زمانہ گواہ ہے
قرآن پاک کی تعلیم کو عام کرنے اور اللہ کے نبی ﷺ کے عظیم مشن کے
ساتھ جُڑنے سے اُمت متحد ہوگی :شجاع الدین شیخ
ٹرمپ کے یہودی داماد جیراڈ کشنر کو مذاکرات کی میز پر نہیں ہونا چاہیے
تھا کیونکہ وہ اسرائیل کے نمائندہ کی حیثیت سے وہاں
موجود تھا :رضاء الحق
40 روزہ جنگ کے بعد امریکہ اسرائیل کے ساتھ ایسے نہیں کھڑا جیسا
پہلے کھڑا تھا ، یورپ بھی اسرائیل سے کترارہا ہے :پروفیسر یوسف عرفان
’’امریکہ ایران مذاکرات کا دوسرا دور ‘‘
پروگرام ’’ زمانہ گواہ ہے ‘‘ میں معروف تجزیہ نگاروں اور دانشوروں کا اظہار خیال
سوال: امریکہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا دوسرا دور آئندہ چند دنوں میں دوبارہ اسلام آباد میں شروع ہوگا ۔ اب تک کے مذاکراتی عمل سے آپ کس حد تک مطمئن ہیں اور پاکستان کی میزبانی میں ہونے آئندہ مذاکراتی دور سے آپ مستقل جنگ بندی اور دیرپا امن کے قیام کی کوئی اُمید رکھتے ہیں؟
پروفیسر یوسف عرفان:ہر جنگ کا انجام آخر کار مذاکرات اور مصالحت ہوتا ہے۔ تاہم یہ مصالحت ایک دن میں ممکن نہیں ہوجاتی بلکہ رفتہ رفتہ معاملات آگے بڑھتے ہیں ۔ امریکہ ایران مذاکرات کا پہلا دور بھی ناکام نہیں تھا ، اگر ایسا ہوتا تو دوسرا دور شروع نہ ہوتا۔ اس کا مطلب ہے کہ فریقین صلح چاہتے ہیں ۔ امریکہ اور اسرائیل کا پہلا ہدف ایران میں رجیم چینج تھا جس میں وہ کامیاب نہیں ہوئے کیونکہ ایرانی عوام نے اُن کا ساتھ نہیں دیا ۔ پھر یہ کہ ایران نے آبنائے ہرمز بند کرکے پوری دنیا کو مشکل میں ڈال دیا اور امریکہ کو عالمی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔یہی وجہ ہے کہ امریکہ مذاکرات پر مجبور ہوا ۔ دوسری طرف ایران کا بھی بہت جانی اور مالی نقصان ہوا ہے لہٰذا دونوں امن چاہتے ہیں ۔40 روزہ جنگ سے ایک اہم فرق یہ پڑا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل پہلے ایک جان دوقالب تھے لیکن اب دو جان دوقالب ہیں ۔ یعنی امریکہ اب اسرائیل کے ساتھ اُس طرح نہیں کھڑا جس طرح پہلے کھڑا تھا ۔ امریکہ اور یورپ کے عوام اسرائیل اور ٹرمپ کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ ہنگری میں پہلے پرواسرائیل حکومت تھی لیکن اب نئے وزیراعظم نے اسرائیل کے ساتھ معاہدوں پر نظر ثانی کا اعلان کر دیا ہے۔ برطانیہ ، فرانس ، اٹلی ، سپین سمیت بیشتر یورپی ممالک اسرائیلی عزائم سے تنگ آچکے ہیں ۔ اس جنگ کا یہ بہت بڑا فائدہ ہوا ہے ۔ تاہم اسرائیل اپنے عزائم اور مستقبل کے منصوبوں سے پیچھے نہیں ہٹے گا ۔ گریٹر اسرائیل کے اس منصوبے کی حمایت بھارت بھی کر رہا تھا کیونکہ ہندو توا توسیع پسند عزائم رکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے پاکستان کے ذریعے انڈیا کو اور ایران کے ذریعے اسرائیل اور امریکہ کو جو سبق دیا ہے اس کے بعد دنیا میں طاقت کا توازن بدل رہا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو عزت سے نواز ا ۔ وہ ایرانی قیادت جو دفاعی بینکرز سے باہر نہیں آرہی تھی اُسے پاک فضائیہ اپنی حفاظت میں اسلام آباد لے کر آئی اور پھر بحفاظت واپس لے جاکر چھوڑا ۔ خلیج سمیت پورے خطے میں پاکستانی فضائیہ کا کنٹرول تھا اور اسرائیل پر نہیں مار سکا۔ 47 سال بعد دو متحارب ممالک کو آپس میں ایک ٹیبل پہ بٹھا دینا بھی بہت بڑی بات ہے ۔ تاہم اُمید ہے کہ مذاکرات کامیاب ہوں گے اور خطے میں ایک نئے دور کا آغاز ہو گا ۔ امریکہ اور اسرائیل کو معلوم ہوگیا ہےکہ جنگ کے ذریعے ایران میں رجیم چینج نہیں کر سکتے۔ ایران کی اس کامیابی میں پاکستان اور چین کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے۔ تاہم خدشہ یہ ہے کہ ایران کے اندر سے کوئی خطرہ ایرانی رجیم کے لیے پیدا ہو سکتاہے۔ ایرانی اداروں میںایسے لوگ بھی ہیں جو عرب ممالک خصوصاً سعودی عرب کو بھی ٹارگٹ بنانا چاہتے ہیں ، یہ وہ چیزیں ہیں جن سے دشمن فائدہ اُٹھا سکتا ہے ۔ تاہم مذاکرات میں ہی تمام مسائل کا حل ہے۔
سوال: نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ ایران کو 20 سال کے لیے یورینیم کی افزودگی معطل کرنے کا کہہ رہا ہے جبکہ ایران اس معاملے میں صرف 5 سال کے لیےتیار ہے ۔ اس رپورٹ میں کس حد تک صداقت ہے اور کیا اس معاملے میں فریقین کے مابین اتفاق ہو پائے گا ؟
رضاء الحق: اصولی طور پر دیکھا جائے تو ایران کو ایک دن کے لیے بھی یورینیم افزودگی معطل نہیں کرنی چاہیے بلکہ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی طرف بڑھنا چاہیے کیونکہ ایٹمی ہتھیاروں کا خوف ہی اسرائیل کو جارحیت سےباز رکھ سکتا ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ مذاکرات کے حوالے سے بہت کم چیزیں سامنے آتی ہیں ، بہت سی چیزیں بیک ڈور ڈپلومیسی کے تحت چل رہی ہوتی ہیں ، یہیں سے اندازہ لگا لیں کہ 21 گھنٹے کے مذاکرات کے پہلے دور میں جے ڈی وینس نے 21 کالیں کی ہیں جن میں سے 20 ٹرمپ کو اور ایک اسرائیل کو کی تھی ۔ ایک جاپانی ٹی وی اینکر نے کہا کہ ٹرمپ کے یہودی داماد جیرڈ کشنر کو ان مذاکرات میں موجود نہیں ہونا چاہیے تھا ۔ اس پر یہودی میڈیا نے کافی چیخ و پکار کی کہ یہ اینٹی سمٹزم ہے لیکن اُس کی بات بالکل درست تھی کہ کشنر وہاں اسرائیل کے نمائندہ کے طور پر موجود تھا۔ ایرانی قوم میں اگر کوئی اختلاف تھا بھی تو وہ جنگ کے بعد ختم ہو گیا ہے اورپوری ایرانی قوم نیشنل ازم کی بنیاد پر متحد ہے ، وہ اسلام کا نام اس طرح نہیں لیتے جس طرح اپنی تہذیب کا نام لیتے ہیں ۔ وہ سیکولر طبقہ جومغرب کی پشت پناہی میں حجاب اور پردے کے خلاف کھڑا ہوا تھا وہ بھی اب نیشنل ازم کی بنیاد پر قوم کے ساتھ متحد ہو چکا ہے ۔ایرانی نظام میں ایسا طریقہ کار موجود ہے کہ ایک قیادت ختم ہو گی تو اس کی جگہ نئی قیادت لے لے گی لیکن نظام ختم نہیں ہوگا ۔ نیویارک ٹائمز نے بھی لکھا کہ ایران میں رجیم چینج ممکن نہیں تاہم اگر وہاں کے عوام کو اُبھاردیا جائے تووہ خود رجیم کو ختم کر دیں۔یہ صہیونیوں کی خواہش تو ہے لیکن قابل عمل نہیں ۔ امریکہ اگر آبنائے ہرمز کا کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا تو وہ مذاکرات کی میز پر کبھی نہ آتا لیکن وہاں بھی اسے کامیابی نہیں ملی ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہے ۔ IAEAکے چیف نے کہا کہ 5 سال یا 20 سال تک یورینیم افزودگی روکنا ہمارا مسئلہ نہیں ہے ، یہ سیاسی فیصلہ ہوگا ۔
