دجال کی عالمی حکومت اور نیوورلڈ آرڈر کی حقیقت
(قسط سوم )
رفیق چودھری
گریٹر اسرائیل کا تحریفات پر مبنی جواز اور زمینی حقائق
آج دنیا بھر کے لوگوں کے ذہنوں میں یہ فریب کوٹ کوٹ کر ٹھونسا جارہا ہے کہ چونکہ آسمانی کتابوں میں یہودیوں سے سرزمین ِ فلسطین کا وعدہ کیا گیا ہے، اس لیے وہاں یہودی ریاست اسرائیل کا قیام اُن کا حق ہے ۔ صہیونی تو اس سے بھی آگے بڑھ کر دریائے نیل سے فرات تک کے سارے علاقے پر دعویٰ کرتے ہیں اوردنیا کو یہ فریب دیتے ہیں کہ آسمانی کتابوں میں اُن سے اس کا وعدہ کیا گیا ہے۔حتیٰ کہ مسلم سیاستدان ،بیوروکریٹس ، صحافی اور مختلف شعبوں کے بااختیار لوگ جو یورپ کے تعلیمی اداروں سے پڑھ کرآتے ہیں اور واپس آکر ملک کا نظام چلاتے ہیں ،وہ بھی اسی فریب کا شکار ہیں کیونکہ ان کو اُن یونیورسٹیوں میںجو فری میسنری کا مطلوبہ روشن خیال فلسفہ پڑھایا جاتاہے اور ”رواداری اور اعتدال پسندی“ کے جو سبق پڑھائے جاتے ہیں، اُن کے زیر ِاثر وہ بھی یہی سمجھتے ہیں کہ اگر آسمانی کتابوں میں اس سرزمین کاوعدہ بنی اسرائیل سے کیا گیا ہے تو پھر اسرائیل کی مخالفت کرنا ”شدت پسندی اور انتہاپسندی “ہے وغیرہ۔ اسی تناظر میں ابراہم اکارڈز کے نام سے معاہدے بھی بعض مسلم حکمرانوں سے ہوئے اور اُسی بنیاد پر اُنہوں نے اسرائیل کو تسلیم بھی کر لیا ۔ کچھ نام نہاد مسلمان جو عالمی دجالی تنظیموں (فری میسنری، ایلومیناتی وغیرہ)سے وابستہ ہیں وہ تو اس کھوکھلے جواز کو بنیاد بنا کر کھلے عام اسرائیل کی حمایت بھی کرتے نظر آتے ہیں۔ تاہم یہ سب لوگ دراصل خود بھی ایک بہت بڑے فریب کا شکار ہیں اور دوسروں کو بھی دھوکہ دے رہے ہیں اور فتنہ دجال ہے ہی دھوکے کا نام۔ زیر ِنظر تحقیق کے ذریعے ہمارا مقصد اس فریب کو آشکار کرنا ہے ۔
گریٹر اسرائیل کے صہیونی منصوبے کو مذہبی تحفظ فراہم کرنے کے لیے اس کے حمایتی اسے بائبل میں وعدے کی سرزمین سے جوڑتے ہیں ۔ اس ضمن میں سب سے زیادہ جو حوالہ دیا جاتاہے وہ یہ ہے :
” اُس دِن خداوند نے ایک وعدہ کر کے اَبرام سے ایک معاہدہ کر لیا۔ اور خداوند نے اُس سے کہا کہ میں تیری نسل کو یہ ملک دوں گا۔ میں اُن کو دریائے مصر سے دریائے فرات تک کے علاقے کو دوں گا۔ “(پیدائش 15آیت 18)
صہیونیو ں کے مطابق یہ وعدہ صرف بنی اسرائیل سے ہے اور ہمیشہ کے لیے ہے ۔ مگر یہ تحریفات پر مبنی صہیونی تعبیر ہے جس کی تردید خود تورات اور یہودی ربیوں کی تشریحات میں موجود ہے۔ اس ضمن میں چند بنیادی حقائق ملاحظہ فرمائیے :
1۔ سرزمین موعود کا وعدہ صہیونیوں کے لیے نہیں ہے۔
صہیونی ،کتاب پیدائش باب 17 آیت 21 کی روشنی میں اس عہد کو صرف بنی اسرائیل کے لیے مانتے ہیں جبکہ اسی باب کے شروع میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کہ یہ عہد (Brit) ابراہیم؈ کی ملت کے لیے ہو گا اور اس کی علامت ختنہ (Brit Milah) ہوگا :
