رونا ہے یہ سارے گلستاں کا!
عامرہ احسان
پاکستان 16 دن تک اہم ثالثی کے سلسلے میں امریکہ، ایران ما بین مصالحت کے لیے کوشاں رہا۔ اپنی سی ہر کوشش کر دیکھی۔ امریکہ کی ہم سے (سدا سے ) وفائے جفا نما تھی،سو حق ہم نے نبھایا۔ ایران پڑوسی تھا۔11،12 اپریل سیرینا ہوٹل میں ایران، امریکی بات چیت کا دور 21 گھنٹے چل کر بلا نتیجہ ختم ہو گیا۔ معاہدہ طے نہ پا سکا۔ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کر دی۔ پھر ہم دوسرے مذاکراتی راؤنڈ کی تیاری میںلگ گئے۔ راولپنڈی، اسلام آباد آنے والے راستے اور دونوں شہر سناٹے میں رہے کہ اب25 ،26 اپریل کو وفود متوقع تھے۔ ایرانی وفد آکر چلا بھی گیا مگر ٹرمپ اپنے نمائندے بھیجنے سے انکاری ہو گئے۔ ایران فون پر بات کرلے….. اتنے لمبے سفر کی ہمیں ضرورت نہیں، کا نخوت بھرا جواب آگیا۔ 27 اپریل کو ایرانی وزیر خارجہ عراقچی دوبارہ تشریف لائے۔ ہم سے سلام دعا کے بعد وہ روس چلے گئے صلاح مشورے کے لیے۔ اچھا تجربہ ہو گیا بین الاقوامی سطح پر سفارتی ذرائع سے مصالحت کروانے کی کوشش، محنت کا! اب ہمارے شہر بالآخر ہمیں واپس مل گئے۔
اپریل کا مہینہ بھاری بھر کم مہمانوں کی 21 گھنٹے کی بات چیت کے لیے ہمیں اربوں کے معاشی جھٹکے کی صورت پڑا۔ اسی دوران ہمیں امارات کو مہمانوں کے بیچ قرضہ بھی لوٹانا پڑ گیا۔ سیکورٹی خدشات سے جان ٹنگی رہی۔ اپنے ایک شہری کو صرف ایک معصوم سا مذاق کہ ’ترنول پھاٹک پر اٹکی ٹریفک کو ہرمز کی بندش سے تشبیہہ ‘دے بیٹھا۔ بھاری دفعات لگا کر گرفتار کر لیا گیا! گویا حس ِمزاح کا داخلہ بھی ممنوع تھا، بیچارا لا علمی میں پکڑا گیا۔ (تاہم مذاکرات کے خاتمے کے اعلان پر چھوڑ دیا گیا)۔ اسلام آباد اور دیگر کئی شہروں میں 5.7 قوت کا زلزلہ بھی آیا۔ اللہ تعالیٰ ہمارے انفرادی، اجتماعی گناہ معاف فرمائے۔ دنیا بھر کو اس کا امن لوٹا دے۔(آمین) بین الاقوامی طاقت اور قوت کے مظاہر اور غرور و تکبر، نخوتوں کے بیچوں بیچ چند سیکنڈ پر محیط لرزتی زمین اور جھٹکے کھاتی عمارات ہمیں اوقات یاد دلانے کو کافی ہوتی ہیں!
ہم سفارتی دورانیے کی طوالت اور بے نتیجہ رہنے پر اتنی تفصیل میں نہ جاتے۔ سابق امریکی وزیر خارجہ جنرل مارک کمٹ نے بھی طرفین کی طرزِ سفارت کاری پر شدید تنقید کی ، کہ ان کا پیغام رسانی کا نظم وضبط انتہائی لائقِ اعتراض رہا۔ معاملات میں الجھاؤ ہو جایا کرتا ہے، مگر میڈیا اور دنیا بھر میں ڈھنڈورے نہیں پیٹے جاتے۔ خفیہ، غیر رسمی رابطوں (ثالثوں کے ذریعے) ’بیک چینل‘ ذرائع سے معاملات آگے بڑھائے جاسکتے ہیں، اگر آپ واقعی سفارت کاری میں سنجیدہ ہوں۔
اس وقت کشیدگی یوں خطرناک ہے کہ ہر مز میں بحری فوجیںکھڑی ہیں۔ سفارتی تعلقات کھٹائی میں پڑنے سے کسی بھی وقت (معمولی پٹاخے سے بھی) جھڑپ چھڑنے کا اندیشہ ہے۔ دونوں میں سے کسی ایک کو پیچھے ہٹنا ہوگا۔ ضروری نہیں دنیا کے چورا ہے میں ایسا ہو۔ خاموشی سے باہم مذاکرات طے کر لیں۔ دونوں ہی اپنی اپنی کامیابی کا اعلان چاہیں گے بات چیت میں! کرلیں ۔ (ہم منہ پرے کر لیں گے!تبصرہ نہیں کریں گے!)
