دعا کی فضیلت ، ضرورت اورآداب
(قرآن و حدیث کی روشنی میں)
مسجدجامع القرآن، قرآن اکیڈمی لاہور میں امیر تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ حفظ اللہ کے17اپریل 2026ء کے خطاب جمعہ کی تلخیص
خطبہ ٔمسنونہ اور تلاوتِ آیاتِ قرآنی کے بعد!
آج اِن شاء اللہ ہم سورۃ الاعراف کی آیات 55 اور 56 کا مطالعہ کریں گے ۔ اِن آیات میں اللہ تعالیٰ سے مانگنے، یعنی دعا کی فضیلت ، ضرورت اور اہمیت بیان ہوئی ہے اور اس کے ساتھ ہی ساتھ دعا کے آداب بھی بتائے گئے ہیں ۔ آیت 55 میں فرمایا :
{اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْیَۃًط}’’پکارتے رہا کرو اپنے رب کو عاجزی کے ساتھ اور چپکے چپکے ۔ ‘‘
دعا کا ایک ترجمہ مفسرین نے عبادت بھی کیا ہے کیونکہ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد گرامی ہے : ((الدعا ھو العبادہ)) دعا ہی عبادت ہے ۔آپ ﷺنے یہ بھی فرمایا :(( الدعا مخ العبادہ ))دعا عبادت کا مغز ہے ۔
عبادت کاایک مفہوم عربی زبان میں تذلل بھی ہے جس کے معنی ہیں بچھ جانا ۔ شرعی اعتبار سےبندہ اپنے رب کے سامنے خود کو بچھا دے ، محبت ، عاجزی اور انکساری کے ساتھ بندہ اپنے رب کے حکم کے سامنے جھک جائے، سرنڈر کر جائے ،یہ عبادت ہے۔ جھک جانے کی یہی کیفیت عبادت کا مغز ہے جو بندے کو دعا کے وقت حاصل ہوتی ہے ۔ اسی لیے دعا کو عبادت کا مغز کہا گیا ۔ اس لیے ہمارے دین میں اللہ سے مانگنے اور دعا کرنے کی بہت زیادہ تلقین کی گئی ہے ۔ سورہ مومن میں فرمایا :{وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْٓ اَسْتَجِبْ لَکُمْ ط} ’’اور تمہارا رب کہتا ہے کہ مجھے پکارو‘ میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔‘‘
یعنی اللہ سے دعا کرنا ، اللہ کا حکم بھی ہے ۔ امام زین العابدین ؒدعا میں یہ کہتے تھے کہ اے اللہ ! میں تجھ سے اس لیے نہیں مانگتا کہ میں تجھے بتاؤں کہ میری فلاں فلاں حاجت ہے ۔ میں کون ہوتا ہوں تجھے بتانے والا؟ تو مجھ سے بہتر جانتاہے ۔میں اس لیے مانگتا ہوں کہ یہ تیرا حکم ہے ۔ اللہ تعالیٰ بندے کی حاجات سے انسان سے زیادہ واقف ہے ۔ سورۃ الملک میں فرمایا :
{اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ ط}(الملک:14) ’’کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے؟‘‘
وہ چاہے تو بندے کی ہر حاجت پوری کردے مگر وہ چاہتا ہے کہ اُس کے بندے اُسے پکاریں ، اس سے مانگیں اور اُسی پر بھروسا کریں ۔ یعنی اُسے اپنا رب مانیں ۔ اس لیے اپنے رب سے مانگنا چاہیے ، دعا کرنا چاہیے ۔ جو دعا نہیں کرتا ، وہ ایک طرح سے تکبر کرتاہے ۔ اس لیے اس آیت میں آگے فرمایا :
’’یقینا ًوہ لوگ جو میری عبادت سے تکبر کی بنا پر اعراض کرتے ہیں وہ داخل ہوں گے جہنم میں ذلیل و خوار ہو کر۔‘‘(المومن:60)
