(خصوصی کالم) اخبارِ اسلام - خالد نجیب خان

10 /

اخبارِ اسلام

غزہ، اصل صور تِ حال کیا ہے؟ (بشکریہ: فرینڈز آف فلسطین)

تحقیق: خالد نجیب خان (معاون مرکزی شعبہ نشرو اشاعت)

l مسجد الاقصیٰ کے دروازے کھل گئے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ اب بھی سنگین خطرات میں گھری ہوئی ہے۔ کھلا ہونے کے باوجود وہ مسلسل دباؤ، پابندیوں اور بدلتی ہوئی صورتحال کے زیرِ اثر ہے، اس کی اسلامی حیثیت کو چیلنجز درپیش ہیں۔ذرائع کے مطابق مسجد کے صحنوں میں عبادات کے دوران سیکیورٹی فورسز کی بھاری تعداد میںموجودگی برقرار ہے، جبکہ آبادکاروں کی آمد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے ، اور بعض مذہبی سرگرمیاں کھلے عام انجام دی جا رہی ہیں۔ قابض صہیونی افواج انتظامیہ میں تبدیلیاں کر رہی ہے۔ ادارۂ اوقاف کی جگہ اپنا تسلط قائم کرنے، آبادکاروں کے حملوں کے اوقات بڑھانے اور بتدریج زمانی تقسیم مسلط کرنے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔رابطہ علماء فلسطین (غزہ) نے کہا ہے کہ ہم اُمّتِ مسلمہ کو خبردار کرتے ہیں کہ مسجداقصیٰ کی بندش جیسے سنگین معاملے پر غفلت یا جرم کے مطابق ردِعمل کا فقدان، مزید خطرناک سازشوں کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ مسجد ابراہیمی کی مثال ہمارے سامنے ہے، جہاں بتدریج پابندیوں کے ذریعے بالآخر مکمل کنٹرول مسلط کر کے اسے زمانی و مکانی طور پر تقسیم کر دیا گیا۔ یہی خطرہ آج مسجد اقصیٰ کے حوالے سے بھی منڈلا رہا ہے۔
l یومِ اسیر فلسطینی کے موقع پر تشویشناک اعداد و شمار سامنے آئے ہیں ۔ قابض جیلوں میں اِس وقت 9600 سے زائد فلسطینی قید ہیں، جن میں 86 خواتین ، 350 بچے اور 3500 بغیر فردِ جرم یا مقدمے کے حراست میں ہیں ۔ جبکہ فلسطینی اسیر خواتین کو شمالی فلسطین میں واقع جیل الدامون میں شدید، وحشیانہ اور منظم تشدد کا سامنا ہے،جیل میں اُنہیں بھوکا رکھنے کے علاوہ مختلف اوقات میں اُن کے کمروں پر دھاوا بولا جاتا ہے اور آنسو گیس و ساؤنڈ بموں کا استعمال کرتے ہوئے جسمانی تشدد کیا جاتا ہے۔جیل انتظامیہ اسیر خواتین کو تنگ اور آلودہ تنہائی کی کوٹھڑیوں میں ڈال دیتی ہے، جہاں بنیادی انسانی سہولیات تک میسر نہیں ہیں۔یہ مسلسل جبر اسیر خواتین میں خوف کی فضا قائم کرنے اور اُن کے حوصلے توڑنے کے لیے کیا جا رہا ہے، جبکہ یہ حالات بین الاقوامی قوانین اور انسانی اقدار کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
l تقریباً 70 کشتیوں اور ایک ہزار سے زائد عالمی کارکنوں پر مشتمل گلوبل صمود فلوٹیلا ایک بار پھر غزہ کی جانب روانہ ہو چکا ہے، جس کا مقصد محصور عوام تک امداد پہنچانا اور محاصرے کے خلاف عالمی توجہ مبذول کروانا ہے۔یہ اقدام صرف انسانی امداد نہیں بلکہ عالمی سطح پر یکجہتی، مزاحمت اور انصاف کے مطالبے کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
l امریکی صحافی ایبی مارٹن نے کہا ہے کہ اسرائیل فاشسٹ طرزِ عمل اپنائے ہوئے ہے اور ایک طاقتور فوجی سرپرستی کے باعث احتساب سے بالاتر ہو کر کارروائیاں کر رہا ہے اِس لئے دنیا کو ’’باغی ریاست اسرائیل‘‘ کو عالمی سطح پر تنہا کرنا چاہیے۔
l غزہ میں زندگی بچانے والوں کو بھی نشانہ بنا یا جا رہا ہے۔یونیسیف نے پیاسے معصوم بچوں تک پانی پہنچانے والے دو ڈرائیوروں کی شہادت پر شدید ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔
l مسجد اقصیٰ میں 1978ء سے اذان کی سعادت انجام دینے والے شیخ ناجی القزاز انتقال کر گئے۔ کئی دہائیوں پر محیط اُن کی خدمت ہمیشہ یاد رکھی جائے گی ۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور اُن کی خدمات کو قبول فرمائے۔ (آمین!)

