(منبرو محراب) انفرادی اور اجتماعی سطح پر عقیدۂ توحید کے عملی تقاضے - ابو ابراہیم

9 /

انفرادی اور اجتماعی سطح پر عقیدۂ توحید کے عملی تقاضے

(قرآن و حدیث کی روشنی میں )

مسجدجامع القرآن ، قرآن اکیڈمی ڈیفنس کراچی میںامیر تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ   حفظ اللہ کے24اپریل 2026ء کے خطاب جمعہ کی تلخیص

مرتب: ابو ابراہیم

خطبہ ٔمسنونہ اور تلاوتِ آیاتِ قرآنی کے بعد!
آج ہم ان شاء اللہ سورۃ الشوریٰ کی آیت 15 کا مطالعہ کریں گے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے 10 احکامات کی صورت میں توحیدکے عملی تقاضے اہلِ ایمان کے سامنے رکھے ہیں۔ اس سورۃ مبارکہ سےقبل تین سورتوں (سورۃ زمر ، سورۃ مومن ، سورۃ حم السجدہ) میں بھی جہاں توحید اور آخرت کے عقائد بیان ہوئے ہیں ، سابق قوموں کے حالات اور واقعات سبق کے لیے بیان کیا گیاہے ، پیغمبروںؑ کی دعوت اور کفار کے انکار کا احوال بیان ہوا ہے وہاں توحید کے عملی تقاضے بھی بیان ہوئے ہیں۔ جیسا کہ سورۃ الزمر کی آیت نمبر3 میں فرمایا :
{اَلَا لِلہِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ ط} ’’آگاہ ہو جائو کہ اطاعت ِخالص اللہ ہی کا حق ہے۔‘‘
یعنی توحید کا عملی تقاضا یہ ہے کہ ترجیحات میں ٹاپ پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت رہے ، باقی سارے معاملات اس کے تابع رہیں ۔ اسی طرح سورہ مومن کی آیت 60 میں فرمایا :
{وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْٓ اَسْتَجِبْ لَکُمْ ط}  ’’اور تمہارا رب کہتا ہے کہ مجھے پکارو‘ میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔‘‘
یعنی توحید کا عملی تقاضا یہ بھی ہے کہ صرف اللہ کو ہی پکارا جائے اور اسی سے مدد مانگی جائے ۔ نفع و نقصان کا اختیار رکھنے والا صرف وہی ہے ۔ یعنی توحید کو بطور عقیدہ مان لینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ اس کے کچھ عملی تقاضے بھی ہیں ، جن کے مطابق ہمیں اپنی زندگی گزارنی ہوگی ۔ عقیدۂ توحید کی جھلک ہمارے شب و روز کے معمولات میں بھی نظر آنی چاہیے ۔ آج ہمارے معاشرے میں عقیدہ پر بھی خوب بحث ہوتی ہے ، ایک دوسرے کو مشرک اور کافر تک کے فتوے لگائے جاتے ہیں لیکن عملی طور پر عقائد کی جھلک ہمارے کردار و عمل میں نظر نہیں آتی ۔ اگر ہم عقیدۂ توحید کو مانتے ہیں تو پھر اس عقیدے کے نتیجے میں فرد کی زندگی میں بھی تبدیلی پیدا ہو، گھر اور معاشرے میں بھی تبدیلی آئے  ، نظام میں بھی تبدیلی نظر آئے ۔فرد سے آگے بڑھ کر اجتماعی سطح پر بھی توحید کے کچھ تقاضے ہیں ۔ جیسا کہ  سورہ حم السجدہ میں فرمایا : {وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَآ اِلَی اللہِ}(آیت 33) ’’اور اُس شخص سے بہتر بات اور کس کی ہوگی جو بلائے اللہ کی طرف۔‘‘
جس نے اللہ کی طرف لوگوں کو بلایا ، اس سے بہتر عمل کس کا ہوگا ۔ یعنی انفرادی سطح پر توحید کے عملی تقاضوں کو پورا کرنا ہی کافی نہیں بلکہ دوسروں کو بھی اس کی دعوت دینی ہے ۔ گویا انفرادی سطح سے لے کر اجتماعی سطح تک ایک انقلاب برپا ہو جائے تو تب ہی عقیدۂ توحید کے تقاضے پورے ہوں گے ۔ ان تین سورتوں میں توحید کے عملی تقاضے بیان کرنے کے بعد سورۃ الشوریٰ میں ان تقاضوں کا نکتہ ٔعروج بیان ہوا ہے ۔ فرمایا : 