اللہ سے نہ مانگنا تکبر ہے اورحدیث میں ہم پڑھتے ہیں کہ دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہو تو بندہ جنت میں داخل نہ ہوگا۔ رب سے مانگنا گویا رب کی ربوبیت کا اقرار ہے ، اسی لیے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی دعا کو پسند کرتاہے ۔ انسان سے کوئی بندہ اگر کوئی دوتین مرتبہ سوال کرے تو انسان غصے میں آجاتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ سے جتنی مرتبہ بھی مانگو وہ خوش ہوتا ہے ۔ اسی لیے قرآن مجید کے شروع میں بھی دعا ہے جو کہ الحمد شریف کی صورت میں ہم پڑھتے ہیں :
{اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ0} اور { اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ0}
اسی طرح قرآن مجید کے آخر میں سورۃ الفلق اور سورۃ الناس ہیں ، وہ بھی دعائیں ہیں ۔ گویا قرآن میں شروع سے لے کر آخرتک بندے کو عبادت یعنی بندگی سکھائی گئی ہے ، اللہ کے سامنے جھکنا سکھایا گیا ہے ، اللہ سے مانگنا سکھایا گیا ہے ۔ سچی بات یہ ہے کہ وہ رب ہی اس لائق ہے کہ اُس سے مانگا جائے ۔ زیرِمطالعہ آیت سے پچھلی آیت (الاعراف: 54)میں ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے ، وہی اس کائنات کا نظام چلانے والا ہے ، وہی سورج ، چاند ، ستاروں کے نظام کو مرتب کرنے والا ہے ۔ وہی اللہ تمام جہانوں کا رب ہے ۔ اس کے بعد آیت 55 میں دعا کی فضیلت اور آداب بیان کیے گئے ۔
دعا کے آداب
فرمایا:{اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْیَۃًط} ’’پکارتے رہا کرو اپنے رب کو عاجزی کے ساتھ اور چپکے چپکے۔‘‘
رب سے مانگنے کے آداب یہ ہیں کہ اللہ کا بندہ بن کر دعا کی جائے ، یعنی اللہ کے سامنے اپنے آپ کو سرنڈر کرکے ، اپنے آپ کو عاجز محسوس کرتے ہوئے رب سے التجا کی جائے ۔ بندہ عاجز ہے ، لاچار ہے ، محتاج ہے ۔ جیسے سورۃ بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ نے والدین کے حق میں دعا کرنا سکھایا ۔ وہاں یہ الفاظ ہیں : {وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًا(24)}(بنی اسرائیل) ’’اور دعا کرتے رہو : اے میرے رب ان دونوں پر رحم فرما جیسے کہ انہوں نے مجھے بچپن میں پالا۔‘‘
جیسے بچہ مجبور اور لاچار ہوتاہے اور والدین فکرمندی کے ساتھ اُس کی پرورش کرتے ہیں ۔ حالانکہ ماں باپ عالم ِظاہر میں صرف ذریعہ بنتے ہیں ، رب حقیقی تو اللہ تعالیٰ ہے ۔ مگر یہاں ’ رَبَّیٰنِیْ‘ کا لفظ ماں باب کی اُس شفقت کو بیان کرتا ہے جس کے تحت وہ اپنے محتاج بچوں کی پرورش کرتے ہیں۔ اسی طرح رب حقیقی کے سامنے بندہ عاجز ، مجبور اور لاچار ہے ۔ جبکہ اللہ تعالیٰ’ الصمد‘ ہے ۔ صمد عربی میں بڑی چٹان کو بھی کہتے ہیںجو اپنی جگہ کھڑی رہتی ہے ، ڈوبنے والا اس چٹان کا سہار الیتا ہے ۔ یعنی سب اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں وہ کسی کا محتاج نہیں ۔ لہٰذا اس سے مانگنے کے آداب میں سے پہلی دو چیزیں یہ ہیں کہ بندہ عاجزی کے ساتھ مانگے اور چپکے چپکے رب کو پکارے ۔ عاجزی کا مطلب ہے کہ دل میں اپنی بے بسی کا احساس بھی ہو اور رب کی عظمت کا اقرار بھی ہو ۔ جیسے موسیٰ ؑ کی دعا اللہ نے ہمیں سکھانے کے لیے نقل فرمائی :