سوال: وزیر اعظم پاکستان سعودی عرب، ترکیہ اور عمان کے ہنگامی دورے پر ہیںجبکہ فیلڈ مارشل ایران کے دورے پر ہیں ۔ آپ کے خیال میں ان ہنگامی دوروں کا مقصد مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی کوششوں میں تیزی لانا ہے یا پھر پاکستان کے لیے مالی معاونت حاصل کرنا ہے ؟
پروفیسر یوسف عرفان:اس وقت اصل چیلنج مالی معاملات نہیں بلکہ سٹریٹجک ہیں ۔ اگر آبنائے ہرمز پر امریکہ اور اسرائیل کو کنٹرول ہو جاتاہے تو گوادر اور کراچی بے معنی ہو جائیں گے ،اسرائیل ، انڈیا اور UAEکی خطے پر اجارہ داری قائم ہو جائے گی ، سعودی عرب کی بھی ناکہ بندی ہوگی اور چین کے اقتصادی منصوبے اور تجارت بھی خطرے میں پڑ جائے گی ۔ یہی وجہ ہے کہ جب UAEنے پاکستان سے اپنی رقم واپس مانگی تو اس سے زیادہ سعودی عرب نے پاکستان میں ڈیپازٹ کر وا دی اور خود سعودی وزیر خزانہ یہاں آئے ۔ خبر یہ بھی ہے کہ 2ارب ڈالر پاکستانی صنعت کاروں نے بھی جمع کروائے اور اورسیز پاکستانیوں نے بھی ساڑھے 3 ارب ڈالر جمع کروائے ۔ لہٰذا پاکستان کو اس وقت معاشی ایمرجنسی کا سامنا نہیں ہے ۔ اس وقت پاکستان ، چین ، ایران اور ترکیہ کے مفادات مشترک ہو چکے ہیں اوربیک ڈور ایک دوسرے کو سپورٹ کر رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل بے بس نظر آتے ہیں ، پورے خطے پر پاک فضائیہ کی حکمرانی ہے اور امریکہ اوراسرائیل چاہتے ہوئے بھی کچھ نہیں کر سکتے ۔ اگرچہ امریکہ اور اسرائیل کی اجارہ داری اتنی جلدی ختم نہیں ہوگی لیکن ان کو مذکرات کی میز پر بیٹھنے پر مجبور کردینا بھی بہت بڑی کامیابی ہے ۔ قطر ، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان بھی معاہدہ ہو سکتا ہے کیونکہ اسرائیل کی بالادستی سے ان سب کو اقتصادی خطرات ہیں ، خصوصاً بحیرہ احمر میں اگر حالات بگڑتے ہیں تو سب سے زیادہ نقصان سعودی عرب کا ہوگا ۔ مصرمیں جنرل سیسی کو لاکر بٹھا دیا گیا ہے ، سوڈان حماس کی حمایت کر رہا تھا تو وہاں خانہ جنگی کرواد ی اور اس میں UAEبھی ملوث نکلا ۔ اسی طرح صومالی لینڈ کا معاملہ سامنے آیا ۔ اسی طرح محمد بن سلمان ، ترکیہ اور پاکستان کے حکمرانوں کے لیے بھی خطرات ہیں لیکن اس سب کے باوجود مسلم ممالک کے حکمرانوں کو متحد ہو کر کفار کی سازشوں کا مقابلہ کرنا ہوگا ۔ جیسے پاکستان نے سعودی عرب اور ایران کے مفاہمت کی کوشش کی ہے ورنہ عرب ایران جنگ بھی شروع ہو سکتی تھی، شیعہ سنی فسا بھی برپا ہو سکتا تھا ۔ ان خطرات سے اُمت کو بچانے میں پاکستان کا اعلیٰ کردار رہا ہے ۔
سوال: ایران پر امریکی حملے کے پیچھے اسرائیل ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی عرب ممالک اسرائیل کے خلاف کوئی بیان دینے کی ہمت نہیں کر پارہے ، اس کی کیا وجہ ہے ؟
