(منبرو محراب) باقیاتِ الصالحات اور ڈیجیٹل آلات کے استعمال میں احتیاط - ابو ابراہیم

10 /

باقیات ِ الصالحات اور ڈیجیٹل آلات سے دوری

(قرآن و حدیث کی روشنی میں )

مسجدجامع القرآن ، قرآن اکیڈمی ڈیفنس کراچی میں امیر تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ  حفظ اللہ کے10اپریل 2026ء کے خطاب جمعہ کی تلخیص

خطبۂ مسنونہ اور تلاوتِ آیاتِ قرآنی کے بعد!
قرآنِ حکیم میں سورۃ الکہف اپنا ایک مقام رکھتی ہے جس کی فضیلت اور اہمیت کے کئی پہلو ہیں ۔ انہی میں سے ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے جمعہ کے دن اس کی تلاوت کی خصوصی طور پر تلقین فرمائی اور آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ دجال کے فتنے سے بچنے کے لیے سورۃ الکہف کی تلاوت کا اہتمام کیا جانا چاہیے۔  دجال کا فتنہ اتنا بڑا فتنہ ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ آدم؈ کی پیداش سے لے کر قیامت کے برپا ہونے تک کوئی فتنہ دجال کے فتنے سے بڑا نہیں ہے۔ اللہ کے رسولﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ ہر پیغمبرؑ نے اپنی اُمت کو دجال کے فتنے سے متنبہ کیا ہے۔یہاں تک کہ اللہ کے رسول ﷺ خود بھی ہر نماز کے بعد دجال کے فتنے سے بچنے کی دعا مانگتے تھے : ((اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ))
’’اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم کے عذاب سے، تیری پناہ چاہتا ہوں قبر کے عذابِ سے، تیری پناہ چاہتا ہوں دجال کے فتنہ سے اور تیری پناہ چاہتا ہوں زندگی اور موت کے فتنے سے۔‘‘ (سنن ابی دائود)
ذرا سوچیے! اگر اللہ کے رسول ﷺ ہر نماز کے بعد دجال کے فتنے سے بچنے کی دعا مانگتےتھے تو ہمیں آج اِس فتنے سے بچنے کے لیے کس قدر دعاؤں کی ضرورت ہوگی ؟ دجال کے فتنے سے بچنے کے لیے یہ کام ہمیں خود بھی کرنا چاہیے اور اس کی دعوت بھی دینی چاہیے لیکن اس کے برعکس آج ہر تیسرا شخص دجال کے متعلق قیاس آرائیوں  میں لگا ہوا ہے اور ویوز کے لیے نئے سے نئے دعوے کیے جا رہے ہیں ۔ گزشتہ دنوں ایک پوڈ کاسٹ میں مجھ سے سوال کیا گیا کہ میڈیا پر یہ بات چل رہی ہے کہ دجال 400 سال پہلے آچکا ہے ۔ مجھے بہت حیرت ہوئی کہ لوگ کیسے اس طرح کے بے بنیاد دعوے کر لیتے ہیں۔ اللہ کے رسول ﷺ کی احادیث واضح ہیں جن میں نشانیاں بتا دی گئی ہیں ۔ دجال سے پہلے حضرت مہدیؒ کا ظہور ہوگا ، پھر دجال دنیا میں آکر فتنہ پھیلائے گا اور پھر حضرت عیسیٰ ؈ دنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔ کیا یہ سب کچھ ہو چکا ہے ؟ ہمیں اپنے پاس سے خبریں تراشنے کی بجائے جتنا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے اُس پر توجہ دینی چاہیے ۔ حالات کا ادراک بھی ضروری ہے لیکن چند ویوز کے لیے یا واہ واہ کے لیے ایسی چیزیں اپنے پاس سے نہیں گھڑ لینی چاہئیں جو قرآن و حدیث سے متصادم ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اِن فتنوں سے محفوظ  فرمائے۔ آمین !
