زوال ِ اُمت کے اسباب اور نشاۃ ثانیہ کا لائحہ عمل
(قرآن و حدیث کی روشنی میں )
انجمن خدام القرآن سندھ کے زیر اہتمام32 ویں رجوع الی القرآن کورس کی تقریب
تقسیم اسناد و انعامات میں امیر تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ حفظ اللہ کے خطاب کی تلخیص
مرتب: ابو ابراہیم
سب سے پہلے میں اللہ تعالی کا شکر ادا کرتا ہوںکہ اس کے خاص فضل سے آج ہم اس اہم پروگرام کا انعقاد کرنے کے قابل ہوئے ۔ محترم ڈاکٹر اسراراحمدؒ نے دو ادارے قائم کیے تھے ۔ ایک انجمن خدام القرآن اور اس کے تحت مختلف شہروں میں قرآن اکیڈمیز جو کہ ہمارا’’ برینڈ نام‘‘ ہے ، الحمدللہ ۔ قرآن حکیم کا پڑھنا پڑھانا ، سیکھنا سکھانا اور قرآن کی تعلیمات کو عام کرنا ان کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے ۔ دوسرا رجسٹرڈ ادارہ تنظیم اسلامی پاکستان ہے ۔ اس کا مقصد اللہ کے دین کے غلبے کی جدوجہد کرنا ہے کیونکہ اللہ کا دین اپنا غلبہ و نفاذ چاہتا ہے ۔ ڈاکٹر اسراراحمدؒ نے اُمت کے زوال کے حوالے سے کتاب و سنت کی روشنی میں تجزیہ کیا کہ اُمت کے زوال کے اسباب کیا ہیں اور اس زوال سے نکلنے کا لائحہ عمل کیا ہوگا ۔ایک بنیادی وجہ جو سامنے آئی وہ یہ تھی کہ اُمت نے قرآن کو فراموش کر دیا ۔ قرآن کو فراموش کر دینے کی وجہ سے اُمت اُس نبوی مشن کو بھی بھول گئی جس کے لیے اللہ نے اپنے آخری رسول ﷺ کو بھیجا تھا اور جس کاقرآن میں تین بار حکم آیا :
{ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَلَــوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ0} (التوبہ: 33 ‘ الفتح : 28‘ الصف:9)
’’وہی ہے (اللہ) جس نے بھیجا اپنے رسولؐ کو الہدیٰ اور دین ِحق کے ساتھ تاکہ غالب کر دے اس کو پورے نظامِ زندگی پر‘اور خواہ مشرکوں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو!‘‘
اس آیت میں دو باتوں کا تذکرہ اور اس کے نتیجے کا بیان ہے۔ اسی آیت کی روشنی میں یہ بات بھی مزید واضح ہو جائے گی کہ تنظیم اسلامی اور انجمن خدام القرآن قائم کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ اللہ کے رسولﷺ کو جب غارِ حرا میں پہلی وحی عطا ہوئی تو اس میں فرمایا گیا :
{اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ(1)} (العلق) ’’پڑھیے اپنے اُس رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔‘‘
یعنی قرآن کے نزول کے آغاز میں ہی یہ بتا دیا گیا کہ علم حاصل کیجئے مگر رب کے نام کے ساتھ ۔ آج مسئلہ یہ ہے کہ دنیا جہاں کی ریسرچ ہو رہی ہے ، علوم و فنون اور ٹیکنالوجی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ انسانی زندگی اور انسانی معاشروں کی تباہی بھی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے ۔8سال قبل CIAکی ایک رپورٹ منظر عام پر آئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ دنیا کی 70 فیصد آبادی کم ترقی یافتہ ممالک میں ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں صرف 30 فیصد آبادی ہے ، اس کے باوجود دنیا کے 70 فیصد جرائم 30 فیصد آبادی والے ترقی یافتہ ممالک میں ہورہے ہیں ۔ معلوم ہوا کہ کسی چیز کی کمی رہ گئی ہے ۔ دنیا میں فی کس آمدن کے لحاظ سے اسکینڈے نیوین ممالک سب سے آگے ہیں ، یعنی وہ سب سے زیادہ خوشحال ہیں مگر سب سے زیادہ خودکشیاں بھی وہیں پر ہورہی ہیں ، سب سے زیادہ نفسیاتی مسائل کا شکار وہیں پر لوگ ہورہے ہیں ۔ آخر کہیں نہ کہیں کوئی کمی رہ گئی ہے ۔وہ کمی کیا ہے؟ ڈاکٹر اسراراحمدؒ فرمایا کرتے تھے کہ آج دنیا کے مسائل کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہماری مادی آنکھ تو کھلی ہے لیکن روحانی آنکھ بند ہے ۔ یعنی دنیوی علوم و فنون میں تو بہت آگے نکل گئے لیکن وحی کی تعلیم کو فراموش کردیا ۔ اسی وجہ سے ہدایت سے دور ہوگئے ۔ حالانکہ ابتدا میں جب آدم ؑ کو زمین پر بھیجا گیا تھا تواُسی وقت سے ہدایت یعنی وحی کی تعلیم کو لازم قرار دیا گیا تھا ۔ فرمایا :
{قُلْنَا اھْبِطُوْا مِنْھَا جَمِیْعًاج فَاِمَّا یَاْتِیَنَّـکُمْ مِّنِّیْ ھُدًی فَمَنْ تَبِعَ ھُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ(38)}(البقرہ) ’’ہم نے کہا: تم سب کے سب یہاں سے اُتر جائو۔تو جب بھی آئے تمہارے پاس میری جانب سے کوئی ہدایت‘ تو جو لوگ میری اس ہدایت کی پیروی کریں گے ان کے لیے نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ حزن سے دوچار ہوں گے۔‘‘
جس طرح ہدایت کا سلسلہ پہلے انسان اور پہلے نبی سے شروع ہوا ، اسی طرح اسلام بھی شروع سے ہی اللہ کا چنیدہ دین ہے ۔ سورئہ آل عمران میں ارشاد ہوتا ہے :
{اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللہِ الْاِسْلَامُ قف} (آیت: 19) ’’یقیناً دین تو اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہی ہے۔‘‘
الہدیٰ(یعنی قرآن مجید جو آخری الہامی کتاب ہے) اور دین ِاسلام دونوں کی تکمیل آخری رسول ﷺ پر ہوئی جب انسانی شعور اپنی بلندیوں پر پہنچ گیا اور اعلان ہوگیا کہ آج دین کی تکمیل ہوگئی ۔ فرمایا :
{اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَـکُمْ دِیْـنَـکُمْ}(المائدہ:3) ’’آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو کامل کردیاہے۔‘‘
ڈاکٹر اسراراحمدؒ نے اِس موضوع پر بہت قیمتی تجزیہ کیا ہے ۔ اُن کے مطابق شروع میں زندگی سادہ تھی تو چند ہدایات کافی تھیں ۔ جوں جوں انسانی معاشرہ آگے بڑھتا رہا ، ہدایت اور اصولوں کی ضرورت بھی بڑھتی گئی اور اسی تناسب سے اللہ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے ہدایت کے نزول کا سلسلہ جاری رکھا ۔ رسول اللہﷺ کے دور تک بڑی بڑی ریاستیں اور تہذبیں قائم ہو چکی تھیں ۔لہٰذا آپ ﷺ پر دین اور ہدایت کی تکمیل ہو گئی ۔ یہی دو چیزیں ہیں جن کے ساتھ آپ ﷺ کو بھیجا گیا ۔ ایک الہدیٰ اور دوسری دین حق یعنی نظام ِ اسلام۔ پھر ان دونوں کو بھیجنے کا مقصد بھی بتا دیاگیا کہ :{لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ لا وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ(33)} (التوبہ) ’’ تا کہ غالب کردے اسے کل کے کل دین (نظامِ زندگی) پر‘خواہ یہ مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار گزرے۔‘‘