”پِھر خُدا نے ابرام سے کہا کہ تُو میرے عہد کو ماننا اور تیرے بعد تیری نسل پُشت در پُشت اُسے مانے۔اور میرا عہد جو میرے اور تیرے درمِیان اور تیرے بعد تیری نسل کے درمِیان ہے اور جِسے تُم مانو گے سو یہ ہے کہ تُم میں سے ہر ایک فرزندِ نرِینہ کا خَتنہ کِیا جائے۔“(پیدائش 17،آیات 9اور10)
تُمہارے ہاں پُشت در پُشت ہر لڑکے کا خَتنہ جب وہ آٹھ روز کا ہو کِیا جائے۔ خواہ وہ گھر میں پَیدا ہو خواہ اُسے کِسی پردیسی سے خرِیدا ہو جو تیری نسل سے نہیں۔(پیدائش 17، آیت 12)
یہ عہد حضرت ابراہیم ؈کے تمام پیروکاروں کے لیے تھا، جن میں بنی اسماعیل بھی شامل تھے ، بنی عیساؤ (یعقوب ؑ کے بھائی کی نسل ) بھی شامل تھے اور وہ لوگ بھی شامل تھے جو آپ ؑ کی نسل سے نہیں تھے لیکن آپ ؑ کے دین پر تھے۔ جیسا کہ آیت 4اور 5 میں فرمایا :
” میرا عہد تیرے ساتھ ہے اور تو بہت قوموں کا باپ ہو گااور تیرا نام پھر ابرام نہیں کہلائے گا بلکہ تیرا نام ابرہامؔ ہو گا کیونکہ میں نے تجھے بہت قوموں کا باپ ٹھہرا دیا ہے۔“(پیدائش 17)
اس بات کو خود یہودی ربی بھی مانتے ہیں ۔ جیسا کہ ربی Rashi کے مطابق :”یہ آیت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ ختنہ ابراہیمؑ کے گھرانے کے ہر مرد پر واجب ہے، چاہے وہ اس کی نسل سے نہ ہو۔“ربی نحمانائیڈیز (Ramban)کے مطابق :”ختنہ کا مقصد صرف نسلی پہچان نہیں بلکہ ملت ابراہیمؑ میں شمولیت ہے۔ غلام یا غیر نسل پر بھی فرض ہے، کیونکہ وہ ابراہیمؑ کے گھرانے کا حصہ بن چکے ہیں۔‘‘
معلوم ہوا کہ حضرت ابراہیم؈ سے کیا گیا عہد اُن تمام لوگوں کے لیے ہے جو آپ ؑ کی ملت میں شامل ہیں۔ ختنہ اس عہد کی محض نشانی ہے لیکن عہد کی اصل حقیقت اطاعت ِ خداوندی ہے اور اللہ کی نافرمانی عہد کی روح سے انحراف ہے۔لہٰذا جس طرح نشانی پر عمل نہ کرنا اُس عہد سے خارج ہونا ہے (جیسا کہ آیت 14میں اعلان کیا گیا ) اسی طرح اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری سے انکار اور بغاوت نہ صرف عہد سے خارج ہونا ہے بلکہ اللہ کے عذاب کا بھی موجب ہے ۔ جیسا کہ کتابِ استثناء کا باب 10 عہد کی روح کو اللہ کے عطا کردہ احکام اور آئین پر عمل سے مشروط کرتے ہوئے واضح کہتا ہے :
”اس لیے اپنے دلوں کا ختنہ کرو ۔“(آیت :16)
اسی طرح باب 30 میں ایک بار پھر واضح کیا گیا :
” اور خداوند تیرا خدا تیرے اور تیری اولاد کے دل کا ختنہ کرے گا تاکہ تُو خداوند اپنے خدا سے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان سے محبت رکھے اور جیتا رہے ۔“
تورات کے مطابق یرمیاہ نبی ؑ اسی بات کی مزید وضاحت کے لیے اللہ کا پیغام یوں پہنچاتے ہیں :
”اے یہوداہ اور یروشلم کے باشندو، اپنے آپ کو رب کے لئے مخصوص کر کے اپنا ختنہ کراؤ یعنی اپنے دلوں کا ختنہ کراؤ، ورنہ میرا قہر تمہارے غلط کاموں کے باعث کبھی نہ بجھنے والی آگ کی طرح تجھ پر نازل ہو گا۔“(یرمیاہ 4:4)