مسلم دنیا سے متعلق دیگر ممالک کی اہم خبریں

l ایران:جنگ بندی میں توسیع امریکی صدر نے یکطرفہ طور پر کی ہے: ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر جنگ بندی میں توسیع کی ہے۔ ایران نے مذاکرات کے لیے امریکی شرائط کو مسترد کر دیا ہے۔مشیر اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ نے کہا ہے کہ ٹرمپ کی جنگ بندی میں توسیع کا کوئی مطلب نہیں ہے، ہارنے والا فریق شرائط کا حکم نہیں دے سکتا۔ ٹرمپ کا جنگ بندی میں توسیع کا اعلان وقت حاصل کرنے کی چال ہے تاکہ وہ اچانک حملہ کر سکے۔دباؤ اور دھمکیوں کی پالیسی بدلنے سے ہی مذاکراتی عمل بحال ہوسکتا ہے ، بطور ثالث پاکستان اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرے۔
l بین الاقوامی پروازیں بحال: ایرانی سول ایویشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ملک کے شمال مشرقی شہر مشہد کے ہوائی اڈے سے بین الاقوامی پروازوں کی اجازت دے دی گئی ہے۔
l برطانیہ: ارکان پارلیمنٹ کا اسرائیل پر پابندیوں کا مطالبہ: برطانوی رکن پارلیمنٹ رچرڈ برگن نے ہنگامی تحریک پیش کرتے ہوئے اسرائیل پر پابندیوں کا مطالبہ کر دیاہے۔تحریک میں یہودی بستیوں سے وابستہ معاشی سرگرمیوں پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ قبضے کو مضبوط کرنے والوں کے اثاثے منجمد اور سفری پابندی لگائی جائے۔تحریک کی حمایت میں 75 ارکان پارلیمنٹ سامنے آ گئے۔
l سعودی عرب :وزٹ ویزا والوں کو حج ادا کرنے کی اجازت نہیں: وزارتِ داخلہ نے واضح کیا ہے کہ تمام اقسام کے وزٹ ویزہ رکھنے والے جو بھی افراد مکہ مکرمہ اور مشاعرِ مقدسہ میں داخل ہونے یا وہاں قیام کرنے کی کوشش کریں گے، ان پر 20ہزار ریال تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔اس کے علاوہ مدد کرنے والے مقیم افراد اور غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو اُن کے ممالک ڈی پورٹ کر دیا جائے گا۔ یہ پابندی یکم ذوالقعدہ سے شروع ہو کر 14 ذوالحجہ کے اختتام تک برقرار رہے گی۔حرمین شریفین انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مسجدالحرام میں بیت اللہ شریف کی مرمت کا کام مکمل کر لیا گیاہے جبکہ غلافِ کعبہ کو تین میٹر بلند کرکے چاروں اطراف سفید کپڑے سے ڈھانپ دیا گیا۔واضح رہے کہ بیت اللہ شریف کی اندرونی و بیرونی دیواروں کی مرمت کا کام مجموعی طورپر47گھنٹوں میں مکمل کیا گیا ہے جس میں مقام ابراہیم کی تزئین و آرائش بھی شامل ہے۔
l بھارت: ’’اللہ اکبر‘‘ کا نعرہ لگانے پر گرفتاریاں: بھارتی قانون دان، ماہر اقتصادیات اور سیاست دان بھیم را رام جی امبیڈکر کے یوم پیدائش کے موقع پر نکالے گئے ایک جلوس کے دوران کچھ افراد کو اللہ اکبر کے نعرے لگاتے ہوئے سنا گیا تو پولیس نے ہندوتوا تنظیم وشوا ہندو پریشد ( وی ایچ پی) کے رہنما اچاریہ ریتو پرنا کی شکایت پر مقدمہ درج کرکے صدام قریشی اور دیگر چھ نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ۔ ابتدا میں قریشی کو حراست میں لیا گیا مگر بعد میں ضمانت پر رہا کیا گیا مگر بعد میں پھر گرفتارکر لیا گیا، ایک مقامی کونسلر کو بھی گرفتار کیا گیا۔
l ترکیہ:اسرائیل یونان،قبرص کا مسلم ممالک کیخلاف فوجی اتحاد: ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ ترکیہ خطے میں تنازعات ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہےجبکہ اسرائیل، قبرص اور یونان کا اتحاد صرف ترکیہ ہی نہیں بلکہ خطے کے تمام مسلم ممالک کے لیے باعثِ فکر ہے۔ ترکیہ اپنی حفاظت کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