(زمانہ گواہ ہے) امریکہ ایران مذاکرات میں تعطل : وجوہات اور خدشات - محمد رفیق چودھری

10 /

امریکہ کی پیوٹ ٹو ایشیاء پالیسی کے تحت مشرقِ وسطیٰ نئی جنگوں کا

مرکز بن چکاہے ، یہی وجہ ہے کہ امریکہ مذاکرات میں سنجیدہ نہیں ہے

بلکہ اس بہانے وہ خطے میں اپنا تسلط اور طاقت بڑھا رہا ہے تاکہ آنے

والی جنگوں کی تیاری کر سکے :رضاء الحق

بورڈ آف پیس پر دستخط کرتے وقت پاکستانی قوم کو یہ بتایا گیا تھا کہ اس

طرح ہم فلسطین میں رہ کر مظلوم فلسطینیوں کی مدد کرسکیں گے اور وہاں 

قیامِ امن کے لیے اثرانداز ہو سکیں گے لیکن 6 ماہ ہوگئے فلسطینیوں پر مسلسل

بم برس رہے ہیں : بریگیڈیئر (ر) جاوید احمد

امریکہ ایران مذاکرات میں تعطل : وجوہات اور خدشات

پروگرام ’’ زمانہ گواہ ہے ‘‘ میں معروف تجزیہ نگاروں اور دانشوروں کا اظہار خیال

میز بان : وسیم احمد

مرتب : محمد رفیق چودھری

سوال: اسلام آباد میں جاری امریکہ ایران مذاکرات ایک بار پھر تعطل کا شکار ہو گئے ہیں کیونکہ ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کر رکھی ہے ، پوری دنیا کے جہاز وہاں سے گزر رہے ہیں لیکن ایرانی جہازوں کو نہیں گزرنے دیا جارہا ، دو ایرانی جہاز امریکہ نے قبضے میں بھی لے لیے ہیں اور ایسی صورتحال میں ایران مذاکرات نہیں کرے گا۔ آپ کے خیال میں کیا ایران کا فیصلہ معقول ہے ؟
بریگیڈیئر(ر)جاوید احمد:یہ جنگ شروع ہونے سے قبل ٹرمپ نے آبنائے ہرمز پر ایران کے حق کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا اور اعلانیہ کہا تھا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کا نظام اپنے ہاتھ میں لے گا ۔ جب پاکستان کی ثالثی کی بدولت جنگ بندی ہوئی تو ایران نے خیر سگالی کے طور پر آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان کیا لیکن دوسری طرف امریکہ نے مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی شروع کردی تھی جس کی وجہ سے ایران ناکہ بندی ختم کرنے کے اعلان پر مکمل طور پر عمل نہیں کرسکا ۔ کیونکہ یہ صرف ایران کی   ذِمّہ داری نہیں تھی بلکہ امریکہ کی بھی ذمہ داری تھی کہ وہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کردیتا ۔ اگر پاسداران انقلاب کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی ہو رہی تھی تو امریکہ کو اس کی نشاندہی کرنی چاہیے تھی تاکہ پاکستان ثالث کی حیثیت سے ایران کو پابندکرتا لیکن امریکہ نے خود آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رکھی ۔ اسی طرح لبنان اور غزہ پر بھی اسرائیلی حملے جاری رہے ۔ امریکی وفدنے اسلام آباد آتے ہوئے اس بات کا اظہار کیا تھا کہ ہم نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہورہے ہیں لیکن وہ نیک نیتی لبنان میں نظر نہیںآئی۔ جب پاکستانی وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ مذاکرات کے لیے لبنان میں بھی جنگ بندی ہوگی تو امریکہ نے فوراً کہہ دیا کہ آپ کو شاید کوئی غلط فہمی ہوئی ہے ہم نے ایسا نہیں کہا۔ دوسری بات یہ ہے کہ پاکستان نے بھی بورڈ آف پیس پر یہ کہہ کر دستخط کیے تھے کہ ہم کہیں فلسطین کے معاملے سے باہر نہ ہو جائیں اس لیے دستخط کر رہے ہیں تاکہ وہاں اثر اندازہ ہو سکیں اور مظلوموں  کی مدد کر سکیں لیکن اس کے بعد 6 ماہ ہوگئے ہیں ، ایک دن بھی خیر کا نہیں گزرا ، روزانہ مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے ، فلسطینیوں پر بم برس رہے ہیں ،حال ہی میں اسرائیل  نے ایک سکول پر حملہ کرکے معصوم بچوں کو شہید کیا ہے ۔ سوال یہ  ہے کہ بورڈ آف پیس پر دستخط کرنے کا کیا فائدہ ہوا ؟
سوال: جنگ بندی کےبعد ایرانی وزیر خارجہ نے اعلان کیا تھا کہ ہم آبنائے ہرمز تمام ممالک کے لیے کھول رہے ہیں لیکن اگلے ہی دن پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز دوبارہ بند کردی ۔کیا ایران کا یہ فیصلہ بدل لینا مذاکرات کی ناکامی کی اصل وجہ ہے یا کچھ اور وجہ ہے ؟
رضاء الحق:مذاکرات میں تعطل کی بہت سی وجوہات ہیں ، اُن میں سے ایک یہ بھی ہے لیکن یہ معمولی وجہ ہے ۔  ایک بڑی وجہ امریکہ کا یہ اعلان تھا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول وہ خود سنبھالے گا۔ جیسے ہی ایران نے آبنائے ہرمز کو کھولا تو امریکہ کے جنگی بحری بیڑے آبنائے ہرمز پرقبضہ کرنے کے لیے حرکت میں آگئے۔ ان حالات میں ایران کے پاس کوئی اور راستہ بھی نہ تھا ۔ یہ جنگ اسرائیل کی وجہ سے ہی شروع ہوئی ہے ۔حال ہی میں یہ خبر بھی آئی ہے کہ صہیونی آبادکاروں نے مسجد اقصیٰ پر حملہ کیا ہے اور اسرائیل کا جھنڈا وہاں گاڑدیا ہے ۔غزہ میں بھی مسلسل  نسل کشی جاری ہے ۔ لبنان پر بھی بمباری جاری ہے ۔ حالانکہ جنگ بندی معاہدہ میں یہ بھی طے ہوا تھا کہ لبنان میں بھی جنگ بند ہوگی ۔ امریکہ چونکہ اسرائیل کی ہی جنگ لڑ رہا ہے لہٰذا وہ کسی معاہدے کی پاسداری نہیں کررہا بلکہ نئے نئے بہانے تراش رہا ہے ۔ حالیہ دنوں میں اسرائیلی انٹیلی جنس نے 8 ایرانی لبرل خواتین کی تصاویر کہیں سے نکال کر عام کر دیں اور خبر پھیلائی کہ ایرانی حکومت ان خواتین کو پھانسی دے رہی ہے۔ حالانکہ ایرانی عدلیہ نے واضح  کہہ دیا ہے کہ ایسا کوئی معاملہ نہیں ہے ۔ انٹرنیشنل فورم پر بھی خبر کی تصدیق نہیں ہوئی لیکن ٹرمپ کا بیان آگیا کہ ایران اگر ان خواتین کو رہا کر دے تو مذاکرات کا نیا دور شروع ہو سکتا ہے ۔ حالانکہ خود امریکہ نے ایران پر حملہ کرکے سکول کی بچیوں کو شہید کیا اور اب بھی اعلانیہ کہہ رہا ہے کہ میں ایران کے پُلوں اور سکولوں کو بھی اُڑادوں گا ، توانائی کے ریسورسز بھی اُڑاد وں گا۔ کیا یہ سب امریکہ کے جنگی جرائم کے ثبوت نہیں ہیں ؟دراصل اسرائیل امریکہ کے ذریعے جنگ کو پھیلانا چاہتاہے ۔ ابI2U2عسکری اتحاد کو بھی متحرک کرنے کی بات ہورہی ہے جس میں امریکہ ، اسرائیل ، بھارت اور UAEشامل ہیں ۔ خدشہ ہے کہ متحدہ عرب امارات کو سعودی عرب کے خلاف استعمال کیا جائے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی فوج سعودی عرب میں جاکرچند اڈے سنبھال چکی ہے ۔ اس کا ایک مقصد تو حرمین شریفین کی حفاظت کرنا ہے ، دوسرا اسرائیل کے شر سے سعودی عرب کو بچانا بھی ہے ۔ یہ شر کہیں سے بھی پھیل سکتاہے ۔ ایران کے خلاف جنگ اسی لیے شروع کی گئی ہے تاکہ اس کے بعد وہ پاکستان کی طرف بھی آئیں ۔ 
سوال: جب سے امریکہ ایران جنگ شروع ہوئی ہے پاکستان شروع دن سے اس جنگ کو رکوانے کی کوشش میں  ہے ۔ اس وجہ سے پاکستان کی پوری دنیا میں بہت پزیرائی بھی ہوئی ہے ، یہاں تک کہ ٹائم میگزین کے سرورق پر فیلڈمارشل اور شہباز شریف کی تصویر اس کیپشن کے ساتھ شائع ہوئی ہے کہ انہوں نے تیسری عالمی جنگ کو روکا ہے ۔ آپ کے خیال میں کیا پاکستان کی یہ کوششیں کامیاب ہو سکیں گی ؟
بریگیڈیئر(ر)جاوید احمد:یہ واقعی تاریخ کا ایک بہت اہم موڑ ہے ۔ اس وقت دنیا میں اس جنگ کے فریقین کے مابین مصالحت کرانے کے لیے شاید ہی پاکستان سے زیادہ موزوں کوئی ملک ہو۔ تاہم میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کو یہ کوشش بہت پہلے شروع کردینی چاہیے تھی جب ایران پر حملے کی منصوبہ بندی کی جارہی تھی اُس وقت پاکستانی وزیراعظم کابینہ کا اجلاس بلاتے اور امریکہ اور ایران کو میز پر لانے کی کوشش کرتے اور یہ کام پاکستان کر سکتا تھا۔ بہرحال اگر وہ نہیں ہو سکا تو جہاں پر اب ہم پہنچے ہیں اس سے آگے اپنی بہترین کوشش کریں ۔ فیلڈ مارشل تین روزہ دورے پر ایران گئے ، ہمارے وزیراعظم سعودی عرب اور ترکیہ کے دور ے پر گئے ۔ بہتر تھا کہ فیلڈ مارشل ایران سے اور وزیراعظم ترکیہ سے واپس اسلام آباد آنے کی بجائے واشنگٹن جاتے اور ٹرمپ انتظامیہ کو بھی سمجھاتے۔ ایران نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ امریکہ کی شرائط پر ہم مذاکرات کر ہی نہیں سکتے کیونکہ وہ مکمل سرنڈر کے مترادف ہے۔ ثالث کی حیثیت سے پاکستان ان شرائط میں تبدیلی کر وا سکتا تھا ۔ ابھی بھی وقت ہے کہ امریکہ کو موثر طریقے سے بتایا جائے کہ شرائط میں تبدیلی کے بغیر بات آگے نہیں بڑھ سکتی ۔ اگر امریکہ اپنے موقف میں تبدیلی کے لیے تیار نہیں ہے تو ہم ایران کو کیسے قائل کر سکتے ہیں ۔ یہ پاکستان کے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بہترین موقع دیا ہے ۔ ہماری لیڈرشپ میں اہلیت ہے مگر ہمارے پاس امریکن لنک والے سکالرز کی بھی کوئی کمی نہیں ہے ، انہیں بھی اس پراسس میں شامل کرنا چاہیے ۔ جتنا وقت ہم نے ایران کو سمجھانے میں لگایا ہے اس سے زیادہ محنت امریکہ پر کرنی پڑے گی کیونکہ سٹیو وٹ کاف اورجیرڈ کشنر جیسے صہیونی نواز لوگوں پر بھروسا نہیں کیا جاسکتا ۔ 
سوال:  NPT کیا ہے ، اس کی شرائط اور مقاصد کیا ہیں اور کیا ایران کو NPTکے تحت یورینیم افزودگی کا جو حق حاصل ہےاُس سے اُسے دستبردار ہوجاناچاہیے یا اپنے حق پر ڈٹ جانا چاہیے ؟
