(اداریہ) مذاکرات میں تعطل کب تک؟ - رضا ء الحق

10 /

اداریہ


رضاء الحق


مذاکرات میں تعطل کب تک؟


گزشتہ اداریہ میں ہم نے تحریر کیا تھا کہ جب ندائے خلافت کا شمارہ 15 قارئین کے ہاتھوں میں ہوگا تو امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہو چکا ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ مذاکرات کے دوسرے دور کے انعقاد اور امریکہ و ایران کے مابین مصالحت کروانے کے لیے پاکستان نے بہت زور لگایا اور شاید ضرورت سے زیادہ ہی لگا دیا۔ وزیراعظم پاکستان نے چار ممالک کا دورہ کیا جبکہ فیلڈمارشل نے وفاقی وزیر داخلہ کے ساتھ 3 دن ایران میں گزارے۔ ہمارے شمار کے مطابق اِس دوران امریکی صدر ٹرمپ نے روزانہ کی بنیاد پر کم از کم 8 مرتبہ اپنا بیان تبدیل کیا۔ کبھی مذاکرات میں شرکت کا وعدہ کیا تو اگلے ہی سانس میں ایران کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکی دے دی۔ آبنائے ہرمز کا بحری گھیراؤ کرکے ایران کو مزید مجبور کرنے کا عمل بھی شروع کر دیا، جس میں تاحال امریکہ کو خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ ایران کے خلاف مکمل فتح کے پے درپے دعوے بھی کیے اور ساتھ ہی اپنے کئی اعلیٰ فوجی عہدیداروں کو اِس بنیاد پر برطرف کر دیا کہ وہ جنگ میں ناکام ہو رہے ہیں۔ دوسری طرف اسرائیل جنگ بھڑکا کر اور اِس میں امریکہ کو ملوث کرکے اب خاموشی سے تماشا دیکھ رہا ہے اور ناجائزصہیونی ریاست کا وزیر دفاع کہتا ہے کہ اُسے جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے گرین سگنل کا انتظار ہے۔ ایران کے بحری محاصرہ سے چین کو بھی کسی قدر نقصان پہنچا ہے لیکن اِتنا نہیں کہ وہ باقاعدہ جنگ میں کود پڑے۔ پاکستان کی اعلیٰ قیادت کو ایران نے مذاکرات میں عدم شرکت کا پیغام دیا اور ہمارے نزدیک صحیح دیا۔ امریکہ، ایران کو مجبور کر رہا ہے کہ وہ ایسی شرائط پر مذاکرات میں شریک ہو جنہیں اگر ایران مان جائے تو صاف مطلب یہ ہوگا کہ اُس نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔ صدر ٹرمپ ایسی صورت میں بنفس نفیس فاتح کے طور پر فتح کے اُس معاہدہ پر دستخط کرنے پاکستان تشریف لانے (یا کم از کم آن لائن شرکت کرنے) کے متمنی ہیں۔ لیکن اپنے ملک میں اُن کی حالت یہ ہے کہ مقبولیت صرف 37 فیصد رہ چکی ہے اور ہر تین میں سے دو امریکی اِس جنگ کو ’اسرائیل کی جنگ‘ قرار دے رہے ہیں۔ اسرائیل کی غزہ، مغربی کنارے اور لبنان پر وحشیانہ جارحیت جاری ہے جبکہ صہیونی آباد کار آئے دن مسجدِ اقصیٰ پر حملے کر رہے ہیں جس میں ناجائز صہیونی ریاستی مشینری اُن کا مکمل ساتھ دیتی ہے۔ ایسی صورتِ حال میں پاکستان کو بھی سوچنا ہوگا کہ کیا وہ ظالم کا ساتھ دے رہا ہے یا مظلوم کا! بظاہر صورتِ حال ایسی ہے کہ مذاکرات کا عمل طُول پکڑتا دکھائی دیتا ہے۔ واللہ اعلم! البتہ اسرائیل تو روزِاوّل سے ہی جنگ جاری رکھنے پر مُصِّر ہے تاکہ اُس کا گریٹر اسرائیل کا منصوبہ جلد از جلد مکمل ہو سکے۔ اِس موضوع پر آئندہ بھی کلام جاری رہے گا۔ اِن شاء اللہ! اللہ تعالیٰ اُمتِ مسلمہ کی حفاظت فرمائے۔ آمین!
محنت اور سرمایہ کے مابین عدل کیسے قائم کیا جائے؟

