(اداریہ) مذاکرات کا دوسرا دور؟ - رضا ء الحق

10 /

اداریہ


رضاء الحق


مذاکرات کا دوسرا دور؟


موجودہ عالمی و علاقائی حالات ایک نہایت پیچیدہ اور کثیرالجہتی بحران کی عکاسی کرتے ہیں، جس میں مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی طاقتوں کے تصادم کا مرکز بن چکا ہے۔ پاکستان کی میزبانی میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور کی بظاہر ناکامی اسی وسیع تر جغرافیائی و نظریاتی کشمکش کی مظہر ہے۔ مذاکرات کے پہلے دور سے وابستہ توقعات اگرچہ ابتدا ہی سے محدود تھیں، تاہم نہ ہونے کے برابر پیش رفت سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور کئی نئےسوالات نے جنم لیا ہے۔
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اِن مذاکرات کے فوری نتیجہ خیز ثابت نہ ہونے کی بنیادی وجوہات کیا تھیں۔ ایک لفظ میں جواب کو سمویا جائے تو وہ ہے ’اسرائیل‘۔ حقیقت یہ ہے کہ ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل روزِاوّل سے خطے میں جنگ بندی اور پائیدار قیامِ امن کے خلاف ہے۔ بھلا جب اُس کو اپنا ’تاریخی‘ اور ’روحانی‘ مشن پورا کرتے ہوئے گریٹر اسرائیل کو قائم کرنا ہے اور کرنا بھی جلد از جلد ہے تو وہ ایران اور عرب ممالک کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کیوں کم ہونے دےگا۔ ٹرمپ کا امریکہ تو اُس کے گھڑے کی مچھلی ہے۔ اُسے جب تک چاہے گا جنگ میں ملوث رکھے گا اور امریکہ کے لیے نئے سے نیا نشانہ تیار کرتا رہے گا۔ ایران تو ایک بہانہ ہے۔ درحقیقت اصل نشانہ پاکستان ہے کیونکہ مملکتِ خداداد کا نظریاتی بنیادوں پر قائم ہونا اسرائیل کے لیے ایک ایسا خطرہ ہے جو کسی بھی وقت اپنی اصل امکانی صلاحیت (Potential) کو حاصل کر سکتا ہے۔ اِسی ’خدشہ‘ کا اظہار اسرائیل کے پہلے وزیراعظم ڈیوڈ بن گوریان نے 1967ء میں عرب ممالک کو شکستِ فاش دے کر اُس کامیابی کاپیرس میں جشن مناتے ہوئے کیا تھا۔ حالانکہ پاکستان ابھی ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے سے کوسوں دور تھا۔ پھر یہ کہ موجودہ اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو چند برس قبل ایک انٹرویو کے دوران اِس خواہش کا اظہار کر چکا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی دانت توڑ دیئے جائیں۔ پاکستان کی بہترین میزائل ٹیکنالوجی، جدید جنگ میں استعمال کیے جانے والے آلاتِ حرب اور دشمن کے حملوں، چاہے اُس کے لیے کسی قسم کا بھی عسکری ساز و سامان استعمال کیا جائے، کو جام کرنے کی صلاحیت اور تربیت یافتہ فوج گریٹراسرائیل کے ابلیسی منصوبہ کے راستے میں مملکتِ خداداد کے نظریۂ اسلام کے بعد سب سے بڑی رکاوٹیں ہیں۔
