(الہدیٰ) قرآن کی محافل کو چھوڑ کر لہو و لعب میں پڑے رہنے والے بد قسمت - ادارہ

9 /
الہدیٰ
 
قرآن کی محافل کو چھوڑ کر لہو و لعب میں پڑے رہنے والے بد قسمت
 
آیت 6 {وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَہْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ ق وَّیَتَّخِذَہَا ہُزُوًاط}’’ اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو کھیل تماشے کی چیزیںخریدتے ہیںتا کہ گمراہ کریں (لوگوں کو) اللہ کے راستے سے بغیر علم کے ‘اور اس کو ہنسی بنا لیں۔‘‘
یہاں خصوصی طور پر نضر بن حار ث کے کردار کی طرف اشارہ ہے جو روسائے قریش میں سے تھا۔ دراصل نزولِ قرآن کے وقت عرب کے معاشرہ میں شعر و شاعری کا بہت چرچا تھا۔ ان کے عوام تک میں شعر کا ذوق پایا جاتا تھا اور اچھی شاعری اور اچھے شاعروں کی ہر کوئی قدر کرتا تھا۔ ایسے ماحول میں قرآن کریم جیسے کلام نے گویا اچانک کھلبلی مچا دی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے لوگ اس کلام کے گرویدہ ہونے لگے تھے‘ اس کی فصاحت و بلاغت انہیں مسحور کیے دے رہی تھی۔ یہاں تک کہ جو شخص قرآن کو ایک بار سن لیتا وہ اسے بار بار سننا چاہتا۔ یہ صورتِ حال مشرکین کے لیے بہت تشویش ناک تھی۔ وہ ہر قیمت پر لوگوں کو اس کلام سے دور رکھنا چاہتے تھے۔چنانچہ نضر بن حارث نے اپنے فہم کے مطابق اس کا حل یہ ڈھونڈا کہ وہ شام سے ناچ گانے والی ایک خوبصورت لونڈی خرید لایااور اس کی مدد سے مکہ میں اس نے راتوں کو ناچ گانے کی محفلیں منعقد کرانا شروع کر دیں۔ بظاہر یہ ترکیب بہت کامیاب اور مؤثر تھی کہ لوگ ساری ساری رات ناچ گانے سے لطف اندوز ہوں ‘ اس کے بعد دن کے بیشتر اوقات میں وہ سوتے رہیں اور اس طرح انہیں قرآن سننے یا اپنے اور اپنی زندگی کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے کی کبھی فرصت ہی میسر نہ آئے۔
یہاں ضمنی طور پر اس صورت حال کا تقابل آج کے اپنے معاشرے سے بھی کر لیں۔ مکہ میں تو ایک نضربن حارث تھا جس نے یہ کارنامہ سرانجام دیا تھا‘ لیکن آج ہمارے ہاں سپورٹس میچز ‘ میوزیکل کنسرٹس (concerts) اور بے ہودہ فلموں کی صورت میں لہو و لعب اور فحاشی و عریانی کا سیلابِ بلا گھر گھر میں داخل ہو چکا ہے جو  پورے معاشرے کو اپنی رو میں بہائے چلا جا رہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج میڈیا کے سٹیج پر ابلیسیت کوئی بہروپ بدلنے کا تکلف ّکیے بغیر اپنی اصل شکل میں برہنہ محو ِرقص ہے اور ہماری نئی نسل کے نوجوان بغیر کسی تردّد کے اپنی تمام ترجیحات کو بالائے طاق رکھ کر اس تماشا کو دیکھنے میں رات دن مگن ہیں۔ 
{اُولٰٓئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ مُّہِیْنٌ(6)} ’’یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے اہانت آمیز عذاب ہے۔‘‘ 
 
درس حدیث
 
فضول خرچی سے بچو
 
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ  ؓ  قَالَ : قَالَ  رَسُوْلُ اللہِ ﷺ: ((کُلُوْاوَاشْرَبُوْا، وَ تَصَدَّقُوْا وَالْبَسُوْامَالَمْ یُخَالِطْہُ اِسْرَافٌ اَوْ مَخِیْلَۃٌ))(سنن ابن ماجہ)
عمر و بن شعیب، عبداللہ بن عمر و بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ تم لوگ کھائوپیو اور صدقہ خیرات کرو اورپہنو ہر وہ لباس جس میں اسراف و تکبر (فضول خرچی اور گھمنڈ ) کی ملاوٹ نہ ہو۔‘‘
تشریح :انسان اپنے مال کو فضول خرچی میں ضائع نہ کرے بلکہ کفایت شعاری اور احتیاط کے ساتھ خرچ کرے ۔خورد ونوش بھی کرے، اچھا لباس بھی پہنے، البتہ خیرات کر کے دوسروں کی مدد بھی کرے۔ گویا جس چیز سے خود کو بچانا ہے وہ فضول خرچی ہے یعنی مال وہاں خرچ کرے اور اُتنا خرچ کرے جتنی ضرورت ہے۔ گویاوسائل کو استعمال کرے ،اُڑائے نہ!