمل طور پر جبکہ شام کے بعض علاقوں کو بھی گریٹر اسرائیل میں دکھایاگیا تھا ۔ اس پر اُردن نے احتجاج کے طور پر اسرائیلی سفیر کو طلب کیا ۔ 15 جولائی 2023ء کوانتہا پسند ربی ایلیزر میلامڈ نے عبرانی سائٹ ”یشیوا“ پر اپنے مضمون میں گریٹر اسرائیل منصوبے کے خدوخال بیان کیے اور لکھا کہ ”گریٹر اسرائیل“ کی سرحدیں دریائے نیل سے لے کرعراق میں دریائے فرات تک پھیلی    ہوئی ہیں ۔ جنوری 2024 ء میں اسرائیلی سیاست دان Avi Lipkin کا یہ بیان سامنے آیا :
’’.... آخرکار، ہماری سرحدیں لبنان سے لے کر صحرائے عظیم، جو سعودی عرب ہے، اور پھر بحیرہ روم سے فرات تک پھیل جائیں گی۔ ۔ہمارے پیچھے بحیرہ روم ہے، ہمارے سامنے کرد ہیں، لبنان، جسے واقعی اسرائیل کے تحفظ کی چھتری کی ضرورت ہے، اور پھر مجھے یقین ہے کہ ہم مکہ، مدینہ اور کوہ سینا بھی لے جائیں گے اور ان جگہوں کو پاک کریں گے ۔‘‘
ربی ّراڈک (Radak) کے مطابق:
’’یہ عظیم تر اسرائیل (Greater Israel) کی سرحدیں ہیں، جو فقط مسایاح (دجال ) کی آمد کے بعد پوری ہوں گی۔‘‘
آئندہ قسط میں ہم جائزہ لیں گے کہ گریٹر اسرائیل منصوبہ  کی اصل حقیقت کیا ہے ؟ اور کیا واقعی تورات یا کسی آسمانی کتاب میں صہیونیوں سے اس سرزمین کا وعدہ کیا گیا ہے جسے وہ گریٹر اسرائیل کہتے ہیں ؟ اس کے بعد ہم ان شاء اللہ یہ بھی جانیں گے کہ آسمانی کتابوں میں سرزمین موعود کا وعدہ اصل میں کس سے کیا گیا ہے اور غیر جانبدار یہودی علماء کی اِس بارے میں کیا رائے ہے ؟