پاکستان کی نظریاتی شناخت کومسخ نہ کریں !
ڈاکٹر ضمیراخترخان
پاکستان محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک امانت اور ایک ذمہ داری کا نام ہے۔ یہ وہ مملکت ہے جو’’لا الٰہ الا الله‘‘ کے مقدس کلمے کی بنیاد پر وجود میں آئی، جس کا مقصد دنیا کے سامنے اسلام کے عادلانہ، پاکیزہ اور متوازن نظامِ حیات کو پیش کرنا تھا۔ مگر آج افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اسی سرزمین پر ایسے رجحانات فروغ پا رہے ہیں جو اس کی نظریاتی اساس کو کمزوربلکہ مسخ کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔
کراچی سے ایک رپورٹ کے مطابق 28 اپریل 2026ء کو آرٹس کونسل آف پاکستان کے زیر اہتمام رقص کے عالمی دن کی مناسبت سے رنگارنگ پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جس میں بین الاقوامی شہرت یافتہ رقاصائوں اورفنکاروں نے اپنی فارمنس سے حاضرین کو محظوظ کر دیا۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ’’رقص کے عالمی دن‘‘ کے نام پر ہونے والی تقریبات ، صرف ایک ثقافتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک فکری و تہذیبی چیلنج ہے۔ سوال یہ نہیں کہ رقص ہوا یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ سرگرمیاں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی شناخت سے ہم آہنگ ہیں؟اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر پہلو کی رہنمائی کرتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’بے شک جو لوگ چاہتے ہیں کہ اہل ایمان میں بے حیائی کا چرچا ہو اُن کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔‘‘(سورئہ النور:19)۔آیت کے یہ الفاظ بے حیائی پھیلانے کی تمام صورتوں پر حاوی ہیں۔ ان کا اطلاق عملاً بد کاری کے اڈے قائم کرنے پر بھی ہوتا ہے اور بد اخلاقی کی ترغیب دینے والے اور اس کے لیے جذبات کو اکسانے والے قصوں ، اشعار، گانوں ، تصویروں اور کھیل تماشوں پربھی۔ نیز وہ کلب اور ہوٹل اور دوسرے ادارے بھی ان کی زد میں آ جاتے ہیں جن میں مخلوط رقص اور مخلوط تفریحات کا انتظام کیا جاتا ہے۔ قرآن صاف کہہ رہا ہے کہ یہ سب لوگ مجرم ہیں۔ صرف آخرت ہی میں نہیں دنیا میں بھی ان کو سزا ملنی چاہیے۔ لہٰذا ایک اسلامی حکومت کا فرض ہے کہ اشاعت فحش کے ان تمام ذرائع و وسائل کا سد باب کرے۔ اس کے قانون تعزیرات میں ان تمام افعال کو مستلزم سزا، قابل ِدست اندازی پولیس ہونا چاہیے جن کو قرآن یہاں پبلک کے خلاف جرائم قرار دے رہا ہے اور فیصلہ کر رہا ہے کہ ان کا ارتکاب کرنے والے سزا کے مستحق ہیں۔
مزیدبراں مسلمان مردوں اور عورتوں کو حکم ہے: ’’اے نبی مومنین سے کہیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔‘‘ (سورئہ النور: 30،31)
اسی طرح نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’حیا ایمان کا حصہ ہے۔‘‘ (صحیح بخاری)
یہ تعلیمات ہمیں ایک پاکیزہ معاشرہ تشکیل دینے کی دعوت دیتی ہیں، جہاں تفریح بھی اخلاقی حدود کے اندر ہو، نہ کہ بے حیائی اور نمود و نمائش کا ذریعہ بن جائے۔یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اسلام تفریح یا خوشی کے خلاف نہیں، بلکہ بے راہ روی اور حدود سے تجاوز کے خلاف ہے۔ اگر تفریح انسان کو اخلاقی گراوٹ کی طرف لے جائے، اس کے دل سے حیا کو ختم کرے، اور معاشرے میں فحاشی کو عام کرے، تو ایسی سرگرمیاں کسی بھی اسلامی معاشرے کے لیے زہر قاتل ہیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتِ پاکستان اپنی آئینی ذِمّہ داری کو سمجھے۔ دستورِ پاکستان کی دفعہ 37(g) واضح طور پر ریاست کو پابند کرتی ہے کہ وہ فحاشی و عریانی کے خاتمے کے لیے اقدامات کرے۔ لہٰذا ایسے پروگراموں کی سرپرستی یا اجازت دینا آئین اور نظریۂ پاکستان دونوں سے انحراف ہے۔
