اداریہ
رضاء الحق
اُمت مسلمہ کی عظمت ِ رفتہ کی بحالی...مگر کیسے؟
اگر موجودہ عالمی حالات کا باریک بینی اور گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ دنیا ایک نہایت نازک، پیچیدہ اور فیصلہ کن دوراہے پر کھڑی ہے، جہاں طاقت کے توازن، نظریاتی کشمکش اور تہذیبی تصادم نے عالمی نظام کو غیر یقینی کی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات اس وسیع تر عالمی کشمکش کا ایک اہم مظہر ہیں۔ موجودہ صورت حال یہ بتاتی ہے کہ بظاہر سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں، مگر درحقیقت دونوں ممالک کے درمیان عدم اعتماد کی خلیج بدستور قائم ہے۔ امریکی پالیسی میں حالیہ یو ٹرن اس بات کی علامت ہے کہ واشنگٹن اپنی سابقہ حکمتِ عملی کے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ایک طرف امریکہ مذاکرات کے ذریعے ایران کو کسی معاہدے پر آمادہ کرنا چاہتا ہے، تو دوسری جانب وہ خطے میں اپنی عسکری موجودگی اور اسرائیل کی غیر مشروط حمایت کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ یہی تضاد امریکی خارجہ پالیسی کو غیر مستحکم اور غیر معتبر بنا رہا ہے۔ایران اس تمام صورت حال کو محض سفارتی عمل نہیں بلکہ ایک ایسے دباؤ کے طور پر دیکھتا ہے جس کا مقصد اُس کی خودمختاری کو محدود کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تہران امریکی شرائط کو مستقل جنگ بندی اور امن معاہدے کے نام پر دراصل ’’مکمل سرنڈر‘‘ کے مترادف قرار دیتا ہے۔ ایران کے اس مؤقف کے پیچھے اس کا تاریخی تجربہ، علاقائی سیاست اور خود انحصاری کی پالیسی کارفرما ہے۔بدقسمتی سےاس تناظر میں اسرائیل کا کردار نہایت اہم لیکن تشویشناک ہے۔ غزہ، مغربی کنارے اور لبنان پر مسلسل بمباری، اور خطے میں اس کی جارحانہ حکمتِ عملی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ اسرائیل محض دفاعی پوزیشن پر نہیں بلکہ ایک وسیع تر جغرافیائی اور نظریاتی ایجنڈے کے تحت آگے بڑھ رہا ہے۔ ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کا تصور، جس کے تحت ایک وسیع تر یہودی ریاست کے قیام کا خواب دیکھا جاتا ہے، اب محض ایک نظریہ نہیں بلکہ عملی اقدامات کی صورت میں سامنے آچکاہے۔ اس پالیسی کے نتیجے میں نہ صرف فلسطینی عوام شدید انسانی بحران کا شکار ہیں بلکہ پورا مشرقِ وسطیٰ مستقل عدم استحکام کی کیفیت میں مبتلا ہو چکا ہے۔
عرب ممالک کا امریکہ پر بڑھتا ہوا عدم اعتماد بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔متحدہ عرب امارات ، جو حال ہی میں OPEC اورOPEC+ سے دستبردار ہو گیا ہے اور خطے میں اسرائیل کی پراکسی دکھائی دیتا ہے، کے سواماضی میں امریکہ کو اپنی سلامتی کا ضامن سمجھنے والے دیگر عرب ممالک اب اس نتیجے پر پہنچتے دکھائی دیتے ہیں کہ واشنگٹن اپنے بلکہ اِس سے بڑھ کر اسرائیل کے مفادات کے تحفظ کے لیے کسی بھی وقت اپنے اتحادیوں کو نظر انداز کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ متبادل سکیورٹی انتظامات کی تلاش شروع ہو چکی ہے۔ بعض حلقوں میں پاکستان علاقائی سلامتی کے معاملات میں بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہو رہا ہے۔ اگرچہ یہ رجحان ابھی ابتدائی سطح پر ہے اوراس کے اثرات مستقبل میں نہایت اہم بھی ہو سکتے ہیں، لیکن یہ اندیشہ بھی قابلِ غور ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ اسرائیل کی ڈکٹیشن پرکسی وقت بھی پینترا بدل کر پاکستان پر نوازشوں اور ’’اعتماد‘‘ کو بھاڑ میں جھونک کر قالین ہی پاؤں تلے سے کھینچ سکتا ہے۔دوسری طرف یورپ اور دیگر مغربی ممالک میں بھی امریکہ پر اعتماد میں نمایاں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ یوکرین جنگ، مشرقِ وسطیٰ کی صورت حال خصوصاً اسرائیل کی غیر مشروط تابعداری اور دیگر