رضاء الحق:Non-Proliferation of Nuclear Weapons Treaty۔(NPT)کے تحت اجازت ہوتی ہے کہ کوئی ملک اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے یورینیم کو ایک خاص حد تک افزودہ کر سکتاہے۔2015ءمیںجو JCPOAکا معاہدہ ہوا تھا اُس  کے تحت یہ تسلیم کیا گیا تھا کہ ایران ایٹم بم بنانے کے لیے یورینیم کی افزودگی نہیں کرے گا ۔ اس کے لیے 90 فیصد افزودہ یورینیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن JCPOA کےتحت طے ہوا تھاکہ ایران  3.67 فیصد سے زیادہ یورینیم افزودگی نہیں کرے گا ۔ لیکن جب ایران نے دیکھا کہ اسی خطے میں اسرائیل یورینیم کی افزودگی 90 فیصد تک بڑھا کر ایٹمی ہتھیار بنا رہا ہے اورIAEAاس کو نہیں روک رہا اور نہ کوئی اعتراض کر رہا ہے تو اس نے بھی یورینیم کی افزودگی بڑھا دی ۔ ایران نے اس دہرے معیار پر اعتراض بھی کیا لیکن اس کے باوجود اس پر پابندیاں لگا دی گئیں ۔ دراصل اسرائیل نہیں چاہتا کہ خطے میں ایک اور مسلم ملک ایٹمی قوت بن کر اس کے راستے میں مزید رکاوٹ بنے ۔ نتین یاہو پاکستان کے حوالے سے بھی کہہ چکا ہے کہ ہم پاکستان کے ایٹمی دانت توڑنا چاہتے ہیں ۔ 1967ء میں ہی بن گوریان نے یہ بات کہہ دی تھی کہ ہمارے لیے سب سے بڑا خطرہ پاکستان ہے ۔ حالانکہ اس وقت پاکستان ایٹمی قوت بھی نہیں بنا تھا ۔ ایران کے بعد اگلا نشانہ پاکستان ہوگا ، پھر چین بھی نشانہ بنے گااور یہ اُن کا منصوبہ ہے لیکن ہوگا وہ جو اللہ چاہے گا ۔ بہرحال اس وقت بھی سب سے زیادہ چینی جہازوں کو روکا جارہا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایران ، پاکستان اور چین کو مل کر اس صورتحال کا مقابلہ کرنا چاہیے اورصاف بات یہ ہےکہ  ایران کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ ایٹمی قوت بن جائے ۔ 
سوال: ایران کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ امریکہ  مذاکرات کے لیے سنجیدہ نہیں ہے بلکہ اس بہانے وقت حاصل کر رہا ہے ۔ کیا ایران کا موقف درست ہے اور امریکہ کے اصل مقاصد کیا ہیں ؟ 
بریگیڈیئر(ر)جاوید احمد:جب امریکہ کا صدر خود یہ کہہ رہا ہے کہ ہم ایران کو مزید وقت دے رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ خود بھی وقت حاصل کر رہا ہے لیکن اس کا مقصد قیام امن نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایک طرف مذاکرات کا کہتا ہے اور دوسری طرف خودآبنائے ہرمز کی ناکہ بندی بھی کر رہا ہے ۔ وہ بحیرہ عرب میں اپنا کنٹرول مسلسل بڑھا رہا ہے اور دو ایرانی جہاز بھی قبضے میں لے رکھے ہیں ۔ پھر چاہ بہار سمیت ایرانی پورٹس کو بھی بلاک کردیا ہے ۔ یہ ساری چیزیں ظاہر کرتی ہیں کہ  امریکہ مذاکرات میں سنجیدہ نہیں ہے بلکہ وہ ایران کی مکمل ناکہ بندی کررہا ہے تاکہ ایران سرنڈر کر دے ۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے جو شرائط پیش کی ہیں وہ سرنڈر کی شرائط ہیں ۔ ثالث کی حیثیت سے پاکستان کے شان شایان نہیں ہے کہ وہ ایران کو سرنڈر پر مجبور کرے ۔ 