’’تو اُس نے دعا کی : پروردگار! جو خیر بھی ُتو میری جھولی میں ڈال دے‘ میں اس کا محتاج ہوں۔‘‘(القصص:24)
یہاں فقیر کے معنی محتاج ہیں ۔ اللہ بھی فرماتا ہے :
’’اے لوگو! تم سب اللہ کے محتاج ہو ‘اور اللہ تو الغنی اور الحمید ہے۔‘‘(سورۃ فاطر:15)
اللہ کس قدر غنی ہے ، اس نے بندے کو کس قدر نعمتیں عطاکر رکھی ہیں ۔ اگر سانس رُک جائے ، آنکھ کا پردہ نیچے رُک جائے تو اُسے اندازہ ہوتا ہے کہ کس قدر عظیم نعمت چھِن گئی ، گرمیوں میں مسام بند ہو جائیں تو احساس ہوگا کہ یہ بھی کتنی بڑی نعمت تھی ۔ اسی لیے فرمایا : {فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ(0)} (الرحمٰن)’’تو تم دونوں اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں اور قدرتوں کو جھٹلائو گے؟‘‘
ایک اور جگہ فرمایا :{وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللہِ لَا تُحْصُوْہَاط} (سورۃابراہیم:34) اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو گے تو نہیں گن سکو گے۔‘‘
انسان اپنے وجود پر غور کرے ، اربوں ، کھربوں نعمتیں اس وجود میں رکھی ہیں ، آج سائنسدان صرف ایک ایک جُز پر ریسرچ کرکے حیران ہیں کہ اللہ نے کیا شاہکار بنایا ہے ۔ پورے انسانی وجود میں کس قدر نعمتیں ہوں گی ؟ جس قدر ان نعمتوں کا احساس ہوگا ، اُتنا ہی رب کی عظمت اور بزرگی کااقرار ہوگا ۔ اسی قدر اُس عظیم رب کے سامنے اپنے فقیر ہونے اور عاجز ہونے کا احساس ہوگا ۔ اس احساس کے ساتھ رب سے مانگا جائے ۔ جتنا رب سے مانگے گا، اُتنا ہی رب خوش ہوگا ۔ اس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں ۔مسلم شریف کی روایت میں ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ یا عبادی کہہ کرکے اپنے بندوں سے مخاطب ہوتا ہے کہ اے میرے بندو ! تم سب کے سب انسان اور سب کے سب جنات ایک چٹیل میدان میں کھڑے ہو جائو اور سب کے سب مجھ سے مانگو اور سب کچھ مانگو اور میں سب کوسب کچھ عطا کردوں تو تب بھی میرے خزانوں میں کوئی کمی نہیں ہوگی ۔ اتنا بھی فرق نہیں پڑے گا جتنا سمندر میں سوئی ڈال کر نکالنے سے سمندر کو پڑتا ہے ۔ معلوم ہوا کہ اللہ کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں ، کمی ہمارے مانگنے میں ہے ۔ کمی مانگنے کے آداب میں ہے ۔ فرمایا :
{اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْیَۃًط}’’پکارتے رہا کرو اپنے رب کو عاجزی کے ساتھ اور چپکے چپکے۔‘‘
خفیہ کا لفظ ہم اُردو میں بھی استعمال کرتے ہیں جس کے معنی ہیں پوشیدہ رہ کر ۔ دعا ہم مجلس میں بھی مانگ سکتے ہیں لیکن تنہائی میں انفرادی طور پر اپنے رب سے مانگنا بھی رب کو پسند ہے ۔ یہاں بندہ براہ راست رب سے مخاطب ہو کر اپنے دل کا حال بیان کرتا ہے اور اپنی بے بسی کا اظہار کرتا ہے ۔ جیسے زکریا ؑ کا ذکر قرآن میں آیا ہے :