دین ِ حق یعنی اسلام محض کوئی مذہب نہیں ہے کہ صرف چند عقائد ، عبادات اور رسومات تک محدود ہو بلکہ یہ مکمل نظام ِ حیات ہے جو زندگی کے ہر گوشے کے لیے رہنمائی دیتاہے اور انفرادی زندگی سے لے کر اجتماعی سطح تک اپنا مکمل نفاذ چاہتا ہے ۔مگر نفاذ فرد واحد کا کام نہیں ہے ، اس کے لیے ایک تحریک اور جماعت کی ضرورت ہوتی ہے اور اُس جماعت کی فکری و روحانی تربیت قرآن کے ذریعے ہوگی ۔ قرآن سے ہی ہدایت ملے گی ۔ جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے مکہ مکرمہ میں صرف قرآن کے ذریعے جماعت ِ صحابہؓ کی فکری و روحانی تربیت کی ۔ اس کے بعد ہی حقیقی معنوں میں ایک انقلابی جماعت تیار ہوئی اور اللہ کا دین غالب و نافذ ہو گیا ۔ ختم نبوت کے بعد اس اُمت کی ذِمّہ داری ہے کہ وہ الہدیٰ کی دعوت اور دین حق کے قیام کی جدوجہد کرے ۔ اسی مقصد کے لیے ڈاکٹر اسراراحمدؒ نے ایک ادارہ انجمن خدام القرآن کے نام سے قائم کیا ، جس کا مقصد الہدیٰ یعنی قرآن کی تعلیم کو عام کرنا ہے اور دوسرا ادارہ تنظیم اسلامی کے نام سے قائم کیا جس کا مقصد دین حق کے قیام کی جدوجہد کرنا ہے ۔ قرآن کی تعلیم عام ہوگی ، لوگ اس کو پڑھیں گے ، سمجھیں گے ، تدبر اور تفکر کریں گے تو ایمان کی آبیاری ہوگی ، فکرو شعور میں پختگی آئے گی ، اعمال ِ صالحات کا جذبہ پیدا ہوگا ۔ قرآن سے ہدایت اور تربیت یافتہ لوگ ہی پھر جمع ہو کر ایک بڑے انقلاب کا ذریعہ بنیں گے ۔ کیونکہ قرآن کی تعلیم اللہ کے احکامات کا نفاذ بھی چاہتی ہے اور یہ نفاذ ایک فرد کی ذاتی زندگی سے لے کر اجتماعی سطح پر سیاست ، معیشت ، معاشرت سمیت زندگی کے تمام گوشوں میں مطلوب ہے ۔
زوال ِاُمّت کے اسباب اور حل
ہماری اُمّت کے زوال کے اسباب پر اُمت کے کئی اکابرین اور مفکرین نے کلام کیا ہے ، ان میں علامہ اقبال بھی شامل ہیں اور بھی کئی اکابرین شامل ہیں ۔ ڈاکٹر اسراراحمدؒ نے بھی اِس حوالے سے کافی تحقیق کی اور 10 نکات میں اس موضوع کا احاطہ کیا ۔ 5 نکات میں اسباب بیان کیے اور 5 میں اُن کے حل تجویز کیے ۔ آئیے ان 10 نکات کا مطالعہ کرتے ہیں ۔
(1) قرآن سے دوری:
سب سے پہلی بات یہ سمجھ لیں کہ یہ زوال محض سیاسی یا معاشی نہیں ہے بلکہ ایمانی اور فکری سطح کا ہے۔اس وقت دنیا میں دو ارب مسلمان ہیں ، 57 مسلم ممالک ہیں ، تیل کی دولت ہے، بہترین دماغ ہمارے پاس ہیں، ہمارے بچوں کی بنائی ہوئی کمپنیز کو ایلون مسک خرید رہا ہے ، ایٹمی صلاحیت ہمارے پاس ہے ، میزائل ٹیکنالوجی ہے ، ڈرون ٹیکنالوجی ہے ، بہترین ہتھیار اور تربیت یافتہ فوج ہے ۔ لیکن اس سب کے باوجود زوال کیوں ہے ؟معلوم ہوا کہ یہ معاشی یاسیاسی مسئلہ نہیں ہے بلکہ فکری اور شعوری مسئلہ ہے ۔ بقول ڈاکٹر اسراراحمدؒ ایمانی فکر والی آنکھ بندہے ، صرف مادی فکر والی آنکھ کھلی ہے ۔ دنیا کا مال و اسباب چاہیے لیکن آخرت کی فکر نہیں ہے ۔ دنیا تو فرعون ،نمرود ، قارون کو بھی مل گئی تھی لیکن اِس اُمّت کا مسئلہ کچھ اور ہے ۔ بقول اقبال :
اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمیؐ!