سوال: ایران کا موقف یہ ہےکہ امریکہ نے مذاکرات کے لیے جو شرائط پیش کی ہیں اُن کو تسلیم کرنا ایران کے سرنڈر کے مترادف ہے ، ایسی شرائط پر ایران مذاکرات نہیں کرے گا ۔ کیا ایران کا یہ سخت موقف خطے کی صورتحال کے حوالے سے فائدہ مند ہے؟
رضاء الحق:خطے کے حوالے سے تو سب سے فائدہ مند چیز امن ہے لیکن اسرائیل اس خطے میں امن نہیں جنگ چاہتا ہے تاکہ گریٹر اسرائیل کا ابلیسی منصوبہ مکمل ہو سکے ۔ پہلے عرب اسرائیل جنگیں شروع ہوئیں پھر امریکہ بھی کود پڑا اور خلیج کی جنگ میں عراق کو تباہ کردیا ۔ 2001ء میں افغانستان اور 2003ء میں دوبارہ عراق پر حملہ کیا ۔ پھر لیبیا، شام ، الجزائر ، لبنان اور یمن سے بھی امن رخصت ہوگیا ۔ 2012ء میں پیوٹ ٹو ایشیا پالیسی کے تحت اوبامہ نے اعلان کر دیا کہ اب جنگوں کا محورایشیاء  ہو گا ۔کیونکہ ایشیاء میں چین اور روس دو بڑی قوتوں کی صورت میں امریکہ کے لیے خطرہ بڑھ رہا تھا ۔ روس کو یوکرائن کے راستے بھی گھیرنے کی کوشش کی گئی ۔ امریکہ کے حالیہ موقف جوکہ گزشتہ5 برس کی امریکی ڈیفنس رپورٹس میں واضح ہے کے مطابق بھی چین ، روس ، پاکستان ، شمالی کوریا کے میزائل پروگرام امریکہ کے لیے خطرہ ہیں ۔ حالانکہ بھارت اور اسرائیل کو کوئی خطرہ قرار نہیں دے رہا جو مسلمانوں کی نسل کشی کر رہے ہیں ۔ اصل امن کے دشمن تو وہ ہیں ۔ امریکہ کے مذاکراتی وفد میں یہودی جیرڈکشنر اور صہیونی وٹکوف اسرائیل کے ہی نمائندے ہیں ۔ جیرڈ کشنر نے ہی ابراہم اکارڈز اور ڈیل آف دی سنچری جیسے معاہدے کروائے جن سے صرف اسرائیل کو فائدہ پہنچا ہے ۔ ٹرمپ جنگیں ختم کرنے اور دنیا میں امن قائم کرنے کے وعدے کے ساتھ منتخب ہو کر آیا تھا لیکن آتے ہی ڈیپارٹمنٹ آف ڈیفینس کو ڈیپارٹمنٹ آف وار بنا دیا۔ ثابت ہوا کہ وہ محض جنگیں کروانے آیا تھا اور وہی کام وہ کررہا ہے ۔وہ جس طرح سے ایران پر دباؤ بڑھا رہا ہے کہ اپنا نیوکلیئر پروگرام ختم کردو ، ایران میں امریکہ کی مرضی کی حکومت ہو ، پاسداران انقلاب کو بھی ختم کردو اور ہماری مرضی کی فوج بناؤ ، آبنائے ہرمز بھی ہمارے کنٹرول میں ہو ، امریکہ کی 15 شرائط کے پس پردہ یہ ساری باتیں شامل ہیں ، اس کا مطلب ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ ایران مکمل طور پر سرنڈر کردے ، شاہ کا بیٹا ایران کا بادشاہ بن جائے جو امریکہ اور اسرائیل کو خوش آمدید کہے اور اُن کی مکمل معاونت کرے تو پھر یہ جنگ بند ہو سکتی ہے۔ 
سوال: پاکستان اس وقت بڑی غیر جانبداری کے ساتھ خطے میں قیام ِامن کی کوششوں میں مصروف ہے ۔ پاکستان کے اس کردار کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں ، پاکستان کی اِن کوششوں کا حاصل کیا ہوگا ؟