دجالی فتنوں کے اس دور میں بحیثیت ِمسلمان ہمارا اصل کام اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنا ہے ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فتنۂ دجال سے بچنے کے لیے جن دعاؤں اور قرآنی آیات کی تلاوت کی  تلقینفرمائی ہے ان کا اہتمام کرنا چاہیے ۔جمعہ کے دن سورۃ الکہف کی تلاوت کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے اور اس کے مفاہیم کو بھی سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ ہماری سمجھ میں آئے کہ فتنۂ دجال اصل میں ہے کیا ۔ اسی سورت کی آیت 46میں فرمایا :
{اَلْمَالُ وَالْبَنُوْنَ زِیْنَۃُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا} ’’ مال اور بیٹے دُنیوی زندگی کی زینت ہیں۔‘‘
دنیا کی زیب و زینت اور مال و متاع ایک بہت بڑا فریب اور دھوکہ ہے ، بندہ اس فریب کو اصل حقیقت سمجھ کر اسی میں دل لگا لیتا ہے اور اپنی آخرت کو بھول جاتاہے ۔ یہی اصل فتنہ ہے۔اس فتنہ سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے سورۃ الکہف میں اہل ایمان کے لیے بہت بڑی رہنمائی عطا کی ہے جیسا کہ اس آیت میں آگے فرمایا :
{وَالْبٰـقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّکَ ثَوَابًا وَّخَیْرٌ اَمَلًا (46)} ’’اور باقی رہنے والی نیکیاں بہت بہتر ہیں تیرے رب کے نزدیک ‘ثواب کے لحاظ سے بھی اور امید کے اعتبار سے بھی۔‘‘(الکہف)
 اس دنیا کی اگر کوئی حیثیت اللہ کی نگاہوں میں ہے تو وہ فقط ایک اعتبار سے ہے کہ ادھر اللہ نے ہمیں امتحان کے لیے بھیجا ہے ۔ بصورت دیگر اس دنیا اور اس کے مال و متاع کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔ مسلم شریف کی روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا :  اگر اللہ کی نگاہوں میں اس دنیا کے مال و اسباب کی حیثیت ایک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو اللہ کسی کافر کو پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ دیتا۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ صحابۂ کرام ؓکے ہمراہ کہیں تشریف لے جارہے تھے، راستے میں کچرے کے ڈھیر پر بکری کا مردہ بچہ پڑا ہوا دیکھا تو صحابہ کرام ؓ کو متوجہ کرکے فرمایا :تم میں سے کون اِسے خریدے گا ؟ صحابہ کرام؇ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! اِس مردہ اور گلے سڑے بکری کے بچے کو کوئی کیوں خریدے گا ؟ فرمایا : اللہ کی قسم !جتنا یہ بکری کا مردار بچہ تمہاری نگاہوں میں کمتر ، حقیر اور ذلیل ہے ، دنیا اور اس کامال و اسباب اللہ کی نگاہوں میں اِس سے کہیں زیادہ کمتر، حقیر اور ذلیل ہے ۔ سامنے کا مشاہدہ ہےکہ اربوں روپے کے محلات میں رہنے والا جب مرتاہے تو زمین میں دو فٹ قبرمیں ہی جاتاہے ، محلات اپنے ساتھ نہیں لے جاتا ۔ اس سے معلوم ہو جاتاہے کہ دنیا اور اس کے اسباب کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔اس امتحان گاہ میں صرف ایک چیز کی حیثیت ہے اوروہ انسان کا عمل ہے جس کی بنیاد پر آخرت کی زندگی کا فیصلہ ہوگا ۔