(کارِ ترقیاتی) سمندری کھیل جاری ہیں! - عامرہ احسان

10 /

سمندری کھیل جاری ہیں!

 

عامرہ احسان

سیاست ِعالم، ’ انتہائی نگہداشت وارڈ‘ میں گویا مریض بنی پڑی ہے۔ منٹوں، گھنٹوں کے اعتبار سے رپورٹیں جاری ہوتی رہتی ہیں۔ لواحقین پوری دنیا میں رُلے پڑے ہیں۔ یو این امدادی سہولیات کے چیف،   ٹام فلیچر کے مطابق انسانی ضروریات کے لیے ناگزیر امداد نہ پہنچ پانے پر شدید تشویش ہے۔ یواین سربراہ گوتریس فوری پُر امن جامع حل مانگ رہے ہیں۔ ہرمز کی   خاطر تواضع،( جنگی، سفارتی) علاج معالجے پر اتنے بھاری اخراجات نہ اٹھتے تو ان کے مطابق 8 کروڑ 70 لاکھ افراد   کی مدد کی جا سکتی تھی۔ امریکہ، اسرائیل ایران جنگ میں اندر خانے امریکہ (ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی) میں بھی شدید لے دے جاری ہے۔سینیٹر رو کھنا، سیکرٹری دفاع ہیگستھ پر چڑھ دوڑے۔’ تمہیں اندازہ ہی نہیں کہ عام امریکن اس کی کیا قیمت ادا کر رہا ہے۔ دو ماہ سے (زائد ہو رہے ہیں) اِس جنگ کی قیمت 631 ارب ڈالر ہے، پلٹ پلٹ کر سوالوں میں کھنا نے بتائی۔ اسلحہ، اڈوں کو نقصان، امریکی عوام پر گیس، خوراک کی مد میں بوجھ۔ تم عوام سے قطع نظر صرف نیو کلیئر ایران کا نکتہ دہرائے جار ہے ہو۔ تم نے لوگوں سے وعدہ کیا تھا کہ ہم پرائی جنگوں میں نہ گھسیں گے، قیمتیں نیچے لائیں گے۔امریکہ کو دوبارہ عظیم بنائیں گے۔‘(عوام نے اگر واقعی اس پر ٹرمپ کو ووٹ دئیے تھے تو ،اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں!) یعنی MAGA کا وعدہ تھا! اب صورت حال مسلسل یہ ہے کہ پل میں تولہ پل میں ماشہ۔ امریکہ دھمکی لیے چلا آیا: ہم ہرمز میں پھنسے جہاز نکالنے کو ’پرا جیکٹ آزادی‘ لیے آرہے ہیں۔ ایران نے جواب میں دیر نہ کی: امریکہ نے ہر مز میں گھسنے کی کوشش کی تو حملہ ہوگا۔ ایرانی فوج وہاں موجود ہے، انتباہ کرتے ہیں تمام کمرشل جہازوں، ٹینکروں کو کہ ایرانی فوج کی اجازت کے بغیر گزرنے کی ہر کوشش پر حملہ کیا جائے گا۔
دوسری جانب تجزیہ کاروں کی بھی تنبیہہ یہی ہے کہ سوائے سفارتی مذاکرات کے کوئی دوسرار استہ نہیں ہے۔ پاکستان اور ایران کے وزرائے خارجہ میز پر بیٹھے سفارتی (ہومیو پیتھک پڑیاں دے کر) علاج نامے جاری کرتے رہتے ہیں۔ دونوں اِس بات پر متفق ہیں کہ مسائل صرف بات چیت اور سفارت کاری سے حل ہوں گے جو وسیع تر استحکام اور امن قائم کر سکے گا۔ اِس دوران امریکہ نے ایرانی جہاز ’تو سکا‘ جس پر قبضہ کر رکھا تھا، اس کے عملے کے 22 افراد پاکستان کے حوالے کر دئیے جو ایک مثبت اشارہ ہے۔ ایک قدم درست سمت میں اٹھتا بھی ہے تو اگلے لمحے پھر گھن گرج بھری بیاناتی گڑ گڑاہٹ چل پڑتی ہے۔ اندازہ کیجیے کہ ’کسی کی جان گئی آپ کی ادا ٹھہری!‘
