امریکہ ، اسرائیل ،ایران جنگ اور علامہ اقبال
ابو موسیٰ
آج جب یہ تحریر رقم ہو رہی ہے، علامہ اقبال کو اِس دنیا سے رخصت ہوئے 88 سال مکمل ہو گئے ہیں۔ کہنے کو تو ہم اقبال کو مصورِ پاکستان کہتے ہیں اور ظاہری طور پر انہیں بانیانِ پاکستان کی فہرست میں بھی رکھا ہوا ہے لیکن حقیقت میں اقبال کا مسلمانوں کے لیے انقلابی پیغام ہی نہیں اس کی شخصیت بھی جدیدیت کی گرد تلے دب کر عوام وخواص کی نظروںسے اوجھل ہوتی جا رہی ہے۔ زیادہ حقیقت پسندی کا مظاہرہ کیا جائے تو وہ یہ ہے کہ اقتصادی اور مادی ضروریات نے نظریاتی اور روحانی ہی نہیں علمی اور ثقافتی اقدار کا بھی محاصرہ کیا ہوا ہے اور یہ محاصرہ روز بروز شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اِسی طرز عمل کا نتیجہ ہے کہ حکمران بھی بیک جنبشِ قلم 21 اپریل کی تعطیل ختم کر کے اس ہستی سے دوری اختیار کرچکے ہیں۔ اقبال کے کلام کے قریباً ہر شعر سے یہ حقیقت ٹپکتی بلکہ برستی ہے کہ برصغیر ہند نہیں کُل عالمِ اسلام کی حالت ِ زار کا غم اس کی جان کا روگ اور روح کا سوہان بن گیا تھا۔
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر
یوں تو سّید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہو
علامہ نے اپنے پہلے شعر میں عالم اسلام کے جغرافیائی فاصلے ملیا میٹ کیے ہیں اور دوسرے شعر میں بیک وقت نسلی اور فرقہ وارانہ سوچ پر پوری شدت سے چوٹ لگائی ہے اور مسلمانوں کو علاقائی اور فکری تفاوت کو ختم کر کے صرف یک جان ہی نہیںیک قالب ہونے کا پیغام بھی دیا ہے۔
برا نہ مانیں تو حقیقت یہ ہے کہ ایسے اشعار کہہ کر علامہ اقبال نے موجودہ نسل کی بےذوقی اور بےحسی سے تعمیر کردہ پتھریلی دیوار سے اپنا سر زور زور سے ٹکرایا ہے۔ البتہ ایران اس مردِ قلندر کو کچھ نہ کچھ یاد رکھے ہوئے ہے شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ علامہ کا فارسی کلام اردو کی نسبت پُرمعانی اور پُرسوز زیادہ ہے۔ ہمیں علامہ اقبال 21 اپریل کی وجہ سے اور ان کا محبوب ملک ایران یہود و نصاریٰ کی جانب سے مشترکہ طور پر مسلط کردہ جنگ کی زد میں آنے کی وجہ سے یادآیا ہے۔ اگرچہ یہ تحریر سیز فائر کے وقفے کے دوران لکھی جا رہی ہے۔ یہ خونریز جنگ 23 اپریل تک کا وقفہ ختم ہونے کے فوری بعد بھی شروع ہو سکتی ہے اور ایک جنگ بندی کا معاہدہ طے پا جانے کی صورت میں چند ماہ کے لیے ملتوی بھی ہو سکتی ہے لیکن اگر کوئی اس خوش فہمی میں مبتلا ہے کہ اسلام آباد میں معاہدہ طے پا جانے پر دیرپا امن قائم ہو جائے گا اور راوی چین ہی چین لکھنے لگے گا‘ معمولاتِ دنیا پھر قبل از جنگ کی طرف لوٹ آئیں گے تو یہ خوش فہمی ہے اور عقل سے بعید ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ کل کیا ہوگا یہ اللہ رب العزت کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ وہ اور صرف وہ عالم الغیوب ہے انسان تو زمینی اور نظر آنے والے حقائق کو دیکھ کر کچھ نتائج اخذ کرلیتا ہے جن میں غلطی کا امکان یقیناً ہوتا ہے۔ لیکن سمجھنے کی بات یہ ہے کہ حقائق کو بھی تو زمینی رخ قادرِ مطلق، رب ہی دیتا ہے۔ انسان کا کام ہے عقل کے استعمال سے اُن کو سمجھنا اور نتائج تک پہنچنا ہے اس لیے کہ ہم اللہ کو رازق مشکل کُشا اور شافی مانتے ہیں لیکن یہ سب کچھ ہمیں فراہم کرنے کے لیے اللہ کا نزول تو زمین پر نہیں ہوتا وہ مسبب الاسباب ہے اسباب پیدا کرتا ہے۔ لہٰذاان ہی کو بنیاد بنا کر فکر و عمل وجود میں آئیں تو ہماری سمت درست رہتی ہے اور منزل پالینے کا امکان ہوتا ہے بصورت دیگر ٹھوکریں ہی انسان کا مقدر ہوتی ہیں۔ سورئہ بنی اسرائیل کی ایک آیت کا مفہوم یہ ہے کہ جو انسان دنیا چاہتا ہے، میں اُسے دنیا دے دیتا ہوں جتنی میں چاہوں یہ امریکہ پر مکمل طور پر منطبق ہوتی ہے۔ آج امریکہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے معلوم تاریخ میں ٹاپ پر ہے۔ سپر کمپیوٹر،خلائی سفر،AIاور جانے کیا کچھ ہے جن میں امریکہ کے حریف ابھی بھی اس سے بہت پیچھے ہیں۔ لہٰذا فرعونیت اور ہامانیت کی خصوصیات اس میں جمع ہو گئی ہیں اور وہ اُمّت ِمسلمہ پر بالواسطہ اور بلاواسطہ حملہ آور ہے۔ اہل سنت اور اہل تشیع میں عقائد کا فرق موجود ہے جس سےانکار نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن علماء کرام نے بحیثیت مجموعی اُنہیں اُمّت ِمسلمہ کا جزو قرار دیا ہوا ہے۔ آج اُمّت ِمسلمہ کا یہ جز امریکیوں اور اسرائیلوں کے خلاف جنگ کر رہا ہے۔ آج کے امریکی اور اسرائیلی یقیناً یہود و نصاری کی بھی بگڑی ہوئی شکلیں ہیں۔اِس پس منظر میں گویا اُمّت کا یہ جز کُل اُمّت کی طرف سے فرض کفایہ ادا کر رہا ہے۔ لہٰذا ایران کی امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جنگ کو جہادِ حریت تو تسلیم کرنا ہوگا۔ راقم کی اس تحریر کا عنوان ہے امریکہ، اسرائیل، ایران جنگ اور علامہ اقبال کیونکہ اس میں اقبال کے تصور ِحریت کی جھلک پوری آب و تاب سے موجود ہے۔
اب آئیے جنگ کے حوالے سے موجودہ صورتحال کی طرف پاکستان فریقین کو ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر لانے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ امریکہ نے نہ صرف مذاکرات کی حامی بھر لی ہے بلکہ ایک دن پہلے اپنی ایڈوانس پارٹی اسلام آباد بھیج دی تھی۔ اور اب نائب صدر کی سربراہی میں جیرڈ کشنر اور وٹکاف پر مشتمل وفد پاکستان کی طرف روانہ ہو چکا ہے لیکن ایران نے اس وقت تک مذاکرات میں شرکت سے انکار کر دیا ہے جب تک امریکہ ایران کا سمندری محاصرہ ختم نہیں کرتا۔ حقیقت میں امریکہ کا رویہ انتہائی جارحانہ اور زیادتی پر مبنی ہے اس کی مثال کچھ یوں دی جا سکتی ہے کہ دو افراد میں جھگڑا ہو جائے ایک دوسرے کو گردن سے دبوچ لے اور پھر کہے کہ تمہاری گردن تو میری گرفت میں ہی رہے گی لیکن آؤ صلح کے لیے کچھ بات چیت کر لیں۔ جبکہ ایران کا مطالبہ بڑا درست اور حق پر مبنی ہے کہ سمندری محاصرہ ختم کرو تو ہم مذاکرات میں شریک ہو جاتے ہیں بہرحال راقم کی رائے میں یہ سفارت کاری کے نام پر مذاکرات ہوں اور کامیاب ہو بھی جائیں تو بھی یہ ایک ڈرامہ ہے اور امریکہ یہ ڈرامہ اِس لیے رچا رہا ہے کہ وہ مطلوبہ مہلت بھی حاصل کر لے اور وہ دنیا کو کہہ سکے کہ میں دو بار ایران سے مذاکرات کر چکا ہوں لیکن وہ یعنی ایران مذاکرات کو کامیاب نہیں ہونے دے رہا اور جنگ جاری رکھنے پر تُلا ہوا ہے اور ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے اور اگر ایران جیسے غیر ذمہ دار ملک نے ایٹمی صلاحیت حاصل کرلی تو دنیا اور خاص طور پر یورپ کی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی۔ راقم کی رائے میں امریکہ کی بھولی بھالی عوام تسلیم کر لے تو الگ بات ہے وگرنہ دنیا میں کوئی اور اس موقف کو buy نہیں کرے گا۔
سوال یہ ہے کہ اگر امریکہ، روس، چین، برطانیہ، فرانس، بھارت، پاکستان اور اسرائیل (جو کولڈ ٹیسٹ کر چکا ہے) وہ ایٹمی صلاحیت کے حامل ہو سکتے ہیں تو ایران میں کیا خامی یا کمی ہے کہ وہ ایٹم بم نہیں بنا سکتا۔ اس کا انتہائی مضحکہ خیز جواز بتایا جاتا ہے کہ ایران ایک ذِمّہ دار ملک نہیں ہے۔ تو امریکہ نے کیا ناگا ساکی اور ہیروشیما پر ایٹم بم برسا کر ذِمّہ داری کا مظاہرہ کیا تھا؟ بہرحال دنیا میں لاٹھی اور بھینس کا معاملہ تو چلتا ہی ہے۔ اب آئیے اس نقطے پر غور کریں کہ راقم کیوں سمجھتا ہے کہ یہ جنگ ناگزیر ہے۔ یہ ماہ رواں یعنی اپریل 2026ء ختم ہونے سے پہلے بھی شروع ہو سکتی ہے اور زیادہ سے زیادہ چند ماہ کے لیے ملتوی بھی ہو سکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنگ سے بچنے کی پوری کوششوں کے باوجود جنگ ایران پر مسلط کر دی گئی تھی یہ نظر آنے والی حقیقت ہے کہ اگر ایران معاشی، عسکری اور عالمی سطح پر دنیوی تعلقات کے حوالے سے مجبور نہ ہوتا تو وہ کسی صورت یہ عارضی سیز فائر قبول نہ کرتا۔ کیونکہ اس سیز فائر کا فائدہ صرف اور صرف اس کے جنگی مخالفین امریکہ اور اسرائیل کی ضرورت تھی اور ضرورت سے زیادہ بولنے والا ٹرمپ اِس حقیقت کو چھپا بھی نہ سکا۔ اُس نے اِس سیز فائر سے پہلے صاف کہہ دیا تھا کہ 45 دن کا وقفہ ہماری ضرورت ہے۔ اور یہ خبر تو اب دنیا بھر کے سامنے آ چکی ہے کہ امریکہ نے اپنی جنگی صنعت کو انٹرسپٹر بنانے کا حکم دے دیا ہے۔ ان میں وہ کارخانے جو پہلے انٹرسپٹرنہیںبناتے تھے وہ بھی اب انٹرسپٹر بنائیں گے کیونکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ ایران کی اصل دفاعی قوت ڈرونز کے استعمال میں پوشیدہ ہے۔ ان ڈرونز کو روکنے کے لیے ایران کے دشمنوں کو زیادہ سے زیادہ انٹرسپٹرز کی ضرورت تھی لہٰذا مذاکرات کرنا انہیں ناکام بنانا پھر مذاکرات کا یہ شوشہ کھڑا کر دینا اس ناگزیر جنگ کے لیےدرحقیقت وقفہ حاصل کرنا ہے۔ لیکن وہ اس وقفے کو چند ماہ سے آگے کسی صورت نہیں بڑھنے دیں گے۔ شاید اس کی ڈیڈ لائن نومبر 2026ء ہو سکتی ہے۔ راقم اس جنگ کو ناگزیر اگر سمجھتا ہے تو اس کے کچھ واضح اشارے بلکہ ثبوت ہیں۔ 1979ء میں جب رضا شاہ پہلوی کا دیس نکالا ہوا ایران ایک ناپسندیدہ ملک بن گیا۔ امریکہ کا پریس گواہ ہے کہ اسرائیل نے تب سے لے کر اب تک امریکہ کے تمام صدور کو ایران پر حملہ کرنے کی ترغیب دی۔ سب ایران کے ایٹمی صلاحیت کے حصول کے خلاف تھے اور ایران کے حوالے سے ناپسندیدگی کا اظہار بھی کرتے رہے۔ لیکن ٹرمپ کے سوا کوئی ایران پر براہ راست حملہ کرنے کو تیار نہ ہوا۔ پہلا سوال یہ ہے کہ وہ ایران جس کی resistance power کا ابھی کوئی اندازہ نہیں تھااور جس کی اس جنگ میں آگے بڑھ کر اسرائیل اور خلیجی ریاستوں پر حملہ کرنے کی صلاحیت بھی اب سامنے آئی ہے ایسا ایران امریکہ اور اسرائیل کیا برداشت کر لیں گے؟دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا گریٹر اسرائیل کے راستے میں ایٹمی پاکستان کو واحد رکاوٹ سمجھنے والا اسرائیل پہلے ایران سے کیوں نہیں نبٹے گا؟ اس لیے کہ گریٹر اسرائیل کا قیام بقول نیتن یاہو اسرائیل کا سیاسی ہی نہیں حقیقتاً روحانی مشن ہے جس کا وہ برملا اظہار کر چکا ہے۔ کیا وہ قیامِ امن کے لیے اپنا یہ روحانی ہدف ترک کر دے گا؟ تیسرا سوال یہ ہے کہ وہ صہیونی لابی جو امریکہ میں اپنے سرمائے اور امریکی میڈیا پر قابض ہونے کی وجہ سے بے لگام ہو چکی ہے وہ امریکہ کو کان سے پکڑ کر ایران کے خلاف جنگ میں کھینچ لائی ہے اپنے اہداف کی تکمیل کے بغیر اسے چھوڑ دے گی؟چوتھا سوال یہ ہے کہ سمندروں میں اس وقت ہونے والی زبردست بحری بیڑوں کی نقل و حرکت محض ایک شغل ہے؟ جس پر امریکہ کے اربوں ڈالر خرچ ہو رہے ہیںاور امریکہ کے ہزاروں فوجی جو جنگی بیڑوں کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی ریاستوں کی طرف بڑھ رہے ہیں صرف قیام امن کے لیے روک دیے جائیں گے؟ راقم کو خدشہ ہے کہ سیز فائر کے بعد اگر دوبارہ جنگ شروع ہوئی تو وہ خطے کے دوسرے ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ پاکستان کی فوج کے سربراہ جو جنگ روکنے کی از حد کوشش کر رہے ہیں اُس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اسرائیل کوئی عذر تراش کر سعودی عرب کو جنگ میں گھسیٹ سکتا ہے جس کی معنی یہ ہو گا کہ پاکستان بھی جنگ کا حصہ بن جائے گا۔ ساری صورتِ حال کے پس منظر میں دیکھا جائے تو صاف معلوم ہوتا تو ہے کہ مذاکرات امریکہ کا محض وقت حاصل کرنے کا حربہ ہے البتہ ایک بات امریکہ کو جنگ اِس سال کے آخر تک ملتوی کرنے پر مجبور کر سکتی ہے وہ یہ کہ وہ امریکی عوام اور میڈیا کا کچھ حصہ جو پہلے اِس جنگ کے خلاف محض نا پسندیدگی کا اظہار کر رہا تھا اب وہاں یہ عوامی مطالبہ ایک طوفان بن چکا ہے کہ ہم آخر کیوں جنگ کر رہے ہیں یہ احتجاج عارضی طور پر جنگ ملتوی کرا سکتا ہے۔ پھر صہیونی دوبارہ عوامی رائے کو جنگ کے لیے ہموار کریں گے۔ حتمی اور آخری بات ہے کہ یہ جنگ ٹل سکتی ہے ختم نہیں ہو سکتی۔ واللہ اعلم!