’’جب اُس نے پکارا اپنے رب کو چپکے چپکے۔اُس نے عرض کیا : اے میرے پروردگار! بلا شبہ میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیںاورمیرا سر بھڑک اُٹھا ہے بڑھاپے سے‘اور اے میرے پروردگار !میں تجھے پکار کر کبھی بھی نامراد نہیں رہااور مجھے اندیشہ ہے اپنے بھائی بندوں سے اپنے بعد‘اور میری بیوی بانجھ ہے ‘ تو ُتومجھے خاص اپنے پاس سے ایک ولی عطا کر۔‘‘ (سورۃ مریم :3تا5)
اللہ علی کل شی قدیر ہے ۔اُس نے اس حال میں بھی حضرت زکریاؑ کی دعا کو قبول کیا اور انہیں یحییٰ ؑ عطافرمائے ۔ مفسرین نے اس پر کلام کیا کہ چپکے چپکے مانگنے میں دکھاوا نہیں آتا ، بندہ اپنے رب سے توجہ کے ساتھ مانگتاہے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی فریا د کو کبھی بھی رد نہیں کرتا ۔ البتہ وہ اپنے بندے کے لیے جو پسند فرماتاہے وہ عطا کرتاہے ۔ آگے فرمایا: {اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ (55)}’’ یقیناً وہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘(الاعراف :55)
دعا کا بنیادی تقاضا ہی یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کے سامنے سرنڈر کردے اور اس کے احکامات اور مقرر کی ہوئی حدود کو مانے ۔ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدود سے گزرنا سرکشی اور بغاوت ہے اور اسے رب پسند نہیں کرتا ۔ لفظ مُعْتَدِیْن اعتدال سے ہٹنے والوں کے لیے آیا ۔ دعا کے آداب میں یہ بھی شامل ہے کہ بندہ دعا کرتے ہوئے اعتدال پر قائم رہے ۔ مفسرین کے نزدیک اس سے مراد یہ بھی ہے کہ بندہ دعا کرتے ہوئے کسی کا ناحق بُرا نہ چاہے ، کسی کا ناحق نقصان نہ چاہے ، ناجائز کی خواہش نہ کرے ۔ اسی طرح جہاں انفرادی سطح پر چپکے چپکے رب سے مانگنا پسندیدہ عمل ہے تو وہیں انفرادی سطح پر بلا ضرورت آواز بلند کرنا بھی حد سے تجاوز کرنا ہے ۔ تاہم اجتماعی سطح پر بلند آواز میں دعا کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔ جیسا کہ جمعہ و عیدین کے خطبے میں علماء اجتماعی دعا کرتے ہیں یا حج کے موقع پر اجتماعی دعا کی جاتی ہے ۔ اسی طرح مسجد میں کوئی نماز پڑھ رہا ہے ، کوئی تلاوت کررہا ہے ، کوئی چپکے چپکے رب سے مانگ رہے لیکن ایک شخص بلند آواز میں مانگنا شروع کردے تو وہ بھی ناپسندیدہ عمل ہے ۔ اس میں دکھاوے کا عنصر بھی آسکتا ہے ۔ یہ ساری باتیں حد سے تجاوز کرناشمار ہوں گی ۔ آگے فرمایا: {وَلَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِہَا}(الاعرف:56) ’’اورزمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد مت مچائو۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے جب اس دنیا میں حضرت آدم ؑ کو بھیجا تو وہ پہلے انسان بھی تھے ، پہلے نبی ؑبھی تھے ، پہلے خلیفہ بھی تھے ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے پہلے دن سے ہی انسان کی اصلاح کا معاملہ بھی شروع کردیا تھا ۔ سورۃ البقرہ میں ذکر ہے :
’’تو جب بھی آئے تمہارے پاس میری جانب سے کوئی ہدایت‘ تو جو لوگ میری اس ہدایت کی پیروی کریں گے اُن کے لیے نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ حزن سے دوچار ہوں گے۔‘‘ (آیت:38)