بریگیڈیئر(ر)جاوید احمد:پاکستان نے اس جنگ میں تاریخی کردار ادا کیا ہے ۔پاکستانی سیاسی اور عسکری قیادت نے امن قائم کرنے کے لیے جو کوششیں کی ہیں وہ بہت جرأَت مندانہ ہیں لیکن مصالحت کار کا کردار صرف یہ نہیں ہوتا کہ میز سجا دیا اور کرسیاں لگادیں بلکہ مصالحت کارکا اپنا بھی ایک کردار ہوتا ہے جو تاریخ میں لکھا جاتاہے کہ اس نے سچ کا ساتھ دیا یا پھر بزدلی کا مظاہرہ کیا۔میرے خیال میں پاکستان کے پاس ابھی بھی موقع ہے ، اس کے پاس بہترین ڈپلومیٹس اور انٹلیکچولز ہیں جو امریکہ میں اپنا اثر رکھتے ہیں ، اُن کی خدمات بھی حاصل کی جانی چاہئیں ۔ ایک مضبوط اور بااثر وفد امریکہ جائے اورامریکی پالیسی سازوں سے ملے ۔ پاکستان صرف ایران کے لیے کردار ادا نہیں کر رہا بلکہ پوری اُمت مسلمہ کے لیے کررہا ہے ۔ اگر ایران کو شکست ہوتی ہے تو پوری اُمت کو مزید نقصان پہنچے گا، پھر پاکستان بھی نشانے پر ہو گا، لہٰذا پاکستان کو ہر صورت میں اپنا بہترین کردار ادا کرنا چاہیے ۔ 
سوال: امریکہ اس وقت ظالم کا ساتھی بنا ہوا ہے اور ہم اتفاق سے اور خوش قسمتی سے مظلوم کے ساتھی ہیں۔ ہمارے سامنے صلح حدیبیہ کی مثال بھی موجود ہے ، اگر حالات کے پیش نظر ہم امن کی خاطر اور اپنے اصولی موقف پر قائم رہتے ہوئے تھوڑا دب کر بھی صلح کرلیں تو کیا یہ اُمت کے مفاد میں نہیں ہوگا ؟
بریگیڈیئر(ر)جاوید احمد:صلح حدیبیہ میں  بظاہر کفار کو اپنی جیت محسوس ہوئی تھی کیونکہ کچھ شارٹ ٹرم فوائد اُن کو حاصل ہوئے تھے لیکن اس کے لانگ ٹرم فائدے مسلمانوں کو حاصل ہوئے۔ اِس معاہدے کے ذریعے  جو امن قائم ہوا اس کے نتیجے میں اسلام پھیلا اور مسلمان پہلے سے زیادہ مضبوط ہوگئے تاہم ایک فرق ہے کہ صلح حدیبیہ میں مسلمانوں پر ایسی کوئی پابندی نہیں لگائی گئی تھی کہ آپ نے اسلحہ نہیں بنانا ، جبکہ آج امریکہ ایران پر پابندی لگا رہا ہے کہ تم نے ایٹم بم نہیں بنانا۔ اس طرح  ایران کے نیشنل پوٹینشل کو کم کرنا اور ریسرچ ورک کو کاٹ دینا اگر کفار کی شرائط میں شامل ہو تو انہیں تسلیم کرنے کی اجازت نہ قرآن دیتاہے اور نہ ہی سنت میں اس کی کوئی  مثال ملتی ہے بلکہ قرآن تو اس کے الٹ کہتا ہے :
 ’’اور تیار رکھو اُن کے (مقابلے کے ) لیے اپنی استطاعت کی حد تک طاقت اور بندھے ہوئے گھوڑے‘(تا کہ )تم اس سے اللہ کے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو ڈرا سکو‘اور کچھ دوسروں کو (بھی)جو ان کے علاوہ ہیں ‘ تم انہیں نہیں جانتے ‘ اللہ انہیں جانتا ہے۔اور جو کچھ بھی تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے اس کا ثواب پورا پورا تمہیں دیا جائے گا اور تم پر کوئی زیادتی نہیں ہو گی۔‘‘(الانفال :60)
