(الہدیٰ) تین خصوصی اعمال: نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا اور آخرت پر یقین ِکامل - ادارہ

10 /
الہدیٰ
 
تین خصوصی اعمال: نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا اور آخرت پر یقین ِکامل 
 
 
 
آیت 4 {الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ} ’’ جو نماز قائم کرتے ہیں‘‘
اب یہاں محسنین کے اوصاف کا ذکر ہے اور اُن کی پہلی صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ نما زقائم کرتے ہیں۔
{وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ} ’’اور زکوٰۃ دیتے ہیں‘‘
اِن الفاظ کا ایک مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ لوگ اپنے تزکیے کے لیے مسلسل کوشاں رہتے ہیں۔ یاد رہے کہ سورۃ البقرۃ کی آیت ۳میں اس حوالے سے{وَمِمَّا رَزَقْنٰہُمْ یُنْفِقُوْنَ(3)}  کے الفاظ آئے ہیں ‘جبکہ یہاں باقاعدہ ’’زکوٰۃ‘‘ کا لفظ آیا ہے۔
{وَہُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ہُمْ یُوْقِنُوْنَ(4)}’’اور آخرت پر یہی لوگ پختہ یقین رکھتے ہیں۔‘‘ 
’’ایمان بالآخرۃ ‘‘کی اہمیت کے پیش نظر اس کے بارے میں خصوصیت کے ساتھ یہاں ’’یقین‘‘ کا ذکر ہواہے۔ دراصل آخرت کا عقیدہ وہ عامل (factor)ہے جو انسان کے عمل اور کردار پر سب سے زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن اس ضمن میں ایک بندۂ مسلمان سے یقین والے ایمان کا تقاضا کرتا ہے۔
آیت ۵{اُولٰٓئِکَ عَلٰی ہُدًی مِّنْ رَّبِّہِمْ وَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(5)}’’یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔‘‘ 
 
قرآن تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف حجت ہے
 
عَنْ أَبِی مَالِکٍ الْأَشْعَرِیِّ ؓ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ:((الطُّہُورُ شَطْرُ الْإِیْمَانِ وَالْحَمْدُ لِلہِ تَمْلَأُ الْمِیزَانَ وَسُبْحَانَ اللّٰہِ وَ الْحَمْدُلِلّٰہُ وَلَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ تَمْلَأُ مَا بَیْنَ السَّمَاءٌ وَالْأَرْضِ وَالصَّلَاۃُ نُورٌ وَالصَّدَقَۃُ بُرْہَانٌ وَالصَّبْرُ ضِیَاءٌ وَالْقُرْآنُ حُجَّۃٌ لَکَ  أَوْ عَلَیْکَ  کُلُّ النَّاسِ یَغْدُو فَبَائِعٌ نَفْسَہٗ فَمُعْتِقُھَا اَوْمُوْبِقُھَا))  (متفق علیہ)
حضرت ابو مالک اشعری ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا: ’’صفائی ایمان کا حصہ ہے۔ الحمد للہ کہنا میزان عمل کو بھر دیتا ہے۔  سبحان اللہ، اَلْحَمُدْ للّٰہِ  لا الٰہ الا اللہ واللہ اکبر آسمان و زمین کے درمیان کی جگہ کو بھر دیتے ہیں۔ نماز نور ہے، صدقہ دلیل ہے، صبر روشنی ہے اور قرآن تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف حجت ہے اور ہر انسان صبح کرتا ہے تو اپنے آپ کو بیچ رہا ہوتا ہے پھر کوئی اسے ہلاک کر دیتا ہے اور کوئی اسے آزاد کر دیتا ہے۔‘‘