رضاء الحق:اسرائیل نے غزہ میں مسلمانوں کی جو نسل کشی کی ہے اس کے خلاف بھی عرب حکمران نہیں بولے اور اب لبنان پر اسرائیل کی وحشیانہ بمباری جاری ہے۔ اس کے خلاف بھی کوئی عرب ملک نہیں بول رہا ۔ حالانکہ عرب حکمرانوں کو معلوم ہے کہ اسرائیل صرف غزہ اور لبنان کے مسلمانوں کا دشمن نہیں بلکہ وہ تمام عربوں کا دشمن ہے، وہ غیر یہودیوں کو انسان تک نہیں سمجھتے ، انہوں نے PLO کے ساتھ جو کیا ، کیمپ ڈیوڈ اور اوسلو معاہدوں کی جس طرح خلاف ورزیاں کیں ، غزہ جنگ بندی کے باوجود بھی وہ اہل غزہ کی نسل کشی کر رہا ہے ۔ اس کے لیے پانی اور خوراک کو بھی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے ، ہسپتالوں پر بھی بمباری کر رہا ہے ۔ ان ساری چیزوں سے عرب حکمرانوں کو سبق سیکھنا چاہیے ۔ یہ اسرائیل کی ہی کوشش تھی کہ عرب ایران جنگ شروع کروائے ، اس نے بحیرہ احمر پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے صومالیہ اور سوڈان میں فسادات کروائے ، اس وقت بھی سعودی عرب کو اسرائیل سے خطرات ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پاکستانی فوج اور فضائیہ سعودی عرب کے دفاع کے لیے اڈے سنبھال چکی ہے ۔
سوال: سعودی ولی عہد کو لائف تھریٹ ہے۔ کیا یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے فوجی دستے اور لڑاکا طیارے سعودی عرب گئے ہیں یا آپ کے خیال میں سعودی عرب کو کچھ اور خطرات بھی ہیں ؟
پروفیسر یوسف عرفان:ایک وجہ تو یہ ہے کہ اس وقت اگر سعودی حکومت کو کوئی خطرہ لاحق ہوتاہے تو سعودی عرب میں افراتفری اور انتشار پھیل جائے گا اور اس کا فائدہ اسرائیل اُٹھائے گا ۔ بحیرہ امر بھی اسرائیل کے کنٹرول میں چلا جائے گا اور اس طرح خطے کی معیشت اور سیاست پر اسرائیل کی اجارہ داری قائم ہو جائے گی ۔ اس اجارہ داری کو ایک تو حماس نے چیلنج کیا ہے اور دوسرا بحیرہ احمر پر سعودی کنٹرول ہے ۔ پاکستانی فوج اور فضائیہ کا سعودی عرب میں جانا انہی مقاصد کے لیے ہے کہ ایک تو سعودی حکومت کو تحفظ دیا جائے اور دوسرا سعودی ریاست کو اسرائیل کے ممکنہ حملے سے بچایا جائے ۔ تیسری وجہ یہ ہےکہ آبنائے ہرمز پر اسرائیل یا امریکہ کا کنٹرول پاکستان، چین ، ایران ، ترکیہ اور سعودی عرب بھی نہیں چاہتے ۔ اسی وجہ سے ان ممالک نے پاکستانی فوج کی سعودی عرب میں موجودگی کو لازمی سمجھا ہے ۔ چوتھی وجہ حرمین شریفین کی حفاظت ہے ۔ پاکستان اور چین دو ایٹمی پاور ہیں، ان کے ہوتے ہوئے اسرائیل جارحیت کا مظاہرہ کرنے سے پہلے ضرور سوچے گا ۔ یہ مذاکرات بھی اسی وجہ سے ہورہے ہیں کیونکہ چین اور پاکستان نے واشنگٹن کو واضح کیا تھا کہ اگر ایران پر ایٹمی حملہ ہوا تو ہم اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے ۔
سوال: آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے پوری دنیا کی معیشتیں لڑکھڑا گئی ہیں۔ پوری دنیا میں مہنگائی کا طوفان اُمڈ آیا ہے ۔ آپ کی نظر میں کیا فارمولا ہو سکتا ہے کہ اس اہم ترین سمندری گزرگاہ کو پُرامن بنایا جا سکے اور دنیا کی معیشتوں کے لیے جو خطرہ بن گیا ہے وہ ٹل سکے؟
