(فکرو نظر) سوشل میڈیا کا سانپ - عبدالروف

10 /

سوشل میڈیا کا سانپعبدالرؤف(معاون مرکزی شعبہ تعلیم و تربیت)

آج سے کم و بیش پون صدی قبل (3 نومبر 1949ء) پاکستان کے ایک مؤقر روزنامہ میں فحش اشتہارات کے حامل اخبارات کو’’گھر میں سانپ ‘‘سے تشبیہہ دی گئی اور اس عنوان کے تحت لکھا گیا کہ :’’کوئی شخص یہ پسند نہیں کرتا کہ اُس کے گھر میں سانپ آگھسے۔ موجودہ زمانہ بیداری کا زمانہ ہے، آپ کی طرح آپ کے گھر کی خواتین ، لڑکے اور لڑکیاں بھی حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں، مگر اپنا اخبار گھر میں لے جاتے ہوئے اس طرح جھجکتے ہیں کہ گویا سانپ آپ کے گھر میں آ گھسے گا، اس لیے کہ اس اخبار میں گندے، فحش اور مخرّب اخلاق (اخلاق کو خراب کرنے والے)اشتہارات ہوتے ہیں اور آپ نہیں چاہتے کہ یہ اشتہارات آپ کے بچوں کی نظر سے گزریں۔ مگر اس کا یہ علاج تو نہیں کہ آپ انہیں اخبار کے مطالعے سے ہی محروم رکھیں، آپ ایسا اخبار پڑھیں جس میں کوئی فحش اشتہار کسی قیمت پر بھی نہ چھپ سکتا ہو۔‘‘
لیکن صد افسوس کہ یہ اخبار بھی اپنی اسلامی روایات برقرار نہ رکھ سکا اور اس کے ذریعے بھی گھر وں میں سانپ داخل ہو کر عوام کے متاعِ دین کو ڈسنے لگ گئے۔
اس کے بعد یہ سلسلہ رکا نہیں بلکہ پرنٹ میڈیا کے بعد الیکٹرانک میڈیا، جس کا آغاز ٹیلی ویژن سے ہوا، جس کے ابتدا میں تین بنیادی مقاصد ’’معلومات‘‘،’’ تعلیم ‘‘اور ’’تفریح ‘‘کے عنوان سے متعین کیے گئے۔ معلومات کے ضمن میں عوام کو ملکی اور بین الاقوامی حالات، ’’خبروں ‘‘اور اہم واقعات سے باخبر رکھنا، تعلیم کے ضمن میں مختلف معلوماتی، دستاویزی اور تدریسی پروگراموں کے ذریعے لوگوں کی ذہنی نشوونما اور شعور بیدار کرنا، جبکہ تفریح کے ضمن میں ڈراموں، کھیلوں اور موسیقی کے ذریعے عوام کو معیاری اور خاندانی تفریح فراہم کرنا قرار پایا۔
البتہ کچھ ہی عرصے بعد معلومات اور تعلیم پر تفریحی پروگراموں نے غلبہ پا لیا، جو اب اس انتہا پر پہنچ چکا ہے کہ کوئی عام مسلمان، جس کے اندر تھوڑی سی بھی غیرت ہو اپنے خاندان کے ساتھ بیٹھ کر ، کوئی تفریحی پروگرام تو درکنار کسی پروڈکٹ کا اشتہار بھی نہیں دیکھ سکتا۔ بعد ازاں جب ٹی وی کے ذریعے ہر طرح کے قومی اور بین الاقوامی چینلز کی بھرمار ہوئی تو معاشرے کی بچی کھچی شرافت اور  حیا کا جنازہ اِس انداز سے نکلا کہ دین کے علمبرداروں کو کہنا پڑا کہ:؎
مگر یہ راز آخر کھل گیا سارے زمانے پر
حمِیت نام ہے جس کا گئی تیمور کے گھر سے
اِس کے بعد کم و بیش 20 سال قبل جب موبائل فون نے سمارٹ فون کی شکل اختیار کی اور بظاہر ہماری قوم نے ترقی کا ایک اور زینہ طے کیا، اس کے نتیجے میں ہر طرف انٹرنیٹ کی دھوم مچ گئی، جس کے ذریعے دنیا جو پہلے ہی عالمی گاؤں (Global Village ) بن چکی تھی، ایک ’’عالمی کالونی ‘‘کی شکل اختیار کر گئی۔ اس سے پہلے جو گندگی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی شکل میں بہت بڑی اکثریت کے قلوب و اذہان کو آلودہ کر چکی تھی، اس میں کئی ہزار گنا اضافہ ہوتا چلا گیا۔
خصوصاً عصرِ حاضر کی نوجوان نسل کی تعلیمی اور کاروباری ضروریات سوشل میڈیا کے ساتھ وابستہ کرنے کے بہانے اُسے اس گناہ کے جال میں کمر تک جکڑ دیا گیا۔ سوشل میڈیا کی خطرناک وبا موبائل کی صورت میں آج ہر شخص کے ہاتھوں میں پہنچ چکی ہے اور معاشرے کا عام رجحان چونکہ گمراہی اور شر کی طرف زیادہ ہے، اس لیے جہاں اس میں کچھ چیزیں بہتری یا خیر والی بھی ہیں، وہیں شر اور برائی کے غلبے اور ابلیسی مواد کی جانب رغبت کی وجہ سے یہ آلہ ٔ خیر کے بجائے آلۂ شر بن چکا ہے۔
معاشرے میں موجود بدی کی قوتیں تو یہی چاہتی ہیں کہ بنی نوعِ انسان کو جس طرح بھی ممکن ہو ایمان اور حیا سے عاری کر کے حیوانیت کے مقام پر پہنچا دیں، اور جتنی بھی اعلیٰ اقدار ہیں وہ آہستہ آہستہ ختم کر کے لوگوں کو دجّال کی غلامی کے لیے تیار کیا جائے۔