معلوم ہوا کہ زوال کی بنیادی وجہ ایمانی فکر کا نہ ہونا ہے اور ایمانی فکر کہاں سے آئے گی جب ہم نے قرآن کو چھوڑدیا ؟ آج اگر قرآن سے ہمارا تعلق رہ بھی گیا ہے تو صرف اس حد تک کہ ہم نے اسے محض تبرک اور ثواب کی کتاب سمجھ لیا ہے ، اس سے ہدایت لینا بھول گئے ہیں ۔ فلموں ، ڈراموں اور ناچ گانوں کے آغاز میں بھی تلاوت کروائی جاتی ہے ، ٹی وی چینلز پر آغاز قرآن کی تلاوت سے ہوتا ہے اور اس کے بعد دن بھر بےہودہ باتیں دکھاتے ہیں ۔ بیٹی کی رخصتی کے وقت قرآن کا نسخہ تھما دیا جاتاہے لیکن زندگی بھر پڑھایا نہیں جاتا ۔ گویا کہ ہم نے قرآن کو ہدایت کی کتاب سمجھا ہی نہیں کہ اس سے رہنمائی لیں ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا تھا : (( اِنَّ اللّٰہَ یَرْفَعُ بِھٰذَا الْکِتَابِ أَقْوَامًا وَیَضَعُ بِہِ آخَرِیْنَ))’’بے شک اللہ اس قرآن کی بدولت قوموں کو عروج عطا فرمائے گا اور اس کو ترک کر دینے کی وجہ سے قوموں کو ذلیل و رسوا کر دے گا۔‘‘ اسی کی ترجمانی اقبال نے کی ؎
وہ زمانے میں معزز تھے مسلمان ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارک قرآن ہو کر
وہ قرآن جو فکر کو پختگی دیتا ہے، ورلڈ ویو دیتا ہے،ایمان کی آبیاری کرتا ہے ، فرد میں انقلاب برپا کرتاہے ، بندے کو حق کی حمایت میں اور باطل کی مخالفت میں کھڑا کرتا ہے ، حق اور باطل کے معرکہ میں صبر واستقامت کے مراحل سے گزرنے کی ہمت دیتاہے ، وہ قرآن آج ہماری نگاہوں سے دور ہے ۔ 99 فیصد لوگ ہمارے معاشرے میں ایسے ہیں جنہوں نے آج تک قرآن کا مکمل ترجمہ پڑھا ہی نہیںتو کون سا انقلاب آئے گا؟ہم کو پھر زوال کیوں نہ ہو ؟
(2) وہن کی بیماری
اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : ”عنقریب دیگر قومیں تم پر ایسے ہی ٹوٹ پڑیں گی جیسے کھانے والے پیالوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں“ ایک کہنے والے نے کہا: کیا ہم اُس وقت تعداد میں کم ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تم اُس وقت بہت ہو گے، لیکن تم سیلاب کی جھاگ کے مانند ہو گے، اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے سینوں سے تمہارا خوف نکال دے گا، اور تمہارے دلوں میں وہن ڈال دے گا“ پوچھا گیا :’’وہن‘‘ کیا ہے؟فرمایا :” دنیا کی محبت اور موت کا ڈر ہے“۔ گزشتہ صدی میں 90 کی دہائی کے آغاز میں 31 ممالک کے ہمراہ امریکہ نے عراق پر ہلہ بول دیا ۔ افغانستان پر 50 سے زائد ممالک کے ساتھ چڑھائی کی، آج بھی پورے غزہ کو ملیا میٹ کر دیاگیا ، اہل ِ غزہ کی نسل کشی کی جارہیہے مگر 57 مسلم ممالک اور دو ارب مسلمان کچھ نہیں کر پارہے ، وجہ صرف دنیا کی لالچ اور موت کا ڈر ہے ۔ جبکہ قرآن مجید انسان کو آخرت کی طرف توجہ دلاتاہے ، اللہ سے ملاقات کا شوق دلاتاہے اور یہی مجاہدانہ تربیت مسلمان کو باطل کے خلاف کھڑا کرتی ہے ۔
(3) عقیدئہ آخرت کی کمزوری