اس میں مسلمانوں کے لیے کئی ہدایات ہیں ۔ مثلاً ایک یہ کہ دشمن کے مقابلے کے لیے اپنی پوری تیاری کرکے رکھو تاکہ ان کے دلوں میں تمہارا رعب بیٹھا رہے ۔ اللہ کہتاہے کہ کچھ ایسے بھی تمہارے دشمن ہیں جن کو تم نہیں جانتے ۔ ہم نے بھارت سے مقابلے کے لیے اپنی اچھی تیاری کی اور مئی 2025ءکی جنگ میں بھارت کو ذلت اُٹھانی پڑی ، اس کی وجہ سے بھارت کی خفیہ پشت پناہی کرنے والے اسرائیل اور امریکہ کو بھی تھوڑا احساس ہوگیا کہ پاکستان پر حملہ کرنا آسان نہیں ہے ۔ اس آیت میں یہ بھی رہنمائی ہے کہ ہم اپنے دفاع کے لیے یا اُمت کے دفاع کے لیے تیاری کریں گے تو اللہ تعالیٰ ہمیں اس کا اچھا بدلہ بھی دے گا ۔ اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو ایران کی نیشنل پوٹینشل کو کم کروانا اور اس کے ریسرچ ورک کو رکوانا ہمارے لیے جائز نہیں ہے بلکہ اللہ کے حکم کے خلاف ہے ۔  خود ایران کو بھی ایسی کوئی شرط تسلیم نہیں کرنی چاہیے ۔ 
رضاء الحق: صلح حدیبیہ کے دوران بظاہر لگتا تھا کہ مسلمانوں نے خسارے کا معاہدے کیا ہے لیکن اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمت تھی اور وقت نے ثابت کیا کہ وہ معاہدہ مسلمانوں کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوا تھا ۔ مگر آج صورت حال مختلف ہے ۔ امریکہ نے حال ہی میں اپنے دفاعی بجٹ میں 42 فیصد اضافہ کرنے کا عندیہ دیاہے ۔ ظاہر ہے یہ اضافہ جنگوں کے لیے ہی کیا گیا ہے ۔ احادیث کے مطابق بھی یہ فتنوں کا دور ہے اور احادیث میں ایک بڑی جنگ کا بھی ذکر ہے جو اسی خطہ میں لڑی جائے گی ۔ ہم سب اسی طرف جارہے ہیں ۔ اگر کہیں جنگ رُکے گی تو عارضی طور پر رُکے گی ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فتنہ دجال سے بچنے کے لیے جمعہ کے دن سورۃ الکہف کی تلاوت کی تلقین فرمائی ۔ اس سورۃ کی دوسری آیت میں فرمایا: {قَیِّمًا لِّیُنْذِرَ بَاْسًا شَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْہُ}                                                 
’’(یہ کتاب) بالکل سیدھی ہے ‘تا کہ وہؐ خبردار کرے ایک بہت بڑی آفت سے اُس کی طرف سے۔‘‘
یہاں  بَاْسًا شَدِیْدًا سے بعض مفسرین نے بہت بڑی جنگ بھی مراد لی ہے ۔ دجال نے بھی آنا ہے اور حضرت عیسیٰ ؑ کا نزول بھی ہونا ہے ، دجال نے اُن کے ہاتھوں قتل ہونا ہے اور پھر پوری زمین پر اللہ کا دین قائم ہو کر رہے گا ۔  پھر یہ کہ خراسان کا ذکر بھی احادیث میں آیا ہے اور خراسان میںپاکستان کے کچھ علاقے ، پورا افغانستان ، ایران کا ایک صوبہ اور وسطی ایشیاء کے دو ممالک کے کچھ حصے شامل ہیں ۔ احادیث میں اس خطے کے لیے مشرق کا لفظ بھی آیا ہے کہ یہیں سے فوجیں حضرت مہدی ؒ کی نصرت کے لیے جائیں گی اورایلیا (یروشلم ) میں جاکراپنے سیاہ جھنڈے گاڑیں گی ۔ یہی فوجیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زیر قیادت یہودیوں کا خاتمہ کریں گی ۔ ان حالات میں ثالثی کا کردار بھی بہت اہم ہے لیکن ظالم کی شرائط پر نہیں بلکہ مظلوم کی مدد کے لیے ۔ البتہ ہمارااصل کام یہ ہےکہ ہم دین کے ساتھ جڑیں اور پاکستان کو حقیقی معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست بنائیں ۔ پاکستان اسلام کا قلعہ بنے گا تو اُمت کا دفاع مزید بہتر انداز میں ہو سکے گا ۔ ان شاء اللہ !