’ ’خشکی اور تری میں فساد برپا ہو گیا ہے لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے تا کہ مزاچکھائے اُن کو اُن کے بعض اعمال کا، شاید کہ وہ باز آئیں۔‘‘ (الروم: 41)
یہ آیت گزشتہ 26 سالوں میں کئی مرتبہ حوالہ کے طور پر دی۔ اس کی وجہ بالعموم سپرپاور امریکہ ہی کے اٹھائے پھیلائے جنگیں اور فساد تھے۔ بری فسادوں کے ساتھ اب بحری فساد حقیقتاً دنیا زیر و زبر کر رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کی گزرگاہ پر جھگڑے نے 1973ء کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں سب سے بڑا توانائی (تیل، گیس، ایندھن)کا عالمی بحران پیدا کیا ہے۔ صنعتی پیداوار میں تعطل سے زندگی کا ہر شعبہ متاثر، ترقی کی رفتار سست ہو گی۔ بے روزگاری، مہنگائی کو غریب آدمی بھگت رہا ہے۔ (دوسرا رائونڈ بات چیت کا شروع نہ ہونے سے تیل کی قیمت مزید 2فی صد بڑھ گئی)۔ گلوبل Recession(مالیاتی بحران) ضمناً نتیجہ ، رقم کی گردش، سرمایہ کاری میں کمی، کاروبار میں مندی۔ قوتِ خرید کم ہو جائے گی۔ (چلیے اسراف، فضول خرچیاں، بے مقصد سیر سپائے، فوڈ پانڈے کم ہوں گے۔ پیدل چلیں گے۔ صحت بہتر ہوگی۔ ہسپتالوں کا کام ضرور ٹھپ ہو گا۔ بجلی نہ ہوگی تو رات کو سوئیں گے دن کو جاگیں گے۔ فطری اوقاتِ کار، طرزِ زندگی پر لوٹیں گے!) چھ روز قبل جاپان میں 7.7 درجے کا شدید زلزلہ اور سونامی کی وارننگ نتیجۃً جاری کی گئی تھی۔ یہ بھی بحروبر کے فساد پر ہی آسمانی نوٹس، تبصرہ ہے۔
اللہ کی عطا کر دہ عظیم خوبصورت،دنیا، یہ سیارہ، اس پر بستے ہر رنگ، نسل کے انسان! اس پر یک قطبی دنیا، روس کی افغانستان کے ہاتھوں شکست پر قائم ہوئی۔ امریکہ سیارے کی واحد سپر پاور کیا قرار پایا، آپے سے باہر ہو کر ہر طرف چڑھ دوڑا۔ افغانستان پر پوری بارات ایٹمی طاقتوں سمیت، طاقت کا نشہ اسے خود سے بے خود کیے دے رہا تھا۔20 سال بعد قطر کی ثالثی، افغانستان کے صبر و تحمل، عجز، معاملہ فہمی سے امریکہ کو نکلنے کا راستہ مل گیا۔ دو سال نہ گزرے تھے کہ اسرائیل کے ساتھ مل کر غزہ پر وحشی ترین جنگ کا ارتکاب اور فلسطینیوں کی نسل کشی کر گزرا۔ غزہ میں جنگ بندی کروا کر ’بورڈ آف پیس‘ بابائے امن ٹرمپ نے قائم کیا۔ حشر یہ ہے کہ اس جنگ بندی کو اسرائیل 2400 مرتبہ توڑ چکا ہے۔ جس سے اجڑے خیمہ نشین، بھوکے پیاسے 811 اہل غزہ شہید اور 2278 زخمی ہو چکے۔ بے روزگاری 78 فی صد ہے۔ بھاری مشینری، بلڈوزر غزہ میں لانے کی اجازت نہیں ہے کہ کچھ ملبے ہٹائے یا تعمیر نو کی ادنیٰ ترین کوشش ممکن ہو۔ 71 ارب ڈالر تعمیر نو کے لیے درکار ہیں۔ مگر ساری سرمایہ کاری ان قوتوں کی تخریب میں ہے تعمیر میں نہیں!