جب نسل ِآدم نے اللہ کی بھیجی ہوئی ہدایت سے انحراف کیا تو فساد وہیں سے شروع ہوگیا ۔ پھر بھی ہر دور میں لوگوں کی اصلاح کے لیے اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیجے ، آسمانی کتابیں نازل فرمائیں ۔ یہ سلسلہ اللہ کے آخری رسول ﷺ اور آخری کتاب قرآن مجید پر آکر مکمل ہوا ۔ اب قرآن و سنت ہی ہمارے لیے راہ ہدایت ہیں جن کے ذریعے اصلاح معاشرہ کا کام ہو سکتاہے ۔ اس کی مخالفت کرنا ، اس کے حصول میں رکاوٹیں ڈالنا بھی فساد ہے ۔ جیسا کہ سورۃ البقرہ کے دوسرے رکوع میں منافقین کے بارے میں فرمایا کہ سب سے بڑے فسادی یہ لوگ ہیں جو محمد مصطفی ﷺ کی دعوتِ دین اور اقامت ِدین کی جدوجہد میں رکاوٹیں کھڑی کر تے ہیں ۔ اسی طرح آج بھی اسلام کے نظام کی راہ میں جو رکاوٹیں ڈالتے ہیں وہ بھی فساد ی شمار ہوں گے ۔ایسے لوگوں کی دعائیں قبول نہیں ہوں گی ۔ دعا کی قبولیت کے لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں شرط بھی بتادی :
’’اور (اے نبیﷺ!) جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں سوال کریں تو (ان کو بتا دیجیے کہ) میں قریب ہوں۔میں تو ہر پکار نے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب بھی (اور جہاں بھی) وہ مجھے پکارے‘پس انہیں چاہیے کہ وہ میرا حکم مانیں‘اور مجھ پر ایمان رکھیں‘تاکہ وہ صحیح راہ پر رہیں۔‘‘ (البقرہ :186)
دعا کی قبولیت کی گارنٹی اللہ کی طرف سے ہے مگر شرط یہ ہے کہ دعا مانگنے والا اللہ پر ایمان رکھتا ہو اور اللہ کا حکم مانتا ہو ۔ گویا اللہ کہتاہے کہ اگر تم چاہتے ہو کہ تمہاری دعائیں قبول ہوں تو تمہیں نافرمانی اور گناہ کے کام چھوڑنا ہوں گے ۔ سرکشی اور بغاوت کا راستہ ترک کرنا ہوگا ۔ احادیث میں ہے کہ قطع رحمی کرنے والا، حرام خوری کرنے والا ، گناہ اور ظلم کرنے والا جب تک توبہ نہ کرے دعا قبول نہیں ہوتی ۔ مسلم شریف کی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ ایک بندہ کعبہ کا غلاف پکڑ کر اور گڑگڑا کر دعائیں مانگ رہا تھا ، اس کا چہرہ، بال اور لباس گرد آلود تھے جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ طویل سفر کرکے کعبہ میں دعا مانگنے آیا تھا لیکن اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا :ایسے شخص کی دعا کیسے قبول ہو جس کا کھانا ، پینا ، لباس وغیرہ سب حرام کا ہو ۔‘‘ حرام کمانا بھی فساد ہی ہے کیونکہ اس صورت میں بندہ کسی کا حق مارتا ہے ، کسی پر ظلم کرتا ہے ۔ لہٰذا فسادی لوگوں کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں ۔ آگے فرمایا:
{وَادْعُوْہُ خَوْفًا وَّطَمَعًاط}’’ اور اللہ کو پکارا کرو خوف اور اُمید کے ساتھ۔‘‘(الاعرف:56)
یہاں بھی دعا کے دو آداب بیان ہوئے ہیں ۔ ایک مشہور روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ فرماتے ہیں :