عالمی تنازعات میں امریکی پالیسی کی غیر یقینی اور دوہرا معیار اس اعتماد کے زوال کا سبب بن رہے ہیں۔ اس خلا کو پُر کرنے کے لیے چین اور روس تیزی سے اپنی پوزیشن مضبوط کر رہے ہیں۔ چین اپنی معاشی قوت اور سفارتی حکمت عملی کے ذریعے عالمی سطح پر ایک متبادل قیادت فراہم کرنے کی پوزیشن میں ہے، جبکہ روس عسکری اور سیاسی سطح پر ایک مضبوط طاقت کے طور پر اُبھر رہا ہے۔دوسری طرف بھارت، جو خود کو ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت کے طور پر پیش کر رہا تھا، موجودہ حالات میں سفارتی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ عالمی سطح پر اس کی خارجہ پالیسی میں تسلسل کی کمی اور بعض علاقائی تنازعات میں اس کے کردار نے اسے بڑی حد تک تنہائی کی طرف دھکیل دیا ہے۔اِس وقت بھارت کی عالمی ساکھ کوکوہِ ہمالیہ جیسے چیلنجز درپیش ہیں۔
ان تمام عوامل کے درمیان سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر ممکنہ دوبارہ حملے کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو نہ صرف موجودہ جنگ بندی ختم ہو سکتی ہے بلکہ ایک وسیع تر علاقائی جنگ کا آغاز ہو سکتا ہے، جو بآسانی عالمی تصادم کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ یہی وہ صورت حال ہے جس کے پیش نظر بعض مبصرین دنیا کو تیسری عالمی جنگ یا ’’آرمیگیڈون‘‘ کی طرف بڑھتا ہوا دیکھتے ہیں۔
اسی پس منظر میں ایک نہایت اہم اور فیصلہ کن پہلو یہ ہے جسے نظر انداز کرنا خود فریبی کے مترادف ہوگا، اور وہ ہے مسلم ممالک کا باہمی اتحاد۔ موجودہ حالات نے یہ حقیقت پوری طرح آشکار کر دی ہے کہ انفرادی سطح پر کوئی بھی مسلم ریاست عالمی طاقتوں کے دباؤ کا مؤثر مقابلہ نہیں کر سکتی۔ سیاسی اختلافات، مسلکی تقسیم، علاقائی رقابتیں اور وقتی مفادات نے اُمّتِ مسلمہ کو اس حد تک منتشر کر دیا ہے کہ وہ ایک واضح اور مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنے سے قاصر نظر آتی ہے۔یہ امر کسی دلیل کا محتاج نہیں کہ اگر مسلم ممالک اپنی عسکری، معاشی اور سفارتی قوتوں کو یکجا کر لیں تو وہ نہ صرف اپنے دفاع کو مضبوط بنا سکتے ہیں بلکہ چین اور روس سےمعاشی اور عسکری ودفاعی معاہدوں کے ذریعے عالمی سطح پر ایک باوقار اور خودمختار بلاک کے طور پر اُبھر سکتے ہیں۔ توانائی کے وسائل، جغرافیائی اہمیت، افرادی و عسکری قوت اور نظریاتی ہم آہنگی یہ سب ایسے عناصر ہیں جو اگر یکجا ہو جائیں تو ایک ناقابلِ تسخیر قوت تشکیل دے سکتے ہیں۔ مگر افسوس کہ یہی عناصر اس وقت منتشر اور غیر مؤثر حالت میں موجود ہیں۔وقت کا تقاضا یہ ہے کہ مسلم ممالک کی قیادتیں ذاتی اور علاقائی مفادات سے بالاتر ہو کر ایک وسیع تر اجتماعی ویژن اختیار کریں۔ مشترکہ دفاعی و عسکری معاہدے، اقتصادی تعاون، اور ایک متحدہ سفارتی محاذ وہ بنیادی اقدامات ہیں جن کے بغیر موجودہ چیلنجز کا مقابلہ ممکن نہیں۔ یہ اتحاد محض ایک سیاسی ضرورت نہیں بلکہ عالمِ اسلام کی بقا کا تقاضا بن چکا ہے۔
بانیٔ تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسرار احمدؒ کی فکر کے مطابق، موجودہ عالمی نظام دراصل ایک ایسے تصادم کی طرف بڑھ رہا ہے جس کی بنیاد محض جغرافیائی یا سیاسی اور محض وسائل پر قبضہ کا نہیںبلکہ تہذیبی اوراُس سے بڑھ کر نظریاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مغربی تہذیب اپنی انتہا سے گزر کر اب پاتال کی طرف بڑھ رہی ہے اور اب اس کے زوال کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔ ایک طرف مادیت پر مبنی مغربی نظام ہے، جبکہ دوسری طرف مختلف تہذیبی اور نظریاتی قوتیں اپنے اپنے تصورات کے ساتھ میدان میں موجود ہیں۔