{شَرَعَ لَـکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰی بِہٖ نُوْحًا وَّالَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ وَمَا وَصَّیْنَا بِہٖٓ اِبْرٰہِیْمَ وَمُوْسٰی وَعِیْسٰٓی اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ} (آیت:13) ’’(اے مسلمانو!) اللہ نے تمہارے لیے دین میں وہی کچھ مقرر کیا ہے جس کی وصیت اُس نے نوحؑ کو کی تھی‘اور جس کی وحی ہم نے (اے محمدﷺ) آپ کی طرف کی ہے‘اور جس کی وصیت ہم نے کی تھی ابراہیم ؑکواور موسیٰ  ؑ کو اور عیسیٰ  ؑکو‘کہ قائم کرو دین کو۔‘‘
یہاں اللہ تعالیٰ نے پا نچ جلیل القدر رسولوں کا نام لے کر فرمایا کہ جو حکم اُن کو دیا گیا تھا وہی تم اہل ایمان کو بھی دیا جارہا ہے کہ کہ دین کو عملی طور پر قائم اور نافذ کرو ۔ آگے فرمایا :
{وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِ ط} ’’اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو۔‘‘
یہ توحید کے عملی تقاضے ہیں کہ 1۔ زندگی کا ہر لمحہ اور ہر گوشہ اللہ کی اطاعت میں گزارو ، 2۔ اللہ پر ہی توکل کرو اور اسی سے مانگو، 3۔ دوسروں کو بھی اللہ اور اس کے دین کی طرف بلاؤ ،4۔ اللہ کے دین کو قائم کرنے کی جدوجہد کرو۔یعنی اللہ تعالیٰ ایک فرد کی انفرادی زندگی سے لے کر نظام کی سطح تک توحید کے عملی تقاضوں کا نفاذ دیکھنا چاہتا ہے لیکن آج ہم اس قدر زوال آمادہ ہو چکے ہیں کہ دین کا یہ جامع ، وسیع اور انقلابی تصور ذہنوں سے نکل چکا ہے۔  آج اگر کوئی اس کی بات کرے کہ دین اپنا غلبہ و نفاذ چاہتا ہے ، اس کی جدوجہد ہر مسلمان کا دینی فریضہ ہے تو کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جناب یہ تو دیوانگی کی باتیں ہیں ، یہ ریڈیکل اور پولیٹیکل اسلام ہے ، یہ ایکسٹریم ازم ہے  وغیرہ وغیرہ ۔ جبکہ قرآن مجید کی یہ سورتیں عقیدۂ توحید کے عملی نفاذ کا تقاضا کرتی ہیں۔ اسی تناظر میں اب سورۃ الشوریٰ کی آیت 15 میں دس اہم احکامات آر ہے ہیں :
پہلا حکم :نفاذِ دین کی دعوت 
آغاز میں فرمایا : {فَلِذٰلِکَ فَادْعُ ج } ’’تو(اے نبیﷺ!) آپ اسی کی دعوت دیتے رہیے‘‘
ایک رائے یہی ہے کہ آیت نمبر 13 میںدین کو قائم کرنے کا جو حکم آیا اُسی کی دعوت دیتے رہنا ہے ۔ اُسی کی دعوت حضرت نوح ، ابراہیم ، موسیٰ ، عیسیٰ ؊ سمیت تمام پیغمبروں نے دی تھی اور اسی بات کی دعوت آپ ﷺ نے بھی دی کہ اللہ کے دین کو قائم کرو ۔ ختم نبوت کے بعد اب یہ ذمہ داری اس اُمت کے کندھوں پر ہے ۔ آج صہیونی  گریٹر اسرائیل کی بات کر رہا ہے ، کوئی ورلڈ آرڈر کی بات کررہا ہے ، کوئی اکھنڈ بھارت کی بات کر رہا ہے لیکن اللہ چاہتا ہے کہ اُس کا نظام پوری دنیا پر قائم ہو ۔ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں تین مقامات پر فرماتا ہے:
{ اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلہِ ط}  ( یوسف: 40 ) ’’اختیارِ مطلق تو صرف اللہ ہی کاہے۔‘‘
