(کارِ ترقیاتی) آسماں ہو گا سحر کے نور سے آئینہ پوش - عامرہ احسان

10 /

آسماں ہو گا سحر کے نور سے آئینہ پوش


عامرہ احسان

اکیسویں صدی کا آغاز ہی جنگوں سے ہوا۔  امریکی جنگجوئی کا اصل ہدف تو صہیونی عزائم کی تکمیل میں مشرقِ وسطیٰ کا نقشہ بدلنا تھا۔ بش نے چھوٹتے ہی افغانستان میں اسے صلیبی جنگ کا نام دیا تھا۔ وہاں ناکام رہے۔2021 ء کے بعد امریکہ اسرائیل نے 2023 ء سے فلسطین پر مکمل قبضے کو آگے بڑھانا شروع کیا۔ اس اثناء، عرب بہار میں کئی عرب، شمالی افریقی ممالک کھدیڑے جا چکے تھے۔ شام جو گریٹر اسرائیل اور ہرمجدون  (آرمیگیڈون) کے اعتبار سے اہم ترین تھا، اسے مطلوبہ منصوبے کے مطابق تباہ کھنڈر کیا جا چکا تھا۔ غزہ اور ساتھ ہی مغربی کنارے پر بھی زور آزمائی میں تمام امریکی، یورپی اسلحہ آزما لیا۔ اگلے مرحلوں میں لبنان اہم تھا۔ دنیا کی توجہ بٹائے رکھنا بھی لازم تھا۔ غزہ پر دنیا کو ’بورڈ آف پیس‘ ڈرامے میں اُلجھا دیا۔ اسرائیل وامریکہ کی اگلی مشترکہ جنگ جوئی ایران پر تھی۔ لگے ہاتھوں پھلتے پھولتے اہم ترین تیل اور اس کی مصنوعات سے مالا مال مسلم ممالک کی قوت پر ضرب بھی صہیونی قوتوں کا ہدف تھا۔ ایران پر حملے سے ایک تیر سے سبھی شکار مطلوب تھے۔ جواباً عرب ممالک زخمی کیے گئے۔ پورا خطہ درہم برہم ہو گیا۔ امریکہ کواپنے ہتھیاروں کی فروخت کا سنہرا موقع ہاتھ لگا۔ عرب ممالک میں سیاحت کی صنعت پر شدید ضرب لگی بشمول دیگر صنعتوں کے۔ امریکہ دوستی کا نشہ بھی کچھ ٹھکانے لگا۔ جانی مالی نقصان اس پر مستزاد۔ امریکہ اسرائیل نے حملہ تو ایران پر کیا تھا۔ مگر جوابی حملے میں تمام مسلم خلیجی ممالک اچانک، نہایت غیر متوقع ہمہ نوع نقصانات سے دوچار ہوئے۔ جو توجہ طلب ہے۔
  اس قرض کو اتار کر اسرائیل (جس کے ابراہیمی معاہدے والے دوست زخم کھائے پڑے تھے!) سوئے لبنان چلا۔ شام پر تو اسرائیل کی مسلسل یک طرفہ چاند ماری جاری رہتی ہے۔ گولان کی پہاڑیوں پر چڑھا سوئے دمشق اس کی نظریں لگیں ہیں۔ کیونکہ بڑی جنگ تو وہیں ہوگی! 28 فروری تا 15 اپریل ایرانی حملوں میں امارات میں 12 جاں بحق، 224 زخمی ہوئے۔ سعودی عرب میں 3 جاں بحق، 29 زخمی، قطر میں 20 زخمی، بحرین میں 3 جاں بحق، در جنون زخمی، اومان میں 3 جاں بحق، 15 زخمی، کویت میں 7 جاں بحق، درجنوں زخمی، ار دن میں 29 زخمی، فلسطین میں 4 جاں بحق، عراق میں ایرانی، امریکی حملوں کا نشانہ بننے والے 118 جاں بحق اور درجنوں زخمی (الجزیرۃ) ایک ماہ کی جنگ میں عرب ممالک کو UNDP رپورٹ کے مطابق (31 مارچ - الجزیرۃ) 194 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔( یہ محدود اعداد و شمار ہیں) سوڈان، یمن، لبنان میں بڑی آبادیاں متاثر ہوں گی۔ نیز تخمینہ یہ ہے کہ 40 لاکھ افراد خطِ غربت سے (پورے خطے میں) نیچے جا پڑیں گے۔ 37 لاکھ بے روزگار ہوں گے۔ اندازہ لگائیے کہ جنگ کے اثرات، طوالت کے نتیجے میں تیل گیس کی برآمدات رکنے اور خلیجی ممالک میں توانائی کی ترسیل کے بنیادی ڈھانچے پر بمباریوں کے نقصانات کا معاشی زلزلہ کتنا شدید ہوگا وسیع تر تناظر میں۔