نتیجتاً، دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں غیر یقینی، کشیدگی اور تصادم کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں۔ اگر مسلمان اپنے اصل مشن، یعنی اقامتِ دین کی جدوجہد، کو قرآن و سنت کی روشنی میںدانتوں سے پکڑ لیں تو وہ نہ صرف اپنی کھوئی ہوئی عظمت کو بحال کر سکتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر ایک مثبت کردار بھی ادا کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحبؒ کاتجزیہ قرآن اور مستقبل کے حوالے سےاحادیثِ مبارکہ میں موجود خبروں کے تناظر میں ہوتا تھا۔ اس تمام صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو یہ محض سیاسی یا عسکری کشمکش نہیں بلکہ ایک بڑے فتنہ انگیز دور کی تمہید معلوم ہوتی ہے۔ احادیثِ نبویﷺ میں جس ’’الملحمۃ العظمٰی‘‘ کا ذکر آیا ہے، اسے ایک عظیم عالمی جنگ کے طور پر بیان کیا گیا ہے، جو قیامت سے قبل وقوع پذیر ہوگی۔ اسی طرح احادیث مبارکہ میں فتنوں کے ایک طویل سلسلے اور دجال کے خروج کو بھی ایسے ہی حالات سے جوڑا گیا ہے۔ یہ پیش گوئیاں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ دنیا ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے جہاں حق و باطل کا فیصلہ کن معرکہ برپا ہوگا۔ اگرچہ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ دنیا یقینی طور پر تیسری عالمی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے، تاہم موجودہ حالات اس امکان کو یکسر رد بھی نہیں کرتے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان حالات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے، ان کے اسباب کو سمجھا جائے، اور مستقبل کے لیے مؤثر حکمت عملی تیار کی جائے۔
ہمارے نزدیک یہ وقت محض خوف یا مایوسی کا نہیں بلکہ خود احتسابی، اصلاح اور بیداری کا ہے۔ اگر امتِ مسلمہ اپنے فکری، اخلاقی اور عملی پہلوؤں کو مضبوط کر لے تو وہ نہ صرف ان چیلنجز کا مقابلہ کر سکتی ہے بلکہ ایک بہتر اور عادلانہ عالمی نظام کے قیام میں بھی اپنا کردار ادا کر سکتی ہے۔مزید برآں، اس نازک مرحلے پر مسلمانوں کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ محض جذباتی ردِعمل سے آگے بڑھ کر ایک ہمہ گیر اور منظم اجتماعی حکمت ِعملی اختیار کریں، جس کی بنیاد سیاسی، معاشی، معاشرتی اور عسکری اتحاد پر ہو۔ سیاسی سطح پر باہمی رقابتوں اور بیرونی اثرات سے نجات حاصل کر کے ایک مشترکہ پالیسی فریم ورک تشکیل دینا ہوگا؛ معاشی میدان میں وسائل کی منصفانہ تقسیم، باہمی تجارت کے فروغ اور سودی نظام سے تدریجی خلاصی کے ذریعے ایک مضبوط اقتصادی بلاک قائم کرنا ہوگا؛ معاشرتی سطح پرمغرب کی تعفن زدہ تہذیب کو ٹھوکر مارنے کے ساتھ فرقہ واریت، نسلی تعصبات اور لسانی تقسیم کو ختم کر کے اخوتِ اسلامی کو عملی صورت دینا ہوگی؛ جبکہ عسکری میدان میں مشترکہ دفاعی ڈھانچے اور انٹیلی جنس تعاون کو فروغ دے کر اجتماعی سلامتی کو یقینی بنانا ہوگا۔ تاہم ان تمام کوششوں کی اصل روح اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک اجتماعی سطح پر اسلام کے نظامِ عدلِ اجتماعی کے قیام کو ہدف نہ بنایا جائے ۔ایک ایسے(اسلام کے) نظامِ عدلِ اجتماعی کا قیام جو عدل، امانت، شفافیت اور جوابدہی پر مبنی ہو اور جس میں فرد اور ریاست دونوں اللہ کی حاکمیت کے تابع ہوں۔ یہی وہ جامع راستہ ہے جو نہ صرف امتِ مسلمہ کو داخلی استحکام فراہم کر سکتا ہے بلکہ اسے عالمی سطح پر ایک باوقار، خودمختار اور مؤثر قوت کے طور پر ابھار سکتا ہے۔
tanzeemdigitallibrary.com © 2026