آج فتنوں کے دور میں انسان دنیا اور اس کے مال دولت کے پیچھے بھاگ رہا ہے اور یہی چیز انسان کو فتنۂ دجال کا شکار بناتی ہے ۔ اِس فتنہ سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ اس آیت میں واضح ہدایت دے رہا ہے کہ دنیا کے مال و دولت کے پیچھے بھاگنے کی بجائے اُن اعمال اور نیکیوں پر توجہ دو جو آخرت کی دائمی زندگی میں کام آنا ہیں ۔ یہی بات سورۃ الکہف میں پہلے بھی آئی ہے :
{اِنَّاجَعَلْنَا مَا عَلَی الْاَرْضِ زِیْنَۃً لَّـہَا لِنَبْلُوَہُمْ اَیُّہُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا(۷) وَاِنَّا لَجٰعِلُوْنَ مَا عَلَیْہَا صَعِیْدًا جُرُزًا(8) } ’’یقیناً ہم نے بنا دیا ہے جو کچھ زمین پر ہے اسے اس کا بنائو سنگھار‘تا کہ انہیں ہم آزمائیں کہ ان میںکون بہتر ہے عمل میںاور یقیناً ہم بنا کر رکھ دیں گے جو کچھ اس (زمین) پر ہے اسے ایک چٹیل میدان۔‘‘
دنیا کے مال و متاع اور زیب و زینت کا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے انسان کو آزماتا ہے۔ جو انسان اس دنیا کی عارضی زیب و زینت کو آخرت پر ترجیح دیتاہے، وہی اصل فتنے کا شکار ہے اور آخرت کے لحاظ سے ناکام ہے ۔ لیکن جو آخرت کو ترجیح دیتاہے تو اُسے اللہ کےذکر اوراُس کے کلام پر توجہ دینی چاہیے اور وہاں  سے رہنمائی لیتے ہوئے آخرت کی اصل زندگی کے لیے اچھے اعمال کرنے چاہئیں۔ یہی بات سورۃ الکہف کی آیات 27 تا 29 میں بھی بیان کی گئی ۔ جہاں فرمایا : 
ترجمہ:’’اور (اے نبیﷺ!) آپؐ تلاوت کیجیے جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہے آپؐ کے رب کی کتاب میں سے۔اُس کی باتوں کو بدلنے والا کوئی نہیں ہے ‘اور آپؐ نہیں پائیں گے اُس کے سوا کوئی جائے پناہ اور اپنے آپ کو روکے رکھیے اُن لوگوں کے ساتھ جو اپنے رب کو پکارتے ہیں صبح وشام‘وہ اللہ کی رضا کے طالب ہیں اور آپؐ کی نگاہیں اُن سے ہٹنے نہ پائیں ‘(جس سے لوگوں کو یہ گمان ہونے لگے کہ) آپؐ دُنیوی زندگی کی آرائش و زیبائش چاہتے ہیں!اور مت کہنا مانیے ایسے شخص کا جس کا دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے اور جواپنی خواہشات کے پیچھے پڑا ہے اور اس کا معاملہ حدسے متجاوز ہو چکا ہے۔‘‘
مشرکین کے سردار آپ ﷺ سے یہ شکایت بھی کرتے تھے کہ آپؐ کی محفل میں عام لوگ بھی بیٹھے ہوتے ہیں ، غرباء اور مساکین بھی بیٹھے ہوتے ہیں ۔ ہم قوم کے سرداران ہیں ہم ایسے لوگوں کے ساتھ کیسے بیٹھ سکتے ہیں ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں اور آپ ﷺ کے ذریعے اہل ِایمان کو ہدایات دی گئیں کہ جو لوگ دنیا کے مال و اسباب کے زعم میں مبتلا ہیں ، یعنی دنیا کے فتنے کا شکار ہیں ، اُن کو ترجیح دینے کی بجائے ایسے لوگوں کے ساتھ تعلق واسطہ رکھا جائے جو دل میں اللہ کا خوف رکھتے ہیں، اللہ کا ذکر اُن کی زبانوں پر جاری رہتا ہے اور جو آخرت کی زندگی کودنیا کی زندگی پر ترجیح دینے والے ہیں ۔ 
دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے اسباب کی ضرورت ہوتی ہے اور مال و دولت بھی اسباب میں سے ہیں ۔ اپنے والدین اور بیوی بچوں پر خرچ کرنا، اللہ کی راہ میں ، اقامت ِ دین کی جدوجہد میں اور دیگر نیک کاموں  کے لیے خرچ کرنا بھی اللہ کے ہاں اجرو ثواب کا باعث ہے ، مختلف صورتوں میں اِس کا اجر 10 سے 700 گنا تک بڑھ جاتاہے ۔ تاہم اس حوالے سے دین کی تعلیمات واضح ہیں کہ مال و دولت کو حلال ذرائع سے کمایا جائے اور حلال چیزوں پر خرچ کیا جائے ۔ اگر حرام کماؤ گے اور حرام چیزوں پر خرچ کرو گے تو آخرت کا خسارہ پاؤ گے ۔ حرام ذریعے سے کمایا ہوا مال جہنم کے انگارے بن جائے گا اور ایک حدیث میں ہے کہ حرام مال سے پرورش پانے والا جسم کبھی جنت میں نہ جائے گا ۔ بعض اوقات بیوی بچوں کی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے بھی انسان اللہ کی نافرمانی کی طرف ، حرام کمائی کی طرف چلا جاتاہے ۔ ایسی صورت میں انسان اپنا ہی نقصان کرتاہے ۔ جیسا کہ سورۃالتغابن میں فرمایا :
{اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِکُمْ وَاَوْلَادِکُمْ عَدُوًّا لَّــکُمْ فَاحْذَرُوْہُمْ ج}(آیت:14) ’’تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں ‘سو اُن سے بچ کر رہو۔‘‘
اگر ان کی محبت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت اور اطاعت پر حاوی ہو جائے تو یہی دشمنی ہے جو بندے کی آخرت تباہ کر دیتی ہے ۔ اس کے برعکس سورۃالطور میں فرمایا:
{وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْہُمْ ذُرِّیَّتُہُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِہِمْ ذُرِّیَّـتَہُمْ وَمَآ اَلَتْنٰہُمْ مِّنْ عَمَلِہِمْ مِّنْ شَیْ ئٍ ط}’’اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور اُن کی اولاد نے بھی ان کی پیروی کی ایمان کے ساتھ‘ ہم ملا دیں گے ان کے ساتھ ان کی اس اولاد کو اور ہم اُن کے عمل میں سے کوئی کمی نہیں کریں گے۔‘‘(آیت :21)
ماں باپ ایمان پر ہوںاور ایمان کے تقاضوں پر عمل کرنے والے ہوں اور ان کی اولاد بھی اُن کے نقش قدم پر چلنے والی ہو تو اس پورے خاندان کو اللہ تعالیٰ آخرت میں ملادے گا ۔دین کے تقاضوں پر عمل صرف رمضان میں مطلوب نہیں ہے ، صرف پنج وقتہ نماز پڑھ لینے سے بھی دینی تقاضے پورے نہیں ہو جاتے بلکہ پوری زندگی اللہ کی فرمانبردای میں گزارنا ، اللہ کے دین کی دعوت دینا ، اللہ کے دین کے قیام کی جدوجہد میں عملی طور پر حصّہ لینا اور اس کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کو پورا کرنا بھی ضروری ہے۔ جیسا کہ سورۃ الکہف کی آیت 46 میں ہم نے پڑھا ، اللہ فرماتا ہے :باقی رہنے والی نیکیاں بہت بہتر ہیں تیرے رب کے نزدیک ‘ثواب کے لحاظ سے بھی اور امید کے اعتبار سے بھی۔‘‘حدیث میں ذکرآتاہے کہ وہ کلمات جو ہمارے معمولات میں شامل رہنے چاہئیں جیسا کہ :
 سبحان اللہ والحمدللہ ولا الٰہ الا اللہ واللہ اکبر