((الایمان بین الخوف والرجا )) ’’ایمان خوف اور اُمید کی درمیانی کیفیت کا نام ہے۔‘‘ دعا میں یہ دونوں کیفیات شامل ہونی چاہئیں ۔ نہ تو بندہ بالکل مایو س ہو جائے اور نہ ہی گمان میں چلا جائے ، جیسے شیطان بندے کو اُکساتا ہے کہ مزید گناہ کرلو ، پھر توبہ کرلینا ۔ اس طرح بندہ کبھی اپنی اصلاح نہیں کرسکے گا ۔ اِس کے برعکس بندے کو حقیقت پسند ہونا چاہیے اور اللہ تعالیٰ کی دونوں صفات کو مد ِنظر رکھنا چاہیے ۔ وہ غفور و رحیم بھی ہے ۔ جیسا کہ فرمایا :
{نَــبِّی ئْ عِبَادِیْٓ اَنِّیْٓ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ (49)} (الحجر)’’(اے نبیﷺ!) میرے بندوں کو بتا دیجئے کہ مَیں یقیناً بہت بخشنے والا‘ نہایت رحم کرنے والا ہوں۔‘‘
پھر اگلی ہی آیت میں یہ بھی فرمایا :{وَاَنَّ عَذَابِیْ ہُوَ الْعَذَابُ الْاَلِیْمُ(50)} (الحجر)’’اور یہ کہ میرا عذاب بھی بہت دردناک عذاب ہے۔‘‘
لہٰذا بندہ اپنے رب سے اِس کیفیت میں دعا کرے کہ اُس کے دل میں اللہ کی پکڑ کا خوف بھی ہو اور اُس کی رحمت کی اُمید بھی ہو ۔ ایک نوجوان صحابی قریب المرگ تھے ، آپ ﷺ نے اُنؓ کی کیفیت کے بارے میں پوچھا ۔ عرض کی یارسول اللہ ﷺ! ڈرتا ہوں کہ اللہ پکڑ نہ فرما لے مگر اُمید بھی ہے کہ وہ رحمت کا معاملہ فرمائے گا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’جس کی یہ دونوں کیفیات بیک وقت ہوں ، اللہ اُس کو بچا لے گا اُس چیز سے جس کا اُسے ڈر ہے اور وہ عطا کرے گا جس کی اُسے اُمید ہے۔‘‘ لہٰذا دعا مانگتے وقت بندے کے دل میں یہ خوف بھی ہو کہ میری نافرمانیوں ، میرے گناہوں کی وجہ سے اللہ کہیں میری دعا کو رد نہ کردے اور یہ اُمید بھی ہو کہ اللہ بخش دے گا۔ حدیث میں ذکر ہے کہ جس کو دعا کی توفیق مل گئی اس کے لیے رحمت کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔ البتہ دعا کی قبولیت کی کیفیات مختلف ہو سکتی ہیں ۔ ایک حدیث میں ہے کہ اللہ بندے کی دعا کو قبول فرماتاہے جب تک کہ وہ گناہ نہ کرے ، قطع رحمی نہ کرے اور جلد بازی نہ کرے ۔ جلد بازی سے مراد مایوسی بھی ہے کہ جو مانگا وہ نہیں ملا۔ حالانکہ اگر فوری دعا قبول نہ ہو تو بندے کو مایوس نہیں ہونا چاہیے ۔اللہ کی حکمت کامل ہے ، وہ اپنے بندے کے لیے جو پسند فرماتا ہے ، عطافرماتا ہے۔ بعض اوقات بچے ایسی ضد کر بیٹھے ہیں جو اُن کے لیے مفید نہیں ہوتی تو والدین بھی اُن کی ضد پوری نہیں کرتے ۔ اللہ تو سب سے بہتر جاننے والا ہے ۔ فرمایا :
’’اورہو سکتا ہے کہ تم کسی شے کو ناپسند کرواور وہ تمہارے لیے بہتر ہو۔اور ہو سکتا ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو درآنحالیکہ وہی تمہارے لیے بری ہو۔اور اللہ جانتا ہے‘ تم نہیں جانتے۔‘‘ (البقرۃ:216)
حدیث میں ہے کہ بندہ دعا کرتا ہے ، اللہ اپنی حکمت کے مطابق مناسب سمجھے گا تو اُس کو عطا فرمائے گا ، نہیں تو اُس کے بدلے میں کوئی مصیبت دور کردے گا ۔ جیسے صدقے سے اللہ کا غضب دور ہو جاتا ہے۔ اسی طرح دعا بھی بعض اوقات تقدیر کے فیصلے کو بدل سکتی ہے ۔ تیسری صورت یہ بھی ہے کہ دنیا میں دعا قبول نہ ہو تو اللہ تعالیٰ آخرت میں اُس کا اجر عطا فرما دے گا ۔ حدیث میں ہے کہ بندہ جب اُس اجر کو دیکھے گا تو کہے گا کہ کاش دنیا میں میری کوئی دعا قبول نہ ہوتی ۔زیر ِمطالعہ آیت میں آگے فرمایا :{اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰہِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ(56)}’’یقینا اللہ کی رحمت اہل ِاحسان بندوں کے بہت ہی قریب ہے۔‘‘