اس کائنات خالق و مالک اللہ تعالیٰ ہے ، اس  کا ئنات کا حاکم بھی وہی ہے ، اسی کا حق ہے کہ زمین پر اس کا حکم نافذ ہو ، اسی کا نظام قائم ہو۔ تمام پیغمبروںؑ نے اسی بات کی دعوت دی اور ختم نبوت کے بعد اللہ کے نظام کو قائم کرنا مسلمانوں کی ذمہ داری ہے ۔ یہ حکم ہمارے لیے ہے کہ دین کے نفاذ کی جدوجہد کریں ، دوسروں کو بھی اس کی دعوت دیں ۔ مسلمانوں کی عظیم اکثریت اس فریضہ کو بھول چکی ہے ، اُسے دوبارہ یاد دلائیں ۔ اکثریت کا خیال ہے کہ بس کلمہ طیبہ پڑھ لیا تو جنت پکی ہوگئی ۔ بعض کے نزدیک پنج وقت نماز ادا کرلی، روزے رکھ لیے تو دین کے تقاضے پورے ہوگئے ۔ اس سے آگے تو عظیم اکثریت سوچتی نہیں ہے ۔ لہٰذا عقیدۂ توحید کا عملی تقاضا یہ ہے کہ ہم خود بھی اللہ کے حکم کے مطابق زندگی گزاریں ، اللہ کے احکامات کے نفاذ کی جدوجہد کریں اور دوسروں کو بھی اس کی دعوت دیں ۔ 
پاکستان اسی مقصد کے لیے حاصل کیا گیا تھا کہ یہاں اللہ کے دین کو ہم قائم و نافذ کریں گے ۔ قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کے فرمودات اور نظریات بالکل واضح ہیں ۔ اگر فلمیں ، ڈرامے ، ناچ گانا ، سود کا دھندہ ،رشوت خوری وغیرہ ہی جاری رکھنا تھا تو اس کے مواقع بھارت میں بھی موجود تھے ۔ پھر کیوں لکیر کھینچی گئی ، کیوں اتنی جانوں  کے نذرانے پیش کیے گئے ، لاکھوں لوگوں نے گھر بار چھوڑ کر کیوں ہجرت کی ۔’’ پاکستان کا مطلب کیا : لاالٰہ الا اللہ‘‘ کے نعرے کیوں لگائے ؟آج ہم اس مقصد کو بھول چکے ہیں کے لیے ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دی تھیں ۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم اس مقصد کو پورا کریں اور پاکستان کو حقیقی معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست بنائیں ۔ 
دوسر احکم : استقامت 
فرمایا: {وَاسْتَقِمْ کَمَآ اُمِرْتَ ج} ’’اور جمے رہیے جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے۔‘‘
اللہ کے رسول ﷺسے بڑھ کر استقامت کا مظاہرہ کس نے کیا ہوگا؟ اللہ نے اوّلین وحی میںہی یہ بھی فرمایاتھا: 
{قُمِ الَّیْلَ   اِلَّا قَلِیْلًا (2)}(المزمل) ’’آپؐ کھڑے رہا کریں رات کو(نماز میں) سوائے اس کے تھوڑے سے حصّے کے۔‘‘
اللہ نے آپ ﷺ قیام اللیل کا حکم دیا اور   آپ ﷺ نے ساری زندگی تہجد کا اہتمام کیا ۔ پھر سورۃ المدثر میں حکم دیا گیا : 
{قُمْ فَاَنْذِرْ(2) وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ(3)} (المدثر)’’آپؐ اٹھئے اور (لوگوں کو) خبردار کیجیے۔اور اپنے رب کو بڑا کرو!‘‘
آپ ﷺ 23 برس تک اس مشن کے لیے کھڑے رہے ۔آپ ﷺ نے خود فرمایا کہ جتنامجھے اللہ کی راہ میں ستایا گیا ہے اتنا کسی کو نہیں ستایا گیا لیکن اس کے باوجود آپ ﷺ نے اللہ کے حکم پر عمل پیرا ہونے میں استقامت کا اعلیٰ ترین نمونہ قائم کیا ۔ سورحم السجدہ میں فرمایا:
 ’’بیشک وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے‘ان پر فرشتوں کا نزول ہوتا ہے کہ آپ لوگ ڈرو نہیں اور غمگین نہ ہو اور خوشیاں منائواُس جنّت کی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا رہا ہے۔‘‘(آیت:30)
اہلِ ایمان کے لیے استقامت کا نمونہ بھی    آپ ﷺ کی سیرت میں ہی ملے گا ۔ فرمایا :
{لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ}(الاحزاب:21)’’(اے مسلمانو!) تمہارے لیے اللہ کے رسول ؐمیں ایک بہترین نمونہ ہے ‘‘
حضرت فاطمۃ الزہرا؅فرماتی ہیںکہ جب تمہیں  مشکلات اور مصائب پریشان کریں تو رسول اللہ ﷺ کی مشکلات کو یاد کرو ۔ آج ہماری کیا پریشانیاں ہیں : جدید ترین آئی فون نہیں ہے ، بچے 20 ہزار روپے فیس والے سکول میں پڑھ رہے ہیں، 50 ہزار روپے فیس والے سکول میں نہیں پڑھ رہے ، 50 لاکھ کا فلیٹ ہے، 10 کروڑ کا بنگلہ نہیں ہے ، شادی پر 50 لاکھ ہی خرچ کر سکے ، ایک کروڑ خرچ کرنے کی استطاعت نہیں تھی وغیرہ۔ ذرا رسول اللہ ﷺ کے گھرانے کی مشکلات بھی دیکھئے ۔ کئی کئی ماہ چولہا نہیں جلتا تھا ، جنگ خندق کے موقع پر پیٹ پر پتھر باندھ کر مشقت میں مصروف تھے ، طائف کی گلیوں میں اور اُحد کے میدان میں آپ ﷺ کا خون بہا ہے۔  خانہ کعبہ کے پاس حالت سجدہ میں تھے کہ آپ ﷺ پر اونٹ کی اوجھڑی لا کر ڈال دی گئی ۔ عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں :میں رو رہا تھا ،ہم کچھ کر نہیں سکتے تھے، فاطمۃ الزہرا ؓ  نے آ کر آپ ﷺ کی پشت سے اوجھڑی کو ہٹایا ۔ جامع ترمذی کی روایت ہےکہ آپ ﷺ کے داڑھی   کے بالوں میں سفیدی آگئی تو صحابہ کرام ؓ نے عرض کی حضور آپ ﷺ  پر بڑھاپا آگیا ۔فرمایا : نہیں بلکہ سورۃ ھود اور اس جیسی سورتوں  نے بوڑھا کر دیا ہے ۔ اگر دیکھا جائے تو سورہ ھود اور اس جیسی سورتوں میں استقامت کے تقاضے ہی بیان ہوئے ہیں ۔ گویا آپ ﷺ نے اللہ کی راہ میں اس قدر استقامت کا مظاہرہ کیا ۔ آپ ﷺ کے بعد یہ حکم مسلمانوں کے لیے ہے کہ اللہ کے دین کی دعوت اور اس کے قیام کی جدوجہد میں استقامت کا مظاہرہ کریں ۔ آج ہم غور کریں کہ دعوت دین اور اقامت دین کی جدوجہد کے لیے کتنا وقت نکال رہے ہیں ، امر بالمعروف و نہی عن المنکر جیسے اہم دینہ فریضہ کو کس حد تک ادا کر رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں اگر مخالفت اور مصائب کا سامنا کرنا پڑے تو کتنی استقامت کا مظاہرہ کررہے ہیں ۔ حالانکہ مکی سورتوں میں اسی بات کی تلقین کی گئی : 
{وَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ}(المزمل:10)  ’’اور جو کچھ یہ لوگ کہہ رہے ہیں اس پر صبر کیجیے۔‘‘
{وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُکَ اِلَّا بِاللہِ}(النحل:127) ’’اور (اے نبیﷺ!) آپ صبر کیجئے اور آپ کا صبر تو اللہ ہی کے سہارے پر ہے۔‘‘
{فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ}(الاحقاف:35) ’’تو (اے محمدﷺ!) آپ بھی صبر کیجیے جیسے اولوالعزم رسول ؑصبر کرتے رہے ہیں۔‘‘
{اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا(6)}(الانشراح) ’’یقیناً مشکل ہی کے ساتھ آسانی ہے۔‘‘
{وَاہْجُرْہُمْ ہَجْرًا جَمِیْلًا (10)}(المزمل)’’اور ان کو چھوڑ دیجیے بڑی خوبصورتی سے کنارہ کشی کرتے ہوئے ۔‘‘
ان تجربات و احساسات سے تو بندہ تب گزرے گا جب دعوت ِ دین اور اقامتِ دین کی جدوجہد کرے گا ۔ اللہ کے کلمے کی سربلندی کی بات کی جائے گی ، منکر کے خلاف کھڑے ہوں گے اور باطل کو باطل کہیں گے ۔ تب مخالفتیں بھی ہوں گی اور استقامت کا موقع بھی آئے گا ۔ 