رضاء الحق:پہلی بات تو یہ ہے کہ آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی گزرگاہ ہے جہاں سے پوری دنیا کے لیے خام تیل اور فوڈ سپلائی کی مختلف اشیاء گزر کر جاتی ہیں ۔ لہٰذا اس گزرگاہ کو عالمی گزرگاہ کی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔ امریکہ یا اسرائیل کا کوئی حق نہیں ہے کہ وہ وہاں زبردستی قبضہ کرکے کہے کہ یہاں سے میری اجازت کے بغیر کوئی نہیں گزرے گا ۔اگر کسی کو وہاں ٹیکس لگانے کا حق بنتا ہے تو وہ ایران اور عمان ہے اور وہ ٹیکس ان دونوں میں مشترکہ طور پر شیئر ہونا چاہیے ۔ یہ بات ایران نے مذاکرات میں بھی رکھی ہے ۔ اصل فساد کی جڑ اسرائیل ہے جس کے عزائم جارحانہ ہیں ، اس کے ساتھ امریکہ اور انڈیا بھی ہیں ۔ دوسری طرف پاکستان اور چین بھی ایٹمی قوتیں ہیں ۔ ایک بار جنگ پھیل گئی تو پھر یہ رکنے والی نہیں ۔ اسی لیے سب سوچ سمجھ کر قدم اُٹھا رہے ہیں ۔ تاہم دورفتن کے تناظر میں اگر دیکھا جائے توبظاہر یہ جنگوں اور فتنوں کا زمانہ ہے۔ حدیث میں ہے کہ اس دور میں فتنے دھوئیں کی طرح پھیلیں گے اور معلوم نہ ہو سکے گا کہ کس وقت کیا ہورہا ہے ۔ ایک جگہ سے کوئی فتنہ ڈوبے گا تو دوسری جگہ سے اُبھر آئے گا ۔ ایسے ہی آج کے دور میں بھی امن ایک خواب بن کر رہ گیا ہے اور کوئی معلوم نہیں کس وقت کہاں سے جنگ کے شعلے بھڑک اُٹھیں ۔ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ دجال کاخروج اس وقت ہوگا جب وہ بہت غصے میں آجائے گا ۔ اس کا مطلب ہے کہ اس کوکوئی بہت بڑا سیٹ بیک پہنچے گا تب ہی وہ ظاہر ہوگا ۔
سوال: آج اُمت جس طرح سے تفریق و تقسیم اور انتشار کا شکا رہے ، اس کو متحد کیسے کیا جا سکتاہے ، قرآن و حدیث سے اس حوالے سے کیا رہنمائی ملتی ہے ؟
شجاع الدین شیخ :بہت اہم سوال ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں دنیوی لحاظ سے بھی حالات کو سمجھنا اور ان کا تجزیہ کرنا چاہیے ، سیاسی بصیرت بھی ہونی چاہیے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات سے بھی رہنمائی حاصل کرنی چاہیے ۔ بقول ڈاکٹر اسرار احمدؒ آج ہماری مادی علوم والی آنکھ تو کھلی ہے لیکن وحی کے علوم والی آنکھ بند ہے ۔ حالانکہ ہم مسلمان ہیں ، ہمارا جینا مرنا دین کے ساتھ ہے ۔ قرآن میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :
{اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ(162)}’’ میری نماز‘ میری قربانی‘ میری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔‘‘