زوال کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آج عملی زندگی میں آخرت کی جواب دہی کا احساس ختم ہو گیا ہے جس سے اخلاقی پستی پیدا ہوئی۔ڈاکٹر اسراراحمدؒکے الفاظ اس سبب کی صحیح ترجمانی کرتے ہیں کہ آج ہمارا اجتماعی کردار یہ ہے کہ جو جتنے بڑے عہدے پر فائز ہے وہ اتنا بڑا جھوٹا اور خائن ہے ۔ بخاری شریف میں منافق کی تین اور مسلم شریف میں چار نشانیاں بیان ہوئی ہیں : جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو توڑڈالے ، جب امانت رکھوائی جائے تو خیانت کرے اورجب جھگڑا ہو تو گالیاں دے ۔ یہ آج ہمارا اجتماعی مزاج بن چکا ہے ۔ ہماری عدلیہ ورلڈ رینکنگ میں 137 نمبر پر کھڑی ہے ۔ دنیا میں پاکستان کے پاسپورٹ کی کوئی ویلیو نہیں رہ گئی ۔ انٹرنیشنل لیول پر لوگ مسلمان کی بجائے کسی کافر کے ساتھ بزنس ڈیل کرنا پسند کرتے ہیں ۔ وجہ یہی ہے کہ آج مسلمان کے دل سے آخرت کی جوابدہی کا احساس نکل گیا ۔ بنی اسرائیل بھی اللہ اور اس کے رسولوںؑ کو ماننے والے تھے ، اللہ کی کتابوں کو بھی مانتے تھے لیکن عملی طور پر اس کے خلاف کرتے تھے ، آج مسلمانوں کا حال بھی اس سے مختلف نہیں ہے تو اللہ کی ناراضگی اور زوال کیوں نہ ہوگا ؟آخرت کی جوابدہی کا احساس بھی قرآن کے مطالعہ سے آئے گا ، بندہ جب نماز میں کھڑا ہوتاہے تو پڑھتا ہے :
{مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ(0)}’’جزا و سزا کے دن کا مالک و مختار ہے۔‘‘
اسی طرح قرآن کے ہر صفحے پر آخرت کی فکر دلانے والے موضوعات ہیں جنہیں ہم پڑھیں گے تو عقیدۂ آخرت مضبوط ہوگا ۔
(4) فرقہ واریت اور انتشار
اُمّت گروہوں میں اور مسالک میں بٹ گئی جس کی وجہ سے اجتماعی قوت ختم ہو گئی۔حالت یہ ہے کہ سود کے دھندے پر ہمارے چہرے کا رنگ تبدیل نہیں ہو رہا، برابر والے نے ہاتھ اوپر باندھ لیے تو ٹینشن ہو جاتی ہے۔ بے حیائی کا طوفان گھر میں پہنچا ہوا ہے،اس پر چہرے کا رنگ سرخ نہیں ہوتالیکن برابر والے نے آمین ذرا زور سے کہہ دی یا نہیں کہی تو گویا ایمان خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ آج باطل ایران پر حملہ آور ہے ، ہم اتنے مسلک پرست ہوگئے کہ ایران کی حمایت پر بھی آمادہ نہیں ہوپارہے ۔حالانکہ آپس کے اختلافات ایک طرف رکھتے ہوئے ہمیں فیصلہ کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے تھا کہ اس وقت ہمیں ایران کا ساتھ دینا ہے یا نیتن یاہو کا ؟
شیخ الہند مولانا محمود حسن ؒجب اسیر مالٹا تھے تو انہوں نے امت کے زوال پر غور کیا ۔ بعدازاں خود فرمایا کہ میں نے اُمت کے زوال کی دو بنیادی وجوہات پائیں : اول فرقہ واریت اور دوم قرآن سے دور ی ۔ مفتی محمد شفیع عثمانی ؒ نے فرمایا تھا کہ یہ دونوں وجوہات اصل میں ایک ہی ہیں ۔ اگر قرآن کو واقعتاً تھاما ہوتا تو یہ تفرقہ بازی اور انتشار نہ ہوتا ۔ قرآن کو چھوڑا تو گلی گلی کفر کفر کے فتوے بٹ رہے ہیں۔ قرآن کو چھوڑا تو دین کا جامع تصور ہمارے سامنے نہیں ، ورلڈ ویو ہمارے سامنے نہیں ، اُمت کا اجتماعی مفاد ہمارے سامنے نہیں ۔ اللہ کی حاکمیت چیلنج ہوتی ہے توہوتی رہے، اللہ کا قانون ٹوٹتا ہے تو ٹوٹتا رہے، اللہ اور اس کے رسول ﷺسے جنگ جاری ہے تو جاری رہے ،بے حیائی کا طوفان پھیلتا ہےتو پھیلتا رہے، گستاخیاں ہوتی ہیںتو ہوتی رہیں، ہمیں تو بس اپنا مسلک عزیز ہے ، صرف اُسی کے دفاع میں بحثیں ہو رہی ہیں، مناظرے ہو رہے ہیں ، کیچڑ اُچھالے جارہے ہیں ، کفر کے فتوے لگ رہے ہیں ۔ اوپر کفر کا نظام چل رہا ہےاور ہم ایک دوسرے کے خلاف وکٹری کے نشان بنا رہے ہیں ۔ اس گراوٹ کی بنیادی وجہ یہ ہےکہ ہم نے قرآن کو چھوڑ دیا جو اعلیٰ فکراور سوچ دیتا ہے ،اعلیٰ ویژن اور مقصد دیتا ہے۔جب اس قرآن کو ترجیح نہیں دی تو گراوٹ در گراوٹ اخلاقی سطح پر حتیٰ کہ مسلکی اور مذہبی سطح پر بھی ہمیں دکھائی دیتی ہے۔(الا ما شاء اللہ)