تیسرا حکم : کفار کی خواہشات کی پیروی نہ کرو :
آگے فرمایا :{وَلَا تَتَّبِعْ اَہْوَآئَ ہُمْ ج} ’’اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کیجیے۔‘‘
یہ خطاب اللہ کے رسولﷺ سے ہے مگر تعلیم اُمت کے لیے ہے ۔ آپ ﷺ نے تو استقامت کا حق ادا کیا ، لہٰذا آپ ﷺ کی زندگی میں ایسا موقع آیا ہی نہیں کہ کفار کی خواہشات کے مطابق سمجھوتہ کرنا پڑے ۔ مکہ مکرمہ میں حالانکہ کفار نے بہت بڑی بڑی پیش کشیں آپ ﷺ کو کی تھیں کہ آپ کو مال ودولت دیں گے ، حسین عورتوں سے نکاح کروا دیں گے ، بادشاہت چاہتے ہیں تو آپ کو بادشاہ بنا دیں گے ۔ یہ بھی پیش کش آئی کہ ایک سال آپ ہمارے معبودوں کی پرستش کریں اور ایک سال ہم آپ کے اللہ کی پرستش کر لیں گے ۔سورۃ القلم میں فرمایا :
{وَدُّوْا لَوْ تُدْہِنُ فَیُدْہِنُوْنَ (9)}’’وہ تو چاہتے ہیں کہ آپؐ ذرا ڈھیلے پڑیں تووہ بھی ڈھیلے پڑ جائیں۔‘‘
لیکن آپ ﷺ نے اللہ کا حکم سنا دیا :
{لَـکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ(6)}(الکافرون)’’اب تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین۔‘‘
آج ہم دنیا والوں کے چند جملوں کی خاطر کمپرومائز کر جاتے کہ اپنی بیٹیوں کو پردہ کراؤ گے تو رشتے کیسے ہوں گے۔دوسرا نکاح کرو گے تو تمہاری بچیوں کے نکاح نہیں ہو سکیں گے ۔ رشوت نہیں لوگے تو معاشرے کے چلن کے ساتھ کیسے چلو گے ، عورت کو اشتہار نہیں بناؤ گے تو پروڈکٹس کیسے فروخت ہوگی ، انا للہ وانا الیہ راجعون!
آج ہمارا  ایمان اور یقین کہا چلا گیا ہے ؟ کیا اللہ ہمارا رب اور رازق نہیں ہے ۔ اسی طرح اجتماعی سطح پر دیکھ لیں کفریہ طاقتوں کو ، باطل قوتوں کو خوش کرنے کے لیے خلاف شریعت قانون سازیاں ہورہی ہیں۔باطل قوتوں  کے فنڈز پر چلنے والی این جی اوز بل کا ڈرافت تیار کرکے ممبران اسمبلی کے ذریعے قانون سازیاں کرواتی ہیں ۔   ذرا غور کیجئے ! آج ہم کفار کی خواہشات کی پیروی میں کتنا آگے نکل گئے ہیں ؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں صاف صاف بتادیا :{وَلَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَہُوْدُ وَلَا النَّصٰرٰی حَتّٰی تَــتَّبِعَ مِلَّـتَہُمْط}(البقرہ : 120) ’’اور(اے نبیﷺ! آپ کسی مغالطے میں نہ رہیے) ہرگز راضی نہ ہوں گے آپؐ سے یہودی اور نہ نصرانی جب تک کہ آپؐ پیروی نہ کریں ان کی ملت کی۔‘‘
یہ ڈو مورکا تقاضا کرتے رہیں گے جب تک کہ مسلمان اللہ کے دین کو چھوڑ کر ان کے دین میں شامل نہ ہو جائیں ۔ اسی لیے اللہ کا حکم ہے کہ کفار و مشرکین کی خواہشات کی پیروی مت کرو کیونکہ وہ راضی نہیں ہوں گے جب تک تم سے تمہارادین اور ایمان چھین نہ لیں ۔ 
چوتھا حکم :اللہ کی کتابوں پر ایمان لانا 
فرمایا :{وَقُلْ اٰمَنْتُ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ مِنْ کِتٰبٍ ج} ’’اور آپؐ کہہ دیجیے کہ مَیں تو اس کتاب پر ایمان لایا ہوں جو اللہ نے نازل کی ہے۔‘‘
ہماراایمان تو اُن تمام کتابوں پر ہے جو اللہ نے نازل فرمائیں ۔ جیسا کہ قرآن کے آغاز میں ہی فرمایا : 
{وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَا اُنْزِلَ اِلَـیْکَ وَمَا اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ ج} (البقرئہ:4)’’اورجو ایمان رکھتے ہیں اُس پر بھی جو (اے نبیﷺ) آپ کی طرف نازل کیا گیا ہے‘اور اُس پر بھی (ایمان رکھتے ہیں) جو آپؐ سے پہلے نازل کیا گیا۔‘‘
پہلی آسمانی کتابوں میں وقت کے ساتھ ساتھ تحریف ہو چکی ہے لیکن جو اللہ نے نازل فرمایا اس پر ہم ایمان رکھتے ہیں۔ اسی طرح اللہ کے تمام پیغمبروںؑ پر بھی ایمان رکھتے ہیں ۔ اگر ہم عیسیٰ ؈کو نہ مانیں تو مسلمان نہیں ہو سکتے ، موسیٰ ؈ کو نہ مانیں تو مسلمان نہیں ہو سکتے ۔ تورات اور انجیل جو اللہ نے نازل فرمائیں اُن پر ایمان  نہ لائیں تو مسلمان نہیں ہو سکتے ۔ تاہم ایک علمی نکتہ یہ ہے کہ چونکہ اللہ کی آخری کتاب قرآن مجید ہے، اس لیے دعوتِ دین اس قرآن کے ذریعے دی جائے گی ۔ قرآن کے ذریعے ہی ایمان کی آبیاری ہوگی ، قرآن ہی اس دور کے تقاضوں کے مطابق انقلابی دعوت دیتا ہے اور عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق نظام ِ عدلِ اجتماعی کا مکمل منشور پیش کرتاہے ۔ اس پر پہلے کلام ہو چکا کہ بحیثیت مسلمان ہمارا فریضہ صرف دعوتِ دین تک محدود نہیں ہے بلکہ دین کے عملی نفاذ کی جدوجہد بھی ہمارےدینی فرائض  میں شامل ہے۔ 
پانچواں حکم : عدل کو قائم کرو 
فرمایا : {وَاُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَکُمْ ط} ’’اور (آپؐ کہہ دیجیے کہ) مجھے حکم ہوا کہ مَیں تمہارے درمیان عدل قائم کروں۔‘‘
آپ ﷺ نے (معاذاللہ)صرف عدل کی زبانی باتیں نہیں کیں بلکہ عملی طور پر عدل کا نظام قائم   کرکے بھی دکھایا ۔ عدل کے بھی کئی تقاضے ہیں ۔ مثلاً حق کو حق اور باطل کو باطل کہنا ۔ غلط کو غلط کہنا چاہے کوئی اپنا ہی غلط کیوں نہ ہو اور صحیح کو صحیح کہنا چاہیے کو غیر ہی کیوں نہ کرے ۔ قرآن مجید میں اہل کتاب کے نیک لوگوں کی صفات بھی بیان ہوئی ہیں ۔ قانون امیر و غریب سب کے لیے برابر ہو ۔ مشہور روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : اگربالفرض میری بیٹی فاطمۃ الزہرا؅نے بھی چوری کی ہوتی تو میں اس کے بھی ہاتھ کاٹنے کا حکم دیتا ۔ عدل کا تقاضا یہ بھی ہے کہ فیصلے شریعت کے مطابق ہوں ۔ انسان کے بنائے ہوئے قانون عدل غیر جانبداری کے تقاضوں کو پورا نہیں کر سکتے ۔ صدیق اکبر ؄جب  خلافت کے منصب پرفائز ہوئے تو آپ نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا : تمہارا ہر طاقتور میرے نزدیک کمزور ہے جب تک کہ میں اس سے حق لے کر حقدار کو نہ دے دوں اور تمہارا ہر کمزور میرے نزدیک طاقتور ہے جب تک کہ میں اس کا حق طاقتور سے نہ دلا دوں ۔ عدل کے قیام کا یہ حکم اللہ کے رسول ﷺ کے بعد تمام مسلمانوں سے بھی ہے ۔ لیکن کیا آج ہمارے معاشرے میں عدل قائم ہے ؟اس کے برعکس ہم دیکھتے ہیں کہ جنگل کا قانون ہے ، جس کے پاس جتنی طاقت اور جتنا اختیار ہے وہ اتنا ہی کمزور اور غریب پر ظلم کررہا ہے اور اس کا حق چھین رہا ہے ۔ ذرا پیسے آجائیں تو دوسروں کو حقیر سمجھا جاتاہے ، اتھارٹی مل جائے تو (معاذاللہ)خدائی کے دعوے کرنا شروع ہو جاتے ہیں ، فرعونیت والے اختیارات حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ یہ عدل نہیں بلکہ ظلم ہے اور اس ظلم پر خاموش رہنا بھی عدل کے تقاضوں کے منافی ہے ۔ حالانکہ عدل کے قیام کے لیے تمام رسولوںؑ کو بھیجا گیا جیسا کہ سورۃ الحدید میں فرمایا :
{لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ج }(آیت:25) ’’تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔‘‘
یہ تمام رسولوںؑ کا مشن تھا ۔ اسی مشن کی تکمیل کے لیے کتابیں نازل کی گئیں ، معجزات عطا کیے گئے تاکہ انسانی معاشروں میں عدل وقسط  قائم ہو ۔ ختم نبوت کے بعد عدل کے اس نظام کو قائم کرنا مسلمانوں کی ذمہ داری ہے ۔ جیسا کہ فرمایا:{یٰٓــایُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُہَدَآئَ لِلہِ}(النساء:135) ’’اے اہل ایمان ‘کھڑے ہوجائو پوری قوت کے ساتھ عدل کو قائم کرنے کے لیے اللہ کے گواہ بن کر‘‘  
چھٹا حکم : اللہ کو ہی اپنا رب مانو 
فرمایا:{اَللہُ رَبُّنَا وَرَبُّکُمْ ط } ’’اللہ ہمارا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔‘‘
یہاں مشرکین سے خطاب ہے ۔ ہم سب اس اللہ کی مخلوق ہیں، اس کے بندے ہیں ، وہی ہم سب کا رب ہے ۔ لہٰذا اُسی کی بندگی کرنا ہم سب پر فرض ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:{وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ (56)}( الذاریات ) ’’اور مَیں نے نہیں پیدا کیا جنوں اور انسانوں کو مگر صرف اس لیے کہ وہ میری بندگی کریں۔‘‘
اسی بات کی دعوت قریش کو بھی دی گئی :  {فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ ہٰذَا الْبَیْتِ (3)} ( قریش ) ’’پس انہیں بندگی کرنی چاہیے اس گھر کے رب کی۔‘‘
ہر رسولؑ نے یہی کہا:{یٰـقَوْمِ اعْبُدُوا اللہَ} (الاعراف:65) ’’اے میری قوم کے لوگو! اللہ کی بندگی کرو؟‘‘
رب کی عبادت کوئی نیا مطالبہ ہرگز نہیں ہے ۔ اللہ کو رب ماننا ہر انسان پر لازم ہے ۔
ساتواں حکم : اپنے اعمال کو دیکھو 
فرمایا :{ لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَکُمْ اَعْمَالُکُمْ ط} ’’ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لیے تمہارے اعمال ہیں۔‘‘
ہر بندہ اپنے اعمال کے لیے خود جوابدہ ہوگا ۔ روزِ محشر کوئی کسی کا بوجھ نہیں اُٹھائے گا ۔ قرآن کریم میں 6 مرتبہ یہ موضوع آیا ہے۔ فرمایا:
{اَلَّا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی 38} (النجم)
’’کہ نہیں اٹھائے گی کوئی جان کسی دوسری جان کے بوجھ کو۔‘‘
دوسری جگہ فرمایا:
{وَکُلُّہُمْ اٰتِیْہِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَرْدًا(95)}(سورۃ مریم)  ’’اور قیامت کے دن سب کے سب آنے والے ہیں اُس کے پاس اکیلے اکیلے۔‘‘
جو کوئی کفر اور شرک پر ڈٹا ہوا ہے اُس کا وبال اُسی پر آئے گا اوراگرکوئی نیکی کا کام کرے گا تو اس کا فائدہ بھی اُسی کو پہنچے گا ۔ لہٰذا ہر بندہ اپنے اعمال کو دیکھے اور اصلاح کی کوشش کرے ۔
آٹھواں حکم : حجت بازی نہ کرو 
فرمایا :{لَا حُجَّۃَ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ ج }
’’ہمارے درمیان کسی حُجّت بازی کی ضرورت نہیں۔‘‘