علماء کرام اپنی دینی ذِمّہ داری ادا کریں۔ منبر و محراب سے اس فکری یلغار کے خلاف آواز بلند کریں، عوام کو شعور دیں، اور اسلامی تہذیب کے تحفظ کے لیے رہنمائی فراہم کریں۔دانشور اور اہلِ قلم اپنی تحریروں اور مکالمے کے ذریعے قوم کی فکری رہنمائی کریں۔ یہ وقت خاموشی کا نہیں بلکہ حق گوئی کا ہے، تاکہ آنے والی نسلیں اپنی شناخت سے محروم نہ ہو جائیں۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ یہ محض چند پروگراموں کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک تہذیبی جنگ ہے جس میں ہماری اقدار، ہماری پہچان اور ہمارا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔ اگر آج ہم نے غفلت برتی تو کل ہماری نسلیں ہم سے یہ سوال کریں گی کہ جب ہماری شناخت مٹائی جا رہی تھی تو ہم کہاں تھے؟
آخر میں ایک درد بھری اپیل:آئیے! ہم سب مل کر اس ملک کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کریں۔ جس طرح ہماری افواج نے جغرافیائی سرحدوں کا دفاع کیا، اسی طرح ہمیں اپنی تہذیبی اور فکری سرحدوں کی حفاظت کرنی ہوگی۔
پاکستان کو وہی پاکستان بنانا ہوگا جس کا خواب اس کے بانیوں نے دیکھا تھا۔ایک ایسا معاشرہ جہاں اسلامی اقدار، حیا، اور اخلاقی پاکیزگی زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں ہو۔
ورنہ یاد رکھیے !قومیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں، بلکہ اپنی تہذیب اور اقدار سے دور ہو کر بھی شکست کھا جاتی ہیں۔مئی 2025ء میں پاکستان نے اپنے پڑوسی ملک بھارت کےآپریشن’’سندور‘‘کا توڑ قرآنی عنوان’’بنیان مرصوص‘‘سے کرکے ایک طرف بھارت کوپریشان کیاتودوسری طرف ساری دنیاکوورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ اس کے بعداللہ جل شانہ نے پے بہ پے پاکستان پراپنے کرم ونوازشات کاسلسلہ جاری فرمایا۔ جون 2025ء میں اسرائیل نے ایران پرجارحیت کاارتکاب کیاتوپاکستان نےنہ صرف ایران کی کھل کرحمایت کی بلکہ امریکہ کی طرف سے جنگی جہازوں کی پروازوں کے لیے درکارسہولت کے مطالبے کو بھی ماننے سے انکارکردیا۔ پھرتواللہ نے پاکستان کاعالمی سطح پروقاربلندکرنے کے ساتھ ایک طرح کارعب بھی قائم کردیا۔ اس پرپوری ملت اسلامیہ پاکستان کو اللہ جل جلالہ کے حضور سربسجودہونا چاہیے۔ فروری 2026ء میں رمضان المبارک کے مہینے میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران پرہلہ بول دیا۔ اب پھرپاکستان کے سامنے ایک بڑی آزمائش آئی۔ یہاں بھی اللہ پاک نے پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت کوہمت وجرأ ت عطا کی اورپاکستان نے اپنے پڑوسی ملک ایران کا حق اداکرتے ہوئے اس کابھرپورساتھ دیااورسفارتی محاذپرزبردست جدوجہدشروع کردی۔ بالآخر امریکہ اورایران کے درمیان عارضی سیزفائرکروانے میں کامیاب ہوگیا۔ ساری دنیا نے پاکستان کے اس غیرمعمولی سفارتی کردارکی تعریف کی اورعالمی سطح پرپاکستان کانام روشن ہوا۔ یہ سب اللہ کی نصرت وتائید اور عالم اسباب میں ہماری سیاسی وعسکری قیادت کی محنت کاثمرہ ہے۔ کلمے کےنام پربننے والے ملک نے دوسروں کے پیچھے نہیں چلنابلکہ دوسروں کواسلام کے صراط مستقیم کی طرف لانا ہے۔ گویا
وقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہے
نور توحید کا اتمام ابھی باقی ہے
ہمارے پاس رقص وسرود،PSLکے نام پر کرکٹ مقابلوں اور دیگر اورفضولیات کے لیےوقت نہیں ہے۔