(5) مغربی تہذیب کا غلبہ
مسلمانوں نے اسلامی شناخت چھوڑ کر مغربی افکار اور طرزِ زندگی کو مرعوبیت کے ساتھ اپنا لیا۔مغربی لباس اور بول چال کو ہمارے ہاں اہمیت دی جاتی ہے ، سادہ اور شرعی لباس میں ملبوس جتنی کوئی اعلیٰ نظریات اور اعلیٰ افکار کی حامل شخصیت ہو اس کو اہمیت نہیں دی جاتی ۔ حالانکہ اقبال نے مغربی تہذیب کے بارے میں کہا تھا ؎
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سےآپ خودکشی کرے گی
جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا
مرعوب ذہن کوئی انقلابی کام نہیں کر سکتا ۔ انقلاب کیسے آئے گا ؟
یہ پانچ اسباب زوال کے بیان کرنے کے بعد ڈاکٹر اسراراحمدؒ پانچ حل بھی بتاتے تھے ۔
(1) رجوع الی القرآن
قرآن کہتا ہے :{اِنَّہٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ (13) وَّمَا ہُوَ بِالْہَزْلِ (14)}(الطارق) ’’یہ (قرآن) قولِ فیصل ہے۔اوریہ کوئی ہنسی مذاق نہیں ہے۔‘‘
یہ قرآن فیصلہ کردینے والاہے ۔حدیث کا مفہوم ہے کہ اس قرآن کو تھامنے کی وجہ سے قوموں کو عروج ملے گا اور اس کو چھوڑ دینے کی وجہ سے قومیں ذلیل و رسوا ہو جائیں گی ۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ یہ قرآن آخرت میں بھی فیصلہ کن کردار ادا کرے گا ۔ حدیث کے الفاظ ہیں : (( القران حجۃ لک او علیک)) ’’یہ قرآن(روز حساب) تمہارے حق میں حجت ہوگا یا تمہارے خلاف حجت ہوگا۔‘‘ اگر زندگی میں قرآن سے رہنمائی اور ہدایت لی ہوگی تو آخرت میں یہی قرآن بندے کے حق میں سفارش کرے گا لیکن اگر قرآن کو کھول کر پڑھنا بھی گوارا نہ کیا تو یہی قرآن آخرت میں اس بندے کے خلاف گواہی دے گا۔ ڈاکٹر اسراراحمدؒ نے رجوع الی القرآن کے عنوان سے مطالعہ قرآن اور کورسز کا آغاز کیا جس کا مقصد یہی تھا کہ لوگ قرآن کو پڑھنا اور سمجھنا سیکھیں ، اس سے عملی زندگی میں ہدایت اور رہنمائی لیں ۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے بارے میں فرمایا :اگر وہ نافذ کرتے اس کلام کو جو ان کی طرف نازل کیا گیا تھا تو وہ کھاتے اپنے اوپر سے بھی اورنیچے سے بھی (المائدہ :66)۔ یعنی اللہ ان کے لیے آسمان کے خزانے بھی کھول دیتا اور زمین کے خزانے بھی ان کے لیے وافر ہوتے ۔ معلوم ہوا کہ اللہ کی کتاب صرف پڑھنے کے لیے نازل نہیں ہوتی بلکہ اپنا نفاذ بھی چاہتی ہے ۔ آج ہمارے پاس اللہ کی کتاب کا کامل اور حتمی ایڈیشن قرآن کی صورت میں موجود ہے ۔ اگر اس کو نافذ کریں گے تو اللہ ہمارے لیے بھی زمین و آسمان کے خزانے کھول دے گا ۔ امام غزالی ؒنے لکھا کہ سب سے پہلے انسان کو اپنے موروثی ایمان سے توبہ کرنی چاہیے، پھر شعوری ایمان کے حصول کی کوشش کرنی چاہیے ۔ وہ ایمان جو دل میں یقین پیدا کرے ۔ قرآن میں اللہ فرماتا ہے :
{وَزَیَّنَہٗ فِیْ قُلُوْبِکُمْ} (الحجرات:7)’’اور اسے تمہارے دلوں کے اندر کھبا دیا ہے‘‘