یہاں بھی کفار سے خطاب ہے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی ذاتی جھگڑا نہیں ہے ۔ اللہ کے دین کی دعوت تم تک پہنچانا ہمارا فرض ہے ، منوانا ہمارا فرض نہیں ہے ۔ فرمایا:
{فَذَکِّرْقف اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَکِّرٌ(21) لَسْتَ عَلَیْہِمْ بِمُصَیْطِرٍ(22)}(الغاشیہ) ’’تو (اے نبیﷺ!) آپ یاد دہانی کراتے رہیے‘ آپ تو بس یاد دہانی کرانے والے ہیں۔آپ ان پر کوئی داروغہ نہیں ہیں۔‘‘ 
{ لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِقف}( البقرہ:256 ) ’’دین میں کوئی جبر نہیں ہے۔‘‘ 
اسی طرح پیغمبروں سے یہ کہلوایا گیا : 
{وَمَا عَلَیْنَآ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ(17)} (یٰسین) ’’اور نہیں ہے ہم پر کوئی اور ذِمّہ داری سوائے (اللہ کا پیغام) صاف صاف پہنچا دینے کے۔‘‘
انفرادی سطح پر گن پوائنٹ پر جبر کر کے کسی سے اسلام قبول نہیں کروایا جائے گا لیکن اجتماعی سطح پر اللہ اپنی حاکمیت کے سوا کسی کی حاکمیت قبول نہیں کرتا۔اجتماعی سطح پر اگر ظالم اور جابر، سرکش طاغوتی قوتوں کے نمائندے فائز ہوں اور وہ اپنا قانون اور نظام چلانا چاہتے ہوں تو ان کے خلاف جنگ تک کرنے کا شریعت میں حکم ہے ۔ یہ اس لیے ضروری ہے تاکہ عوام اگر اسلام قبول کرنا چاہیں تو ظالم اور جابر لوگ رکاوٹ نہ بن سکیں ۔ قتال کا حکم اس لیے بھی آیا تاکہ بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی غلامی میں لایا جائے ۔عام انسان کو بھی حقوق ملیں اور عدل و قسط قائم ہو ۔ 
نواں حکم : روزحساب پر یقین رکھو 
فرمایا :{اَللہُ یَجْمَعُ بَیْنَنَاج }’’اللہ ہمیں جمع کردے گا۔‘‘
اگرکفار اور مشرکین بھی اسلام قبول کرلیں تو وہ مسلمانوں کے برابر کے بھائی بن جائیں گے ۔ نہیں مانتے تو دنیا تو عارضی ہے۔ روزِمحشر اللہ سب کو جمع کردے گا ۔ پھر فیصلے ہو جائیں گے۔ 
دسواں حکم:اللہ سے ملاقات کو اپنی حتمی منزل جانو 
فرمایا :{وَاِلَـیْہِ الْمَصِیْرُ (15)} ’’اور اُسی کی طرف سب کو لوٹنا ہے۔‘‘
توحید سے بات شروع ہوئی تھی ، آخرت پر جاکر مکمل ہو رہی ہے ۔ درمیان میں کتاب کا ذکر بھی آگیا ، رسالت کا ذکر بھی آگیا ۔ محترم ڈاکٹر اسراراحمدؒ فرمایا کرتے تھے کہ ہمارا اصل ہدف اُخروی نجات ہونی چاہیے اور دلوں میں وسعت ہونی چاہیے ۔ آج اگر کوئی آپ کی دعوت کو قبول نہیں کر رہا تو اس کے ساتھ حجت بازی اور بحث نہ کریں ۔ اسی طرح مختلف دینی اجتماعیتوں کے لیے بھی وسعت قلبی ہونی چاہیے ۔ اگر کوئی اپنے طریقے سے اسلامی نظام کے لیے جدوجہد کر رہا ہے ، کوئی انتخابات کو انقلاب کا ذریعہ سمجھ رہا ہے ، کوئی کسی اور طریقے کو مناسب سمجھ رہا ہے تو وہ اس کا اور اللہ کا معاملہ ہے ۔آپ خلوص کے ساتھ دعوت دیں اور پھر اللہ پر چھوڑ دیں ۔ اگر اس دنیا میں ہم اکھٹے نہیں ہوتے تو روزِ محشر اکھٹے ہو جائیں گے ۔ جس طرح حج کے موقع پر دنیا کے ہر کونے اور ہر مسلک سے مسلمان جمع ہوتے ہیںاور سب ایک ہی تکبیر پڑھ رہے ہوتے ہیں ۔((لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ)) 
لہٰذا ہماری اصل منزل اور نصب العین آخرت میں اللہ کا دیدار ہونا چاہیے ۔ اللہ ہمیں اخلاص نیت کے ساتھ اپنے دین کی خدمت کے لیے قبول فرما لے۔آمین !