(فکرو نظر) لیبر قوانین کا نفاذ ہر سطح پر یقینی بنایا جائے - نعیم اختر عدنان

10 /

لیبر قوانین کا نفاذ ہر سطح پر یقینی بنایا جائے

نعیم اختر عدنان

 

پاکستان سمیت دنیا بھر کے اکثر ممالک میں ہر سال یکم مئی کو محنت کشوں کی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرنے اور مزدوروں کے حقوق سے آگاہی کے لیے یہ دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن امریکہ کے شہر شکاگو کے اُن جانبازوں کی یاد دِلاتا ہے جب محنت کشوں نے 1886ء میں روزانہ 8 گھنٹے کے اوقات کار مقرر کروانے کے لیے اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا۔ ایک مغربی دانشور کے مطابق دیگر طبقات کی طرح محنت کشوں کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ 8 گھنٹے کام کریں، 8 گھنٹے آرام کریں اور 8 گھنٹے تفریح و دیگر سماجی و معاشرتی سرگرمیوں میں حصّہ لیں۔ یکم مئی کی تاریخی اہمیت یہ بھی ہے کہ ابراہم لنکن، جو انسانی حقوق کے بہت بڑے علمبردار تھے، اِسی دن کو قتل کر دیئے گئے تھے۔ انقلاب فرانس کے بعد پہلی مرتبہ 1888ء کو 20 سے زائد ممالک کی سوشلسٹ، مزدور تنظیموں اور ٹریڈ یونین کی نمائندہ اجلاس میں یکم مئی کو ’’یومِ مزدور‘‘ کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا گیا۔ 
محنت کشوں کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کے نام سے ایک ادارہ بھی قائم ہے جو حکومتوں، سرمایہ کاروں اور   محنت کشوں کے مابین سہ فریقی کانفرنسیں منعقد کروا کر مزدوروں کے لیے بہتر سہولیات اور مناسب اُجرت اور سازگار ماحول کے حوالے سے متفقہ سفارشات منظور کرکے رکن ممالک کو اِس پر عمل درآمد کا پابند بناتا ہے۔ پاکستان اپنے قیام کے آغاز ہی سے اِس عالمی ادارے کا رکن ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے دور میں پہلی مرتبہ 1972ء کو یومِ مئی منانے کا سرکاری سطح پر آغاز ہوا۔ اِس دن پورے ملک میں تعطیل ہوتی ہے۔ پاکستان میں اب تک محنت کشوں کی فلاح و بہبود کے لیے مجموعی طور پر چھ (6) بڑی لیبر پالیسیاں نافذ العمل ہو چکی ہیں۔ پہلی لیبر پالیسی 1955ء میں دوسری لیبر پالیسی 1959ء میں، تیسری لیبر پالیسی 1969ء میں چوتھی لیبر پالیسی جو سب سے جامع امر ہمہ گیر لیبر پالیسی تھی، 1972ء میں پانچویں لیبر پالیسی 2002ء میں جبکہ چھٹی اور آخری لیبر پالیسی 2010ء میں منظور ہوئی۔ پاکستان میں محنت کشوں کے حقوق کی ادائیگی اور تحفظ کے لیے ستر (70) کے قریب قوانین موجود ہیں، جنہیں آئینی اور قانونی تحفظ حاصل ہے۔
اِس وقت پوری دنیا میں استحصال پر مبنی سرمایہ دارانہ معاشی نظام رائج ہے جس میں کمزور طبقات کے حقوق کا معاملہ خاصا تشویش ناک ہے۔ مغربی اور ترقی یافتہ ممالک میں اُجرت کی شرح کافی حد تک منصفانہ اور عادلانہ ہے مگر پاکستان سمیت ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک میں محنت کشوں کی بنیادی یعنی کم از کم اجرت بہت ہی کم ہے جس سے محنت کش اپنی اور اپنے خاندان کی بنیادی انسانی لازمی ضروریات پورا کرنے سے قاصر ہے۔ علامہ اقبال نے محنت کش طبقہ کی اِسی صورت حال کی تصویر کشی کرتے ہوئے فرمایا تھا:
تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات
گزشتہ مالی سال کے بجٹ میں مزدور کی کم از کم ماہانہ اجرت چالیس ہزار روپے مقرر کی گئی تھی مگر عملاً صنعتی اور تجارتی اداروں کے مالکان کم از کم اُجرت سے بھی بہت کم اُجرت ہی ادا کرتے ہیں۔ مزدور تنظیمیں یہ مطالبہ کرتی رہتی ہیں کہ ماہانہ اُجرت میں قابل لحاظ اضافہ کیا جائے اور اِس کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔ غیر سرکاری اور نجی شعبہ میں دو تہائی محنت کشوں کی دو (2) تہائی تعداد ہے آئینی اور قانونی حقوق سے عملاً محروم ہے اور وہ اِس صورتِ حال کا نقشہ پیش کرتے نظر آتے ہیں۔
دنیا نے تیری یاد سے بیگانہ کر دیا