جیسے صحابہ کرام ؓ کے دلوں میں اللہ نے ایمان کو مزین کر دیا تھا ، وہی ایمان آج ہمیں اپنے قلوب میں جاگزیں کرنے کی ضرورت ہے ۔ ایسا ایمان جب دل میں ہوگا تو ہمارا عمل اس کی گواہی پیش کرے گا ۔ اسی لیے اللہ کے رسول ﷺنے فرمایا: حالت ِایمان میں کوئی چوری یازنا نہیں کرتا ، شراب نہیں پیتا۔دل میں حقیقی ایمان ہو تو بندہ سات پردوں میں بھی گناہ سے اجتناب کرتاہے ۔ یہ حقیقی ایمان قرآن کے مطالعہ اور اس میں غوروفکر سے آئے گا ۔ ڈاکٹر اسراراحمدؒ نے جو رجوع الی القرآن کورسز شروع کیے ان کا مقصد یہی تھا ۔
(3) اجتماعی توبہ
انفرادی توبہ بھی ضروری ہے مگر ہمارا زوال چونکہ اجتماعی سطح کا ہے ، اس لیے توبہ بھی اجتماعی سطح پر ہونی چاہیے کیونکہ اللہ کے فیصلے قوموں کے اجتماعی اعمال کی بنیاد پر بھی ہوتے ہیں ۔ اجتماعی توبہ کا طریقہ یہ ہے کہ ہم نے اللہ کے رسول ﷺ کے جس مشن سے بے وفائی کی ہے اُس کے لیے دوبارہ کھڑے ہوجائیں ۔ وہ پیغمبرانہ مشن اللہ کے دین کے غلبے کی جدوجہد ہے ۔ اس جدوجہد کے لیے تربیت اور ہدایت ہمیں قرآن سے ملے گی ۔ اس لیے اجتماعی توبہ کا پہلا دروازہ قرآن میں کھلے گا ۔ قرآن کے ساتھ دوبارہ جڑ جائیں ۔ پاکستان کی حقیقی عزت ٹرمپ کی تعریفوں میں نہیں بلکہ نظریۂ پاکستان کے نفاذ میں ہے ۔ یہ ملک ہم نے اسلام کے نام پر حاصل کیا تھا لہٰذا اسلام کا نفاذ ہی اس کی بقا ، سلامتی اور استحکام کا ضامن ہے ۔
(4)اقامت دین کی جدوجہد
بنی اسرائیل پر اللہ نے ذلت کیوں تھوپی ؟اُن کے پیغمبر جب اُن سے کہتے تھے اللہ کے دین کے قیام کے لیےقتال کرو تو یہ کہتے تھے :{فَاذْہَبْ اَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلَا اِنَّا ہٰہُنَا قٰـعِدُوْنَ (24)}(المائدہ)
’’بس تم اور تمہارا رب دونوں جائو اور جا کر قتال کرو‘ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔‘‘
معلوم ہوا کہ پیغمبر ؐکے مشن کو فراموش کرنا بھی ذلت اور زوال کی ایک وجہ ہے ۔ اس سے نکلنے کا دروازہ اقامت ِدین کی جدوجہد میں کھلے گا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
{یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَنْصُرُوا اللہَ یَنْصُرْکُمْ وَیُثَبِّتْ اَقْدَامَکُمْ (7)} (سورئہ محمد)
’’اے اہل ِایمان! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور وہ تمہارے قدموں کو جما دے گا۔‘‘
آج ہمارے ملک میں سیاست اور معیشت کا ستیاناس ہے،ایک ملک قرض واپسی کا تقاضا کرتاہے تو دوسرے ملک سے قرض لے کردیا جاتا ہے، دوسرا تقاضا کرتاہے تو تیسرے کے آگے ہاتھ پھیلائے جاتے ہیں ۔ معاشرت کابیڑا بھی غرق ہے ۔ یونیورسٹیوں کے اندر جو ماحول ہے ، سب کو پتا ہے کہ ہماری نسلیں برباد ہورہی ہیں ۔ کوئی شریف آدمی اپنی اولاد (بیٹوں اورخصوصاً بیٹیوں) کو ایسے تعلیمی اداروں میں بھیجنے کا سوچ بھی نہیں سکتا ۔ یعنی سیاست ، معیشت اور معاشرت اجتماعی زندگی کے ان تینوں گوشوں میں ہمارے قدم اکھڑ چکے ہیں ۔ اللہ کہتا ہے کہ اگر تم میرے دین کے قیام کی جدوجہد کروگے تو میں تمہارے قدموں کو جما دوں گا ۔ اسی مشن کو لے کر ڈاکٹر اسراراحمدؒ برسوں تک دعوت دیتے رہے ، آج سوشل میڈیا پر ڈاکٹر صاحبؒ کے کلپس وائرل ہو رہےہیں مگر عملی طور پر کتنے لوگ ہیں جو اقامت ِدین کی جدوجہد کے لیے تیار ہیں ؟اس کے لیے جماعتی زندگی اختیار کرنااور انقلابی جدوجہد میں حصّہ لینا ضروری ہے ۔
