خود احتسابی و دروں بینی کا اہتمام
مرکزی شعبہ تعلیم و تربیت تنظیم اسلامی
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی ظاہری و باطنی اصلاح پر یکساں توجہ دیتا ہے۔انسانی شخصیت کی تعمیر ، اخلاقی تطہیر، تہذیب اور معاشرے کی اصلاح کے لیے اسلام نے جن بنیادی امور پر زور دیا ہے، اُن میں خود احتسابی (Self-Accountability) کو ایک اہم حیثیت حاصل ہے۔
لغوی طور پر احتساب کا مطلب ہے حساب لینا یا حساب دینا، یعنی انسان اپنے اعمال، خیالات اور نیت کا روزانہ جائزہ لیتا رہے کہ وہ کیسے اعمال کر رہا ہے، اچھے یا برے؟ اُس کے ذہن میں کیسے خیالات آتے رہتے ہیں ؟ اس کے اعمال خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے ہیں یا ان میں ریاکاری شامل ہے۔ اس طرح وہ اپنی کمزوریوں کو پہچانتا ہے، اپنی غلطیوں کی اصلاح کرتا رہتا ہے، اپنی نیکیوں کو مزید بڑھاتا ہے، برائیوں سے فوری توبہ کرتا ہے اور اپنے رب کے سامنے جواب دہی کے احساس کے ساتھ زندگی گزارتا ہے۔گویا اِس سے پہلے کہ آخرت میں اس سے سوال ہو، وہ خود اپنے نفس کو جواب دہ بناتا ہے۔ اس وصف کی بدولت انسان گناہوں سے بچتا ہے، اُسے اخلاقی بلندی حاصل ہوتی ہے اور یہی وصف اُسے دنیا و آخرت دونوں میں کامیاب انسان بناتا ہے۔
انسان کو اِس دنیا میں امتحان کے لیےبھیجا گیا ہے۔ اس کی ہر چھوٹی بڑی بات اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے علم میں ہے۔ اس حقیقت کا شعور اگر انسان کو ہر لمحہ مستحضر رہے تو انسان ہر قدم احتیاط سے رکھتا ہے۔
سورۃ الحشر میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَلْـتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍج وَاتَّقُوا اللہَ ط اِنَّ اللہَ خَبِیْـرٌ م بِمَا تَعْمَلُوْنَ (18)} ’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اُس نے کل (آخرت) کے لیے کیا آگے بھیجا ہے، اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے۔‘‘
رسول اللہ ﷺ نے خود احتسابی کی اہمیت کو واضح انداز میں بیان فرمایا:
’’ عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے عمل کرے، اور عاجز(غافل) وہ ہے جو اپنے نفس کی خواہشات کے پیچھے چلتا رہے اور اللہ سے (بغیر عمل کے) امیدیں باندھے رکھے۔‘‘(الترمذی)
دورِ حاضر میں سوشل میڈیا ،مادہ پرستی اور پیسے کے پیچھے دوڑ کی وجہ سے بے جا مصروفیت نے انسان کو غفلت میں ڈال دیا ہے۔ وہ اِس بات کو بھول گیا ہے کہ ایک دن آنے والا ہے جب اسے اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ آج لوگ دوسروں کا احتساب کرتے نظر آتے ہیں مگر اپنا احتساب کوئی نہیں کرتا۔
آج ہر شخص نفس پرستی میں مبتلا ہے اور نفس کے تقاضوں کو پورا کرنے میں لگا ہوا ہے۔
قرآنِ مجید نے نفس کے تین مراحل بیان کیے ہیں:
1۔ نفس ِ امّارہ :(برائی کی طرف لے جانے والا نفس، ) جیسا کہ حضرت یوسف ؑ نے فرمایا:{وَمَآ اُبَرِّیُٔ نَفْسِیْ ج اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَۃٌ م بِالسُّوْٓ ئِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ ط اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (53)} (یوسف)
’’اور میں اپنے نفس کو بے قصور نہیں ٹھہراتا، بے شک نفس تو برائی پر اکسانے والا ہے، مگر یہ کہ میرا رب رحم فرمائے، بے شک میرا رب بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔‘‘