بین الاقوامی جہاز رانی کے ادارے نے امریکہ اور ایران کو متوجہ کیا ہے کہ سمندر میں دونوں من مانے طریقے سے بحری جہاز پکڑ رہے ہیں۔ ان کا عملہ چھوڑا جائے، یہ سلسلہ ختم کیا جائے۔ بحری امن جلد لوٹے! امریکہ نے ایران کے 3 ٹینکر ایشیائی پانیوں میں روکے اور انہیں بھارت، ملائشیا اور سنگا پور سے پرے ہٹایا۔ اگر چہ جنگ بندی ہے مگر بحری جہاز پکڑن پکڑائی کھیل رہے ہیں۔ دو متقابل فوجوں مابین جہازوں کی آمد ورفت پھنسی پڑی ہے۔
دنیا کس وحشت سے گزری۔ شام کے قصائی امجد یوسف جس نے دمشق میں 350 نہتے شہریوں کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر انہیں گولیاں مار کر دفنایا۔ (بشار الاسد دور میں شام میں قتل عام کے دوران) اب اس نے اعتراف کیا کہ یہ سب میں نے کیا تھا۔ ضمیر نے قے کر دی! شامی حکومت نے اس قصائی مجرم کو پکڑنے اور سزا دینے کو کہا ہے۔ ایک غیر معمولی حسین بچی میٔ عثمان السباعی جو2011ء میں سکول سے گھر واپسی پر بچوں کی بس میں سوار تھی۔ فوجی انٹیلی جنس اہل کار نے اٹھا لیا۔ زمین نگل گئی آسمان کھا گیا؟ کوئی سراغ نہ ملا۔ ان میں مزید ہزاروں ایسے لاپتہ بچے شامل ہیں۔ شام میں 2011ء مارچ تا 20 نومبر 2024 ء، 30,293 بچے قتل ہوئے۔ اب تک 5,298 لاپتہ ہیں۔ 225 بچے جیلوں میں تشدد سے دم توڑ گئے۔ شامی عوام کے مطالبات شائع ہوئے لاپتگان پر۔ یہ ہے امریکہ کی یونی پولر (یک قطبی )دنیا کی سربراہی۔
شمالی افریقہ فرانس کی لوٹ مار( وسائل کی، یورینیم کی کان مالی میں) کا شکار رہا۔ فرانس نکلا تو مالی حکومت (جو انہی بڑی طاقتوں کی تعینات کردہ ہوتی ہیں۔) نے روس سے کرائے کے فوجیوں کو بلا کر عوام قابو رکھنے کے عمل میں شریک کر لیا۔ اب مالی میں بھی مزاحمتی گروپ اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ امریکہ بھی مالی میں وسائل کے حصول کے لیے (پوری زمین کے وسائل انہی کا پیدائشی حق ہے!) گھسنا چاہ رہا تھا۔ وزیر دفاع مالی جو روس کو یہاں لایا تھا مارا گیا ہے اور اب روس کو بھی بھاگنا پڑ رہا ہے۔مقامی حکومت کرپٹ ترین ہے۔ سو یہ نیا محاذ، مسلمانوں کا کھل گیا ہے!
چاند پر جانے والا حالیہ مشن ہماری ہی طرح اس عظیم سیارے کی تباہی بربادی پر بے کل ہوا ہے مگر بطرزِ دگر! خلانوردوں نے خلا سے زمین کو دیکھا تو ان میں فہم و ادراک کے اعتبار سے گہری تبدیلی آئی۔ دیکھا کہ یہ سیارہ ایک بلا حدود روشن تنہا نخلستان ہے تاریک سیاہ خلا کے پس منظر میں۔ انسانیت بارے تصور یکسر تبدیل ہو گیا۔ قومی سرحدیں مٹ گئیں۔ پوری انسانیت ایک ہوگئی۔ شدید ہیبت، رعب، دبدبہ، تعظیم،( خالق کی! مگر کہہ نہیں پاتے) عظمت کی دھاک! گہرے روحانی احساسات! جاؤ ٹرمپ، نتین یا ہو، کشنر، ہیگستھ ٹیم کو باندھ کر لے جاؤ وہاں اور دکھاؤیہ سیارہ ہے جسے تم نے بمباریوں سے موت برسا کر سب کچھ تباہ کر ڈالا ہے! ؎
مرا رونا نہیں، رونا ہے یہ سارے گلستاں کا
وہ گل ہوں میں، خزاں ہر گل کی ہے گویا خزاں میری