بات امریکہ، ایران مذاکرات کے پہلے دور کی بظاہر ناکامی سے شروع ہوئی تھی، جس کے بعد امریکہ نے باقاعدہ آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی کا اعلان کر دیا۔ ہمارے نزدیک یہ چین کو جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش ہے اور ایران کی معیشت کو گھٹنوں کے بل گرانے کی ایک سازش بھی۔ لیکن ایسے شواہد سامنے آ رہے ہیں کہ امریکہ اِس محاذ پر بھی اپنے اہداف حاصل نہیں کر پا رہا۔ ٹرمپ کے بیانات کہ امریکہ فتح کے بہت قریب ہے، ’’جنگی بڑھکوں‘‘ کے سوا کچھ نہیں۔ البتہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا یہ کہنا کہ ہم ایران کے ساتھ ایک ’بڑے سودے‘ (Grand Bargain) کے قریب ہیں، حقائق کی کسی درجہ میں عکاسی کرتا ہے۔ ’سودا‘ دو فریقوں کےدرمیان ’’کچھ دو اور کچھ لو‘‘ کی بنیاد پر ہوتا ہے، کسی ایک فریق کی یکطرفہ فتح کے نتیجے میں نہیں ہوا کرتا۔ اسی لیے اسلام آباد میں ایران امریکہ مذاکرات کادوسرا دور شروع ہو چکا ہے، جبکہ عارضی جنگ بندی میں مزید توسیع ہوچکی ہے۔
یہاں ہم خاص طور پر سعودی عرب، ترکیہ، قطر، عمان اور دیگر کئی خلیجی ممالک کا تذکرہ کرنا چاہیں گے کہ ایران پر امریکی حملہ نے اُن کی بند آنکھیں چوپٹ کھول دی ہیں۔ پاکستان کے فوجی دستوں اور چند لڑاکا طیاروں کا سعودی عرب جانا ایران نہیں بلکہ اسرائیل کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ہے۔ گویا پاکستان کی فوج کسی درجہ میں اسرائیل کی سرحد تک پہنچ چکی ہے۔ دوسری طرف ایران بھی اب اپنے جوہری پروگرام اور علاقائی اثرو رسوخ کو اپنی قومی سلامتی کا لازمی جزو سمجھتا ہے، جبکہ امریکہ (جسے اسرائیل کا غلام پڑھا جائے تو قرین قیاس ہوگا) اِسے خطے کے استحکام کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔ ہمیں اُن تجزیہ نگاروں سے اتفاق ہے جن کے مطابق اسلام آباد میں منعقد ہونے والے مذاکرات کا پہلا دور امریکہ نے دنیا کی آنکھوں میں دُھول جھونکنے کے لیے کیا تھا کہ شاید کچھ عزت بچ جائے اور مستقبل میں امریکہ اور اسرائیل دونوں یہ بیانیہ استعمال کرسکیں کہ دیکھیں ہم نے تو مذاکرات بھی کیے تھے مگر ایران نہ مانا! یہ ٹرمپ اور نتن یاہو کی زمین بوس ہوتی مقبولیت کو بڑھانے کی بھی ایک چال تھی جو بُری طرح ناکام ہو چکی ہے۔
مذاکرات کے پہلے دور میں توقع سے کم کامیابی ہونے میں اسرائیل کی لبنان پر شدید بمباری اور اس کے توسیع پسندانہ عزائم نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ لبنان میں فوجی کارروائیوں نے نہ صرف ایران کے اتحادی گروہوں کو مشتعل کیا بلکہ امریکہ پر بھی دباؤ بڑھایا کہ وہ اسرائیل کی غیر مشروط حمایت جاری رکھے۔ یوں ایک طرف سفارتی عمل جاری تھا، جبکہ دوسری طرف زمینی حقائق اس کے برعکس سمت میں جا رہے تھے اور یہ سب ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصّہ تھا۔ ایران اور امریکہ کے مابین ایرانی ایٹمی پروگرام کے حوالے سے یورینیم کی افزودگی پر 5 یا 20 سال کی پابندی کا معاملہ یا ایران کا افزودہ یورینیم کسی دوسرے ملک کے حوالے کر دینا ایک ہمالائی غلطی ہوگی۔ یوکرین کا انجام سب کے سامنے ہے اور اِس کی تفصیل میں جانے کی حاجت نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی ذی ہوش ملک اگر اِس کی صلاحیت رکھتا ہو تو ایٹمی صلاحیت کو بطور مزاحم (deterrent) بنانے اور قائم رکھنے کا پتہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ دوسری طرف وزیراعظم پاکستان کا 4 عرب ممالک کا دورہ اور فیلڈ مارشل کا وزیر داخلہ کے ساتھ ایران کا دورہ مصالحت کروانے کی کاوشوں کا حصّہ دکھائی دیتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ امریکہ کا یہ کہنا کہ ایران کے حوالے سے واحد ثالث صرف پاکستان ہوگا، انتہائی معنی خیز ہے۔
ایپسٹین سے متعلق معاملے پر میلانیا ٹرمپ کی پریس کانفرنس کو بھی اسی تناظر میںدیکھا جا سکتا ہے۔ ایسے حساس وقت میں اس نوعیت کے داخلی یا اخلاقی نوعیت کے معاملات کو اجاگر کرنا اکثر اوقات سیاسی بیانیے کو تبدیل کرنے یا عوامی توجہ کو خارجی بحرانوں سے ہٹانے کی کوشش کے طور پر تعبیر کیا جاتا ہے۔ اگرچہ اس کا براہ راست تعلق مشرقِ وسطیٰ کی صورت حال سے نہیں، تاہم یہ عالمی سیاست میں بیانیہ سازی کی اہمیت کو ضرور ظاہر کرتا ہے۔
جہاں تک ٹرمپ کی جانب سے پوپ کے خلاف سخت بیانات کا تعلق ہے، تو یہ براہِ راست پروٹسٹنٹ اور کیتھولک عیسائیت میں واضح دراڑ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یورپ کے ممالک تو پہلے ہی امریکہ سے جان چھڑا رہے ہیں۔ نیٹو تقریباً مردہ ہو چکی ہے۔ ٹرمپ کی نرگسیت کا یہ عالم ہے کہ خود کو (معاذ اللہ) ’مسایاح‘ سمجھتا ہے۔ ہمیں ہرگز حیرت نہ ہوگی اگر یورپی ممالک مستقبل قریب میں امریکہ سے مکمل برأت کا اعلان کر دیں۔
اِن حالات کے تناظر میں تیسری عالمی جنگ (جسے صلیبی جنگ کہہ لیں، ارماگیڈون کہہ لیں، الملحمۃ الکبریٰ کہہ لیں) کے سائے پوری دنیا پر تیزی سے چھا رہے ہیں اور اِس کی بڑی وجہ اسرائیل کی ہٹ دھرمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل کو جنگوں کے مستقل خاتمے اور پائیدار امن کے قیام میں کوئی دلچسپی نہیں۔ مسلم ممالک کے لیے خصوصاً یہ صورت حال ایک کڑی آزمائش ہے۔ داخلی سیاسی عدم استحکام، معاشی کمزوری اور باہمی اختلافات نے انہیں اجتماعی حکمتِ عملی اپنانے سے روکا ہوا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم دنیا اپنے اختلافات کو کم کرے، مشترکہ مفادات پر توجہ دے، اور ایک مربوط سفارتی، معاشی و عسکری پالیسی اختیار کرے۔ بصورت دیگر، وہ عالمی طاقتوں کے کھیل میں محض مہرے ہی بنے رہیں گے۔
پاکستان جو اسلام کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا اُسے اللہ تعالیٰ نے ایک مرتبہ پھر بڑی نعمت سے نوازا ہے لیکن یہی ایک آزمائش اور شاید آخری مہلت بھی ہے۔ اگر مملکتِ خداداد میں اسلام کا نظامِ عدلِ اجتماعی نافذ نہیں کیا جاتا تو جو عزت و اکرام مذاکرات کے میزبان کے طور پر حاصل ہوئے ہیں وہ چِھن بھی سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ پاکستان کے حکمرانوں اور مقتدر حلقوں کو ہدایت عطا فرمائے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی حفاظت فرمائے۔ آمین!