2۔ نفسِ لوّامہ:(ملامت کرنے والا نفس)، سورۃ القیامہ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
{وَلَآ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَۃِ (2)}’’اور میں قسم کھاتا ہوں ملامت کرنے والے نفس کی۔‘‘
امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ مومن کا نفس ہے جو غلطی پر پچھتاتا ہے۔لہٰذا وہ گناہ پر نادم ہو کر اور توبہ کر کے اللہ سے رجوع کرتا ہے۔
3۔ نفسِ مطمئنہ:( وہ نفس جو اللہ سے راضی اور اللہ اُس سے راضی )، سورۃ الفجر میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{یٰٓــاَیَّتُہَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ (27) ارْجِعِیْٓ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً (28)} ’’اے اطمینان پانے والے نفس! اپنے رب کی طرف لوٹ آ، اس حال میں کہ تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی۔‘‘
خود احتسابی نفسِ لوّامہ کو قوی بنا کر نفسِ مطمئنہ کی منزل تک پہنچا دیتی ہے۔ قرآنِ مجید بار بار تلقین کرتا ہے:
{قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰىہَا (9) وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىہَا (10)}(سورۃ الشمس)’’ یقیناً فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کو پاک کر لیا، اور ناکام ہو گیا وہ جس نے اسے دبا دیا۔‘‘
{فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ (7) وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ (8)}( الزلزال: 7–،8)
’’جو ذرّہ برابر نیکی کرے گا وہ اسے دیکھ لے گا، اور جو ذرّہ برابر برائی کرے گا وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔‘‘
{وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَنَہَی النَّفْسَ عَنِ الْہَوٰی (40) فَاِنَّ الْجَنَّۃَ ہِیَ الْمَاْوٰی(41)}’’اور جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا اور نفس کو خواہشات سے روکا، تو یقیناً جنت ہی اُس کا ٹھکانا ہے۔‘‘
درج بالا آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ خود احتسابی تقویٰ کی بنیاد اور جدوجہد کا ذریعہ ہے۔ خود احتسابی اپنی نیت کو درست کرنے سے شروع ہوتی ہے، جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
’’ اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔‘‘(بخاری، مسلم)
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن پانچ چیزوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا:’’ عمر کہاں کھپائی، خاص طور پر جوانی کی عمر ، مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا، اور جو علم حاصل کیا اُس پر کتنا عمل کیا۔‘‘(ترمذی)
حضرت عمر فاروق ؓ فرماتے ہیں: کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:’’ اپنا محاسبہ خود کر لو، قبل اِس کے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے۔‘‘
وہ روزانہ رات کو اپنے اعمال کا جائزہ لیتے تھے اور کہتے تھے: کل قیامت کے دن مجھ سے کیا پوچھا جائے گا؟ اپنے دورِ خلافت میں راتوں کو عام لوگوں کے حالات معلوم کرتے، اور جہاں کسی خرابی یا کمی کا احساس ہوتا، خود کو ذِمّہ دار سمجھتے۔ ان کا مشہور قول تاریخ کی کتابوں میں درج ہےکہ :’’اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر گیا تو عمرؓ جواب دہ ہوگا۔‘‘
