(الہدیٰ) قرآن کریم کتابِ ہدایت و رحمت - ادارہ

10 /
الہدیٰ
 
قرآن کریم کتابِ ہدایت و رحمت 
 
 
آیت ۱ {الٓمّٓ (1)} ’’الف‘ لام ‘میم۔‘‘ 
سورۃ البقرۃ کی پہلی آیت بھی انہی تین حروف پر مشتمل ہے۔
آیت 2 {تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ الْحَکِیْمِ (2)} ’’یہ حکمت بھری کتاب کی آیات ہیں۔‘‘ 
سورۃ البقرۃ سے تقابل کریں تو وہاں آیت 2میں{ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَا رَیْبَ فِیْہِ} کے الفاظ ہیں۔
آیت 3 {ہُدًی وَّرَحْمَۃً لِّلْمُحْسِنِیْنَ (3)} ’’ہدایت اور رحمت محسنین کے حق میں۔‘‘ 
یعنی قرآن محسنین کے لیے سراسر ہدایت اور سراپا رحمت ہے۔ یاد رہے سورۃ البقرۃ کی آیت 2 میں اس کے مقابل { ہُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ (۲)}کے الفاظ ہیں کہ یہ ہدایت ہے اہل تقویٰ کے لیے ۔ یہاں پرایک تو ہدایت کے ساتھ لفظ ’’رَحْمَۃ‘‘ کا اضافہ فرمایا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ یہاںکتاب سے استفادہ کے حوالے سے ’’متقین‘‘ کے بجائے ’’محسنین ‘‘کا ذکر ہے۔ محسنین دراصل متقین سے بلند تر درجے پر فائزوہ لوگ ہیں جن کا ایمان ترقی پاتے پاتے ’’احسان‘‘ کے درجے تک پہنچ جاتا ہے  ---- ’’احسان ‘‘ قرآن کی ایک اہم اصطلاح ہے۔ اس کی وضاحت قبل ازیں سورۃ المائدۃ کی اس آیت کے ضمن میں کی جا چکی ہے: { اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاَحْسَنُوْاط وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ(93)}’’ جب تک وہ تقویٰ کی روش اختیار کیے رکھیں اور ایمان لائیں اور نیک عمل کریں اور پھر تقویٰ میں بڑھیں اور ایمان لائیں ‘پھر اور تقویٰ میں بڑھیں اور پھر درجہ احسان پر فائز ہو جائیں۔اور اللہ تعالیٰ محسنوں سے محبت کرتا ہے‘‘۔  یہ اس درجہ بندی کی طرف اشارہ ہے جس میں سب سے پہلے اسلام ‘ اس کے بعد ایمان‘ اور پھر اس کے اوپر احسان کا درجہ ہے۔ اسلام‘ ایمان اور احسان کی یہ تین منازل ’’حدیث ِجبریل ؑ‘‘ میں بھی بیان ہوئی ہیں۔ چنانچہ اللہ کے راستے کے مسافروں کی اعلیٰ ترین منزل ’’احسان‘‘ ہے۔
 
درس حدیث
خسارے میں کون؟
 
عَنْ  أَبِي هُرَيْرَةَ ؓ قَالَ قَالَرَسُولَ اللّٰهِﷺ :(( إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ عَمَلِهِ صَلَاتُهُ فَإِنْ صَلُحَتْ فَقَدْ أَفْلَحَ وَأَنْجَحَ وَإِنْ فَسَدَتْ فَقَدْ خَابَ وَخَسِرَ، فَإِنِ انْتَقَصَ مِنْ فَرِيضَتِهِ شَيْءٌ قَالَ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ: انْظُرُوا هَلْ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ، فَيُكَمَّلَ بِهَا مَا انْتَقَصَ مِنَ الْفَرِيضَةِ، ثُمَّ يَكُونُ سَائِرُ عَمَلِهِ عَلَى نَحْوِ ذٰلِكَ ))(سنن سنائی)
حضرت ابوہریرہ ؓ  کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو فرمایا : ’’قیامت کے روز بندے سے سب سے پہلے اس کی نماز کا محاسبہ ہو گا، اگر وہ ٹھیک رہی تو کامیاب ہو گیا، اور اگر وہ خراب نکلی تو وہ ناکام اور نامراد رہا، اور اگر اس کی فرض نمازوں میں کوئی کمی ہو گی تو رب تعالیٰ فرشتوں سے فرمائے گا: دیکھو، میرے اس بندے کے پاس کوئی نفل نماز ہے؟ چنانچہ فرض نماز کی کمی کی تلافی اس نفل سے کر دی جائے گی، پھر اسی انداز سے سارے اعمال کا محاسبہ ہو گا۔‘‘