(5)جماعتی زندگی
بنی اسرائیل میں ایک وقت میں کئی کئی انبیاءؑ ہوتے تھے ، موسیٰ ؑ کے ساتھ ہارون ؑ بھی موجود تھے لیکن قوم نے دین کے قیام میں اُن کا ساتھ نہیں دیا تو دین قائم نہیں ہو سکا ۔اللہ کے نبی اور رسولؐ تو پیغام پہنچا کر کامیاب رہے لیکن اُن کی قوم بغاوت کر کے ناکام ہو گئی۔ اللہ کے رسول ﷺ نے صحابہ ؓ کی جماعت تیار کی جنہوں نے اِس مشن میں اللہ کے نبی ﷺ کا ساتھ دیا تو اللہ کا دین گلوبل سطح پر غالب ہوگیا ۔ لہٰذا دین کے غلبے کے لیے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو بیعت کے نظام کے تحت سمع و اطاعت کی پابندی کرے ۔ جماعتی زندگی کے بغیر انقلاب کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ۔ اجتماعیت کو دین میں اتنی اہمیت ہے کہ ہم نماز میں بھی یہ پڑھتے ہیں :
{اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ(0)}’’ہم صرف تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے اور ہم صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں اور چاہتے رہیں گے۔‘‘
یعنی اللہ کی عبادت بھی اجتماعی سطح پر اللہ کو پسند ہے ۔ ڈاکٹر اسراراحمدؒ نے اس پورے موضوع کو اپنے خطاب میں بیان کیا ہے جو اب’’ سابقہ اور موجودہ مسلمان امتوں کا ماضی، حال اور مستقبل ‘‘ کے عنوان سے موجودہے ۔ اس کا مطالعہ بھی فکری آبیاری کے لیے مفید ہوگا ۔ ڈاکٹر اسراراحمدؒ نے زوالِ اُمّت کے اسباب اور ان کے حل بیان کرنے کے ساتھ ساتھ عملی طور پر اس زوال سے اُمت کو نکالنے کے لیے انجمن خدام القرآن اور تنظیم اسلامی جیسے ادارے قائم کیے جن کا مقصد بیان ہو چکا ہے کہ قرآن کی تعلیم کو عام کرنا اور اس کی روشنی میں اقامت ِدین کی جدوجہد ہے ۔ جو لوگ بھی ڈاکٹر صاحبؒ کو سنتے ہیں یا ان سے محبت رکھتے ہیں تو انہیں ان کے مشن میں عملی طو رپر بھی شامل ہونا چاہیے ۔ اُمت کو زوال سے نکالنے کے لیےہر مسلمان کو خود بھی عملی سطح پر کوشش کرنی چاہیے ، اس کے لیے آپ انجمن ہائے خدام القرآن کے رجوع الی القرآن کورسز میں حصّہ لیں ، شارٹ کورسز میں حصّہ لیں ، دروس قرآن میں بیٹھیں ، دوسروں کو بھی اس کی ترغیب اور دعوت دیں ۔ تنظیم اسلامی کے تحت بھی دروس قرآن حلقوں اور مقامی تناظیم کی سطح پر ہوتے ہیں ، ان میں شرکت کریں ، ماہ رمضان میں دورئہ ترجمہ قرآن اور خلاصۂ مضامین قرآن کا انعقاد ہوتاہے، مل کر اجتماعی سطح پر دین کے غلبے کی جدوجہد کریں گے تو دجالی دور کا خاتمہ کر سکیں گے ۔ اگر پیغمبرانہ مشن جیسے عظیم مقصد کو اپنائیں گے تو مسلکی سطح کے اختلافات پیچھے رہ جائیں گے اور اُمت کے اتحاد کا دروازہ بھی اسی جدوجہد کے ذریعے کھلے گا ۔ان شاءاللہ۔ انجمن ہائے خدام القرآن اور تنظیم اسلامی کے تحت شروع کیے گئے مختلف کورسز کی تفصیل تنظیم کی ویب سائٹ (www.tanzeem.org) پر بھی موجود ہے جہاں سے استفادہ کیا جاسکتاہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن اور پیغمبرانہ مشن سے جڑنے کی توفیق عطافرمائے ۔ آمین !