محسنین سے مراد احسان کرنے والے ہیں اور احسان کے بارے میں حدیث ِجبریل میں ہم پڑھتے ہیں :
’’اللہ تعالیٰ کی عبادت ایسے کرو گویا تم اُسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اُسے نہیں دیکھ رہے ہو تویہ احساس رکھو کہ وہ یقیناً تمہیں دیکھ رہا ہے۔‘‘(صحیح مسلم)
جب یہ کیفیت پیدا ہوگی تو عمل میں حسن پیدا ہوگا ۔ اسی کی دعا ہم ہر فرض نماز کے بعد کرتے ہیں :
((اَللّٰھُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ))اے اللہ! تو اپنی یاد (ذکر) پر، اپنے شکر پر اور بہترین طریقے سے اپنی عبادت بجا لانے پر میری مدد فرما۔
دنیا کے حصول کے لیے ہم اپنی پوری قوت اور جان لگا دیتے ہیں ،دن رات ایک کر دیتے ہیں ، اللہ کہتا ہے کہ اتنی محنت اور کوشش اپنی آخرت کے لیے کرو ، یعنی اللہ کی صرف بندگی نہیں حسن بندگی کی طرف آؤ ، محض اعمال نہیں بلکہ حسن ِاعمال کی طرف آؤ ۔ ایسے لوگ ہی اللہ کی رحمت کے مستحق ہوں گے ۔
دعا کے آداب میں کچھ اور باتیں بھی احادیث میں بیان ہوئی ہیں ، جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ جب دعا کرو تو اللہ کی حمد و ثنا بیان کرو ، اس کی بزرگی اور بڑائی کا اعلان کرو ، اوّل و آخر میں درود شریف کا اہتمام کرو ۔
آج ہم طرح طرح کے مسائل کا شکار ہیں اور ان مسائل کے حل کے لیے لاکھوں روپے خرچ کرکے ماہرین سے مشورے کرتے ہیں ، اب تو کو چنگ کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا لیکن مسائل ہیں کہ حل نہیں ہورہے ، ہم کہتے ہیں کہ دنیا جہاں والوں سے Consultation لے لی ، ذرا اپنے خالق اور مالک رب کے سامنے بھی گڑگڑا کر دیکھو ، اللہ سے بھی مشورہ کرکے دیکھ لو ۔ وہ غفور و رحیم ہے اور بہت تھوڑے پر بھی راضی ہو جاتاہے ، دو آنسو بہاؤ ، اپنے گناہوں کا اعتراف کرو ، آئندہ کے لیے سچے دل سے توبہ کرو تو وہ نہ صرف معاف کرتاہے بلکہ بندے کی دعا بھی قبول کرتا ہے۔ کیا آج ہمیں اِس بات پر یقین ہے ؟ کیا ہم 24 گھنٹوں میں ایک مرتبہ بھی اپنے رب سے دعا کرتے ہیں ؟ سمارٹ فون کی سکرین پر تو چھ چھ گھنٹے گزر جاتے ہیں ، کیا اللہ کے ذکر ، استغفار اور دعا کا بھی خیال آتا ہے ؟پہلے کم ازکم جمعہ کے دن گھر میں بیان ہوتا تھا ، سورۃ الکہف کی تلاوت ہو جاتی تھی ، درود شریف کا ورد ہو جاتا تھا اب وہ بھی نہیں رہا ۔ سچی بات یہ ہےکہ اللہ تعالیٰ کی عطا میں کوئی کمی نہیں ، ہمارے اعمال اور ہماری دعاؤں میں کمی ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دعا کے آداب سیکھنے اور اُن کے مطابق اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے والا بنا دے۔ آمین !