  ایران، امریکہ مابین مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں شروع ہونا تھا۔ سنجیدگی کا عالم ٹرمپ سرکار کا یہ ہے کہ عین مذاکرات کے دہانے پر امریکہ نے ایرانی جھنڈا لگا کارگو جہاز ہرمز میں پکڑ لیا۔ ابھی یہ کہے امریکہ کو چند گھنٹے بھی نہ گزرے تھے کہ مذاکرات کے لیے امریکی ٹیم پہنچ رہی ہے، کہ ایران کا حوصلہ آزمانے کو یہ اڑنگا لگا دیا۔ ایرانی بندرگاہوں پر محاصرہ تو تھا ہی۔ ایران نے اگر چہ مذاکرات پر آمادگی کا اظہار کر رکھا تھا۔ مگر اب ان دونوں وجوہات نے گلوب بھر میں ایران امریکہ مذاکرات فالٹ لائن پر جھٹکے دینے شروع کر دیئے۔9 امریکی C-17 جہاز، (گلوب ماسٹر، جو افغانستان سے شکست کھا کر نکلنے والا معروف جہاز ہے ،عظیم الجثہ!) امریکی بلٹ پروف گاڑیوں، سازوسامان اور سیکورٹی ٹیموں کو لیے اتوار سے نور خان ایئر بیس پر آئے کھڑے ہیں۔ پاکستان انتظار میں اپنے عوام ،کاروبارِزندگی کو بھی مسلسل روکے باندھے، مہمانوں کے تحفظ کی خاطر اٹکا پڑا ہے۔ اسلام آباد آنے والی کئی موٹر ویز پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے بند ہیں۔ امریکی، ایرانی وفد کے آنے، نہ آنے کی لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورتحال اور گو مگو میں سبھی معلق ہیں۔ ٹرمپ کی الٹتی پلٹتی زبان ، جھوٹ اور دھوکا دہی ،غیر ذمہ دارانہ کار گزاریاں، بیزار کن ہیں۔ سفارتی ادب آداب تو موصوف کی لغت سے یوں بھی خارج ہیں۔ اسلام آباد میں ہوٹل بک کیے میزبان منتظر ہیں۔ 20 ہزار سیکورٹی افراد متعین ہیں۔ شہر دم سادھے بیٹھا ہے۔ میڈیا الرٹ جاری کرتا رہتا ہے ذو معنی، ایرانی وفد  آ رہا ہے، شاید نہیں آ رہا۔ دنیا میں سرمایہ کار نظریں گاڑے بیٹھے ہیں۔ خود امریکہ اور ایران کے لیے جنگ بندی نہایت اہم ہے۔ مگر کمزوری کا تاثر دینے سے بچنے کو یہ باہمی زور آزمائی ہے اور دنیا مخمصے میں پھنسی بیٹھی ہے۔ ان کی لڑائی میں ہمارا نظام تعلیم ، تجارت، نظامِ زندگی معلق ہو چکا ہے۔ خلیجی ممالک کے نقصانات کی نوعیت دوسری ہے۔ ہمارے اپنے گوناگوں مسائل کی طرف پلٹنے کی مہلت ہی حکومت کو نہیں مل رہی۔ ثالثی میں ہم دوڑے پھر رہے ہیں کب سے! ان دونوں مذاکرات کاروں بیچ ، ہاں/نہیں رخنے کے ہاتھوں تیل کی قیمتوں میں 7 فیصد مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
  گلوبل مارکیٹ بحران کا شکار ہے۔ ٹرمپ کی ٹرمپیا نہ حرکات کے ہاتھوں امریکہ نہ صرف بین الاقوامی طور پر ساکھ کھو بیٹھا ہے، بلکہ داخلی طور بھی انتشار کا شکار ہے۔ خود ٹرمپ کی اپنی پسندیدگی کی شرح 37 فی صد گری ہے۔اندریں حالات ٹرمپ نے پاکستان کا سہارا لیتے ہو ئے، جنگ بندی میں توسیع کر دی ہے تاآنکہ ایران اپنا جامع مؤقف پیش کرے اور مذاکرات حتمی نتیجے تک پہنچ سکیں۔لہٰذا .....مزید انتظار فرما ئیے!