اُنیسویں صدی کے اواخر میں جب عالم اسلام بلاواسطہ یا بالواسطہ غیروں کے پنجۂ استبداد میں جکڑا ہوا تھا، روس پرزارِ روس کے نام سے بدترین آمریت مسلط تھی۔ البتہ یورپ میں ایک صدی پہلے اگر معاشی سطح پر صنعتی انقلاب برپا ہوچکا تھا تو سیاسی سطح پر سرمایہ دارانہ نظام کے سائے میں نام نہاد جمہوری طرزِحکومت قائم ہوچکا تھا۔ ہماری رائے میں سرمایہ دارانہ نظام کو ایک ایسے ہی طرزِ حکومت کی ضرورت تھی جس میں اکثریتی عوام کو صحیح یا غلط طور پر احساسِ شرکت ہو۔ اسی دور سے میڈیا(جو اُس وقت Ministry of propagandaکی شکل میں تھا اور آج بھی ہے) ایک قوت کی حیثیت سے ابھرنا شروع ہوا، جس نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر موجود سرمایہ داروں کے نمائندوں میں ربط پیدا کردیا، اور مخصوص قوتیں یہ تاثر دینے میں کامیاب ہوگئیں کہ حکومتی طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔ اگرچہ عوام نہ اس وقت جان سکے اور شاید نہ آج تک جان سکے ہیں کہ ظاہراً مادرپدر آزاد میڈیا ساری اچھل کود تو سرمائے کی گود میں کرتا ہے۔ بہرحال ہم نے بات کا آغاز کیا تھا اُنیسویں صدی کے اواخر سے جب امریکہ میں ایک ایسا حادثہ ہوا جس نے تقریباً ثلث صدی بعد دنیا کے ایک بڑے حصّہ میں سرمایہ، جمہوریت اور میڈیا کو شدید لیکن عارضی چوٹ لگائی۔ ہماری مراد یکم مئی 1886ء کو شکاگو میں مزدوروں کو پیش آنے والے حادثہ سے ہے۔ جرمن فلسفی کارل مارکس نے اِس واقعہ سے بہت پہلے اپنی کتاب DasCapital کے ذریعے محنت کو اصل قوت قرار دیتے ہوئے محنت کش کی حکومت کا تصور دیا تھا۔ وہ خود اپنی زندگی میں کسی چھوٹے سے گائوں میں بھی یہ نظام قائم نہ کرسکا، لیکن بہت سے پیروکار اُس کی زندگی میں اور بعد میں پیدا ہوئے جنہوں نے اس فلسفہ کو قبول کرلیا تھا۔ اُدھر یورپ اور امریکہ میں سرمایہ دارانہ جمہوریت بڑی مستحکم ہوچکی تھی اور غیر صنعتی یا پسماندہ دنیا بشمول عالم اسلام پر یورپ کا بلاواسطہ یا بالواسطہ تسلط قائم تھا۔ لہٰذا کارل مارکس کے فلسفہ کے تحت دنیا میں جو شور اُٹھا وہ یورپ اور امریکا کو تو خاص متاثر نہ کرسکا لیکن روس جہاں زارِروس کے ظلم اور کرپشن نے عوام میں بےزاری اور بے چینی پیدا کی ہوئی تھی، وہاں ولادمیر لینن نے اسی فلسفہ کو بنیاد بنا کر 1917ء میں بالشویک انقلاب کے ذریعے سیاسی فتح حاصل کرلی۔ شکاگو کے ہلاک شدہ مزدوروں کے خون کو اِس انقلاب کے لیے خوب استعمال کیا گیا اور مزدور، محنت کش اور کسان کی حکومت کے نام پر ایک پارٹی کی آمریت مسلط کردی گئی، جس نے جبر سے مخالفین کی آواز دبا دی۔ میڈیا کو بھی سرکاری پارٹی کے تحت کردیا گیا، جس کا کام صرف حکومتی کارکردگی پر تعریفیں کرنا تھا۔ مئی کے واقعات یعنی مزدوروں کی تحریک اور 1917ء کا بالشویک انقلاب درحقیقت سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ردعمل تھا ۔ لیکن بدقسمتی سے اشتراکیت کے دعوے داروں نے کیپیٹلزم کے استحصال سے دنیا کو بچانے کی بجائے بدترین ’ریاستی کیپیٹلزم‘ رائج کر دیا ۔ بہرحال سوویت یونین کے گرد ایک آہنی پردہ تان کر اِسے دنیا سے الگ تھلگ کردیا، جس کا کم و بیش ایک فائدہ ضرور ہوا کہ حکومت نے کم از کم ربع صدی بڑی یکسوئی اور محنت سے سائنس اور ٹیکنالوجی کوترقی دے کر سوویت یونین کو ایک سپر قوت بنا دیا۔ خصوصاً عسکری اور دفاعی سطح پر وہ دوسری قوتوں سے پیچھے نہ رہا۔ اسی لیے دوسری جنگ عظیم کے خاتمے پر عالمی سطح پر ہونے والی بندر بانٹ میں اُسے بڑا حصّہ ملا اور مشرقی یورپ میں سوویت یونین کے نظام اور اُس کی برتری کو قبول کرلیا گیا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ تمام بلند بانگ دعوئوں اور پروپیگنڈا کے باوجود مزدور اور محنت کش کو خوشحالی کم اور نعرے اور پُرفریب وعدے زیادہ ملے۔ اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ بالشویک انقلاب کے نتیجہ میں بننے والی حکومتوں نے معاشی ترقی اور معاشی وسائل کی عادلانہ تقسیم کی بجائے عسکری قوت میں اضافہ پر ساری توجہ مرکوز کردی۔ البتہ یورپ اور امریکہ کا صنعت کار اور سرمایہ دار حالات کے تیور پہچان چکا تھا۔ شاطر سرمایہ دار (فرہنگ کی رگِ جاں پنجۂ یہود میں ہے!) یہ سمجھ گیا تھا کہ سیاسی شعور اجاگر ہوجانے کے بعد معاشی استحصال صرف اِسی صورت قائم رکھا جاسکے گا جب خالی نعرے نہیں انسانوں کو سوکھی روٹی کے ساتھ کچھ شیرینی بھی دی جائے۔ چنانچہ یورپ اور امریکہ کے صنعتی ممالک میں سوشل سیکیورٹی سکیم، مزدورو ں کے لیے مفت طبی امداد، اوور ٹائم، بنیادی تعلیم، اولڈایج بینیفٹ فنڈ اور بہت سی دوسری ’مراعات‘ کا اعلان کیا گیا۔ لیکن یورپ کا جن پسماندہ ممالک پر سیاسی اور عسکری تسلط تھا وہاں اُس نے جاگیرداری نظام اور وڈیرہ ازم کے ذریعے divide and rule کی پالیسی اپنا کر اپنا حکومتی سلسلہ کامیابی سے جاری رکھا۔
پاکستان نے 1947ء میں سفیدسامراج کے جبر و استبداد سے آزادی حاصل کی تھی لیکن افسوس کہ عوام تک ’دیو استبداد‘ کی دی ہوئی اِس آزادی کے ثمرات نہ پہنچ سکے۔ یہ حال تو متوسطہ طبقے کا ہے۔ رہی بات مزدور، محنت کش اور کسان کی تو علامہ اقبال نے اپنی یہ التجاء اللہ کے حضور بہت پہلے رکھ دی تھی؎
تو قادر و عادل ہے، مگر تیرے جہاں میںہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقاتآج پاکستان میں مزدور اور محنت کش طبقہ کے حالات دیکھ کر اِس شعر کی تلخی بھی بد قسمت مزدور اور محنت کش کے حالات کی صحیح عکاسی کرتی دکھائی نہیں دیتی۔ استحصال اور ظلم تمام حدیں پھلانگ چکا ہے ۔ ملک کی کثیر آبادی ایک وقت کی روٹی کے لیے تن من دھن لگا رہی ہے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون!
لیکن ظلم بھی ایک حد تک برداشت کیا جاسکتا ہے اور کیا جاتا ہے۔ اِس سے پہلے کہ آتش فشاں کا لاوا پھٹ جائے، سرمایہ کار کو مزدور کو اُس کا جائز حق دینا ہوگا۔البتہ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ مزدور کو کھلی چھٹی دے دی جائے۔ دونوں کو عدل کا راستہ اختیار کرنا ہو گا لیکن سوال یہ ہے کہ کسی باطل نظام کے زیرِ سایہ عدل کیسے قائم ہوگا؟ کیونکہ نظامِ عدلِ اجتماعی کے نفاذ کے بغیر عدل کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ صرف خالقِ کائنات کا دیا ہوا نظام ہی سرمایہ اور محنت کی کشاکش کو ختم کر سکتا اور حقوق و فرائض میں توازن پیدا کر سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اسلام کے عطا کردہ نظامِ عدلِ اجتماعی کو قائم کرنے کی توفیق دے، تاکہ کوئی ایک طبقہ بھی دوسرے کا استحصال نہ کر سکے۔آمین یا رب العالمین!