عجز اور کسل: اقامت ِدین کے کارکن کے لیے فکری و عملی رہنمائی
شوکت اللہ شاکر
اسلام ایک ایسا دین ہے، جو انسان کی ظاہری و باطنی کیفیتوں کو نہایت باریکی سے دیکھتا اور سنوارتا ہے۔ اقامتِ دین کی جدوجہد کرنے والے کارکن کے لیے یہ اور بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے باطن کا محاسبہ کرے، کیونکہ یہی باطن اس کے عمل کی سمت متعین کرتا ہے۔ عجز اور کسل دونوں عمل کو روک دیتے ہیں مگر ان کی حقیقت جدا ہے۔ —درحقیقت دعوت و تحریک کے میدان میں ایک رہنما اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔
❖ عجز: آزمائش، نہ کہ عذر
عجز اس کیفیت کا نام ہے جس میں انسان کے اندر ارادہ اور تڑپ موجود ہوتی ہے، مگر خارجی یا داخلی اسباب اس کے راستے میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ بیماری، وسائل کی قلت، حالات کی سختی یا معاشرتی دباؤ۔یہ سب عجز کی صورتیں ہیں۔
قرآن مجید اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ جو لوگ واقعی نیت رکھتے ہیں مگر استطاعت نہیں پاتے، وہ عند اللہ ماجور ہیں:{لَـیْسَ عَلَی الضُّعَفَآئِ وَلَا عَلَی الْمَرْضٰی وَلَا عَلَی الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ} (التوبہ: 91)’’کمزوروں، بیماروں اور ان لوگوں پر کوئی گناہ نہیں جو خرچ کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے، جبکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے خیرخواہ ہوں۔‘‘
اقامت ِدین کے کارکن کے لیے یہ پیغام ہے کہ اگر کبھی حالات اس کی راہ روک دیں تو وہ مایوسی کا شکار نہ ہو۔ اس کی نیت، اس کا درد، اور اس کی تڑپ ضائع نہیں جاتی۔ البتہ اُسے چاہیے کہ جہاں تک ممکن ہو، اپنی استطاعت کے دائرے کو بڑھانے کی کوشش جاری رکھے۔
❖ کسل: ایک باطنی مرض اور عملی رکاوٹ
کسل (سستی) ایک ایسا خطرناک مرض ہے جو بظاہر آرام دہ لگتا ہے مگر اندر سے انسان کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ اس میں وسائل کی کمی نہیں ہوتی بلکہ عزم کی کمی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے منافقین کی ایک نمایاں علامت ’’کسل‘‘ کو قرار دیا:
{وَاِذَا قَامُوْٓا اِلَی الصَّلٰوۃِ قَامُوْا کُسَالٰی لا} (سورۃ النساء: 142)’’ اور جب وہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو سستی کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔‘‘
یہ آیت اقامت ِدین کے کارکن کے لیے ایک آئینہ ہے۔ اگر اس کی عبادت، اس کی دعوت، اس کی تنظیمی ذمہ داریاں بوجھ محسوس ہونے لگیں تو اسے سمجھ لینا چاہیے کہ کسل اس کے دل میں جگہ بنا رہا ہے۔
❖ نبوی ؐتعلیم: دونوں سے پناہ
نبی اکرم ﷺ نے عجز اور کسل دونوں سے پناہ مانگی، کیونکہ ایک انسان کو روک دیتا ہے اور دوسرا اسے بگاڑ دیتا ہے:
((اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ))
’’ اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں بے بسی اور سستی سے۔‘‘(صحیح بخاری)
یہ دعا دراصل ایک داعی کے لیے روزانہ کا وظیفہ ہونی چاہیے، کیونکہ اقامت ِدین کا راستہ مسلسل جدوجہد اور استقامت کا تقاضا کرتا ہے۔
❖ اقامت ِدین کے کارکن کے لیے عصری رہنمائی
آج کے دور میں جہاں distractions (توجہ بٹانے والے عوامل) اپنی انتہا کو پہنچ چکے ہیں، وہاں کسل کی شکلیں بھی بدل گئی ہیں،جن میں سے ایک اور شاید سب سے بڑی distraction سوشل میڈیا کی دنیا میں بے مقصد وقت برباد کرنا ہے۔
عجز کے حصول اور کسل سے نجات کے لیے چند عملی تجاویز
دینی کام کو مؤخر کرنا (Procrastination)
آسانی طلبی (Comfort Zone) کی عادت کے شکار ایک کارکن کے لیے ضروری ہے کہ وہ درج ذیل اصولوں کو اپنائے:
1. نیت کی تجدید:
ہر کام سے پہلے اپنے مقصد کو تازہ کرے کہ یہ محض سرگرمی نہیں بلکہ اقامتِ دین کی جدوجہد ہے۔
2. نظم و ضبط (Discipline):
روزانہ کا شیڈول بنائے اور اس پر سختی سے عمل کرے، کیونکہ کسل بے ترتیبی میں پروان چڑھتا ہے۔
3. صحبت ِصالحین:
فعال اور متحرک لوگوں کی صحبت اختیار کرے، کیونکہ ماحول انسان کے مزاج کو تشکیل دیتا ہے۔
4. تدریج (Gradual Progress):
اپنے اوپر بوجھ نہ ڈالے بلکہ تھوڑا مگر مستقل کام کرے۔یہی سنت ِنبوی ﷺ ہے۔
❖ نتیجہ
عجز اور کسل کے درمیان فرق کو سمجھنا ایک کارکن کے لیے نہایت ضروری ہے۔ عجز میں امید ہے، اجر ہے اور صبر ہے؛ جبکہ کسل میں زوال ہے، غفلت ہے اور محرومی ہے۔
اقامت ِدین کا راستہ ان لوگوں کا منتظر ہے جو دل کی آگ اور عمل کی لگن دونوں رکھتے ہوں۔ جب نیت کی سچائی، دل کی رغبت، اور جسم کی محنت یکجا ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ ایسے بندوں کے ذریعے تاریخ کا دھارا بدل دیتا ہے۔