تجھ سے بھی دلفریب ہیں غم روزگار کے
دین اسلام میں عدل اجتماعی کی بہت زیادہ اہمیت بیان کی گئی ہے اور عدل و قسط کے نظام کا قیام اسلام کا ایک لازمی اور بنیادی تقاضا قرار دیا گیا ہے۔ رحمۃ اللعالمین ﷺ نے محنت کش کو اللہ کا دوست قرار دے کر محنت کشوں کی عظمت کا اعلان فرمایا۔ آپ ﷺ نے غلاموں اور محنت کش طبقات کے حوالے سے فرمایا یہ تمہارے بھائی ہیں جو خود کھاؤ اِنہیں بھی کھلاؤ، جو لباس پہنو اُنہیں بھی پہناؤ، اِن سے ایسا کام نہ لو جو اِن کی طاقت سے باہر ہو، پسینہ خشک ہونے سے پہلے مزدور کو اُس کی اُجرت کی ادائیگی کی تلقین فرمائی گئی۔ پاکستان میں نافذالعمل عدالتی اور قانونی نظام محنت کشوں کو بروقت اُن کے آئینی اور قانونی حقوق دلوانے میں بہت زیادہ تاخیر کی وجہ سے عملی ناکامی سے دوچار ہی نظر آتا ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ترجیحات بھی بالادست اور سرمایہ دار طبقات کے تحفظ کی آئینہ دار نظر آئی ہیں جبکہ ہماری سیاسی اور دینی و مذہبی جماعتوں کے پلیٹ فارم اور محراب و منبر سے بھی محنت کشوں کے اسلامی حقوق پر بلند آہنگ طریقے سے اور مسلسل بات نہیں کی جاتی۔ یہی معاملہ پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کا بھی ہے۔ قومی اسمبلی، سینٹ صوبائی اسمبلیوں میں بھی شاید ہی کبھی محنت کشوں کے حوالے سے کوئی ٹھوس اور توانا آواز بلند ہوتی ہو۔
پاکستان میں حقیقی اسلامی نظام یعنی اسلام کا عادلانہ و منصفانہ نظام نافذ ہو جائے تو ملک کے دیگر کمزور طبقات کی طرح محنت کشوں کو بھی ان کے تمام جائز انسانی، معانی اور معاشرتی حقوق بسہولت میسر ہوں گےہرگز نہیں تو پھر سب کہانیاں ہیں۔ ظلم و استحصال پر مبنی نظام میں محنت کش طبقات کی عظیم اکثریت جانوروں کی سطح ہر زندگی گزارنے پر مجبور ہے، اِس ظلم و استحصال کے حامل نظام کا خاتمہ  نظامِ خلافت کا عادلانہ نظام نافذ کرکے ہی کیا جا سکتا ہے۔
نبی رحمت ﷺ کے ایک فرمان کا مفہوم ہے کہ غربت انسان کو کفر تک پہنچا دیتی ہے پاکستان میں محنت کش طبقات کے معاشی اور سماجی حالات بہتر کرنے کے لیے انقلابی اقدامات اُٹھانے کی ضرورت ہے، جس میں سرفہرست کم از کم ماہانہ اُجرت میں معقول اور قابل لحاظ اضافہ کی فوری ضرورت ہے۔ صنعتی اور تجارتی اداروں کے مالکان کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنے ملازمین کو تحریری طور پر معاہدہ ملازمت کی فراہمی یقینی بنائیں تاکہ ملازمین بطور رجسٹرڈ مزدور اپنے آئینی اور قانونی حقوق حاصل کر سکے۔
حکومت پنجاب نے محنت کشوں کے حوالے سے بعض اچھے فیصلے کیے ہیں جن میں جہیز فنڈ کو ایک سے دولاکھ، پھر چار لاکھ اور اب چھ لاکھ کی حد تک بڑھا دیا ہے۔ اِسی طرح کام کے دوران مزدور کی وفات کی صورت میں ڈیتھ گرانٹ کو بھی بڑھا کر دس لاکھ روپے کر دیا گیا ہے۔ ہر رجسٹرڈ مزدور کو ماہانہ تین ہزار روپے راشن کی خریداری کے لیے بھی دیئے جا رہے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ لیبر سے متعلق موجود قوانین کا ہر سطح پر نفاذ اور عمل درآمد یقینی بنایا جائے ورنہ محنت کش یہ کہتے ہیں:
ملیں اسی لیے ریشم کے ڈھیر بنتی ہیں
کہ دخترانِ وطن تار تار کو ترسیں
چمن کو اس لیے مالی نے خوں سے سینچا تھا
کہ اس کی اپنی نگاہیں بہار کو ترسیں
اسلام کے عظیم مفکر اور بر عظیم پاک و ہند کے عظیم عالمِ دین شاہ ولی اللہ ؒفرماتے ہیں: سونے اور چاندی کے انباروں سے زیادہ خطرناک وہ طرزِ معاشرت ہے جو امیر و غریب میں امتیاز قائم کرکے غریب کے دل میں سرمایہ داری کی ہوس اور شاہ پرستی کا شوق پیدا کرتی ہے سونے اور چاندی کے برتن، زرق برق، ریشمی لباس، فیشن اور تکلفات، دولت مندوں کے دماغوں میں کبر و غدار اور تصور برتری پیدا کرتے ہیں۔ اِس سے ناداروں کے دلوں میں حرص و طمع کی وہ خواہش پیدا ہوتی ہے جو اِن کو رشوت ستانی، چوری، خیانت استحصال بالجبر اور عصمت فروشی پر آمادہ کر دیتی ہے۔