یہ بھی باقیات الصالحات میں شامل ہیں۔
صحیح حدیث میں ہے معراج کے موقع پر جب آپ ﷺ کی ملاقات حضرت ابراہیم ؈ سے ہوئی،  اُنہوں نے آپ ﷺ کواللہ تعالیٰ کی طرف سے اِ مت کے لیے ایک عظیم تحفہ سے آگاہ فرمایا اور وہ تحفہ یہ تھا کہ اُمت محمدی ﷺ میں سےکوئی جتنی بار اللہ کا ذکر کرے گا اُتنی بار اُس کے لیے جنت میں ایک درخت لگایا جائے گا۔ کوئی لا حول ولا قوۃ الا باللہ پڑھے گا اُس کے لیے جنت میں ایک درخت لگ جائے گا، سبحان اللہ پڑھے گا تو ایک درخت لگ جائے گا ، اسی طرح ہر بار ذکر کرنے پر ایک درخت لگایا جائے گا ۔ اخلاص اور نیت کے ساتھ جو بھی کوئی نیک عمل کرے گا وہ باقیات الصالحات میں شامل ہوگا ۔ اسی طرح گناہوں سے بچنا بھی نیکی ہے اور اس کا بھی ثواب ہے۔ اکثر لوگوں کی توجہ اس طرف کم ہوتی ہے۔ بندہ دینی ماحول میں رہتاہے ، رمضان گزارتاہے ، حج یا عمرہ کرتاہے تو جذبات اچھے ہو جاتے ہیں ، نیکی کے کاموں کی طرف رجحان بڑھتا ہے ، لیکن گناہوں کے چھوڑنے کی طرف توجہ بعض اوقات کم رہتی ہے ۔یہ خطرناک طرزِعمل ہے جس کی وجہ سے کبھی دل میں یہ خیال بھی آجاتاہے کہ میں اتنی نیکیاں کر رہا ہوں اگر تھوڑا مال و دولت ناجائز ذرائع سے کما لیا تو کیا ہوا ؟ جبکہ حقیقت میں یہ طرزِعمل بہت ساری نیکیوں کو بھی لے ڈوبتاہے ۔ مسلم شریف کی حدیث ہے کہ ایک شخص کعبہ کے غلاف کو پکڑ کر دعائیں مانگ رہا تھا ، اس کے چہرے اور کپڑوں  پر گرد وغبار تھا جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ دوردراز سے سفر کرکے خانہ کعبہ دعامانگنے کے لیے آیا ہے ۔اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:اس کی دعا کیسے قبول ہو گی جب اس کا کھانا پینا ، اوڑھنا بچھونااور اس کالباس حرام کا ہے ۔معلوم ہوا کہ بندہ جتنے بھی نیک عمل کرے لیکن اگر اس کی کمائی میں حرام مال شامل ہے تو کوئی عبادت اور کوئی نیکی کام نہیں آتی ۔ اس لیے جہاں نیک اعمال ضروری ہیں وہاں برائی سے بچنا بھی ضروری ہے ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: جو حرام چیزوں سے خود کو بچاتاہے ، اللہ کی نگاہوں میں اُس کا وہی مقام ہے جو ساری رات نوافل پڑھنے والے اور دن کو روزہ رکھنے والے شخص کا ہے ۔ ‘‘
اسی طرح نیک اولاد ہو ، چاہے بیٹے ہو ں یا بیٹیاں اُن کی اچھی طرح پرورش کی جائے ، دین اور آخرت کے لحاظ سے اُن کی تربیت کی جائےاور وہ بڑے ہو کر اللہ کے نیک بندے ، بندیاں بن جائیں تو وہ باقیات الصالحات میں شمار ہوں گے اور والدین کے لیے صدقہ جاریہ بنیں گے ۔ ایک روایت میں ہے کہ روزِ قیامت نیک بیٹیاں اللہ کے ہاں اپنے باپ کی سفارش کریں گی کہ اے اللہ ! ہمارے باپ نے ہم پر بہت شفقت اور مہربانی کی اور ہمیں صالحات بنانے کے لیے اچھی تربیت کی لہٰذا آج تو بھی ان پر مہربانی فرما اور انہیں بخش دے ۔ بہرحال اس دنیا میںرہتے ہوئے انسان کی اصل ترجیح باقیات الصالحات ہونی چاہیے جو کہ آخرت کی اصل زندگی میں کام آئیں گی جبکہ باقی جو کچھ بھی ہے وہ یہیں رہ جائے گا ، آخرت کی اصل زندگی میں ہرگز کام نہ آے گا۔ 