نوجوان نسل کسی بھی معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار کی حامل ہوتی ہے، اس لیے شیطان مردود اور اس کے ایجنٹوں کی یہ کوشش رہی ہے کہ اس نسل کو اپنی مکروہ سازشوں میں جکڑ کر تباہ و برباد کر دیا جائے، خصوصاً پاکستان جیسا وہ ملک جو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا اور جس کی 65 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ لہٰذا نوجوانوں سے ہماری اپیل ہے کہ خدارا بحیثیت مسلمان اور نبی اکرم ﷺ کے امتی اپنی اہمیت کا ادراک کرتے ہوئے سوشل میڈیا کے شیطانی جال سے بچتے ہوئے اپنی دنیا اور خصوصاً آخرت کو تباہ ہونے سے بچانے کی سر توڑ کوشش کریں۔ جس حد تک بھی ممکن ہو ،سوشل میڈیا، موبائل یا انٹرنیٹ سے صرف اور صرف اپنی لازمی اور جائز ضروریات پوری کریں، لیکن اس کی خباثتوں سے اپنی جلوت کو محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنی خلوت کو خاص طور پر پاک صاف رکھنے کی کوشش کریں۔والدین سے التجا ہے کہ اپنے بچوں کو اس جہنم سے محفوظ رکھنے کے لیے ان کی تربیت بھی کریں اور موبائل فون کے استعمال کی نگرانی بھی رکھیں۔
اس سلسلے میں جہاں قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کی زبان سے الفاظ فرمائے:
’’اے نبی! آپ ؐفرما دیجیے کہ البتہ میرے رب نے صرف حرام کیا ہے ان تمام فحش باتوں کو جو اعلانیہ ہیں اور جو پوشیدہ ہیں۔‘‘ (الاعراف: 33)
اسی طرح نبی اکرم ﷺ کی حدیث مبارکہ ہے کہ:’’میں اپنی اُمّت کے ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو قیامت کے دن تہامہ کے پہاڑوں کے برابر نیکیاں لے کر آئیں گے جو چمک رہی ہوں گی، اللہ تعالیٰ اُنہیں ریت کے بکھرے ذرات کی طرح کر دے گا۔ آپ ﷺ سے پوچھا گیا: یا رسول اللہ! ہمیں ان کے بارے میں بتائیے اور ان کی وضاحت کیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ تمہارے بھائی ہیں اور تم جیسے ہیں رات کو وہ بھی عبادت کرتے ہیں جیسا تم کرتے ہو، لیکن وہ ایسے لوگ ہیں کہ جب انہیں تنہائی میں اللہ تعالیٰ کے حرام کردہ گناہوں کا موقع ملتا ہے تو ان کا ارتکاب کر لیتے ہیں۔‘‘(سنن ابن ماجہ)
والدین کی خصوصی ذِمّہ داری
سوشل میڈیا کی تباہ کاریوں سے جہاں نوجوان نسل کا  بچنا ضروری ہے ،وہیں والدین کا کردار بھی اہمیت کا حامل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں فرمایا کہ’’اے ایمان والو! اپنے آپ اور اپنے اہل و عیال کو (جہنم کی)  اُس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے۔‘‘ (التحریم:6)
اس آیت کی رو سے علماء کے نزدیک والدین  کااپنی اولاد کو جہنم سے بچانے کے لیے کوشش کرنا     فرضِ عین ہے، اس لیے موجودہ دور میں تمام برائیوں کی جڑ سوشل میڈیا کا غلط استعمال ہے۔ اس لیے اگر والدین   اپنا  شرعی فریضہ ادا کرتے ہوئے اپنی اولاد کو جہنم کی آگ سے بچانے کی فکر نہیں کریں گے تو وہ سانپ جو پرنٹ میڈیا کی شکل میں ہمارے گھروں میں داخل ہوا تھا ، آج سوشل میڈیا کی شکل میں اُس نے ایک ایسے اژدہا کی شکل اختیار کرلی ہے جو معاشرے کی تمام پاکیزہ اقدار کو نگلتا جا رہا ہے ۔ وہ ہمارے بچوں کو بھی کھا جائے گا اور ہمارے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا،جس کے نتیجہ میں ہماری نئی نسل (Gen-Z) روزِ قیامت ہمارے گریبان میں ہاتھ ڈال کر کہہ سکتی ہے کہ یہ ہمارے والدین اور بزرگ ہی ہیں جنہوں نے ہمیں تباہی میں جاتے ہوئےدیکھا تھا لیکن بچانے کی کوشش نہ کی۔ نئی نسل کی تربیت کے حوالے سے آخر میں نبی اکرم ﷺ کا فرمان پیش خدمت ہے، جس کی روشنی میں والدین کی ذِمّہ داری کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے :
حضرت عبداللہ بن عمرi سے روایت ہے کہ     نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سے ہرایک نگران ہے اور ہر کسی کو اپنی ذِمّہ داری کے بارے میں جواب دینا ہے ۔  امیر اپنی رعایا پر نگران ہے۔ آدمی اپنے گھر کا نگران ہے، عورت اپنے خاوند کے گھر اور اپنے بچوں کی نگران ہے، تم میں سے ہر کوئی ذِمّہ دار ہے اور ہر کسی سے اس کی ذِمّہ داری کے متعلق پوچھا جائے گا۔ (بخاری)