نائن الیون کا جو مشہور ڈرامہ2001ء میں رچایا گیا وہ ابھی کل کی بات لگتی ہے۔اس ڈرامہ پر تبصرہ کرتے ہوئے ہمارے ایک اسلام پسند اور محب وطن سابقہ فوجی جرنیل نے بیان دیا تھا کہ ’’نائن الیون بہانہ ہے، افغانستان ٹھکانہ ہے اور پاکستان کا ایٹمی پروگرام نشانہ ہے۔ ‘‘ان کی بات کس حد تک صحیح ہے اس پر تو ایک سے زیادہ آراء ہوسکتی ہیں۔ لیکن ان کا یہ بیان جس میں بہانہ ، ٹھکانہ اور نشانہ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں اُس وقت سے دوبارہ نمایاں ہوکر سامنے آنا شروع ہوگیا جب سے ’’دی علم فاؤنڈیشن ‘‘ نامی ادارے کے زیر ِاہتمام مملکت خداداد پاکستان (جہاں علماء کے بارے میں جامعہ اشرفیہ کے سابق مہتمم مولانا عبدالرحمٰن اشرفی کے الفاظ یہ ہیں کہ ’’تمام علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ہم نے آپس میں اتفاق نہیں کرنا) میں تمام مذہبی مکاتب فکر کے علماء کا ایک ہی ترجمہ قرآن پر متفق ہو کر یہ رائے دے دینا کہ اُسے تمام پرائیویٹ اور سرکاری عصری تعلیمی اداروں میں پڑھایا جانا چا ہیے جس کے نتیجہ میں وفاق ، پنجاب، خیبرپختونخوا اور حال ہی میں بلوچستان کے سرکاری تعلیمی اداروں کے علاوہ بہت بڑی تعداد میں پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں بھی ڈیڑھ کروڑ سے زائد طلباء نے نہ صرف اس سے استفادہ کرنا شروع کردیا بلکہ نویں تا بارھویں کے طلباء کا اس امتحان میں پاس ہونا بھی لازمی قرار دے دیا گیا لیکن اس اثناء میں کچھ مذہبی یوٹیوبرز نےاس متفقہ ترجمہ قرآن پر اہل ِتشیع کی کچھ کتب کے حوالوں کو بہانہ بنا کر تنقید کرنا شروع کردی۔
جس کا جواب طبقہ علماء کے کچھ معتبر حضرات کی طرف سے دے کر ان کو مطمئن کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔ اس کوشش کے کچھ مثبت اثرات بھی ہوئے ، جس کے نتیجہ میں شکوک و شبہات کی گرد کافی حد تک بیٹھ گئی ۔ اس طرح سوشل میڈیا کے ذریعہ جو انتشار پھیلانے کی سعی لا حاصل کی گئی۔ اس کا جواب نہ صرف بذریعہ سوشل میڈیا بلکہ ذاتی ملاقاتوں اور خطوط کی شکل میں بھی دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس سلسلہ میں جواب دینے والوں نے نہ ہی کوئی بازاری زبان استعمال کی اور نہ ہی بڑی بڑی بڑھکیں ماریں بلکہ مثبت اور سنجیدہ انداز اختیار کیا گیا۔ معترضین کا اصل اعتراض ترجمہ قرآن پر نہیں تھا ۔ اُن کا اعتراض اہل ِ تشیع کی کتب احادیث کے حوالوں پر تھا یا کچھ تشریحات پر تھا ، لیکن بعد میں یہ حوالے بھی نکال دیئے گئے تاکہ آئندہ کوئی بدمزگی نہ پیدا ہوجائے۔یہ شرارت پر مبنی مہم قبل ازیں گزشتہ ماہ ِرمضان میں شروع کی گئی تھی اور دوبارہ اس ماہِ رمضان میں اس کا آغاز مفتی تقی عثمانی صاحب کے ایک خط کو بنیاد بنا کر کیا گیا۔ اس خط میں مفتی صاحب نے جن اعتراضات کی بنا پر اس متفقہ ترجمہ قرآن سے اعلان برأت کااظہار کرنے کےساتھ ساتھ اپنی تقریظ کو ہٹانے پر بھی اصرار کیا ہے۔ یہ خط سوشل میڈیا پر موجودہے لیکن اس کا جواب آنے سے قبل ہی اس کو بنیاد بنا کر مہم چلانااور خصوصاً رمضان المبارک میں جب دی علم فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر اور امیر تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ صاحب رمضان المبارک کی راتوں میں نمازِ تراویح کے ساتھ دورۂ ترجمہ قرآن میں مدرس کی خدمت سر انجام دے رہے ہوتے ہیں ۔ نہ صرف وہ بلکہ تنظیم اسلامی اور انجمن ہائے خدام القرآن کے تحت ملک کے طول و عرض میں سینکڑوں مقامات پر خدمت ِقرآن کا فریضہ سرانجام دیا جا رہاہوتا ہے تو عین اسی دوران متفقہ ترجمہ قرآن کو بہانہ بناتے ہوئے دورہ ہائے ترجمہ قرآن کی مقدس محافل کا تمسخر اڑانا اور عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کرنا کہ تنظیم اسلامی کے لوگ غیر علماء ہیں۔ یہ علماء سے استفادہ نہیں کرتے لہٰذا ان کے دورئہ ترجمہ قرآن کی محافل میں جانے سے گریز کیا جائے ورنہ تم لوگ گمراہ ہوجاؤ گے۔
عقل مند کے لیے اشارہ ہی کافی ہوتا ہے۔ اس لیے اس منطق کو سمجھنا کوئی راکٹ سائنس نہیں کہ متفقہ ترجمہ قرآن کو بہانہ بنا کر ٹھکانہ دورئہ ترجمہ قرآن اور اس کے ذریعہ وسیع پیمانے پر پیدا ہونے والی ایمانی تبدیلی کوبنایا جارہا ہے۔ لیکن بات یہیں پر نہیں رکتی بلکہ مذکورہ دونوں امور کا تعلق چونکہ تنظیم اسلامی اور اس کے امیر کے ساتھ ہے، لہٰذااصل نشانہ تنظیم اسلامی کی وہ انقلابی جدوجہد ہے جو قرآن اور سیرتِ نبویؐ کی روشنی میں گزشتہ پچاس سال سے جاری ہے۔ اس میں کوئی اچنبھےکی بات نہیں ہے کہ اِس سازش کو نہ سمجھا جا سکے۔ بانی تنظیم محترم ڈاکٹر اسرار احمد ؒ کی یہ بات آج حقیقت بن کر سامنے آرہی ہے کہ ’’اسلام کا جو انقلابی فکر ہمارے پیشِ نظر ہے اُسے نہ آسمان قبول کرے گا اور نہ ہی زمین سے کوئی غذا ملنے کی امید ہے۔‘‘ آسمان سے اُن کی مراد موجودہ سیکولرزم اور مغربی جمہوریت پر مبنی ظالمانہ نظام اور اس کے علمبردار جبکہ زمین سے مراد جامد مذہبیت پر مبنی مسلک پرستی پھیلاکر تفریق پیدا کرنے والے عناصر ہیں۔لہٰذا اگر اسلام کے انقلابی فکر کے ساتھ جڑا رہنے کے نتیجہ میں آج اس طرح کی مخالفت ہو رہی ہے تواس سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ بقول شاعر