ہمیں اصل رہنمائی بھی دین سے ملے گی۔ دنیا کی دیگر قومیں دنیوی مفادات کے تحت ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی ہیں ۔ سامنے کی بات ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کس طرح نیتن یاہو کے ہاتھ کا کھلونا بنا ہوا ہے ۔ اقبال نے کہا تھا فرنگ کی رگِ جاں پنجۂ یہود میں ہے ۔ میں کہوں گا کہ ٹرمپ کی رگِ جاں پنجۂ نیتن یاہو میں ہے ۔ ساری دنیا کو پتا ہے کہ ایپسٹن فائلز میں کیا کچھ کھل کر سامنے آیا اور امریکی خاتون اول کو کس طرح اپنی صفائی پیش کرنا پڑی ۔ یہ سب ڈانڈے جا کر صہیونی منصوبوں کے ساتھ ملتے ہیں ۔ لیکن مسلم اُمہ کا معاملہ کچھ اور ہے ۔ اقبال نے فرمایا؎
اپنی اُمت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیؐ
یہ اُمت ایمان کی بنیاد پر کھڑی کی گئی ہے ۔ قرآن میں اللہ فرماتاہے:{اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃ}(الحجرات:10) ’’ایمان والے تو آپس میں بھائی ہیں۔‘‘یہاں ذاتی مفادات اور تعصبات کی جگہ نہیں ہے ۔ کسی عربی و عجمی ، کالے اور گورے کی تقسیم نہیں چاہتی ۔ ہمارا دین ایمان کی بنیاد پر ہمیں بھائی قرار دیتا ہے۔ پھر قرآن بتاتا ہے:
'{وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّہ جَمِیعًا وَلَا تَفَرَّقُوا} (آل عمران:103)’’اور تم سب مل کر اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لواور تفریق میں مبتلا نہ ہو جاؤ۔ ‘‘
اُمت کس طرح متحد ہو گی ۔ اس کا جواب قرآن میں ہے ۔ قرآن کے ساتھ جُڑنے اور اس کی تعلیم کی عام کرنے سے اُمت متحد ہوگی ، یہ فکر و عمل میں یکسوئی پیدا کرتا ہے ، ایمان کی آبیاری کرکے باطل کے مقابلے میں کھڑا کرتا ہے ۔ یہ اُمت کو اس کا اصل مشن یاد دلاتاہے اور اس کے لیے تیار کرتاہے جس کے لیے اللہ کے رسول ﷺ کو بھیجا گیا تھا۔قرآن میں تین مرتبہ اس انقلابی مشن کے بارے میں فرمایا: {لِیُظْهِرَهُ عَلَی الدِّینِ کُلِّهِ} (التوبہ : 33 ،الفتح : 28 ، الصف :9)تاکہ آپ اس دین حق کو کل نظامِ زندگی پر غالب فرما دیں۔
یہ وہ نبوی مشن ہے جس کے لیے حضرت بلال حبشی ، حضرت صہیب رومی اورحضرت سلمان فارسی؇ ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے تھے۔ دوسرے نمبر پر یہ نبوی مشن اُمت کو متحد کرے گا۔ اس کی طرف توجہ دلانے کی ضرورت ہے ۔مستقبل کے اس منظر نامے کو اُمت کی یاداشت میں واپس لانے کی ضرورت ہے جو احادیث کے ذریعے ہمارے سامنے آتاہے ۔ جیسا کہ حضرت مہدی ؒکے ظہور اور دجال کےخروج ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور اُن کے ہاتھوں دجال کے قتل کا معاملہ، خراسان سے اسلامی لشکر کے جانے اور حضرت عیسیٰ ؑ کی قیادت میں لڑنے کا معاملہ ، یہ سب وہ باتیں ہیں جو ڈاکٹر اسراراحمدؒ کھول کھول کر بیان کرتے رہے ۔ اگر کفار و مشرکین مل کر گریٹر اسرائیل کی بات کرتے ہیں تو ہمیں بھی گریٹرخراسان کی بات کرنی چاہیے جس میں پاکستان ، افغانستان اور ایران کے کچھ علاقے اور وسط ایشیائی ریاستوں کے کچھ علاقے شامل ہیں ۔جب اُمت اس عظیم مشن کے ساتھ جُڑے گی تو مسلکی ، علاقائی ودیگر اختلافات پیچھے رہ جائیں گے ۔ اللہ کے دین کے ساتھ کمٹمنٹ ہو تو پھر اللہ بھی فرماتا ہے :{ اِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ یَنْصُرْکُمْ وَیُثَبِّتْ اَقْدَامَکُمْo}(سورۃ محمد:70) ’’اگر تم اللہ (کے دین)کی نصرت کرو گے تو اللہ تمہاری نصرت فرمائے گا اور تمہارے قدموں کو اللہ تعالیٰ مضبوطی عطا فرما دے گا۔ ‘‘