اسی طرح دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین بھی اپنے اعمال پر کڑی نظر رکھتے تھے۔ آج کا دور سوشل میڈیا، مادہ پرستی، مقابلہ بازی اور اخلاقی کمزوریوں کا دور ہے۔ سوائے چند پاکیزہ نفوس کے، لوگ دوسروں کی غلطیوں پر توجہ دیتے ہیں، باریک بینی سے اُن کی برائیاں نکالتے ہیں اور پھر اُن کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں، جبکہ اپنی آنکھ کا شہتیر اُنہیں نظر نہیں آتا اور اپنی اصلاح یاد نہیں رہتی ۔یہی وجہ ہے کہ معاشرتی مسائل، کرپشن ، جھوٹ اور بے ایمانی میں اضافہ ہورہا ہے۔ اگر ہر شخص خود احتسابی اور دور اندیشی سے کام لے اور اپنی اصلاح پر کمر بستہ ہو جائے تو پورا معاشرہ درست ہو سکتا ہے۔ سوشل میڈیا کے دور میں خود احتسابی مزید اہم ہو گئی ہے کیونکہ انسان کے الفاظ اور اعمال فوری طور پر دوسروں تک پہنچتے ہیں۔
خود احتسابی کے عملی طریقے
1۔ روزانہ محاسبہ:
ہر مسلمان کو چاہیے کہ دن کے اختتام پر سونے سے قبل اپنے اعمال کا جائزہ لے۔کیا اُس نے تمام نمازیں مقررہ وقت جماعت کے ساتھ ادا کیں؟اس نے کسی کا حق تو نہیں مارا؟کیا اُس کی زبان اور نگاہ پاکیزہ رہی؟
2۔توبہ اور استغفار:
غلطیوں کا احساس ہونے پر فوراً اللہ سے معافی مانگنی چاہیے اورعزم مصمّم کرنا چاہیے کہ آئندہ اپنی اصلاح کروں گااور یہ غلطی و گناہ دوبارہ ہرگز نہیں کروں گا۔
3۔نیک لوگوں کی صحبت:
اچھی صحبت انسان کو اپنی اصلاح کی طرف مائل کرتی ہے۔ اچھے دوست انسان کو اچھائی کی طرف مائل کرتے ہیں۔
4۔قرآن و سنت کا مطالعہ:
قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کے مطالعے سے انسان اپنی اصلاح کی طرف مائل ہوتا ہے۔
5۔وقت کا درست استعمال:
ہمیں روزانہ اپنے وقت کا جائزہ لینا چاہیے کہ آج ہم نے کتنا وقت فضول کاموں میں برباد کردیا؟ آئندہ ہم یہ وقت درست اور اچھے کار آمد کاموں میں صرف کریں گے۔
تنظیم ِاسلامی نے خود احتسابی ودروں بینی کے لیے ’’ذاتی احتسابی یادداشت‘‘کا اہتمام کیا ہے۔ رفقائے تنظیم اسلامی کو چاہیے کہ اس سے فائدہ اٹھائیں۔ اس طرح وہ مسلسل اپنی اصلاح کر سکتے ہیں۔اس رجسٹر میں ہم اپنی تمام کیفیات درج کر کے ریکارڈ بنا سکتے ہیں۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ہم پچھلے ہفتہ ،پچھلے ماہ، پچھلے سال کہاں کھڑے تھے اور اب کہاں کھڑے ہیں۔
ہفتہ وار/ ماہانہ/سالانہ جائزہ:
ہر جمعہ، ہر مہینہ کے اختتام پر یا ہر ہجری یا شمسی سال کے آغاز پر اپنا مکمل جائزہ کرلیں کہ میں نے دین کے معاملہ میں کتنی پیش رفت کرلی ہے۔ کون کون سے گناہوں سے میں چھٹکارا حاصل کرچکا ہوں۔ اگر پیش رفت ہوئی ہو اور خود احتسابی کے نتیجہ میں ان شاء اللہ لازماً پیش رفت ہوگی تو اللہ رب العزت کا شکر ادا کریں۔ بصورت دیگر توبہ و استغفار کے بعد دوبارہ جدوجہد شروع کردیں۔
آئیے ہم آج ہی سے عزم کر لیں کہ ہر رات اپنا محاسبہ کریں گے ، توبہ کریں گے اور اپنے نیک اعمال میں اضافہ کریں گے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم اپنے نفس کے محاسب بن جائیں اور دنیا و آخرت میں سُرخرو ہوں۔
حَاسِبُوا أَنْفُسَكُمْ قَبْلَ أَنْ تُحَاسَبُوا(ترمذی)
’’خود احتسابی کی عادت ڈالو ۔ کل کا حساب آج آسان کرلو۔ ‘‘