ڈیجیٹل فاسٹنگ یاDigital Detox
ہم مسلمان ہیں ،ہمیں پتہ ہے کہ دنیاکی زندگی کوئی ذاتی اثاثہ نہیں ہے کہ جس طرح مرضی ہے گزاریںاور کوئی پوچھنے والا نہ ہوگا بلکہ یہ ایک ذِمّہ داری ہے اور روزِ محشر ہم سے اِس کے بارے میں پوچھا جائے گا کہ دنیا میں ہم نے زندگی کیسے گزاری ، کن کاموں میں صرف کی ۔ لہٰذا بحیثیت مسلمان ہمیں دیگر لوگوں سے زیادہ اس معاملے میں حساس ہونا چاہیے کہ ہمارا اور ہمارے بچوں کا زیادہ تر وقت کن کاموں میں گزر رہاہے ۔ مغربی معاشروں کو آخرت کی جوابدہی کا شعور نہیں ہے لیکن اس کے باوجود وہ ایسے قوانین بنا رہے ہیں تاکہ بچوں کا وقت سوشل میڈیا پر یا انٹر نیٹ پر فضول کاموں میں نہ گزرے اور نہ ہی اخلاقی لحاظ سے وہ کسی فتنے کا شکار ہوں ۔ اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ چین نے 18 سال سے کمر عمر جبکہ آسٹریلیا نے16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے دسمبر 2025ء سےسوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگا دی ہے، چین نے کئی شہروں میں اس حوالے سے نائٹ کرفیو نافذ کردیا ہے جبکہ آسٹریلیا نے قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں 50 ملین ڈالر کا جرمانہ متعلقہ کمپنیوں پر عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے ۔ انڈونیشیا نے مارچ 2026ء سے 16 سال سے کم عمر بچوں کے انٹر نیٹ کے استعمال پر پابندی لگادی ہے۔ اسی طرح یونان اور ناروے ، نے 15 سال سے کم عمر بچوں، جبکہ سپین اور پرتگال نے 16سال سے کم عمر بچوں کے انٹر نیٹ کے استعمال کے خلاف بل تیار کرلیا ہے۔ اسی طرح برطانیہ اور کینیڈا نے بھی ایسے ہی بل شیڈول کر لیے ہیں ۔ امریکہ کی کچھ ریاستوں میں بھی ایسی ہی قانون سازیاں ہو رہی ہیں اور کچھ ریاستوں میں نائٹ  کرفیو لگانے کی تیاریاں ہیں ۔ ہم مسلمانوں کو اس حوالے سے زیادہ فکر مند ہونا چاہیے تھا مگر بدقسمتی سے اس حوالے سے ہمارا حال سب سے بُرا ہے۔انتہائی بے احتیاطی برتی جارہی ہے ، حتیٰ کہ بچہ پریشان کر رہا ہو تو ہاتھ میں موبائل پکڑا دیا جاتاہے،اسی کا نتیجہ ہے کہ آج ہائپر ٹینشن بچوں میں عام ہے ۔غصے اور نفسیات پر کنٹرول نہیں ہے ، ذرا سی بات پر ، معمولی خواہش پر جان دینے اور لینے کی نوبت آجاتی ہے ۔ایک پوش علاقے میں پب جی گیم کے لیےبچے نے اپنی ماں اور بھائی کو قتل کردیا ۔ جبکہ بحیثیت مسلمان ہمیں کیسا ہونا چاہیے ، اللہ فرماتاہے :{وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ(3)} ’’اورجو لغو باتوں سے اعراض کرنے والے ہیں۔‘‘ (المومنوں )