ٹرمپ کا محبوب اسرائیل! دنیا کی توجہ بٹ گئی۔غزہ کے عوام بدستور بھوک، امراض، بدلتے موسموں کی شدت، پسو، چوہوں، حشرات الارض،پھٹے خیموں کی بلاؤں میں گھرے بیٹھے ہیں!روزانہ 8-10 فلسطینی اسرا ئیل کے ہاتھوں شہید ہو رہے ہیں۔ امریکی عوام میں 60 فی صد اسرائیل کو ناپسند کرتے ہیں۔ دنیا بھر میںبھی اسرائیل کی ناپسندیدگی غیر معمولی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ میڈیائی قلابازیوں سے دنیا بھر کی عقل سے کھیلا نہیں جاسکتا۔ اب دنیا جلد یا بدیر حقیقت تک رسائی پالیتی ہے۔ یہود مخالف تعصب کا الزام ( Anti - Semitism) ایک مذاق بن چکا ہے۔ حال ہی میںکر یہہ صورت اسرائیلی آبادکار فوجی کی بھیانک تصاویر اور ویڈیو (لاایکسپریس ۔ اٹلی) جو دنیا بھر میں شدید نفرت کا نشانہ بنا، فلسطینی عورت کو ہراساں کرتا ہوا۔ وہ ضرب المثل ہے۔ فی نفسہٖ اتنی نحوست دنیا نے کبھی کسی انسانی چہرے پر نہ پائی ہوگی۔ اسے دیکھ کر قرآن میں ان کا تذکرہ اپنی ایسی ہی کرتوتوں کے عوض: ’بندر ہو جائو دھتکارے ہوئے۔‘ مجسم آن کھڑا ہوتا ہے۔ یہ ایک فرد کی نہیں ایک پوری قوم کی تاریخ کی نمائندگی کرتا چہرہ اور اعمال ہیں۔ غزہ پر جو گزری، (امریکہ اس ہولناک جرم میںبرابر کا شریک ہے بشمول اپنے بہت سے مزید اتحادیوں کے!) جابجا قید خانوں میں اور بر سر زمین آج بھی گزر رہی ہے، ہر حساس دل کا ناسور ہے۔ دنیا کے بہت سے ممالک میں پولیس اور سیکورٹی والوں کی تربیت ’موساد‘ ہی نے کی ہے۔ اب سمجھ آتا ہے کہ ایسا کیوں ہوگا کہ درخت اور پتھر پکار اُٹھیں گے کہ میرے پیچھے یہودی چھپا ہے! قرآن میں جہنم کے بعض نہایت ہو لناک مناظر اور جہنمیوں کی ضیافت کے سامان پر دل دہل جاتا تھا! اتنی شدت؟ آج اسرائیلی، امریکی وحشت، حکمرانوں کے جرائم، عوام الناس کو دئیے گئے عذاب بھری زندگی کے جھٹکے، جنگوں، عقوبت خانوں میں ظلم کی لامنتہا داستانیں! درندگی، بے حیائی، معصوم بچوں، صنف ِنازک پر ڈھائی قیامتیں! اب سب سر کی آنکھوں نے دیکھ لیا۔ قیامت آنی ہی چاہیے۔ جزا و سزا ناگزیر ہے۔
  لمحہ لمحہ اللہ کے ہاں محفوظ ہے۔ اللہ کی سائنس جامع، مکمل، شفاف، حساب کتاب اربوں کھربوں انسانوں کا رکھتی ہے۔ وہ دن آکر رہے گا جب سارے بھید کھل جائیں گے۔ ذرہ برابر نیکی جزا پائے گی۔ ذرہ برابر بدی چھپی نہ رہ سکے گی الا ماشاء اللہ! ہاں پوپ لیئو شاباش! امر بالمعروف نہی عن المنکر مسلمان بھول گئے۔ حق گوئی ہمارے ہاں گونگی ہو گئی۔ لیئو نے ٹرمپ اور افریقی ممالک کے وسائل لوٹنے والوں، بدعنوان مغربی و مقامی حکمرانوں کے لتے لیے !سبحان اللہ!سید نا عیسیٰd کو تو آنا ہے۔ یہودی ان کے بھی بدترین دشمن تھے اور ہیں۔ ان کے آنے پر ہمارے اور آپ کے محبوب نبی ؑ اللہ…روح ؑاللہ! ہم، آپ ایک ہوں گے۔ حق پرست عیسائی حقیقت جان کر ان کے ہاتھ پر بیعت کریں گے۔ وہ دن تو آنا ہے جسے روکنے کی کوشش میں دجالی قوتیں کذب و افترا، دھوکا دہی، جنگ بازی کے طوفان اُٹھا رہی ہیں۔ ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہوگا…جب دنیا عافیت کا گہوارہ بنے گی۔ باذن اللہ! 
آسماں ہو گا سحر کے نور سے آئینہ پوش
اور ظلمت رات کی سیماب پا ہو جائے گی