دنیا میں تیل کی قیمت سے عوام در بدر ہو رہے ہیں اور یہ دونوں مہیب سمندروں میں چھپن چھپائی کا کھیل جاری رکھے ہیں۔ ایرانی سپر ٹینکر، امریکی نیوی سے بچ بچا کر مشرقِ بعید جا پہنچا۔ 220 ملین ڈالر کا 1.9 ملین بیرل تیل لیے۔ ریڈیو سگنل بند کر کے وہ 20 مارچ کو نکلا۔ چھپ چھپا کر اب انڈونیشیا کی آبنائے لومباک سے گزر رہا ہے۔ بچوں کا بچپن چرا کر انہیں ڈیجیٹل دنیا کے حوالے کر دیا اور ان کے خاموش معصوم کھیل چھین کر خود دنیا    زیر و زبر کرنے پر آگئے۔
سب کو یہاں اپنی سی ڈال کر، ایران جنگ میں دھیان بٹا کر، اسرائیل دھڑا دھڑ لبنان پر بم برسا رہا   ہے۔ غزہ میں پیلی لائن قائم کی تھی حدِ فاصل، غزہ اور قابض فوج مابین ۔ اب مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور فلسطینی خون بہا کر پیلی لائن نارنجی ہو گئی۔ اسرائیلی فوج آگے بڑھ کر مزید زمین ہتھیا کر اب نئی نارنجی لائن ،  بنا بیٹھی ہے۔ امریکہ تجاہلِ عارفانہ سے منہ موڑے بیٹھا ہے۔ مسلم دنیا کی غیرت خراٹے لے رہی ہے۔ عوام بڑھتی بے روزگاری، خالی پیٹ پیدل چلتے بے حال ہیں۔ سرکاری گاڑیوں کی باراتیں حسب ِسابق رواں دواں ہیں۔ بچوں کی پڑھائی ستیا ناس ہو چکی۔ نظامِ زندگی، معاشرت درہم برہم؟! البتہ فلوٹیلا واحد عالمی درد مندوں  کا گروہ ہے جو غزہ کو نہ بھولا۔ بحمد اللہ 63 کشتیاں    رواں دواں تھیں۔ اللہ سمندروں کی ہمنوائی فراواں رکھے۔ اسرائیل حسب ِسابق حملہ آور ہوا۔ پاکستان سے اپنا حصہ ڈالنے کو بحری مجاہد سینیٹر مشتاق ہمراہ رہے۔ 22 کشتیوں سے 179 ممبران اغوا ہوئے بشمول سینٹر مشتاق۔ اب   دو قید میں باقی ہیں۔ جن میں برازیلی تیا گو تیسری مرتبہ فلوٹیلا قافلے میں گئے۔ یہ غیر مسلم نوجوان 2 ارب مسلمانوں پر بھاری ہے جو جان داؤ پر لگا کر غزہ کے مظلوموں کی داد رسی کے لیے حاضر ہے۔ اللہ تعالیٰ ایمان سے مالا مال کر دے۔ ہتھکڑیاں، قید تنہائی اور اسرائیلی وحشی تشدد کا نشانہ بھی بنے۔ اللہ حفاظت فرمائے ۔(آمین) تل ابیب میں بھی یہودی عوام تپ اُٹھے ہیں۔ مظاہرے ہو رہے ہیں۔ نیتن یاہو سے بےزار ایک شخص کہہ رہا ہے کہ ایسا وزیر اعظم ہے جو سمجھتا ہے ہر مسئلے کا حل اندھی طاقت کا استعمال، قتل و غارت گری، جنگی جرائم ہیں۔ ہم تو گویا تباہی، بمباریوں کے نشے میں گم ہیں۔ ایک نے کارٹون اُٹھا رکھا ہے جس میں ٹرمپ،مدہوش، بین بجا تا سپیرا ہے جس کی ٹوکری سے نیتن یا ہو بصورت سانپ برآمد ہو رہا ہے۔
پوری دنیا میں جابجا جنگی بلائیں ٹوٹی پڑرہی ہیں۔ مسلم دنیا ہدف ہے۔ مالی کا قصور یہ رہا کہ شمالی افریقہ کا یہ ملک یورینیم اور سونے کی دولت رکھتا ہے۔ سیاہ فام اور مسلمان ہو تو ظاہر ہے دنیا کے وسائل کے اصل حقدار تو گوری سفید فام طاقتیں ہیں۔ لہٰذا وطیرہ تو صدیوں سے چلا آ رہا ہے کہ خصوصاً افریقی دنیا کے وسائل گوروں نے    جی بھر کے لوٹے۔ باہمی تقسیم طے کر کے یہ خطہ انہی کے زیر قبضہ رہا۔ مالی میں بھی مقامی کرپٹ حکمرانوں کو تعینات کر کے لوُٹے وسائل کا کچھ حصہ اُنہیں ملتا، وہ عوام کو آہنی ہاتھ سے حق طلبی سے باز رکھتے۔ اسلام کو سر اُٹھانے کی اجازت نہ ملتی۔عیسائیت بھی پھیلانے کا بہانہ رہا۔ بین الاقوامی قوانین کا ڈراما بھی رچا لیا۔ یو این قیامِ امن کی فوجیں بھی ہمراہ لے جاتے رہے۔ عوام کی فلاح و بہبود کو این جی اوز کی بھاری تنخواہوں والی نفری کا ڈراما بھی چلتا۔ جمہوریت کا بہانہ / افسانہ بھی کہیں چلا لیتے۔ مالی بھی انہی میں سے تھا۔ افریقہ انسانی وسائل کے اعتبار سے غلام بھی مہیا کرتا رہا گورے آقاؤں کو۔ یورپ امریکہ کی غلامی کی ہولناک تاریخ کی ایک جھلک الیکس ہیلے کی کتاب ’Roots‘ میں دیکھی جا سکتی ہے۔ حالیہ تاریخ میں امریکہ میں جو تحریک ’بلیک لائفز میٹر‘ (سیاہ فام بھی زندگی کا حق رکھتے ہیں!) چلی، وہ نکال کر پڑھ لیجیے، قبل اس کے کہ گوگل سے یہ سب مٹا دیا جائے! ہیگستھ، امریکی وزیر دفاع، دورِ حاضر کا صلیبی جنگجو،(سینے بازو پر صلیبی علامات کندہ ’ٹیٹوز‘کرا رکھی ہیں) نے 400 کتابوں پر پابندی لگادی۔ امریکی تاریخ کے سیاہ ابواب مٹا دینے کو۔ اس پر شدید تنقید اور احتجاج ہوا۔ ڈیمو کریٹس نے بھی کہا کہ سنسر شپ بزدلی ہے۔ آئینہ توڑ دینے کے مترداف ہے۔ امریکہ کے نسل پرست ماضی اور حال کا آئینہ،جس میںحقائق سے پردہ اُٹھتا ہے۔ 
مالی،جس کی آبادی 12 ملین ہے۔ 90 فی صدسنی مسلمان ہیں۔ 5 فی صد عیسائی۔ دنیا کے 10 غریب ترین ممالک میں سے ہے۔ سونا اور یورینیم (جس کی خاطر فرانس قابض رہا)، زراعت، مویشی، زرعی اجناس مچھلی / ماہی گیری   کے باوجود اتنی غربت لا یعنی ہے۔ لیکن وجوہات میں  عالمی طاقتوں اور مقامی کرپٹ حکمرانوں کا گٹھ جوڑ ہے ،اور گھن کی طرح دبے پسے عوام۔ فرانس کے لیے یورینیم نکالا جاتا رہا۔ مالی کے عوام کے لیے حفاظتی اقدامات پر ’پیسہ ضائع ‘ نہ کیا جاتا۔ کینسر ا نہیں چاٹ جاتا۔ شاندار ہسپتال صرف فرنچ یا حکمرانوں کو سہولیتیں دیتے۔ یہ تو مغربی ’جین زی‘ یا مسلمان اخوانی، حماس جیسے امریکہ یورپ کی بڑی یونیورسٹیوں میںپڑھ کر حقیقی بین الاقوامی سیاست سے آگاہ ہوئے۔ استحصالی مغرب کا حقیقی چہرہ سامنے آیا تو خود مغرب میں سیاہ فام حقوق کے لیے تحریکیں اُٹھیں۔ دوسری طرف مسلم ممالک میں عرب بہار نے سر اُٹھایا جسے     بشار الاسد، حسنی مبارک، السیسی جیسے حکمرانوں کے ہاتھوں کچل کر بھنبھوڑ کر رکھ دیاگیا۔ اب مالی پر اسلام پسند، آزادی پسند قوتیں اسی طرح اُٹھی ہیں۔ فرانس وہاں سے نکلا تو روسی کرائے کے فوجی( ویگنر) اور مقامی بدعنوان حکمران قابض رہے۔ اب ان کی شامت اعمال کو یہ مزاحمت جاری ہے۔مالی کا وزیرِ دفاع ہلاک اور حکومتی فوج تتر بتر!  ویگنر کے روسی بدمعاش مارے گئے.... بھاگ نکلے۔ مزاحمت نے چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ اللہ خیر کا معاملہ کرے۔ مسلم آبادیوں کو آزادی از سرِ نو عطا فرمائے۔ (آمین)