یہ صرف انڈر 14 یا 16 میں مطلوب نہیں ہے بلکہ بالغ مسلمان ہے تو اسے زندگی بھر کا روزہ رکھنا ہے کہ وہ ہر طرح کی برائی سے اپنے نفس کو بچائے۔ اس کے برعکس آج ہمارے ہاں کیا ہورہا ہے سب کو معلوم ہے ، بچوں ، بڑوں سب کی زندگیاں برباد ہورہی ہیں ، صحت برباد ہورہی ہے ، راتیں لغو کاموں میں گزر رہی ہیں اور صبح کی نماز ضائع ہورہی ہے، باقی نمازوں میں بھی دل نہیں لگ رہا ۔ نفسیاتی مسائل بڑھ رہے ہیں  ،نتیجہ میں خودکشیوں کا رُجحان بھی بڑھ رہا ہے ۔ الحاد ، توہینِ مذہب اور فکری و نظریاتی فساد اپنی جگہ پھیل رہا ہے۔ حیاتو گئی ایمان بھی جارہا ہے اور آخرت کی دائمی زندگی برباد ہورہی ہے۔ اب نوبت پورنو گرافک توہین مذہب و توہین مقدسات تک پہنچ چکی ہے، لہٰذا والدین ہوں ، بچے ہوں ، عوام ہوں ، ریاستی ادارے ہوں ، حکمران ہوں سب کو اس سنگین معاملے پر توجہ دینی چاہیے اور کوئی ایسی قانون سازی کرکے اپنی نسلوں کو دنیا اور آخرت کی بربادی سے بچانے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ 
مملکت ِخداداد کا معاملہ 
مملکت ِخداداد پاکستان کا معاملہ بڑا عجیب ہے ، کسی نے بڑی خوبصورت بات کہی: قوم PSL میں مدہوش ہے، عوام بیچاری قرض کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے، ہر بچہ  سوا تین لاکھ روپے کا مقروض پیدا ہورہا ہے ، پٹرول کی بڑھتی قیمت نے مہنگائی میں مزید اضافہ کر دیا ہے ۔ IMF کڑی سے کڑی شرائط منوا رہا ہے ، پڑوس میں ازلی دشمن جارحیت کے لیے تلملاتا پھررہا ہے ۔ افغانستان سے الگ کشیدگی جاری ہے ۔ لیکن ان بُرے حالات کے باوجود اللہ نے پاکستان کو دنیا میں عزت دی ،مشرق وسطیٰ میں جنگ رکوانے کے لیے اللہ نے اس سے کام لیا ۔ ڈاکٹر اسراراحمدؒ بہت پہلے فرمایا کرتے تھے کہ اس مملکت خداداد کو اللہ تعالیٰ نے کسی بڑے مقصد کے لیے بنایا ہے اور یہی وجہ ہے کہ رمضان کی 27ویں شب اس کا قیام عمل میں آیا ۔ مشکل حالات کے باوجود رب نے پاکستان کو جو عزت دی اس پر اسرائیلی اور بھارتی میڈیا چیخ و پکار کررہا ہے ۔ ایک اسرائیلی وزیر نے یہاں تک کہہ دیا کہ پاکستان تو دہشت گرد ملک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں پہلے ہی بتادیا کہ یہوداور مشرکین مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن ہوں گے ۔ اُن کے نزدیک یہ مذہبی جنگ ہے لہٰذا ہمیں بھی چاہیے کہ جس مقصد کے لیے اس مملکت خداداد پاکستان کو حاصل کیا گیا تھا اس کی طرف پیش رفت کریں ، پاکستان کو حقیقی معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست بنائیں تاکہ یہاں عدل و انصاف کا بول بالا ہو ، باہمی انتشار اور افتراق ختم ہو ، قوم یک جان اور یک زبان ہو کر کفار کا مقابلہ کرے ۔ انفرادی سطح پر بھی ہمیں خود اپنا جائزہ لینا چاہیے کہ ہم دین پر کہاں تک عمل پیرا ہیں ، فجر کی نماز مسجد میں جاکر ادا کرتے ہیں ؟ باقیات الصالحات کو دنیا و مافیہا پر ترجیح دے رہے ہیں ؟ احادیث میں ہم پڑھتے ہیں کہ حضر ت مہدی ؒ اور حضرت عیسیٰ؈ تشریف لائیں گے،دجال کو قتل کریں گے اور پوری دنیا پر اسلام کو غالب کریں گے مگر ہمیں خود بھی دیکھنا چاہیے کہ ہم کس صف میں کھڑے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سچا مسلمان بننے اور باقیات الصالحات کو دنیا و مافہا پر ترجیح دینے کی توفیق عطافرمائے ۔ آمین !