یہ وہ نقطہ ہے کہ جس کی طرف ہم بار بار توجہ دلاتے ہیں۔ اللہ نے قومِ عاد و ثمود کو مٹایا، آج کی طاقتور قوتوں کی بھی اللہ کے سامنے کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ ہم اللہ کی طرف پلٹیں گے تو اللہ ان ظالموں اور سرکشوں کے مقابلے میں ہماری مدد کرے گا ، پھر مظلوموں کی داد رسی بھی ہوگی اور اللہ کی زمین پر اللہ کا دین غالب ہوگا، تو آسمان سے بھی برکتیں نازل ہوں گی، زمین سے بھی اللہ خزانے عطا کرے گا۔ اللہ کرے اس نہج پر اللہ کے دین پر عمل ہو، اس کے دین کی دعوت ہو، اس کے دین کے نظام کے قیام کی جدوجہد ہو، قرآن کی تعلیم کو عام کیا جائے، ایمان کی آبیاری کی جائے اور بڑے مشن کی طرف متوجہ کیا جائے تو ہم اپنے اختلافات کو بھلا کر متحد ہو کر یقیناً باطل کا مقابلہ کر سکیں گے۔ اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین !
سوال:ان حالات میں حکومتِ پاکستان اور ریاستی اداروں کو آپ تنظیم اسلامی کے پلیٹ فارم سے کیا پیغام دیں گے ؟
شجاع الدین شیخ :یقیناً اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس وقت دنیا بھر کی نگاہیں پاکستان پر لگی ہیں کیونکہ صہیونیت کسی صورت امن نہیں چاہتی ، اسرائیل نے مذاکرات کے دوران بھی لبنان پر 100 سے زائد بم گرائے ہیں۔ صہیونی ہر صورت گریٹر اسرائیل کے منصوبے کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں اور اس صورت حال میں پاکستان کو ثالثی کی سعادت اللہ نے عطا کی اور وہ جنگ بندی کروانے میں کامیاب ہوا ۔ اللہ کرے مذاکرات کا اگلا دور کامیا ب ہو اور خطہ بڑی تباہی سے بچ جائے ۔ دینی اعتبار سے بھی ہماری یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ مسلم ممالک کے درمیان اتحاد کی فضا قائم ہو ۔ یہ ہمارا دینی فریضہ ہے جس کو ہمیں ادا کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ ہم نے اسلام کے نام پر اس مملکت کو حاصل کیا۔ اگر ہم اسلام کی طرف پیش قدمی کریں گے تو دنیا میںہماری عزت کا عالم کیا ہوگا؟ سیدنا عمر جب یروشلم کا چارج لینے گئے تو کہا گیا کہ ذرا اپنے گیٹ اپ کو درست کر لیجیے، بڑے لوگوں کی طرف جا رہے ہیں۔ فرمایا: عمر کو عزت کپڑوں سے نہیں ملی، اسلام سے ملی ہے۔ آج ہمیں بھی عزت اسلام سے ہی ملے گی۔
یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہےہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجاتآج ہمارا ملک معاشی بحران کا شکار ہے ، اندرونی اور بیرونی ہزار طرح کے مسائل ہیں ، اس کے باوجود اگر اللہ نے اتنی عزت دی ہے تو سوچیے! جب اللہ کی طرف رجوع کریںگے، اسلام کی طرف پیش قدمی کریں گے جس کے لیے اس مملکت کو ہم نے حاصل کیا، تو اللہ کس قدر عزت ہمیں اس دنیا میں عطا کرے گا۔ اللہ ہمیں ، ہمارے حکمرانوں اور مقتدر ہ کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین !
tanzeemdigitallibrary.com © 2026