ثابت ہوا کہ صہیونیت کا یہ دعویٰ بالکل بے بنیاد اور باطل ہے کہ سرزمین موعود کا وعدہ اُن سے کیا گیا ہے ۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ وعدہ حضرت ابراہیم ؈کی تمام ملت کے لیے ہے لیکن اس عہد کی روح اللہ کے احکام اور آئین پر عمل پیرا ہونا ہے جبکہ صہیونیت اس سے متضاد راستے پر گامزن ہے۔ لہٰذا صہیونی سرزمین ِفلسطین پر اپنے علاوہ کسی کا حق تسلیم کرنے کے لیے جوتیار نہیں ہیں ، یہ صرف اُن کی ہٹ دھرمی ہے ۔ وہ اُسی عہد کے خلاف جاکر مسلمانوں کا قتل عام کرکے وہاں سے اُن کا صفایا کرنا چاہتے ہیں ، جس کا وہ حوالہ دیتے ہیں ۔ اسرائیل نے آئین میں ترمیم کرکے خود کو باقاعدہ کٹر یہودی ریاست ڈکلیئر کیا ہوا ہے جس کے تحت اسرائیل کے اصل شہری صرف یہودی ہوں گے۔ یہ صہیونی منصوبہ بذات خود تورات کی اس آیت کی تعمیل سے انحراف ، مخالفت اور سرکشی پر مبنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی راست باز یہودی تنظیمیں اور آرتھوڈوکس یہودی ربی بھی صہیونیت اور اس کے عزائم کو اللہ سے بغاوت اور سرکشی پر مبنی ابلیسی منصوبہ قرار دیتے ہیں ۔ جیسا کہ امریکی ربی مائیکل لرنر کے مطابق:
”فلسطینیوں کی زمین پر بستیوں کی تعمیر، اور ان کو نکال دینا، تورات کے عدل اور رحمت کے اصولوں کے خلاف ہے۔“
جرمنی کے بہت بڑے یہودی ربی اور عالم سمسن رافیل ہرسچ(1888-ء1808ء)کے مطابق اصل یہودیت ایک روحانی مشن ہے، قومی یا سیاسی قبضے کا منصوبہ نہیں۔ ہم فلسطینی عربوں کے حقوق تلف کر کے خدا کی خوشنودی حاصل نہیں کر سکتے۔ مغربی کنارے کے یہودی ربی میناخم فریومن تو یہاں تک تسلیم کرتے ہیں کہ :یہودی خدا کے نام پر کسی عرب کو اس کے گھر سے نکالنے کا جواز نہیں رکھتے۔ یہ زمین صرف ہمیں نہیں، سب اولادِ ابراہیم کے لیے ہے۔“( We can live together on this Land)
ربی یوئل ٹائٹل بام (Satmar Rebbe)اپنی کتابVayoel Moshe میں لکھتے ہیں:
”یہودیوں کے لیے فلسطینیوں سے زمین چھین کر ریاست قائم کرنا نہ تورات سے جائز ہے نہ اخلاق سے۔“
ان کے نزدیک صہیونی ریاست کا قیام تین حلفوں کی خلاف ورزی ہے:
1۔یہودی جبراً اسرائیل میں واپس نہ آئیں۔
2۔اقوامِ عالم کو جنگ کے ذریعے شکست نہ دیں۔
3۔ اقوامِ عالم یہودیوں پر حد سے زیادہ ظلم نہ کریں۔
درج بالا حقائق سے ثابت ہوتا ہے کہ فلسطین پر صہیونی قبضہ بالکل ناجائز اور بے بنیاد ہے اور اس کے لیے جو جواز اُنہوں نے تراشا ہے کہ اُن سے اس سرزمین کا وعدہ کیا گیا ہے ، وہ بھی مکر اورفریب پر مبنی ہے ۔ تورات یا کسی آسمانی کتاب میں ان سے ایسا کوئی وعدہ ہرگز نہیں کیا گیا جو خالصتاً صہیونی منصوبہ گریٹر اسرائیل کو جواز فراہم کرتا ہو ۔ اگر اللہ کی جانب سے ملت ِابراہیم ؑسے کوئی وعدہ کیا گیا ہے تو وہ بھی اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری سے مشروط ہے اور صہیونی اُس شرط پر ہرگز پورا نہیں اُترتے ، جیسا کہ آگے چل کر ہم صہیونی منصوبہ کی اصل حقیقت کو جانیں گے ۔ ان شاء اللہ !(جاری ہے )